قومی مفاد کی بحث اور عام آدمی کا مفاد: سلمان عابد

0
  • 10
    Shares

پاکستان کے سیاسی اور عسکری بیانیہ میں قومی مفادکی بحث عمومی طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ بحث صرف ان طبقات تک ہی محدود نہیں بلکہ دیگر فریقین جن میں اہل دانش اور فکری محاذ پر کام والے دیگر عناصر یا ادارے بھی موجود ہیں وہ بھی اس بحث کا حصہ نظر آتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو بھی فریق اپنے آپ کو بالادست یا طاقت ور سمجھتا ہے وہ اپنے ہی نقطہ نظر کو قومی مفاد سے جوڑتا ہے، جبکہ دیگر فریقین کے نقطہ نظر کو وہ نہ صرف تنقید کرتا ہے بلکہ اس نقطہ نظر کو قومی مفاد کے برعکس سمجھتا ہے ۔عمومی طور پر لفظ ’’قومی مفاد‘‘ ہماری ذاتی مفاداتی سیاست میں ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور سب ہی فریقین اس لفظ کو اپنے حق میں استعمال کرکے اپنی ذاتی مفاد اور خواہشات کی تکمیل کے عمل کو یقینی بناتے ہیں ۔لیکن پاکستان بنیادی طور پر قومی مفاد کی اس بحث میں تقسیم نظر آتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب قومی سطح پر آپ کی سوچ اور فکر یا بیانیہ تقسیم ہوگا تو اس کا اثر اجتماعی طور پر معاشرے میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

مگر پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قومی مفاد کی بحث کو ایک محدود دائرہ کار میں بھی رکھ کر دیکھا جاتا ہے۔ ہم قومی مفادات کو محض سیکورٹی یا خارجہ تعلقات کے معاملات تک محدود کرکے دیکھتے ہیں، حالانکہ سیکورٹی اور عالمی یا علاقائی معاملات اپنی جگہ اہم مگر جب تک قومی مفاد کی بحث میں عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا قومی مفاد کا عمل معاشرے میں کبھی بھی طاقت کی بحث کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ عام آدمی کی شمولیت سے مراد اس کے بنیادی حقوق کی ضمانت اور تحفظ ہوتا ہے ۔ جس میں اسے بنیادی سہولتیں تعلیم ، صحت، روزگار، سیکورٹی ، انصاف، نقل حمل ، ماحول ، تحفظ مل سکے ، کیونکہ دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ ہماری ریاست او رحکومتیں قومی مفاد کی بحث کو ہتھیار بنا کر اس کو عام آدمی کے خلاف استعمال کرتی ہیں ۔عام آدمی کو تسلی دی جاتی ہے کہ کیونکہ ملک مشکل صورتحال سے دوچار ہے تو اسے بہت سے امور میں قربانی دینی ہوگی ، لیکن یہ قربانی محض کمزور طبقات یا عوام کیوں دیتے ہیں اوراس سے بالادست حکمران طبقات کیوں مبرا ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ عام آدمی کا قومی مفاد اس کی روزمر کے معاملات میں آسانیاں ہوتی ہیں تاکہ وہ ایک منصفانہ اور شفاف انداز میں اپنی زندگی کو گزارسکے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ،سیاسی اور معاشی طور پر پھیلتی ہوئی محرومیوں، عدم انصاف ، عدم روزگار، سیکورٹی اور تحفظ سمیت بنیادی تعلیم اور صحت سے محرومی کی سیاست میں میرا قومی مفاد کہیں گم ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہ سارا مسئلہ عدم شفافیت پر مبنی کرپٹ اور ظالمانہ طرز کی حکمرانی کے نظام سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جہاں طاقت ور طبقات کا باہمی گٹھ جوڑ عام آدمی کے لیے استحصال پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم کرکے اپنی مفاداتی سیاست کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عام آدمی کمزور اور طاقت ور طبقات کی حکمرانی صرف اور صرف ظالمانہ نظام کو ہی طاقت فراہم کرتی ہے، جو ہمارے مفاد میں نہیں ۔

یہ عجیب تضاد ہے کہ کہ ہم سیکورٹی اور عالمی و علاقائی معاملات کو بنیاد بنا کر ملک میں رہنے والے لوگوں میں محرومی کی سیاست کو مضبوط کرنے کا سبب بن رہے ہیں، اس پورے قومی مفاد کی بحث اور عملدرآمد کے نظام میں عام آدمی اپنی اہمیت کھوچکا ہے او راسے لگتا ہے کہ وہ ریاست اور حکومت کے نظام میں ایک بوجھ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بوجھ کے احساس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ بالادست طبقہ انسانوں پر سرمایہ کاری کرے او راس میں واقعی یہ احساس اجاگر کرے کہ ریاست اس کے بارے میں بھی اتنی ہی فکر مند ہے جتنی کے دیگر معاملات پر، مگر ایسا دیکھنے کو کم مل رہا ہے۔ یہ جو محرومی کی سیاست ہے اس کو ختم کیے بغیر ایک مضبوط ریاست یا سیکورٹی کا تحفظ بے معنی بات ہے اور یہ عمل کسی بھی طور پر ریاست کی ساکھ کو برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ یاد رکھیں لوگ مضبوط ہونگے تو ریاست کا وجود بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، وگرنہ ہوا اور مصنوعی انداز میں موجود ریاستیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔

اس لیے پاکستان میں موجود وہ طبقہ جو واقعی تبدیلی چاہتا ہے اسے قومی مفاد کی بحث کو نئے سرے سے سمجھنا ہوگا۔ یہ بحث محض سیکورٹی اور بڑے بڑے قومی یا بین الااقوامی معاملات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا ایک براہ راست تعلق عام آدمی کی سیاست سے جڑا ہونا چاہیے جس میں اس کو بنیادی فوقیت حاصل ہو۔ یہ واقعی ہمارا قومی حقیقی مفاد سے جڑا ہوا سوال ہے کہ ہم عوام او ربالخصوص کمزورطبقات کو کتنا طاقت ور اور ان پر کتنی مالی اور انتظامی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ عجیب قومی مفاد ہے کہ عام آدمی پر سرمایہ کاری کیے بغیر ہم ملک کو ترقی اور خوشحالی پر لے جانا چاہتے ہیں ۔ یہ سفید جھوٹ ہے اس سے قوم کو خود بھی باخبر ہونا چاہیے اور دوسروں کو بھی خبردار کرنا چاہیے کہ وہ قومی مفاد کی اس بحث میںاپنے خلاف ہونے والا استحصال قبول نہیں کرتے، یہ ہی سوچ حقیقی قومی مفاد سے جڑی ہوئی ہے اور یہ ہی ہمارا قومی ایجنڈا بھی ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: