اختیار کی بدمعاشی کا نام آمریت ہے: ثاقب ملک

0
  • 172
    Shares

آج میں بولتا ہوں کہ مجھے 2011 میں رینجرز کے اہلکار کے ہاتھوں کیمرے کے سامنے نہتا قتل ہونے والا سرفراز شاہ یاد ہے. مجھے 2007 سے 2014 تک وزیرستان میں درجنوں سویلین کی “کولیٹرل ڈیمیج” کے طور پر اموات یاد ہیں۔

آج میں بولتا ہوں کہ مجھے عدالت سے ثابت شدہ مجرم کو پارٹی صدر بنوانے کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کے اپنے مفاد میں ان کی ملی بھگت سے نافذالعمل قانون یاد رہے گا۔ مجھے سندھ، خیر پختون خواہ، بلوچستان اور پنجاب کی گلیوں میں کمیوں، غریبوں ننگے جسموں پر “جمہور والوں” کے لگے ذلت کے کوڑے یاد ہیں۔

آج یہ سن لیں کہ فوج کی گود سے نکلنے والے کسی آئین اور قانون نہیں اپنے اقتدار کے لئے، اپنی دشمنیوں، اپنی نفرتوں کے انگاروں سے ہمارے ہاتھ جلا رہے ہیں. میں اپنی آزادی کے لئے جان دے سکتا ہوں کسی خاندان کے اقتدار کے لئے جان دینے کو تیار نہیں. میں پاکستان کے لئے جان دینے والوں کے لئے جان دینے کو تیار ہوں، انکی خاکی وردی کو اپنا کفن بنانے کو رضامند ہوں مگر انھیں اپنے بوٹوں اور بیجز سمیت اپنی عزت نفس روندنے اور اپنا اختیار سرنڈر کرنے کو تیار نہیں۔

آج میں بولتا ہوں کہ میں اس منافقت کا دشمن ہوں جو اردوان کے گولن کے مظالم پر گنگ رہتی ہے، جو ہر اس دہشت گردی پر یوم عاشور مناتی ہے جو مغرب میں ہو اور اس میں مسلمانوں کا نام ہو مگر ویگاس میں کافر دہشت گرد نکلنے پر لبوں کو سی لیتی ہے. جو منافقت اپنے جبے و دستار سبز، سیاہ اور سفید کرکے سعودی یا ایرانی اسلام کو حقیقی اسلام بنا کر پیش کرتی ہے. میں اس منافقت سے لڑتا رہونگا جو قادیانیت، ختم نبوت، توہین رسالت کے مذموم کارڈ کھیل کر سیاسی چالیں چلتی ہے۔

جان لیں کہ اختیار کی بدمعاشی کا نام آمریت ہے. چاہے یہ شیروانی میں ہو، ویسٹ کوٹ میں ہو یا خاکی وردی میں، آپ ہمیں اپنی جنگ میں ایندھن نہ بنائیں. ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس فقط روندا جاتا ہے۔

اختیار کا حق عوام کو ملے گا تو کچھ بدلے گا ورنہ آپ فوج دشمنی میں نواز شریف کا مورچہ سنبھال رکھیں، آپ شریف فیملی کے بغض میں عمران کو فرشتہ ثابت کرتے چلے جائیں، آپ سبز، نیلے، پیلے نوٹوں کے لئے پاک حب الوطنی کا راگ الاپتے رہیں، آپ خلافت کے سراب میں ٹوپیاں سیتے رہیں، آپ اسلام اور پیغمبر آخرالزمان کے راستے اپنے مفادات کیش کرواتے رہیں اور اسے آئین و قانون کی، جمہوریت کی، عوامی بالا دستی کی جنگ ثابت کرتے رہیں۔

میں اقتدار و اختیار کے درندوں کو لڑ بھڑ کر کمزور ہوتے دیکھ کر لطف اندوز ہوتا رہوں گا۔

میں درندوں میں وردی اور سویلین کا قائل نہیں۔
مجھے اشرافیہ بدلنی ہے، اشرافیہ کا لباس نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: