آپ کو تو ڈو مور کہنا چاہیئے تھا: ڈاکٹر رئیس صمدانی

1
  • 2
    Shares

عجیب ستم ظریفی ہے کہ پاکستان میں لائق فائق، ذہین، آنکھوں میں آنکھیں ڈال بات کرنے والے، بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج بلند کرنے والے یا تو ناپید ہوگئے ہیں یا پھر ہماری سیاسی جماعتیں جو کسی بھی طرح بر سرِ اقتدار آجاتی ہیں. انہیں اپنے پارٹی ورکر ز کے علاوہ کسی دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ ہی نہیں ہوتا خواہ اس کی زندگی کتنی ہی غیر جانب رہی ہو، وہ کتنا ہی ذہین اورپڑھا لکھا کیوں نہ ہو۔ حکمراں جماعتیں اپنے درباریوں سے، خوشامدیوں سے، امور مملکت چلانا چاہتی ہیں۔ اس کے پیچھے صرف اور صرف یہ خوف کارفرما ہوتا ہے کہ کہیں ذہین شخص کو لوگ پسند نہ کرنے لگ جائیں، درباری اور خوشامدی ناراض نہ ہوجائیں۔ موجودہ حکمراں جماعت کی چارسال سے زیادہ عرصہ پر محیط کارکردگی سامنے ہے۔

ایک ایک وزیر کی کارکردگی کو سامنے رکھیں نظر یہ آئے گا کہ سوائے چند کے تمام کے تمام نااہل اور ان کی کارکردگی صفر ہی نہیں بلکہ اس نے اپنی وزارت کا بیڑا غرق کر دیا۔ وزیر خزانہ کے بارے میں کیا کہا جائے ملک کا خزانہ خالی، پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ سے زیادہ کا مقروض اور وزیرخزانہ کی ذاتی تجوریوں میں خزانہ لبا لب بھر ہوا۔ طرفہ تماشہ تو دیکھیں کہ جس شخص پر اپنا خزانہ اپنے وسائل سے زیادہ بنانے کا الزام ہو ، اعلیٰ عدالت میں وہ مجرم کی حیثیت سے پیش ہورہا ہو، اس پر فرد جرم عائد ہوچکی ہو، وہ پھر ہمارا وزیر خزانہ ہے۔ خبرہے کہ وہ پھر سلطانی گواہ بن کر ماضی کی روایت کو پھر سے دھرانے کا ارادہ رکھتے ہیں. وہ ہر صورت میں اپنی جان چھڑانے کی فکر میں ہیں اگر عدالت نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا تو پھر پاکستان کا وزیر خزانہ جیل میں ہوگا اور جیل میں بیٹھ کر ملک کی وزارت خزانہ چلائے گا۔ ہائے رے ہماری قسمت….

وزیر بجلی و گیس خواجہ آصف اور نا اہل وزیر اعظم کے قریبی رشتہ دار وزیر عابد شیر علی اپنی سابقہ وزارت میں صرف شیر کی دھاڑ دھاڑتے رہے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا حال وہی رہا۔ جب سے میاں صاحب نا اہل ہوئے کسی بجلی، پانی، سڑک، ڈیم یا کوئی اور ترقیاتی منصوبے کا افتتاح نہیں ہو ا. حیرت ہے کہ ملک کی ترقی کا پہیہ میاں صاحب کے کرسی سے اترتے ہی رک گیا۔ یا پھر تختیوں پر تختیاں لگنا بند ہوگئیں۔ وزارت خارجہ میاں صاحب نے نا اہل ہونے تک اپنے پاس رکھی، نتیجہ محض یہ نکلا کہ اس وزارت کا بھی بیڑا غرق ہوگیا۔ جب وزیر خارجہ یا کوئی پاکستان کا نمائندہ کسی غیرملک کے سربراہ سے ہاتھ میں پرچیاں لے کر گفتگو کرے گا تو وہ کیا خاک ملک کا وقار بلند کرسکتا ہے، وہ پاکستان کا نقطہء نظر کیسے بیان کر سکتا ہے؟ اس نے تو وہی کچھ اگلنا ہے جو اسے پرچیوں پر لکھ کر دیا گیا ہوگا۔

میاں صاحب کی جانشین حکومت نے خارجہ امور کا قلم دان خواجہ محمد آصف کے گلے میں ڈال دیا گیا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ میاں صاحب نے انہیں وزارت اعظمی کے لیے منتخب نہیں کیا ورنہ تو کوئی حد ہوتی،.کوئی حیا ہوتی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س میں پاکستان کی نمائندگی کرنا تھی۔ وزیر اعظم بھی تشریف لے گئے اور وزیر خارجہ بھی ہمراہ تھے۔ امریکہ میں جنرل اسمبلی کے علاوہ مختلف فورم پر وزیر اعظم نے پاکستان کا نقطہء نظر اچھے انداز سے پیش کیا، بلکہ بھرپور انداز میں پاکستان کا نقطہء نظر پیش کیا۔

وزیرخارجہ صاحب نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’میرے ذہن میں پہلے پنجابی آتی ہے جس کا انگریزی ترجمہ کر کے وہ بات کرتے ہیں‘‘۔ اس جملہ پر غور فرمائیں یہ ہیں ہمارے وزیر خارجہ کی سوچ کا انداز، ان سے بہتر تو ہمارے نا اہل وزیر اعظم تھے جو کم از کم اول فول تو نہیں بکتے تھے . چپکے چپکے ہاتھ کی پرچیوں پر لکھا دیکھا وہی اگل دیا۔ جس شخص کے ذہن میں پہلے کوئی اور زبان آتی ہو پھر وہ اس کا انگریزی ترجمہ کرتا ہو، پھر وہ بولتا ہو، کبھی کسی نے سنی اس قسم کی بات؟ اب یا تو خواجہ صاحب سپر جیئنیس ہیں، یا وہ کچھ اور کہنا چاہتے تھے. اگر وہ اس جملے کے توسط سے پنجاب کی مخصوص لابی کو خوش کرنا چاہتے تھے تو اس کی کیا ضرورت تھی، خواجہ صاحب تو پہلے ہی اردو بولیں یا انگریزی مگر لگتا یونہی ہے کہ پنجابی میں انگریزی یا اردو بول رہے ہیں۔

فضول باتوں کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کوئی شرم ہوتی ہے فرماتے ہیں کہ “حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک دھرتی پر بوجھ ہے اس کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے وسائل اور طاقت کی کمی ہے.” آگے فرمایا کہ ’’کہ یہ کہنا آسان ہے کہ پاکستان حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا ہے ان کو ہمارے گلے کا ہار بنادیا گیا ہے، یہ ہمارے گلے کا ہار نہیں ہم پر بوجھ ہیں مگر ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس متبادل اثاثے نہیں، امریکہ ہمارے بوجھ میں “اضافہ کر رہا ہے ہمیں ’ڈومور‘ کے لیے وقت درکار ہے۔ “خواجہ صاحب کا یہ جملہ قابل غور ہے کہ ’’ہمیں ڈو مور کے لیے وقت درکار ہے‘‘۔ جب پرویز مشرف کے دورمیں ‘ڈو مور’ ہوا تو یہی نواز لیگ پرویز مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا کرتی تھی کہ مشرف امریکہ کے آگے لیٹ گیا۔ اب آپ نے اس ہمت اور جرات کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا؟ آپ نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں وقت درکار ہے. آپ نے کیوں نہیں للکارا کہ ہم ڈو مور بہت کرچکے اب ڈو مور نہیں بلکہ ’’نو مور، نومور، نو مور‘‘ ہوگا۔

اب وزیر داخلہ لاکھ چلائیں کہ اب نو مور ہوگا نو مور ہوگا. اس سے کیا ہوتا ہے۔ وقت تو گزرگیا، جب آپ کو نومور کہنا تھا اس وقت آپ کی گھگی بندھ گئی۔

اب وزیر داخلہ لاکھ چلائیں کہ اب نو مور ہوگا نو مور ہوگا. اس سے کیا ہوتا ہے۔ وقت تو گزرگیا، جب آپ کو نومور کہنا تھا اس وقت آپ کی گھگی بندھ گئی۔ اپنے گھر میں شیر ہورہے ہیں۔ وقت مانگنے کا مطلب لیٹنا نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ وسائل کی بات کرتے ہیں ، آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط، بہادر اور جوہری قوت رکھنے والا ملک ہے۔ یہاں کے بہادر عوام امریکہ ہی نہیں کسی بھی قوت کا بہادری اور جواں مردی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کی بات کی گئی وہ تو کھلے عام سڑکوں پر نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں،. یہاں انہیں روکنے کے لیے آپ کو کونسے وسائل کی ضرورت تھی؟ ڈو مور کے لیے وقت مانگنا گویا آپ ڈو مور کرنا چاہتے ہیں، آپ کو امداد چاہیے، وسائل چاہیں۔ آپ کو تو صاف الفاظ میں کہنا چاہیے تھا کہ ہم اب ڈو مور نہیں کرسکتے، یا پھر صاف کہہ دیتے کہ یہ کام ہمارے بس کا نہیں، ہماری حکومت کی مدت چند ماہ کی رہ گئی ہے نئی منتخب حکومت آئے گی وہ کرے یا نہ کرے۔ لیکن یہ ہمت اور حوصلہ کہاں سے آئے ۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیر خارجہ نے بے بسی کا رونا بیرون ملک جا کر رویا ۔ اس پر، ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ آپ کتنے بہادر ہیں، اس کا اندازہ ہوگیا۔ آپ کی کیا قابلیت ہے وہ بھی کھل کر سامنے آگئی۔ مشرف نے ڈور مور کے جواب میں ڈومور کیا آپ نے کونسا انکار کیا؟ آپ ڈو مور کے لیے وقت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ بھیک بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے، وہ تو مداری ہے، شعبدہ باز ہے، اداکار ہے، آپ اس کی باتوں سے خوف زدہ ہوگئے . اس نے تو کس کس ملک کو تہس نہس کرنے کی دھمکی نہیں دی، درحقیقت وہ کسی ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اس کی باتیں گیدڑ بھپکیوں سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس دور میں جب پاکستان کو نیٹو اتحاد سے بے دخل کرنے کی باتیں ہوئیں، آپ خاموش رہے. امریکہ وزیر خارجہ نے زہر آلود زبان استعمال کی آپ کو چپ لگی رہی۔ آپ سے زیادہ بہادری تو ملیحہ لودھی نے اپنی دھواں دھار تقریر میں دکھائی اور بھارتی وزیر خارجہ کی خوب خوب درگت بنائی۔ ملیحہ لودھی کی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہ کم از پنجابی میں سوچ کر پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کرتی ہیں وہ جو کچھ سوچتی ہیں وہی بیان کردیتی ہیں وہ انگریزی ہو یا اردو۔ اپنی تقریر کے دوران اس نے جو تصویر لہرائی اگر غلطی سے اس کے ہاتھ میں کوئی اور تصویر بھی آگئی تو کیا ہوا؟ ممکن ہے کہ ان کے سامنے کئی تصاویر رکھی ہوں، عجلت میں اس نے وہ تصویر لہرا دی جو کشمیر پر ظلم و زیادتی کا اظہار نہیں کرتی تھی تو کیا ہوا؟ ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جو کاغذات پھاڑے تھے کیا وہ تقریر لکھی ہوئی تھی؟ نہیں اس کے پاس صرف پوائنٹس تھے ان کاغذات کو اس نے پھاڑ کر بیرونی دنیا پر پاکستان کا رعب طاری کردیا تھا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. برمحل تحریر۔ اس میں شک نہیں کہ ہر پارٹی چُن چُن کر ایسے نااہل، چول گدھے وزیر منتختب کرتی ہے کہ جن کو واقعی نہ کوئی شرم آتی ہے نہ حیا۔
    نااہل شریف کے نااہل وزراء اس کی زندہ و جاوید مثال ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: