ازدواجیات کی تشکیل جدید – کچھ مزید مباحث

0
  • 12
    Shares

برادر بزرگ عثمان سہیل نے ایک قدیم محاورے کو موضوع بنا کر ازدواجی علم کی عصر نو سے ہم آہنگ تشکیل جدید کا  ڈول ڈالا ہے۔  ان کا مقالہ نوید سحر محسوس ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ نرگسِ ملت کی ہزار سالہ گریہ زاری رنگ لارہی ہے اور وہ دیدہ ور جنم لے رہے ہیں جو اجتہاد کے صدیوں سے مقفل دروازوں کو وا کرکے ازکار رفتہ نظریات پر نظر ثانی کرتے ہوتے ملی ڈسکورسز کی ٹھوس علمی بنیادوں پر از سر نو تشکیل کا کارنامہ سرانجام دیں گے۔

ہرچند کہ احقر کو اس ژرف نگاہی و شیریں بیانی سے کچھ بھی حصہ نصیب نہیں ہوا جس سے برارد بزرگ عثمان سہیل و بزرگ تر مدیر محترم شاہد اعوان کو قدرت نے نوازا ہے مگر ان بزرگوں کی حوصلہ افزائی سے ہمت پکڑتے ہوئے کچھ ناچیز گزارشات احقر بھی پیش کرنا چاہے گا تاکہ اس ٹھوس علمی بحث میں پیش رفت ہوسکے۔

سردست احقر کے پیش نظر مذکورہ علمی مسئلے کے صرف دو ایسے پہلووں کی نشاندہی کرنا ہے جن کو زیربحث لائے بغیر جدید ازدواجیات کی جامع علمی تدوین کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے۔

اول یہ کہ عہد حاضر کے ملک الموت نے فکر معاش دے کر نوجوانان ملت بیضاء کی صرف روح ہی قبض نہیں کی بلکہ بروقت شادی کی راہیں بھی مسدود کررکھی ہیں۔ نتیجتا نوجوانان ملت پر ایک طویل و پرآشوب عرصہ ایسا گزرتا ہے جس میں انکی ازدواجی حیثیت  کنوارہ/کنواری ہی رہتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں زندگی کی گاڑی دو کی بجائے ایک یا ایک کے ساتھ یکے بعد دیگرے (یا کئی بار ایک ساتھ) آنے والے عارضی پہیوں کے سہارے ہی رواں رہتی ہے۔ بنا برایں، احقر یہ رائے پیش کرتا ہے کہ دو پہیوں والے محاورے میں تمام ازدواجی کیفیات کی نمائندگی کیلئے کافی نہ ہونے کے باعث فوری اور مناسب ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں کچھ مزید علمیاتی سوالات پر غور و خوض کی ضرورت بھی پیش آئے گی مثلاۤ یہ کہ ایک پہیے کے سہارے چلنے والی شے کو گاڑی قرار بھی دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیا عارضی پہیے کو مستقل پہیے سے فعلی لحاظ سے بادی النظر میں مختلف نہ ہونے کے باوجود علمی لحاظ سے برابر کا پہیہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ ایسا کرنے سے کونسے کونسے اخلاقی اشکالات پیش آسکتے ہیں؟ وغیرہ۔

دوم، حیاتیات، جینیات، جنسیات، نفسیات، سماجیات، اخلاقیات وغیرہ علوم میں نئے اکتشافات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی جدید ٹیکنالوجی سے روایتی گاڑیوں سے مختلف ہم جنس پہیوں پر مشتمل جو نئی گاڑیاں شاہراہ حیات پر رواں دواں ہیں ان کے درست بیان کیلئے بھی ایک نئے محاوراتی بندوبست کی ضرورت ہے۔ قدیم محاورے میں میاں بیوی کے تصورات جن معانی کے حامل ہیں وہ اس نئی صورت حال پر ٹھیک سے منطبق نہیں ہوسکتے۔ برآں مزید، یہ نئی گاڑی غرض و غایت میں بھی قدیم گاڑی سے مختلف ہے کیونکہ موخرالذکر کے برعکس اس کا مقصود اصلی نئی گاڑیوں کی تیاری کیلئے پہیے فراہم کرنا نہیں ہے۔

احقر امید کرتا ہے کہ کی یہ ٹوٹی پھوٹی گزارشات اس بحث کو آگے بڑھائے میں ممد ثابت ہوں گی۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: