حضرتِ غالب اور میاں جمہوری — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

2
  • 44
    Shares

کوئی حضرتِ غالب کو جا بتائے کہ بھئی یہاں خبر گرم بھی ہے اور تماشا بھی روز ہوتا ہے، پرزے بھی اُڑتے ہیں اور پرچیاں بھی۔ آپ تماشا دیکھنے کو تو آتے نہیں پھر کہلوا بھیجتے ہو کہ:کوئی حضرتِ غالب کو جا بتائے کہ بھئی یہاں خبر گرم بھی ہے اور تماشا بھی روز ہوتا ہے، پرزے بھی اُڑتے ہیں اور پرچیاں بھی۔ آپ تماشا دیکھنے کو تو آتے نہیں پھر کہلوا بھیجتے ہو کہ:

دیکھنے ہم بھی گئے پے تماشا نہ ہوا

مہینا بھر پہلے کا قصہ ہے، آپ شاید چند صد روپے کے مقدمہء پنشن کے سلسلہ میں کلکتہ میں دھکے کھا رہے تھے، یہاں ایک دل چسپ تماشا ہوا۔ ہمارے شام پچاسی گھرانے (1985ء) کے سر براہ میاں جمہوری نے ایک راگ ایجاد کیا۔ کچھ دن گلیوں گلیوں الاپتے پھرے۔ دل کی تسکین نہ ہوئی تو بڑے تماشے کی ٹھانی۔ شام کے وقت شاہی لائو لشکر کے جلو میں، اپنے مصاحبوں کے ہمراہ دارالخلافہ سے اپنے دولت کدے کو چلے۔ باجے والے بھی ساتھ تھے، نفیریوں والے بھی، ڈھولچی بھی اور طبلے والے بھی۔ جگہ جگہ، قدم قدم پر گونگے، بہروں کا مجمع لگایا اور راگ سنایا۔ گلے میں سوز تو قدرت نے ودیعت کیا ہی تھا، دل کا دردِ نہاں بھی در آیا تو بات دو آتشہ ہو گئی۔ باجے کی دھن پر وہ تان اُٹھائی کہ شعلے سے لپکتے جاتے تھے۔ اگر اس وقت معجزہء خدا وندی سے میاں تان سین قبر سے اُٹھ آتے تو یہ تان سن کر دوبارہ قبر میں جا گھستے۔ دل پر لگی چوٹ بہت گہری تھی سو ہر تان دیپک بنتی جاتی تھی۔ ابھی پرسوں کی بات تھی، عالی جاہ مسند، شاہی پر متمکن انواع و اقسام کے کھانے تناول فرماتے تھے۔ ’’آب، حیات کے دریائوں میں نہاتے تھے، ہری ہری سبزے کی کیاریوں پر لوٹتے تھے‘‘۔ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اب جو پوچھا تو برا مان گئے۔ قاضی القضاۃ نے ذرا سے الزام پر دھر لیا۔ الزام بھی یہی چند ارب کی منی لانڈرنگ کا۔ کوئی پوچھے کہ بندہ بشر ہے، اقتدار اور حکومت ہمیشہ رہنے والی چیز تو ہے نہیں، کرتوت تو بدلنے نہیں۔ کل کلاں کو پھر سے بھاگنا پڑا تو سمندر پار کوئی ٹھکانہ تو ہو۔ نازوں کے پلے ہیں، دن میں پانچ بار مرغن غذائیں کھانے والے کہاں مارے مارے پھریں گے؟

ہندوستان کا روشن دماغ، اردو کا عظیم شاعر چند ٹکوں کی قمار بازی پر جیل کاٹے اور ملک و قوم کے اربوں کھربوں لوٹنے والے کند ذہن، نہاری خور دندناتے پھریں۔

اب آپ پوچھیں گے کہ یہ منی لانڈرنگ ہوتی کیا ہے؟ بھئی! فرنگیوں کی زبان ہے۔ ذرا سی سیکھ لیتے تو کیا ہرج تھا۔ آپ بھی تو کشتہء خمارِ رسوم و قیود نکلے۔ دوسروں کو بدیسی علم کی قدرو قیمت بتاتے رہے اور خود اپنے اسلاف کی تہذیب سے چمٹے بیٹھے رہے۔ چلو آپ کی آسانی کے لیے سادہ لفظوں میں بتا دیتے ہیں۔ منی لانڈرنگ بھی ایک طرح کی قمار بازی ہے۔ ارے حضرت ! قمار بازی سے یاد آیا آپ بھی تو قمار بازی کے الزام میں جیل گئے تھے؟ ذرا سی وقت گزاری اور دل کے بہلاوے کے لیے گلی کی نکڑ پر چند ٹکوں کی قمار بازی اور۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان کے عظیم شاعر اسداللہ خان غالب کو کوتوالِ شہر ہتھکڑی پہنا کر کوتوالی لے جائے۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم آپ کے وقتوں میں ہوتے تو شہر کے سارے پراپرٹی ڈیلروں اور ان کے ملازموں کو قیمے والے نان اورچکن بریانی کھلا کر کوتوالِ شہر کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے۔۔۔ ہندوستان کا روشن دماغ، اردو کا عظیم شاعر چند ٹکوں کی قمار بازی پر جیل کاٹے اور ملک و قوم کے اربوں کھربوں لوٹنے والے کند ذہن، نہاری خور دندناتے پھریں۔ (شرم ’ان‘ کو مگر نہیں آتی)۔ ابھی پرسوں شہر میں ایک اور تماشا ہوا۔ ایک وزیرِ چنیں ایک قومی ملزم کے ساتھ عدالت جا پہنچا۔ سپاہیوں نے روکا تو سیخ پا ہو گیا، منہ سے جھاگ بہنے لگی، دھمکیوں پر اُتر آیا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ بھئی جمہوریت کاعلم اُٹھا کر آپ وہاں کرنے کیا گئے تھے؟آپ کوتوالوں کے کوتوال ہیں، آپ کا فرض ملزموں کو گھسیٹ کر عدالتوں تک پہنچانا ہے نہ کہ ملزموں کو تحفظ فراہم کرنا۔ لیکن شاہ کے وفاداروں سے پوچھے کون؟

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا                              وگرنہ شہر میں۔۔۔۔۔۔۔ کی آبرو کیا ہے

 بے آبرو تو شاعری بھی بہت ہو گئی۔ شعر کتنا ہی عامیانہ کیوں نہ ہو، اس کی ایسی بے تو قیری برداشت نہیں ہوتی۔ آج ایک اور تماشا ہوا۔ ایک سند یافتہ نا اہل شخص نے بھرے مجمع میں یہ شعر پڑھ کر سب کو حیران کر دیا:

نا اہل، کمینے کی خوشامد سے اگر جنت بھی ملے تو منظور نہ کر

اے حضرتِ غالب!اب آپ ہی بتلائیے یا ہم بتلائیں کیا۔ آپ نے ایک گھٹیا شعر سن کر اپنا تخلص بدل لیا تھا، اگر آج کا تماشا دیکھ لیتے تو شاعری ہی چھوڑ دیتے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. سر بہت خوب اتنی مختصر تحریر میں نا اہلوں کی نا اہلی کے دفتر بیان کر دیے آپ نے۔فنی و فکری ہر دو اعتبار سے عمدہ تحریر۔کاش کہ یہ بادشاہ سلامت تک بھی پہنچ جائے او ہو پہنچ بھی جائے تو انھیں سمجھانے غالب کہاں سے آئے۔

  2. Khalid Nadeem Shani on

    زبان و بیان اشارہ کرتے ہیں کہ گویا میاں جمہورا بھی اپنے دور کے آخری ” مغل تاجدار” ہیں
    بہادر شاہ ظفر کا سر حالات کی چکی میں موئے فرنگیوں نے دیا تھا مگر میاں جمہورا نے تو چکی بھی خود بنائی ہے اور اسے گھمانے والے مصاحبین کی فوج بھی خود ہی تیار کی ہے بس آج کل میں چکی میں سر دینے ہی والے ہیں … یعنی خود اپنے دام میں صیاد کا آنا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے
    اسلوب کی قوسِ قزح کو مزاح کے تڑکے نے دو آتشہ کر دیا …
    آپ کی نثر قاری کو اپنے ساتھ رکھنے کی مقناطیسیت سے لبریز ہے
    بہت ساری دعائیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: