ردِ تشکیلی فلسفے کی اطلاقی جہت: معراج رعنا

0
  • 36
    Shares

یورپ کے جدید تجزیاتی فلسفے میں فرانسیسی فلسفیانہ روایت کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔ اگر ہم College de France کی دانشورانہ روایت پر ایک سر سری نظر ڈالیں تو ناموں کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ سارتر، لاکاں، میشل فوکو، جونتھن کلر، پال دی مان، دریدا، جولیا کرسٹیوا اور گایتری چکرورتی چند ایسے معتبر فلسفی ہیں جنہوں نے نہ صرف یہ کہ سماجی علوم کو متاثر کیا بلکہ ان کے فلسفے انسانی فکر کی نہج تبدییل کرنے پر بھی قادر ثابت ہوئے۔ دریدا اس روایت کا ایک عظیم القد فلسفی تھا (۱) جس نے پہلی بار افلاطونی فلسفے پر ضرب لگا کر پوری مغربی فلسفیانہ عقیدت کو شکوک کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ دریدا دیگر تجزیاتی فلسفیوں کی طرح اپنے ڈسکورس کی ابتدا متن (Text) سے کرتا ہے (۲)۔

متن کی روایتی اور تاریخی تعریف کتاب کے مترادف ہے۔ کتاب جو در اصل اجتماع الفاظ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس ضمن میں الفاظ کی منتقلی کی حالت اصلی بھی ہو سکتی ہے اور تبدلی بھی۔ جب انگریزی مطالعات میں متن کی بات کی جا تی ہے تو ہم ایک خاص نوع کے وجود اور اس وجود کی تخصیصی حدبندی کی طرف از خود مائل ہو جاتے ہیں۔ مثلا اگر کہیں انگریزی مطالعے کا ذکر ہوتا ہے تو ہمارا ذہن ورڈس ورتھ کی کتاب Lyrical Ballades (۳) یا پھر کولرج کی تنقیدی کتاب Biographia Literaria کی(۴) طرف نہ چاہتے ہوئے بھی منتقل ہو جاتا ہے۔

یہاں یہ سوال قابل غور ہے کہ متن کا لفظ کیوں کر ہمارے ذہن کو کتاب کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ متن کی ماہیت سمجھ لی جائے۔ متن در اصل لاطینی لفظ Texere سے ماخوذ ہ ہے جس کے لغوی معنی بُننے کے ہیں۔ اسی لاطینی لفظ سے انگریزی لفظ Textile کا وجود ممکن ہوا۔ لہٰذا جب ہم Texture کا استعمال کرتے ہیں تو اس کے متعدد معانی میں ایک اہم معنی میں کچھ بُنی ہوئی چیز بہ آسانی مراد لے سکتے ہیں جو انسانی وجود پر بھی اتنا ہی صادق آتا ہے جتناساختیاتی تصور کے تحت کسی موسیقی، فن، ادبی یا غیر ادبی تحریر پر اس اصول کا اطلاق ممکن ہو سکتا ہے۔

لفظ متن کا استعمال واضح طور پر ایک کتاب کی تجسیمی صورتٖ حال کی نشاندہی کرتا ہے،جس میں اس کا مواد، موضوع اور زبان کی کارکردگی قاری کے نزدیک مرکزٖفکر بن جاتی ہے۔ گویا ایک کتاب کی تشکیل کا عمل اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے جتنا نئی گھاس کے اگنے سے لے کر نئے ملبوسات کی تشکیل کا عمل مشکل ہوتا ہے(۵)۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دریدا متنی تنقیدکی رو سے ایک متن کی سچی قرات کا متمنی نظر آتا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں:
(۷) Critical Study directed towards determining the true reading of a text

سچی قرات کے معنی متن کی تشکیل میں حق کی گم شدگی نہیں بلکہ قرات ثانیہ پر اصرار ہے، جس کے ذریعے ہم ایک متن کو بہتر طورپر پڑھ اور سمجھ سکیں۔ افہام و تفہیم کے اسی دورانیے میں سچائی کا عرفان ممکن ہے۔ قرات ثانیہ کامقصد تلاش و جستجو ہے جو سچائی کو دریافت کرتی ہے۔ وہ سچائی جو درون متن یا تو پوشیدہ رہتی ہے یا پھر اسے ہر قرات نظر انداز کرتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے رولاں بارتھ یہاں تک کہ دیتا ہے کہ ہر نئی قرات اپنی سابقہ قرات کی تردید ہوتی ہے۔ جب ہم یہ بات قبول کر لیتے ہیں تو یہاں یہ سوال پھر اٹھتا ہے کہ کیا متن معنی کی ترسیل کا محض ایک ذریعہ ہے؟ ظاہر ہے متن کا Model یا نمونہ کوئی نیا نہیں بلکہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی ہماری تاریخ اور زبان کی قدامت متعین کی جاتی ہے، وہ زبان جو تنظیمی طور پر زندگی، دنیا، حقیقت اور شعور کی نمائندگی کرتی ہے۔ لہذا دریدا بڑے ہی اعتما اور متیقن لہجے میں یہ بات کہتا ہے کہ متون متشکلہ میں سب سے افضل متن وہ ہوتاہے جو مذکورہ اشیامثلا زندگی، دنیا، حقیقت اور شعور وغیرہ کی تاثراتی ترسیل کا فرض انجام دیتا ہو۔

لیکن متن کی مشکلات میں ایک سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ تاثر صالح کی ترسیل میں تنگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہذا گمراہی راہ پا جاتی ہے۔ اور یہ گڑبڑ نظام بدیع Rhetorical System کی اس حمایت سے پھیلتی ہے کہ اشیا کی صداقت اور متن کے بیچ ایک واضح خط تفریق موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا تاریخی تعصب کے مطابق متن فکری نظام سے باہر ہوتا ہے اور اشیا کی صداقتیں اس کے درون میں پیوست ہوتی ہیں۔ عین اسی منطق کی رو سے اشیا کی صداقت بھی نظام فکر کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے اور متن لازما اس سے باہر۔ جب ہم یہ قبول کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ ہم ایک بار پھر سے بدیعی تفریق کے پابند ہو جاتے ہیں۔

دریدا کے مطابق ردتشکیل(۸) متن ہی کی طرح ایک تصور ہے جو تصورات کی تاریخ یعنی History of Concepts میں ہمیں حدوں اور حاشیوں کے متعلق سولات کرنے پر اکساتا ہے، جس سے معنی اور اس کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ معنی کی شناخت کا مدار متن کے تفکیری نظام میں پائے جانے والے تضاد و تفریق پر ہوتا ہے۔ لہٰذا رد تشکیلی قرات کی ابتدا ہی اس
ِسوال سے ہوتی ہے کہ وہ حدیں کیا ہیں؟ اور ان کی انتہا و منتہا کیا ہے؟ دریدا اپنے مشہور مضمون Borderlines / Living on کی ابتدا ہی اس سوال سے کرتا ہے کہ ایک متن کی سرحدیں کیا ہیں؟ اور ان سرحدوں کے بارے میں ہماری آگہی کیوں کر ممکن ہو سکتی ہے؟ دریدا اس ضمن میں حضور و غیاب یعنی Absence Presence and کی بحث کرتا ہے(۷)۔

دریدا کے مطابق روحانی روایت کو دو بنیادی رجحانات کے طور پر ہیش کیا جا سکتا ہے جو مختلف ساخت میں ظاہر ہو سکتے ہیں ایک وہ جو معلوی علم اورSuper Wisdom کے طور پر متن کے مرکز میں موجود ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ جو متن کے حاشیے پر ہوتا ہے۔ دریدا جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو اسے مرکز کو چیلنج کرنے کی خواہش ہوتی ہے کیوں کہ دریدا مرکز کی انہدام پذیری کو لا مرکزیت کے ظہور کی سب سے بڑی شرط تسلیم کرتا ہے(۹)۔

کسی متن کو Deconstruct کرنے کا واحد مقصد ہی اس کے مروجہ فکری مرکز کو پس پشت ڈالنا ہے جس سے حاشیہ آرا افکار لا مرکزیت کی شکل میں متن کے پیش منظر بن جاتے ہیں۔ اور پھر معنی یا اشیا کی حقیقتیں وہ نہیں معلوم ہوتیں جو متن کی رد تشکیلی قرات سے قبل ہمیں نظر آتی تھیں۔

دریدا کی رد تشکیلی قرات کا سب سے بڑا ذریعہ Binary Opposition کا ہے۔ یعنی یہی وہ ذریعہ ہے جو نہ صرف یہ کہ متن کی رد تشکیلی قرات کو قوت بخشتا ہے بلکہ معنی کے مرکزے میں زلزلے کی سی کیفیت بھی پیدا کرتا ہے۔ اسی کیفیت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی متن میں معنی کے پیرا ڈایم Paradigm خود بخود منتقل یعنی Shift ہونے لگتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جو سچائی تھی وہ تصور میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر تصور متن کے پس منظر میں منتقل ہو جاتا ہے۔ نقل مکانی کا یہ کھیل جب اپنے اختتام پر پہنچتا ہے تونتیجے کی صورت میں وہ سچائی جو واقعی سچائی ہوتی ہے، خود بخود متشکل ہو جاتی ہے:

Ayodhya verdict delivered by the Allahabad High Court has been successful in maintaining peace and harmony in turbulent times, and that we should be grateful for this. Perhaps this is true. At the same time, what is troubling is the way in which faith has been brought central stage within legal discourse (10)
(Issue of Faith, Kumkum Roy)
….
The whole Ayodhaya judgment is based on the belief that Lord Ram was born under the central dome of the Masjid. Let us take it granted that he was born exactly under the dome. Does it give himproprietary rights? Many of us may have been born in hospitals. Do we acquire proprietary rights to those place by virtue of our birth? Many Christians believe that Jesus Christ was born in Bethlehem, so does infant Jesus won the place? There is no law in India entitles you to ownership of the place where you were born (11)
(Secularism and the Indian Judiciary, P.A.Sebastian)


ورم نہ راجیم نہ کو راج راجیم
ورم نہ دارا نہ کو دار دارا
(۱۲)
ظاہر ہے کہ رام اور بابر دونوں ہی تاریخی مخاطبے یعنی Historical Discourse کے موضوع ہیں۔ lلہٰذایہاں ہمیں یہ بات قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے کہ ان دونوں کے درمیان ایک طویل ترین زمانی فاصلہ موجود ہے۔ ایودھیا فیصلے کی یہ دو رد تشکیلی قراتیں دو نئی صداقتوں کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔ پہلے اقتباس میں جب عقاید کو tDeconstruc کیا گیا تو سچائی کا منظری تصور پس منظر میں چلا جاتا ہے،جسے دریدا تحکم سے تعبیر کرتا ہے جب کہ دوسرے اقتباس میں بھگوان رام کی مرکزیت Jesus کی حاشیہ آرا شخصیت کے مد مقابل لا کر اس بات کا امکان پیدا کر دیا گیا ہے کہ ایک روحانی مرکز کے عین حاشیے پر Jesus جیسی دوسری روحانی شخصیتیں بھی موجود ہیں۔ تیسری مثال چانکیہ سے اخذ کی گئی ہے۔ پہلا حصہ Rule of Law کے متعلق ہے۔ مطلب یہ کہ کسی ملک میں لائق بادشاہ کا نہ ہونا باعث تفکیر نہیں بلکہ نالائق بادشاہ کا ہونا باعث فکر ہے۔ دوسرا حصہ بیوی کے سلسلے میں ہے۔یعنی یہ کہ ایک اچھی بیوی کا نہ ہونا اتنی خراب بات نہیں جتنی خراب بات ایک خراب بیوی کا ہونا ہے۔

دریدا کے نزدیک دونوں اقوال کی جو بھی رد تشکیلی تعبیریں ہوں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ جب ان دونوں قولوں کی قانونی اور نسائی رد تشکیلیت ممکن ہوتی ہے تو بہر حال دریدا کا تحکمی اور محکومی نظریہ جو حکومت اور عورت دونوں کے سلسلے میں ہو سکتا ہے،ضرور کہیں نہ کہیں ہماری رہنمائی کرنے لگتا ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ کسی متن کی رد تشکیلی قرات کا اولین مقصد اس کے معنیاتی نظام میں پائی جانے والی حقیقت کا علم یا عرفان ہے۔ جب ہم یہ بات قبول کرتے ہیں تو پھر Epistemology کی رو سے یہ سوال بھی پیدا ہوتے ہیں کہ علم کیا ہے؟ علم کو کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟ ہمیں یہ آگہی کیوں کر بہم پہنچ سکتی ہے کہ ہم کیا جانتے ہیں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو Epistemology کے جدید فرانسیسی فلسفی فوکو (Foucault) نے بیسویں صدی کے وسط میں اپنی مشہور کتاب Archeology of Knowledge (۱۳) میں اٹھائے تھے اور ان کے عالمانہ اور مدبرانہ جوابات بھی دیے تھے۔

فوکو بنیادی طور پر علم کی مابعدالطبعیاتی تعبیریں پیش کرتا ہے۔ یعنی اس کے نظام فکر میں علم وجدان کا حصہ ہے، اور جو اکثر زمانی حدوں کی ترتیب کو منتشر کرتا رہتا ہے۔ فوکو کی یہی Dynamics اسے ایک سطح پر Postmodern Historian کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کا نظریہ علم بصیرت یا Insight کا حامل ہو جاتا ہے، جس کا ایک سرا شعوری یا لا شعوری طور پر قرآنی تصور علم سے جا ملتا ہے۔ توحید یعنی Recognition of Oneness of God اس کی واحد مثال ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ۲۷ بار علم اور ۱۴۰ بار عالم یا اسکالر کا ذکر نمایاں ہے۔ اسلام سے قبل ریگ وید میں علم کی کئی شکلیں موجود ہیں، جن کی بنیادوں پر گزشتہ دہائیوں میں Mahesh Yogi نے ویدک علم کی پر زور تبلیغ کی ہے جو خالصتا تعقلی ہوتے ہوئے بھی Metaphysics کے ایک محترم حصے یعنی وجود سے منسلک ہو جاتا ہے۔
اسلامی فلسفے میں علم کی فضیلت اس لیے مستحکم نظر آتی ہے کہ اس کا ظہور ہی جہالت کے بطن سے ہوا تھا۔ ایک مستند حدیث بھی ہے انا مدینۃ العلم و علیون بابہا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ فوکو، امام غزالی(۱۴) کی طرح علم کی تقسیم کا حامی نہیں۔ چونکہ اسلام میں کسی بھی نوع کے علم کو انسانی نسل کے لیے نقصان دے تسلیم نہیں کیا گیا ہے جبکہ امام غزالی علم کو افادی اور زیاں رسانی کے خانوں میں منقسم کرنے کی فلسفیانہ وکالت کرتے ہیں جو بہر حال ایک الگ ڈسکورس کا موضوع ہے۔


منتخب کتابیں اور حوالے

1 Derrida For Beginers, Jim Powell, p.7, Orient Longman 2000
2 Writing and Difference, Derrida, p.8, Routledge 2001
3 Wordsworth and other Essays,Jim Rowley, London 1927
4 Biographia Literaria, vol.1, S.T.Coleridge, London 1817
5 T.S.Eliot and the Idea of Tradition,p.139,Giovanni J.Harding,London 2007
6 Of Grammatology, Jacques Derrida,Trans. Gayatry Spivak, John Hopkins 1997
7 Critical Inquiry, p.776, vol.15, No.49 (summer) Chicago 1989
8 The American Journal of Sociology, p.622, vol.93, No.3, Chicago 1987
9 The Kenyon Review, p.118, vol.6, No.4, Kenyon College 1984
10 Economic and Political Weekly, p.54, No.50, 2010, India
11 Economic and Political Weekly, p.42, Ibid
12 The First Great Political Realist, p.122, Roger Boesche, Cumnor Hill,London 2002
13 The Archaeology of Knowledge,M.Foucault,Routledge, London 2002
14 Wonders of the Heart, Al Ghazali,Trans. W.J.Skellie, Malaysia 2007

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: