یوں گزاریے زندگی : ثناء غوری

0
  • 30
    Shares

اکثر ڈرائیونگ کرتے ہوئے میر ے ارد گرد کی زندگی مجھے اپنے طرف کھینچتی ہے۔ دن بھر کی مسافت سے تھکے ہارے جسم جیسے خود کو گھسیٹتے ہوئے گھر کی جانب لے جارہے ہوں۔ اکثر بائک چلانے والے اتنے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کی سوچ کے تانے بانے یہ خوف ناک ٹریفک کیا جانے۔ کبھی بریک لگانے میں دیر کردی کبھی موڑ اُجلت میں کاٹ لیا۔ میری گاڑی کے ساتھ بھی حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ پہلے پہل مجھے غصہ آجایا کرتا تھا کہ میری گاڑی کو نقصان پہنچا۔ لیکن رفتہ رفتہ میں نے جب لوگوں کے رویوں پر غور کرنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ تھکے ہارے جسم اتنے ناتواں ہو چکے ہیں کہ انھیں اپنا ہوش نہیں غصہ کرکے انھیں مزید پریشان کرنا فضول ہی ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے چاروں طرف موجود ہیں جن پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جسم فقط چلتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ زندگی ہے کہ کہیں گم ہوگئی ہے۔

سانس لیتا جیتا جاگتا انسان تو موجود ہو لیکن دل کی حیات ختم ہوگئی ہو۔ یہ اس لیے کہ ہماری زندگی بھی کولہو کے بیل کی مانند گزر رہی ہے، جو آنکھوں پر پٹی باندھے بس گھومے جارہا ہے۔ ہم میں اور اُس کولہو کے بیل میں فرق اتنا ہے کہ بیل کی آنکھوں پر پٹی اس کے مالک نے باندھی ہے تاکہ وہ اس بات سے بے خبر رہے کہ وہ ایک ہی مدار میں چکر لگارہا ہے وہ بے چارہ جانور تو یہ سمجھ رہا کہ میں نے دن بھر نہ جانے کہاں سے کہاں تک کا سفر طے کرلیا اور دن کے اختتام پر جب آنکھوں سے پٹی ہٹائی جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو اُسی جگہ پاتا ہے جہاں وہ صبح موجود تھا۔ اور ہم۔۔۔۔۔ ہماری آنکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی بلکہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے یہ نیک کام انجام دیا ہے۔ ہم خود اسی کیفیت میں رہنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں کہ جانتے ہوئے بھی انجان رہیں۔ یہ جو دن بھر کی تگ دو ہے آخر اس کا کوئی نتیجہ ہے بھی یا نہیں۔ کب تک اور آخر کب تک یہ سفر یوں ہی چلتا رہے گا۔ روزی روٹی کمانے کی غرض سے سارا دن انسان بھاگتا رہتا ہے۔ دو وقت کی روٹی مل جائے بس یہی غنیمت ہے۔ قناعت پسندی، عاجزی انکساری اچھے لفظ ہیں، لیکن دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو ایسا تو نہیں کہ ان لفظوں کی آڑ میں آپ نے اپنے اندر کاہلی سستی کو جنم دے دیا ہے، آپ خود ہی اپنی زندگی کو منجمد کرنے کا باعث بنے ہوئے ہیں؟ زندگی دل میں پیدا ہونے والی ایک بے تابی کا نام ہے فقط سانسوں کا چلتا ہوا کارواں زندگی نہیں ہے۔

سانسیں تو ایک جانور بھی لیتا ہے لیکن آپ تو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر اُتارے گئے ہیں۔ آپ کی بے تابی آپ کی زندگی کی علامت ہے اور یہ بے تابی کس لیے ہونی چاہیے؟ یہ بے تابی اپنی اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی زندگی مزید بہتر بنانے کے لیے ہو تو پھر دیکھیے جینے کا مزہ کیسے آتا ہے۔ کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہے، نشیب ہے تب ہی تو فراز کا تصور ہے، موت ہے تو ہی تو زندگی کی اہمیت ہے، دکھ ہے تب ہی تو خوشی کا احساس ہے، محبت ہے تب ہی تو نفرت کے تصور نے جنم لیا ہے۔

اب بھی کچھ نہیں بگڑا، اب بھی وقت ہے۔ زندگی کو نئے رنگ ڈھنگ کے ساتھ مزید بہتر بنانے کے لیے جستجو کیجیے اپنے اندر بے تابی پیدا کیجیے۔

آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
اقبال

اپنی قوت کو آپ ہی تسخیر کریں گے۔ ہر انسان اہم ہے او ر مختلف ہے، ہر شخص کو میرے خدا نے خاص صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو کیسے تلاش کرتے ہیں اور کیسے نکھارتے ہیں۔

آپ دن میں کتنی ہی دفعہ اپنے آس پاس کے ماحول کو کوستے ہیں اپنے ملک سے نفرت، سسٹم سے نفرت، آپ کے دل میں بیٹھ چکی ہے، لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ شخصی تربیت سے ہی اجتماعی اصلاح کے فارمولے پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تو آپ اس شخصی تربیت سے خود کو آزاد خیال کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کی فکر آپ کو کھائے جاتی ہے۔ آپ اس معاشرے کی نفسانفسی اور خودغرضی کا ماتم کرتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لیے سوچیے آپ خود اپنے آپ سے کتنا مخلص ہیں۔ قوتِ ارادی کا کتنا فقدان ہے آپ میں، آپ جو ہیں، اس میں بہتری لانے کی امنگ آپ کو پریشان کیوں نہیں کرتی اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کام یاب زندگی بسر کررہے ہیں تو اس کام یابی سے آپ کے ارد گرد کے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟

اپنے اندر پُرجوش زندگی زندگی گزارنے کی بے تابی تو پیدا کیجیے، کام یابی کے دروازے خود بہ خود کھلتے چلے جائیں گے۔ لیکن یہاں ہر چیز محنت مانگتی ہے، پختہ ارادہ چاہتی ہے۔ یہ کام دنوں میں نہیں ہوسکتا، ہوسکتا ہے کئی ماہ لگ جائیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کئی سال بیت جائیں لیکن میرا رب سب دیکھ رہا ہے وہ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔

اہم بات! کام یاب انسان بننے کے لیے یہ مت دیکھیے کہ وہ شخص جو کام یاب ہے اس نے وہ کام یابی کیسے حاصل کی بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ ایسا کیا کر سکتے ہیں جو آپ کی ذات کو مطمئن بھی کرے اور آپ اس میں بہتر سے بہتر ہوتے ہوئے اپنے آپ کو منوا سکیں۔
خود کو سوچ کی اس دلدل سے نکالیے کے اب آپ کچھ نہیں کرسکتے، کیوں کہ آپ کے پاس وسائل نہیں، وقت نہیں، آپ زندگی کے جھمیلوں میں اتنے الجھ چکے ہیں کہ اب یہ سب باتیں بے معنی ہیں۔ چلیں آپ یہ بھی کرکے دیکھ لیجیے۔ یقین مانیے وہی حال ہوگا جس کا تذکرہ اس مضمون کے ابتدائیے میں کیا گیا۔ اپنی صلاحیتوں پر قناعت کرلینا یا اپنی بری عادتوں کی غلامی کرلینا ہی دراصل موت ہے۔ زندگی گزاریے لیکن ایک کام یاب انسان کی زندگی جس کے اندر کی روشنی اُس کے چہرے سے اُس کی باتوں سے اُس کی آواز سے اُس کے عمل سے کام یابی کی نوید سنائے۔

اللہ تعالی آپ کو سکون عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: