فیس بک کی طلسم ہوش ربا: شہنیلہ بیلگم والا

4

فیس بُک وہ جگہ ہے جہاں پر ہر کوئی وہ کچھ بن سکتا ہے جو بننے کی اسے چاہ ہوتی ہے۔ یہ وہ طلسم ہوش ربا ہے جہاں گدا چاہے تو شاہ بن جائے اور نر چاہے تو مادہ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے صرف چند جملے کی بورڈ پہ ٹائپ کرنے پڑتے ہیں۔ اس دنیا میں سات بچوں میں سے پانچ بہنوں والی، چوتھے نمبر والی بابا کی پرنسز کے طور پر ملے گی تو انتہائی منحنی، ساری زندگی محلے کے بچوں کی ماریں کھاتا ہوا، ڈیشنگ گائے بنا ہوا ہوگا۔ فیس بُک استعمال کرنے والوں کی یوں تو بہت اقسام ہیں مگر آج ہم چند ایک کے بارے میں آپ کی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

میاں کی لاڈلی اور جانو بیویاں:

یہ مخلوق فیس بُک پہ بدرجہء اتم پائی جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر چڑچڑے اور درمیانی عمر کے مردوں کی بیویاں ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق غریب یا عموما مڈل کلاس سے ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی سرکاری کلرک بابو کی بیگم بھی ہو سکتی ہیں. جن کے میاں کو گھر میں داخل ہوتے ہی کھانے کی طلب ہوتی ہے اور ان کا پہلا سوال ہوتا ہے”کی شئے پکائی”۔ مگر فیس بُک پہ اسٹیٹس اپلوڈ ہوگا، “آج میرے وہ میرے لئے آفس سے آتے ہوئے موتیے کے گجرے لائے اور کہا ڈارلنگ چلو کہیں باہر چل کر کچھ کھاتے ہیں”۔ حالانکہ جانو کے سیاں جلدی جلدی حلوہ کدو کے نوالے روٹی کے ساتھ نگل رہے ہوتے ہیں کیونکہ بعد میں میں پوری گٹکا جو کھانا ہوتا ہے۔

یہ اپنے بچوں کے ساتھ مغز پچی کر کر کے کچھ کچھ انگریزی سے واقف ہوگئی ہوتی ہیں یا پھر ادھر ادھر سے کاپی پیسٹ کرنا سیکھ گئی ہوتی ہیں۔ اسٹیٹس لکھیں گی؛
“Having a murgi mania with hubby darling”.
اسی کے ساتھ ایک تصویر لگی ہوگی چکن کڑاہی اور چکن تکے کی، لیکن ہبی ڈارلنگ اور ان کی موتیے کے گجرے پہنے ہوئی جانو نہیں دکھیں گے کیونکہ پکچر جو گوگل سے ڈاؤنلوڈ کی ہوگی۔
آپ کو وہ خواتین بھی اپنے اپنے جانو میاں کے اپنے بارے میں اشعار شئیر کرتی ہوئی ملیں گی.جن کے شوہروں کو باڑے میں کھڑی بھینس اور بیگم میں کچھ زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔

پاپا کی پرنسز، بابا کی لاڈلی، مانو بلی وغیرہ:

یہ وہ مخلوق ہے جس کی ڈی پی اکثر سرکٹی ہوگی یا مہندی، چوڑیوں اور نیل پالش سے سجے ہاتھوں والی ہوگی۔ یہ محترمائیں دن میں تین سے چار اسٹیٹس اپلوڈ کرتی ہیں۔ مثلا اتوار کے دن صبح کا پہلا اسٹیٹس:
افففففف چھٹی کا دن چھٹی کا نہیں لگتا اگر ناشتے میں حلوہ پوری اور چنے نہ ہوں”۔ لیکن گھر میں کچھ اس طرح والدہ ماجدہ سے گفتگو ہورہی ہوگی، “اماں رات کا بچا ٹینڈوں کا سالن دے دو روٹی سے کھاؤں گی۔ جواب میں اماں کی چنگھاڑ “وہ تو رات میں ہی مک گیا تھا، اتنا بڑا ٹبر ہے کس کس کو پورا کروں۔ ایسا کرو میری بوٹیاں نوچ لو تبھی پیٹ کی آگ بھجے گی”۔

شام میں ان کا اسٹیٹس ہوگا غلط انگریزی کے ساتھ:
“I cutted the cake with my best frand”.
گوگل سے تین ہزار والا کیک ڈاؤنلوڈ کر کے صرف چوڑیوں اور نیل پالش والے ہاتھوں کی تصویر لگائیں گی۔ مزے کی بات ہے کہ اس پر بھی لائکس اور کمنٹس کی بھرمار ہوگی۔ سواگی گجر، مسٹر یملا پگلا، خانزادہ، ضدی جٹ ٹائپ کے لوگوں نے چھچھورے کمنٹس بھی کئے ہونگے. جیسے شالا نظر نہ لگے، ہمیں بھی بلا لیتیں، یم یم وغیرہ۔

ویسے تو یہ مخلوق بسوں میں ہی سفر کرتی ہے لیکن فیس بُک پہ لکھیں گی:
“مانو بلی feeling annoyed
Driver is late again”
جو لوگ ان کو ایڈ کرتے ہیں ان کے تصور میں ایک انیس بیس سالہ نازک اندام حسینہ ہوتی ہے جس کا نام علیشا چغتائی یا ماہ روش قاضی ہو سکتا ہے مگر یہ اسی پچاسی کلو کی ساجدہ پروین یا شاہدہ خاتون بھی ہوسکتی ہیں۔

یہ مخلوق انتہائی سطحی قسم کے اسٹیٹس اپلوڈ کرتی ہے مگر اس پر بھی کمنٹس اور لائکس کی بھرمار ہوتی ہے۔ مثلا یہ لکھیں گی:
“میٹرک میں کس کا اے گریٹ آیا تھا”
اب گریٹ سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یا تو محترمہ کی میٹرک میں یا تو سپلی آئی ہے یا محترمہ مڈل فیل ہیں لیکن بھائی لوگوں کے کمنٹس ملاحظہ ہوں،.” ہم آپ جیسے ذہین کہاں” یا ” آپ نے تو ٹاپ کیا ہوگا” وغیرہ۔ اس پر محترمہ اٹھلاتے ہوئے جواب دیں گی، “میرا تو ہمیشہ اے گریٹ آتا تھا” اس کے ریپلائی میں دو تین حضرات دل والی آنکھوں والا اسٹیکر لگائیں گے۔

فیس بُک کی چلمن کے پیچھے چھپے غفورے:

یہ مخلوق کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ ہر ایک کی فرینڈ لسٹ میں پائے جاتے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ لوگ انہیں خوشی خوشی ایڈ بھی کر لیتے ہیں۔ ان غفوروں کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہ سب کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجتے ہیں، ان کو بھی جن کو ان کے رشتہ دار تک نہیں بھیجتے۔ یہ ہر پوسٹ پہ کمنٹ کرتے ہیں تاکہ فرینڈ لسٹ میں ٹکے رہیں۔ بیچارے ہزارہا کوششوں کے باوجود خاتون نہیں بن پاتے اس لئے غلطی سے مسٹیک کر بیٹھتے ہیں یعنی ان پوسٹس پر بھی کمنٹ کر جاتے ہیں جہاں عموما خواتین نہیں کرتیں۔ اسی وجہ سے اکثر پکڑے جاتے ہیں مگر شاباش ہے غفوروں پر کہ
جہاں میں مثل آفتاب جیتے ہیں۔

جہاں ایکسپوز ہوئے ترنت نئی آئی ڈی بنائی اور حاظر۔ ان غفوروں کی اپنی افادیت ہے۔ ان کے ریکویسٹ بھیجنے سے وہ لڑکے بھی خوش ہو جاتے ہیں جن سے شادی سے انکار، ان کی پھپھو کی بیٹی نے بھی کر دیا ہوتا ہے۔ غفوروں کی ان گراں قدر خدمات کے عوض میری فیس بُک کی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ ان کا بھی عالمی دن منایا جائے۔ بیچارے خوامخوا وومن ڈے پہ پوسٹ لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

کچھ غفورے باریش مولوی بھی پائے ہوتے ہیں تو اکثر جذبات میں آکر ان پوسٹس پر بھی کمنٹس کر جاتے ہیں جن میں ان کے مسلک کے خلاف کچھ کہا گیا ہوتا ہے۔ مدرسے سے پڑھے ہونے کی وجہ سے ایسے الفاظ اور تاویلات استعمال کرتے ہیں کہ چلمن سے لگے دوسرے باریش غفورے انہیں فورا پہچان جاتے ہیں کہ لونڈا کس مدرسے کا ہے۔ تو اگر آپ کے پاس کہکشاں ترمذی یا زرفشاں ایوب کی فرینڈ ریکویسٹ آئی ہے تو زیادہ خواب سجانے کی ضرورت نہیں۔ وہ مولوی کریم بخش یا حافظ احمد سلطان بھی ہوسکتے ہیں.

تو یہ تو تھے فیس بُک کی طلسم ہوش ربا کے کچھ کردار۔ باقی کچھ دانشور، واقعی دانشور اور انگریزی سے اردو ترجمہ کر کے فلسفہ بھگارتے دانشور بھی پائے جاتے ہیں۔ ان پر پھر کبھی تفصیلی بات ہوگی کیونکہ ان کی خصوصیات پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے لیے الگ مضمون درکار ہے۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. بہت ہی خوب ۔ ان بیچاروں کا بھی جینے کا حق ہے بھلے ورچؤل لائف ہی جیئں لیکن کم اذ کم جو بھی ہوں کسی کو نقصان ہرگز نہ پہنچائیں۔
    عمدہ تحریر۔ دنشوڑوں کی کیٹاگری پر انتظار رہے گا۔

  2. ایک چیز غور کرنے کے قابل ہے۔
    سبزیوں میں اس سبزی پر ہماری طبع آزمائی کچھ زیادہ ہی ہوتی جا رہی ہے۔
    ہم نے لوگوں کی دیکھا دیکھی اس کو ایک کم درجے کی کھانےوالی چیز مان کر ہی دم لینا ہے۔ بلکہ مان چکےہیں. یہ اب امیرگھروں میں شاید نہیں کھائی جاتی حتی کہ غریب بھی اب اس سے جان چھڑانے کے درپہ ہیں. اس کی میں ہر جگہ تضحیک ہی دیکھ رہا ہوں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: