طاقت کا سر چشمہ عوام ہے – عمر فرید ٹوانہ

2
  • 38
    Shares

ایک پنجابی کہاوت ہے کہ گاؤں کا چوہدری بھی شہر جا کر بس کی ایک سواری ہی بن جاتا ہے۔اگر کچھ سال ادھر کی صورتِ حال بیان کی جائے جب ہم نے اور سوداگری نے ہمیں اس قدر سودائی نہیں کیا تھا تب ایک اکیلی دُبلی پتلی سڑک مانندِ کمزور لڑی دس پندرہ گاؤں میں سے گزر کے قریبی شہر میں داخل ہوتی تھی۔اب تو نئی دنیا نئی راہیں اور کھلی دنیا کھلی راہیں متعارف ہوچکی ہیں۔{ہم بہت پُرانے درخت نہیں اس دھرتی کے ، نوے کی پیدائش ہیں۔

پنجاب کی دھرتی کا قدیم و وسیع ترین درخت چوہدراہٹ ہے۔ اس درخت کا راج پنجاب کی وسیع و عریض دھرتی پہ آج بھی ہے اور فرد کی مٹی میں اس کی جڑیں اب بھی انہیں وجوہات و حصولِ تسکینات سے عبارت اور اتنی ہی گہرائی و گیرائی کی متمنی ہیں جتنی کے اس کی قدامت و جسامت کے باعث ہونی چاہیے تھیں۔ آبادی کا حد سے زیادہ بڑھ جانا یا کچھ انواع کی بازار میں حدِ طلب سے تجاوز کرتی ”حد سے زیادہ کثرت“ {اَنؔی پہ جانا} جہاں دوسروں پہ اثرانداز ہوتی ہے وہیں خود کی قدرو قیمت پہ بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ کبھی ایک گاؤں میں ایک ہی چوہدری پایا جاتا تھا اور کہیں کہیں ایک مقابل چوہدراہٹ کادعویدار۔ لیکن اب ایک ہی گاؤں سے محلوں کے حساب سے چوہدری نکلتے ہیں اور اتنے ہی چوہدراہٹ کے دعویدار۔ کہیں تو گھروں کے حساب سے چوہدری و چوہدراہٹ کے دعویدار نکلتے ہیں۔

جب بسوں کی آبادی کم اور سڑکوں کی چھاتی تنگ و بے ڈھنگ ہوا کرتی تھی۔ {خیر سے اب بھی تنگ و بےڈھنگ ہی ہے بس ان کی آبادی میں ہر طرح سے اضافہ ہوگیا ہے. ہمارا ننھیال ایک ایسی ہی دُبلی پتلی سڑک مانندِ لڑی میں پرویا ایک نگینہ گاؤں تھا۔ ایک بس چلا کرتی تھی پیچھے کسی گاؤں سے اور ہمارا ننھیال ایک سٹاپ تھا اس بس کا۔وقت کی پابندی شرط ہوا کرتی تھی۔ بلکہ حوالہ ہوا کرتی تھی۔ سات بجے والی بس آگئی یعنی سات بج گئے ہیں۔بھلے وہ پانچ دس منٹ پہلے آجائے۔ ہاں خود پانچ دس منٹ کا شکار ہوجانے یا بس کے پانچ دس منٹ کا شکار ہوجانے پہ گھڑیاں حوالہ ہوا کرتی تھیں!

ننیھال جاتے سمے ہم نے اتنا محسوس نہیں کیا جتنا وہاں سے لوٹتے سمے ہمیں یہ خیال تنگ کرتا محسوس ہوتا۔ہم نے پوچھا بھی بےبے سے۔ ”بےبے یہ بس آتی کہاں سے ہے؟“ پُتر تیسرے پنڈ سے آتی ہے۔ بےبے ”تیسرے پنڈ“ کہاں ہے؟۔ پُتر دو پنڈ چھوڑ کے تیسرا پنڈ ہے! ہمارا بجائے اپنے گھر لوٹنے کے تیسرے پنڈ جانے کا دل کرتا تھا.

اکلوتی و دبلی پتلی و سینہء تنگ و بے ڈھنگ سڑک پہ یہ اکلوتی بس ہوا کرتی تھی۔ اور ایسی ہُوا اور چلا کرتی تھی کہ یہ آج کی اے سی بسیں اور یہ خطرناک جھولے کیا چیز ہیں اس کے آگے۔ تازہ ہوا ہر درز و دریچہ سے حملہ آور ہوتی تھی داخلی حبس پہ۔ ہر دو منٹ بعد ایک خطرناک جھٹکا سفر کی لذتیں دو بالا کیا کرتا تھا۔ ایک عجیب قسم کی مہم جوئی کا احساس ہوا کرتا تھا صاحبِ سُکان کی راہنمائی میں۔خدا کی یاد کو دلوں میں زندہ رکھنے کے معاملے میں ایک وقت تھا جب بسیں مولوی سے آگے ہوا کرتی تھیں۔ بوڑھی عورتوں کی اکثر ہفتہ بھر کی تسبیحات ایک جانے اور آنے کے دوران پوری ہوجایا کرتی تھیں۔چار پانچ گٹھریاں لذیذ گالیوں کی الگ سے۔وقت کی پابندی ہوا کرتی تھی لیکن رفتار پہ کوئی پابندی نہیں تھی۔جو چڑھ گیا وہ پہنچ گیا جو رہ گیا سو رہ گیا۔

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا تھا کہ چوہدری کو خود بھی بس کی سواری بننا ہی پڑتا ۔جب ایک گاؤں میں ایک یا دو ہی چوہدری ہوا کرتے تھے تب چوہدریوں کی خاربازی اکثر دوسرے گاؤں والوں اور ان کے چوہدریوں سے ہی ہوا کرتی تھی۔ اور اس خاربازی کا عمومی اظہاریہ بس بنا کرتی تھی اکثر۔ بس پہ چوہدراہٹ چلانا گویا سارے علاقے پہ چوہدراہٹ چلانا۔ بھلے نظام سقے کی قبر پہ لات سہی مگر کچھ تھی تو سہی!! آج فلاں گاؤں کے چوہدری نے شہر جانا تھا اس نے بس پندرہ منٹ رکوا کے رکھی کیونکہ وہ وقت پہ تیار نہیں ہوسکا۔ آج فلاں گاؤں کے چوہدری نے بلاوجہ بس رکوا دی۔ ہمارے گاؤں کا تو چوہدری ہی ڈرپوک ہے اس نے کبھی بس رکوائی ہی نہیں! اگر کبھی بس سے شہر جانا ہوتو وقت سے پہلے موجود ہوتا ہے انتظار کرنے والوں میں۔

چوہدریوں کی اس قسم کی ذہنی عیاشی پہ سب سے زیادہ و پہلے ”بزرگ عورتيں“ اور کہیں کہیں بزرگ مرد یعنی ”اعزازی عورتیں“ {جنہیں عورت ہونے کا اعزاز بشکل طعنہ دیا جاتا تھا} بھڑک جایا کرتی تھیں۔اور اکثر وہ کچھ ہی سنایا کرتی تھیں جو ان کے گاؤں کے مرد آپس میں تو کہہ سن لیتے تھے لیکن کبھی کسی دوسرے پِنڈ کے چوہدری کے آگے چُوں نہیں کرتے تھے۔ اینٹ والا ہاتھ پکڑنے اور روکنے کی بجائے انہیں اینٹ کھا کے پتھر سے جواب دینا زیادہ پسند تھا شاید!۔بھلے یہ پتھر ان کے اپنے ہی گھر پہ برسیں کسی دن۔ کنڈیکٹر کی تمام اصل چوہدریوں کے حق میں واحد دلیل ہوا کرتی تھی ”کونسی آگ لگی ہے آگے جو آپ لوگوں نے بُجھانے جانا ہے۔ دس پندرہ منٹ کی بات ہے‘‘ اور اکثر بس کی رفتار وہ کام دکھایا کرتی اور لوگ وقت پہ آگ بُجھانے اپنی اپنی منزل پہ پہنچ جایا کرتے۔

یہ تاخیری نفسیات اس قدر صاحبِ سُکان پہ غلبہ کرلیا کرتی تھیں کہ عام دنوں میں بھی {چوہدری والا دن خاص ہوتا ہے!} اپنی رفتار کے ساتھ وقت کی تال میل بنائے رکھنے کے لیے آدھے مُنے گھنٹے کی مسافت میں بھی پانچ دس منٹ کا آرام صاحبِ سُکان اپنے ہاتھوں کو دے ہی لیا کرتا۔
”دو منٹ رک کر انتظار بھی کرلینا چاہیے کبھی کسی غریب کا جی! اچھا سوچئیے اچھا ہوگا“۔

اصل چوہدریوں کے وکیل یعنی کنڈیکٹر کی ہستی پہ بھی لگے ہاتھوں بات ہوجائے۔ بسوں کی تخلیق و ترویج میں ان کا کبھی کوئی کردار رہا ہے یا نہیں، ہمیں ہنوز اس بارے تاریخ سے کوئی مضبوط حوالہ بطور ثبوت ہاتھ نہیں لگا۔ لیکن گمان غالب ہے کہ یہ ان چوہدریوں کی نسل ہے جو چوہدراہٹِ سڑک کی حسرت میں اس درجہ ترقی کرچکے تھے کہ اپنے گاؤں کی چوہدراہٹ چھوڑ سڑک پہ مستقل چوہدراہٹ کی داغ بیل ڈالنے کے لیے بس کو ہی اپنا مسکن بنا چکے تھے۔تاریخ کے جملہ حملہ آوروں اور فاتحین کی طرح انہوں نے بھی اپنے نام کے ساتھ خاص سابقے و لاحقے لگائے اور ان میں ترقی بھی کی۔ مگر تاریخ کی معروف پسند جبری نفسیات سے یہ بھی نہ بچ سکے اور اپنے تاریخی شجرِ شجرہ سے کافی حد تک محروم ہوگئے۔ لیکن ”حرکی چوہدریوں“ کی تاریخی عظمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ، ان کی آج کے معاشرے میں بھرمار اور قوتِ اختیار و اثراندازی سے لگائی جاسکتا ہے۔ان کی کچھ نشانیاں ہیں جو آپ کو قریبی بس کے کنڈکٹر سے مل سکتی ہیں۔ان کا ہر راستے اور موڑ کے متعلق مطالعہ کسی محقق سے کم نہیں۔

ان کی پکار بدلتی رہتی ہے۔یہ ہوا کے ساتھ نہیں چلتے۔ بلکہ ہوا کو ”چیرنے والی“ کے ساتھ چلتے ہیں۔ انتہائی غلط العام قول ہے۔ چلو تم ادھر کو جدھر کو ہوا چلے۔ ارے مکھی بھی ہوا کی مخالفت میں چلنے کا جذبہ رکھتی ہے بھئی۔

یہ سواریوں کو ان کے چوہدریوں کے حوالوں سے پہنچاتے ہیں۔ فلاں گاؤں کا چوہدری ایسا ہے فلاں کا ویسا ہے۔ اسطرح ان کی باتیں یکساں باوزن بیٹھتی اور پُراز حکمت معلوم ہوتی ہیں۔ یہ معروف ادب و لطیفہ کے انتہائی مشتاق و مشاق ہوتے ہیں۔ کثرتِ مشق کے باعث ان کی ہر پُکار و بکواس میں ایک موسیقی جنم لے لیتی ہے۔ان کی آواز کا اپنا ہی سحر ہے۔

اگر انہیں کسی بدعنوانی یا نااہلی کے باعث ”بس بدر“ کردیا جائے تو یہ یا تو ہاضمہ دار پھکیاں بیچنے واپس بس کا رخ کرتے ہیں یہ گلیوں محلوں میں باسی سبزیاں بیچتے پائے جاتے ہیں۔کیونکہ انکی زبان چغل خور کی طرح اپنی لذت پوری کروائے بِنا رہ نہیں سکتی۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. منفرد موضوع اور بعض مقامات پر عمدہ منظرنگاری ہے۔ ایک دو جگہوں پر نا چاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ در آئی ہے۔ اچھا لکھا۔ مگر فقرہ بازی پسند نہیں آئی۔ البتہ اسے ہم ایک اچھا تجربہ کہہ سکتےہیں مگر اس سے مزاح کا بنا ہوا ماحول بھی ناپید ہوجاتا ہے۔

    • عمرفرید ٹوانہ on

      آپکا تجزیہ پسند آیا۔شکریہ ۔۔۔فقره بازی کی بابت انشاءاللہ بہتری آئے گی۔مگر لہجہ نہیں بدلے گا۔سلام و رحمتہ اللہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: