اردو جسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ فارینہ الماس 

0
  • 46
    Shares

انسان کا مشاہداتی و تاریخی علم باوجود بے تحاشہ تحقیق و تفکر کے “زبان” کے اصل مآخذ کا سراغ تو نہ لگا پایا لیکن یہ تصور ضرور مانا جاتا ہے کہ “زبان” کا جنم اور اس کا ارتقا ء، انسانی سوچ اور اس کے تمدن کے ارتقائی مراحل سے منسلک ہے۔ جب خیالات، جذبات اور احساسات اپنے اظہار کو بیتاب ہوئے تو انسان نے ان کے تبادلے کے لئے لفظ ایجاد کئے۔ ان لفظوں کی ایجاد اور بعد ازاں ان کی ہئیت و مزاج کا تنوع اور رنگا رنگی کی داستان ہزاروں سال کی ایک فکری و تمدنی تحریک کی محتاج رہی۔ گو کہ مختلف زبانوں کا اپنا ذائقہ، ترکیب، لہجہ اور اسلوب ہے لیکن ہر ایک کی، الگ اور منفرد پہچان و شناخت ہے جو اس کے بولنے والوں کی ثقافت و اطوار سے مزین ہے۔ زبان نہ صرف انسان کے تشخص و کردار کی عکاس ہے بلکہ اس کی نفسیات، ادراک، شخصیتی سلجھاؤ، بدلاؤ، اور بگاڑ تک کی نشاندہی کا باعث ہے۔ انسان اپنی آرزوؤں، تمناؤں محبت، نفرت، رنج و الم اور تمام تر شکوہ و شکایت کا اظہار لفظوں ہی کے پیرائے میں کرتا ہے۔ یہی لفظ انسان کے کڑوے، کسیلے، میٹھے، نمکین، گہرے یا سطحی جذبوں کے عکاس بنتے ہیں۔ کسی کا دل توڑنا ہو یا جوڑناہو، تائید درکار ہو یا تعریف، نظریہء و فلسفے کی آبیاری ہو یا تبلیغ و اصلاح کے مقاصد، ہر جگہ لفظ ہی کارگر ہوتے ہیں۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ لفظ بصورت زبان انسان کی معاشرت و تمدن اس کی ثقافتی سرگرمیوں اس کے ماضی و حال کے تذکروں تک کے عکاس بن گئے۔

زبان، عہد رفتہ کے انسان کی قومی و سماجی تحریکوں اور اس کی طاقت و غرور کی داستانوں کی آئینہ دار ہے تو عہد جدید کے انسان کا فخر اور اس کی عالمی شناخت کا باعث بھی۔ یہ کسی بھی قوم کی خود اعتمادی اور خود انحصاری، اس کی بقاء، یکجہتی اور ترقی کا گہرا راز ہے۔ دنیا میں جس قوم نے اپنی زبان کو اپنا فخر بنایا وہ سر اٹھا کر جینے لگی۔

چین ہی کی مثال لیں جہاں دنیا میں سب سے کم لوگ انگریزی کو سمجھتے یا سیکھتے ہیں۔ ان کا تمام تر تشخص ان کی اپنی قومی زبان میں ہے۔ دنیا کی ایسی کوئی بھی اہم کتاب نہیں جو چین نے اپنی زبان کے ترجمے کے ساتھ اپنی قوم کو فراہم نہ کی ہو۔  کوئی ویب سائیٹ نہیں جو چینی زبان میں دستیاب نہ ہو۔ ان کے حکمران عالمی سطح پر بھی اپنی ہی زبان میں بڑے فخر اور غرور سے خطاب کرتے ہیں۔جب ایک بار چینی صدر سے پوچھا گیا کہ “کیا انہیں انگریزی زبان نہیں آتی؟” تو ان کا جواب بہت قابل غور اور دلچسپ تھا “آتی ہے لیکن چینی گونگے نہیں”۔ جاپان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ یہاں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے۔ چین ہی کی طرح معاشی ترقی میں بھی جاپان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کا بھی اقداری نظام بہت مضبوط ہے۔ وہ بھی جدید ترقی کے تمام تر لوازمات سے با خبر اور بہرہ ور ہیں لیکن ان کا فخر ان کی اپنی زبان ہی میں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ “ترقی کا راز انگریزی دانی یا ثقافتی نقالی میں نہیں بلکہ اپنی زبان، اپنے تمدن اور اپنی تہذیب پر فخر میں ہے”۔۔۔ وہ بحیثیت ایک قوم اپنی ہر شے پر فخر کرتے ہیں بشمول اپنی زبان کے۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی غیر ملکی زبان کو ضروری نہیں سمجھتے۔ اگر کوئی دوسری زبان سیکھتے بھی ہیں تو محض ذاتی شوق یا کسی تجارتی ضرورت کے تحت۔ ان کے ملک میں دنیا کے ہر علم اور ہر موضوع پر جاپانی زبان میں ہی ہر سطح کی کتاب موجود ہے۔ جو جاپان کے ہی اعلیٰ پروفیسروں کی لکھی ہوئی یا ترجمہ کی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ چینی اور روسی زبان کی بھی کتابوں کے ترجمے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی سہولت کے لئے ہر سائنسی اصطلاح تک کے ترجمے کر رکھے ہیں۔ ہزاروں لائبریریاں ہزاروں کتابوں سے مزین ہیں اور پڑھنے والے بھی لاتعداد اور بے شمار ہیں۔

بلکل اسی طرح فرانسیسیوں کا فخر ان کی فرانسیسی زبان میں اور اٹلی کا فخر ان کی اطالوی زبان میں۔ لیکن ہم وہ محروم قوم ہیں جس کے پاس فخر کے لئے یا تو بہت کچھ ہے ہی نہیں اور جو ہے اسے ہم اپنا فخر بنانے یا ماننے کو تیار ہی نہیں۔ کیسی محرومی ہے یہ جو ہماری اپنی ہی بے اعتنائی اور بے داد گری کے باعث لاحق ہے ہمیں۔

اردو زبان کا جنم ہندوستان میں ترک، افغان اور مغل فاتحین کی آمد سے ہوا جن کی مختلف زبانوں مثلاً فارسی، عربی، ترکی نے ایک نئی طرز کی برج بھاشا کو جنم دیا، مغلوں ہی کے دور میں “اردو ” کا لفظ رائج ہوا۔ کبھی اسے “زبان ہندی” تو کبھی “ریختہ” کا نام دیا گیا۔ مرزا غالب بھی اس کے لئے ریختہ ہی کا لفظ استعمال کرتے رہے۔

ریختہ کے تم ہی نہیں استاد غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

عہد مغلیہ میں فارسی زبان کی توسط سے اس میں توسیع ہوئی۔ لیکن اسے نوآبادیاتی دور میں انگریزوں کے اسے مقامی لوگوں سے بول چال کے لئے اپنانے سے کافی ترقی ملی۔ یہ ایک خوبصورت اور زندہ و جاوید زبان ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ پوری دنیا میں بولی جانے والی زبانوں میں تیسری بڑی زبان ہے۔ اور دیکھا جائے تو یہ محض ایک زبان ہی نہیں ایک مکمل ثقافت اور عہد کی عکاس ہے۔ اس کا دامن ایک بہت وسیع اور شاندار تاریخی ثقافت سے مالا مال ہے۔ اس کی ایک بہت مضبوط علمی و ادبی ساکھ ہے۔جو اسے تخلیقی و تصنیفی زبان کا درجہ دلاتی ہے۔ یہ زبان نا صرف بادشاہوں اور امراءکی زبان رہی بلکہ فقیروں، درویشوں، ولیوں اور عالموں کے تبلیغی ہنر کا اظہار بھی بنی۔ یہ پر کیفیت اور بے خود حالت جذب و سرور کی عکاس اور محبت و عشق کی لازوال ترجمان رہی۔ غالب یا میر کے رنج و الم کا بیاں ہو یا سودا کی ہجو گوئی، کرشن چند، پریم چند اور منٹو کی حقیقت نگاری ہو یا فیض وجالب کے خیالات انقلابی اردو نے کس شان اور ادا سے انہیں لفظ لفظ پرویا کہ جیسے لفظ نہیں یاقوت و لعل کی پروئی ہوئی کوئی انمول اور دل پذیر مالا ہو۔

اردو کی قدر دانی و فروغ کی ایک روشن مثال ماضی کے حیدر آباد دکن کی پیش جا سکتی ہے۔ جہاں تمام علوم مثلاً علم جغرافیہ، علم فلکیات، علم عمرانیات، طبیعات، نباتیات، ریاضی و دیگر کو اردو زبان میں منتقل کیا گیا۔ اس سلسلے میں تمام تر کارکردگی کا سہرا نظام حیدر آباد میر عثمان علی خان کے سر جاتا تھا کہ جنہوں نے ایک اہم ادارہ “دارالترجمہ” قائم کیا اور تقسیم ہند سے قبل کے تمام تر جید علماء و پروفیسر حضرات کو ان علوم کے تراجم پر فائز کیا گیا۔ مولوی عبدالحق کو اس ادارے کا صدر بنایا گیا۔ اس طرح ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم اردو میں حاصل کرنا ممکن ہو سکا۔ لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے ہم نے اردو کو اک بے پناہ زوال اور رزال کے سوا کچھ نہ دیا۔ہم بھول گئے کہ یہ وہ زبان ہے جس کے بارے داغ دہلوی نے فرمایا تھا۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

انگریزی زبان کو گو کہ دور جدید میں عالمی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی ہر اہم درسگاہ اور ہر اہم علم کا زریعہء ترسیل یہی زبان ہے۔ اس کا حصول روشن خیالی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہ زبان عالمی سطح پر رابطے، اور عالمی کلچر کی پیروی کا زریعہ بھی ہے۔لیکن اسے ترقی کی زبان سمجھنا غلط ہے۔ کیونکہ ترقی کا پہلا سبق بحیثیت ایک قوم کے خود اپنے آپ اور اپنے آپ سے جڑی ہر شے سے محبت کرنا ہے۔تاکہ اپنے ملک و ملت کی یکجائیت اور یکتائیت کی راہیں ہموار ہو سکیں۔لیکن ہم اپنے ماضی سے جڑے نو آبادیاتی، احساس کمتری اور غلامانہ ذہنیت سے کبھی چھٹکارہ پا ہی نہیں سکے۔ ہم صرف نقالی کو اپنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم ترقی کے راستے پر گامزن ہو گئے، لیکن نقالی کبھی بھی ہماری نجات نہیں بن سکتی۔ ہماری کوتاہی یہ ہے کہ ہم آج تک اپنی زبان سے نہ تو کبھی محبت کرنا سیکھ سکے اور نہ ہی اسے اپنا فخر بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم کی ذاتی خواہش کے باوجود ہم آج تک اردو کو اپنی سرکاری زبان نہ بنا سکے۔ قائد اعظم نے کہا تھا کہ “اردو زبان عظیم ثقافتی ورثے کی حامل ہے۔ یہ پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی جو اس بارے کوئی غلط فہمی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے ” 2015 ءمیں سپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر اختیار کرنے کا حکم دیا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ہماری افسر شاہی کلاس جو معاشرے کی ایلیٹ کلاس شمار ہوتی ہے۔جس کا رعب اور دبدبہ باکمال ذہانت اور روانیء انگریزی سے قائم ہوتا ہے۔ وہ ایسی طبقاتی و ذہنی تقسیم کے ثمرات سے کس طور دست بردار ہو سکتی ہے۔ آج کسی بھی اعلیٰ پائے کے اسکول، کالج میں اساتذہ و طلبہ کا اردو میں بات چیت کرنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔کسی بھی اچھی انگریزی، جرمن، روسی، یا اطالوی و چینی، جاپانی کتاب کا اردو میں اچھا ترجمہ دستیاب ہو جانے کا خیال تک عبث ہے۔ حتٰی کہ بچوں کو دیکھائی اور سنائی جانے والی نظمیں اور کہانیاں بھی یا تو انگریزی زبان میں ہیں اور اگر مارکیٹ میں ان کی ڈبنگ دستیاب بھی ہے تو وہ ہندی زبان میں ہے۔ ایسی کہانیوں، نظموں اور کارٹون فلموں میں ہندی کے الفاظ کا استعمال ہمارے بچوں کی بول چال میں بھی کثرت سے سنائی دیتا ہے۔ بچے اسکول کے سبھی مضامین میں سب سے ذیادہ اپنی زبان یعنی اردو میں ہی کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ لکھائی بے شمار اغلاط سے بھرپور دکھائی دیتی ہے اور پڑھنے میں بھی بے حساب کمزوری ا ور دقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس سے بھی کہیں ذیادہ قابل افسوس امر یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی اپنی ہی زبان میں کمزوری کو قابل فخر، اور انگریزی میں ان کی روانی کو قابل ستائش سمجھتے ہیں۔ مڈل کلاس اور خصوصاً لوئر مڈل کلاس کے بچے انگریزی میں کمزوری کی وجہ سے اپنی کارکردگی دکھانے سے محروم رہ جاتے ہیں اور غریب گھرانوں کے بچے تو بدیسی زبان کے خوف سے تعلیم ہی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم کئی کئی سال انگریزی پڑھنے اور سیکھنے میں جھونک دیتے ہیں لیکن انگریزی سے پھر بھی نابلد رہ جاتے ہیں۔انگریزی کا بھوت ہمیں ہمارے اعتماد، ہماری فکر و تدبر اور صلاحیت و کارکردگی سے یکسر محروم کر دیتا ہے۔ بڑے بڑے اداروں میں چناؤ کے وقت امیدواروں کی قابلیت و اہلیت یا اعلیٰ تدبر کو جانچنے کی بجائے ان کی انگریزی دانی کو پرکھا جاتا ہے اور اس میں کمزوری کو ان کی سب سے بڑی نااہلی بنا دیا جاتا ہے۔ ہمارا میڈیا سنسنی پھیلانے اور جرائم کی پرورش میں تو اپنا کردار خوب ادا کر رہا ہے۔ لیکن اپنے ورثے اور قومی تشخص کے بچاؤ کی کوئی معمولی سی کاوش بھی دکھائی نہیں پڑتی۔ ڈراموں اور خبرناموں میں ہندی اور انگریزی کے الفاظ کی بھرمار،اور اردوکے الفائی کے استعمال میں انتہائی کوتاہ فہمی کا اظہا ر ناقابل فہم ہے۔ اس کے سوا اور یہ کہ کسی بھی چینل نے کبھی بھی اردو کو سنوارنے اور پھیلانے کا روکھا سوکھا بیڑہ تک نہ اٹھایا۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں پر بھی اردو شعراءکی محافل اور ادباءکے تذکرے نہیں پائے جاتے۔ اور نا ہی کہیں اردو کے تاریخی ناولوں، کہانیوں اور داستانوں کا ذکر زندہ کئے جانے کی جسارت نظر آئی۔۔

ہمیں “اردو” زبان کو گھٹ گھٹ کر مرنے سے بچانا ہو گا۔ ہمیں اسے نا صرف اپنی قومی زبان کے طور پر بلکہ اپنا ورثہ ہونے کی حیثیت سے اور ایک خوبصورت قدیمی زبان ہونے کی بنا پر بھی بچانا ہو گا۔ ایسے مباحث اور تبادلہء خیال کی نشستوں میں اضافہ کرنا ہوگا جو لوگوں کو اپنی میٹھی اور قابل قدر زبان سے محبت کرنا سکھا سکیں۔ اسے وہ عزت و وقار دینا ہو گا جو اس کا حق ہے اور جو باعث ہو گا، ہمیں ہمارے احساس کمتری اور احساس شکست خوردگی سے باہر نکلنے کا۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

اردو جسے کہتے ہیں،تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: