مسخاکے – محمد خان قلندر

0
  • 37
    Shares

تین متبرک ہستیوں کے خاکے پیش خدمت ہیں، یوں تو یہ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، ہم نے بڑی محنت کے ساتھ سطح مُرتفح پوٹھوہار کے علاقے سے جڑی، طبی، انسانی بوٹیاں دریافت کی ہیں۔

راقم کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کے دانت پورے بتیس نہی ہوئے، مطلب آپکی عقل داڑھ نہیں نکلی تو آپ یہ تحریر ہرگز نہ پڑھیں. کیونکہ اس کا ہر ایک لفظ آپکو دانتوں سے چبانا پڑے گا،
ہاں بتیسی استعمال کرنے والے بزرگ اسے پڑھ سکتے ہیں کہ وہ ویسے بھی ہر شے بغیر چبائے نگلنے کے ماہر ہوتے ہیں.
تو چلیئے لاحول پڑھ کے مطالعہ شروع کیجیئے تاکہ آپ جلد بازی کی شیطانی صفت سے محفوظ رہ کر متزکرہ کرداروں کا حلیہ و اطوار دیکھ سکیں۔


“گلاں جانے تے مُلاں جانے”
گاؤں میں تین ہستیاں بہت لاجواب تھیں، یعنی کوئی ان کو جواب نہی دے سکتا تھا کہ ان کے پھر جوابی وار سہنا چنگی بھلی بیعزتی ہوتی تھی۔
جی آپ صحیح پہنچے بلکل ایک مولوی عبدالقدوس صاحب،.جن سے اختلاف راۓ کا نتیجہ آپ کے والدین کے ان کے پڑھاۓ نکاح کی تشکیک میں نکل سکتا تھا یا آپ کی ولادت پے آپکے کانوں میں دی گئی آذان اور اقامت کینسل ہو کر آپکو دوبارہ پیدا ہو کے مسلمان ہونے پر مجبور کرکیا جا سکتا تھا. ہم جیسے ناہنجار اگر آواگون کے سہارے اگلے جنم پر تیار بھی ہو جاتے تو دوبارہ مسلمانی کروانے کی دھمکی ہوش آُڑانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

اور اگر یہ بھی آپ سہہ لیتےہیں تو آپکے خیالی نکاح کے اصل میں وقوع پزیر ہونے کے امکانات تاریک ہو سکتے تھے تو جناب مولوی صاحب کے فرمان پر بڑے بڑے بزرگ بھی اس طرح چُپ سادھ لیا کرتے ہیں. جیسے کلاس کا کوئی بچہ جسے سبق یاد نہ ہو، یا جس کے سکول بیگ میں چوری کی کتابیں ہوں، کیونکہ اکثر بزرگوں کے چوری چھپے کے متعہ اور حلالہ محترم مولوی صاحب کے سینے میں دفن راز تھے. مطلب کہ گاؤں کے وہ مولوی فضل رحمان تھے۔

دوسری ہستی تھی بے بے گُلاں جو تھی تو میراثن، لیکن دائی کا ہنر بھی گاؤں میں اسی کے پاس تھا، پورے گاؤں کی ہر زچگی میں ان کا ہاتھ ہونا لازمی تھا پھر ان کے پاس ہر گھر کی خفیہ ازدواجی معلومات کا خزانہ تھا، رشتے ناطے ان کی ہی معرفت ہوتے، اور کسی بھی ممکنہ دلہن کے بارے بےبے کا دیا اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ سند ہوتا. جوانی کے اعمال، عشق و محبت میں پیغام رسانی کا کام بھی بے بے کی معرفت ہوتے تھے. مزید رات کو عاشق اور معشوق کی ملاقات کے لئے خدمات میں بےبے کا مقام کسی ماہر عامل سے بھی اونچا تھا اور احتیاطی تدابیر کی تو وہ حاذق حکیم تھی. اب ایسی معلمہ اور باخبر ہستی سے متھا لگانا اپنا ہی متھا پھوڑنے سے زیادہ ال فل برہنگی کا باعث ہو سکتا تھا تو جناب بےبے گلاں کا مقام بھی گاؤں کی وزیر اطلاعات کا تھا، مثال آپا فردوس اعوان کی دی جا سکتی ہے۔

گاؤں کی اہم ترین تیسری ہستی جسے ان کے منہ پر بابا باغ دین اور غیابت میں بابا بگُو کہتے تھے، یہ تیسرے ستون، کونے کا وٹہ، یا ترےحدہ کا نشان تھے. بےبے کے شوہر نام دار اور گاؤں کے میر میراثی تھے. لوگ کہتے تھے کہ مولوی عبدالقدوس ان کے رشتہ دار تھے، جب مدرسے سے تعلیم حاصل کر چکے تو بابا بگو ہی ان کو گاؤں میں لایا تھا.

بابا بگُو اس گاؤں کا ہی نہی ارد گرد کے سارے گاؤں کا انسائیکلو پیڈیا تھا۔
ہر ایک کا شجرہ نسب اسے ازبر تھا. پھر گزشتہ چار پانچ نسلوں سمیت اسے یہ بھی معلوم ہوتا کہ کس کی پڑ نانی کس کے پڑدادے کی سہیلی رہ چکی تھی. کس کی ماں کا رشتہ اس کے باپ سے کس وجہ سے طے ہوا تھا؟
ال آج کل کے مہان بزرگ کی سابقہ داشتہ کس اور گاؤں میں کیسے بیاہی گئی تھی؟ غضب کی یادداشت تھی ان کی اور منظوم طرز بیان میں شرفاء کی شریفسنہ جوانی کے کارنامے سنا دینا تو اس کا فن تھا.
بس ایک کشیدگی مسلسل رہتی تھی کہ یہ تینوں آپس میں اکثر سینگ پھنسا لیا کرتے ہیں. یہ وقت گاؤں والوں کے لئے بہت ہی پر لطف ہوتا دروغ بر گردن قاری.

یہ چہ مہ گویاں ہوتی رہتی تھیں کہ بےبے گُلاں کے عہد جوانی میں مولوی عبدالقدوس کے ساتھ خاص تعلقات تھے. بلکہ ایک مرتبہ بےبے اور مولوی گاؤں سے پورا ہفتہ غائب رہنے کے بعد علیحدہ علیحدہ واپس آۓ تو مولوی نے اپنے پرانے مدرسے والے قصبے میں جانے کا بہانہ بنایا اور بےبے نے اسی قصبے میں اپنی کوئی خالہ تلاش کر لی تھی. اس وقوعہ کے دوران جب گاؤں کے لوگوں کی باتوں سے بابا بگُو تنگ آ گیا تو اس نے ایک ضرب المثل گھڑ لی کہ “گُلاں جانڑے تے مُلاں جانڑے”

اسلام آباد میں جب بھی آل پارٹیز کانفرنس ہوتی ہے تو پتہ نہیں کیوں یہ کردار یاد آ جاتے ہیں. ہم جملہ قارئین کو یہ حق تفویض کر رہے ہیں کہ وہ آج کی کانفرنس کے شرکاء میں سے جسے مناسب سمجھیں، مولوی عبدالقدوس بنالیں جسے چاہیں بےبے گُلاں سمجھ لیں اور جس کے لۓ مناسب ہو اسے بابا بگُو کہہ لیں.
ہمارا کیا ہے؟
“مُلاں جانے اور گُلاں جانے”____

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: