خود کشی انفرادی المیہ یا اجتماعی سانحہ؟ فرحین شیخ

0
  • 122
    Shares

خود کشی کسی ایک خطے کا نہیں، بلکہ پوری دنیا میں تیزی سے ابھرتا ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔ ایسا مسئلہ جس پر ہونے والی گفتگو اور اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات اس کی سنگینی سے کہیں زیادہ کم اور غیرتسلی بخش ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی اخبارات کے صفحات میں غوطہ زن ہو کر دیکھیں تو خودکشی کی سیکڑوں خبریں کسی نہ کسی کونے میں اخبارات کا پیٹ ضرور بھر رہی ہوتی ہیں۔ خبر کو سرسری پڑھ کر آگے بڑھنے کی روایت توڑ کر کبھی ذرا سی دیر کو ہی سہی، رک کر، ایسے گھر کا تصور تو باندھیے جہاں ایسا کوئی سانحہ وقوع ہوا ہو۔ کسی اُجاڑ کمرے کے وسط میں نصب، پرانے اور زنگ آلود پنکھے میں لٹکی بیٹے کی لاش اور اس کے پیروں سے لپٹی ماں کی فلک شگاف چیخیں کمرے کی وحشت کو اور بڑھاتی ہوں گی!! کسی بھائی کا خون میں لت پت لاشہ دیکھ کر، اس کی بہن غش کھا کر زمین پر کیسے ڈھیر ہوتی ہو گی!! باورچی خانے کا دروازہ توڑ کر جب ایک ماں کا کوئلہ بنا وجود نکالا جاتا ہوگا، تو مارے دہشت کے کتنے ہی دن بچے روتے ہوئے لفظ ماں نہ پکارتے ہوں گے!! ریل کی پٹریوں میں کٹ کر جان دینے والے نوجوان کی چیتھڑوں میں تقسیم لاش کو بوڑھا باپ، ضبط کا کون سا پُلِ صراط پار کرکے شناخت کرتا ہوگا!! کئی بچوں کا نذرانہ دریا کو پیش کرنے والی عورت کے گھر سے جب کئی جنازے ایک ساتھ اٹھتے ہوں گے تو کیا کہرام برپا ہوتا ہوگا!! ان خبروں کو پڑھ کر گزر جانا بہت آسان ہے، لیکن اگر ذرا سا ٹھہر کر تفکر کے دروازے وا کر لیے تو یقین کیجیے دل ایسا مضطرب ہوتا ہے کہ بے حس لوگوں کے پُرسکون چہروں پر رشک آنے لگتا ہے، جو اس تعفن زدہ دنیا میں بھی اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ خودکشی کو فرد کا انفرادی مسئلہ، ذہنی عارضہ یا خراب تربیت کا نتیجہ قرار دے کر ہم کب تک جان چھڑاتے رہیں گے؟ زمینی حقائق تک پہنچ کر اس مسئلے کو جڑ سے کاٹنے کا عمل کب شروع کیا جائے گا؟

المیہ تو یہ ہے کہ جیسے جیسے یہ مسئلہ ایک بڑا سماجی بحران بنتا جارہا ہے ویسے ویسے، تحریر سے لے کر تقریر، گھر سے لے کر پارلیمان اور اسکول سے لے کر جامعات تک کا یہ خشک ترین موضوع بنتا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کے اسباب و عوامل پر غور کرنے کے لیے تھنک ٹینک تشکیل دیے جائیں، ہر فورم پر اس مسئلہ کی سنگینی پر بات کی جائے، نوجوانوں سے ان کے مسائل پر کُھل کر گفتگو ہو، لوگوں کو زندگی سہولت سے گزارنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں، معاشرے کے ناکارہ افراد کو کارآمد بنانے کے لیے مہمات تشکیل دی جائیں اور اگر بچپن میں ہی کوئی نفسیاتی مسئلہ بچے میں نظر آئے تو والدین اور تعلیمی ادارے ذمہ داری کے ساتھ اس کے علاج پر توجہ دیں، بجائے اس کے کہ اس کو پال کر معاشرے کا ناسور بنا دیں۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اس طرح کے مثبت اقدامات کا ہونا، ہمارے معاشرے میں تو دیوانے کا خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ کبھی اس سانحے کو تقدیر کا لکھا قرار دے دیا جاتا ہے، تو کبھی والدین کی خراب تربیت کو ذمہ دار قرار دے کر بری الذمہ ہوا جاتا ہے۔ کبھی اسے بری صحبت کا انجام کہا جاتا ہے تو کبھی کوئی ذہنی عارضہ! کیا یہی ایک ذمہ دار معاشرے کا وطیرہ ہے؟

خود کشی کرنے والے افراد کے لیے ایک طرف تو اپنے مسائل کو تھپکی دے کر سلانا ناممکن ہو جاتا ہے اور دوسرا بے حس معاشرے کا سفاک رویہ ان کو تنہائی کے سفر کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ تنہائی، جس میں دکھ درد بانٹنے اوردل کی بات سننے والا ہی کوئی نہ ہو اس سے انسان مایوس ہو کر ڈپریشن میں چلا جاتا ہے، وہ اپنے آپ کو معاشرے کا ناکارہ پرزہ تصور کرنے لگتا ہے، جس کے بعد اس کو آخری حل، خود کشی کے علاوہ، نظر ہی نہیں آتا۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر چالیس منٹ پر ایک فرد خودکشی کرتا ہے۔ 1950کے بعد سے خود کشی کے واقعات میں دو گنا نہیں بلکہ تین گنا اضافہ ہوا ہے اور اس طرح اسے دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی وجہ قرار دیا جاچکا ہے۔ خودکشی کا ارتکاب تو ایک انسان کرتا ہے لیکن اس سے پورے سماجی ڈھانچے کی قلعی کھل جاتی ہے۔ جدت کے اس دور میں تیزی سے گھٹتے سماجی رابطے اور زنگ پکڑتے باہمی تعلقات کو ماہرین خود کشی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔

خودکشی کا مسئلہ صرف سنگین ہی نہیں پیچیدہ بھی ہے کیوں کہ اس کی وجہ معاشرے کے تقریباً تمام اداروں کی نا اہلی ہے، جن کی وجہ سے افراد میں ڈپریشن اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ اس وقت دنیا میں تین سو ملین افراد ڈپریشن کے مریض ہیں، پاکستان میں بھی اس حوالے سے صورت حال کچھ بہتر نہیں، بلکہ یہاں تو ستم بالائے ستم یہ ہے کہ خود کشی کے حوالے سے سالانہ سرکاری اعداد و شمار جاری کرنے کا حکومتی رواج ہی نہیں ہے۔ گویا حکومت اپنے طور پر خودکشی کو فرد کے ذاتی معاملے کی حیثیت سے قبول کر چکی ہے۔ ارباب اختیار سے یہاں میرا یہ سوال ہے کہ اگر خودکشی فرد کا ذاتی معاملہ ہی ہے تو اس کے لیے قانون میں سزائیں اور جرمانے کیوں مقرر کیے گئے ہیں؟ چلیے حکومت کی تو بات ہی چھوڑیے، یوں کہ اس کا باوا آدم ہی نرالا ہے! خودکشی کے حوالے سے معاشرتی رویے کی بات کیجیے!!

وہ کہ جن کو زندگی نے اس قدر ستا مارا ہو کہ ان کے لیے جان جیسی ان مول شے بھی بے وقعت ٹھہری ہو، معاشرے کے بے حس لوگ، جیتے جی ان کا حال بھی دریافت کرنے کی زحمت نہیں کرتے مگر افسوس! مرنے کے بعد بھی ان کی جان بخشی کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ایسے حادثات کے بعد جب تک یہ نہ کہہ لیں تو سکون سے سو نہیں پاتے کہ یہ کہاں رب کی طرف سے بخشش کے حق دار ہیں؟ ان کی تو روح بھی فرشتے قبول نہ کریں گے، ہمیشہ جہنم کی آگ ہی مقدر ٹھہرے گی۔ ایسے لوگوں سے مجھے کم از کم اتنا تو کہہ لینے دیجیے کہ جیسے آپ نے خودکشی کرنے والوں کو ان کی زندگی میں ان کے حال پر چھوڑا ہوا تھا، ا سی طرح اب انہیں اللہ کے رحم وکرم کے حوالے کرکے بھول جائیں۔ جب ان کو زندہ درگور دیکھ کر اپنی آنکھیں موند لیں تھیں تو ان کے مرنے کے بعد اپنے لب بھی سی لیں۔ اور جتنی توانائیاں اور صلاحیتیں خود کشی کے فعل کو حرام قرار دینے میں صرف کرتے ہیں، بعینہ اتنی مقدار معاشرتی اداروں کے سدھار میں لگا لیں تاکہ سب لوگوں کی زندگیاں اتنی مطمئن اور شاد گزریں کہ وہ اپنی جان لینے کے بجائے ایسی کئی زندگیوں کی تمنا کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: