کالا کوٹ اور کالی بھیڑیں: ارسلان اے بھٹی

0
  • 2
    Shares

وکالت نہایت ہی قابل احترام اور معزز پیشہ ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے اس میں بڑی کشش اور جاذبیت ہے۔ ایک قابل اور نامور وکیل بننے کے لئے بہت کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس مقام تک پہنچتے پہنچتے برسوں بیت جاتے ہیں. وکالت ایک حساس اور نازک پیشہ ہے ۔ قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سائل کو ممکنہ حد تک ریلیف دلانا اور اس کے مقدمے کو مدلل طریقے سے پیش کرنا وکیل کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اس دوران وکیل کی ایک غلطی سائل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ایس۔ایم ظفر صاحب اپنی تصنیف” میرے مشہور مقدمات” میں کہتے ہیں کہ انصاف حاصل کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی راستہ و طریقہ ایجاد نہیں ہوا۔ البتہ پیشہ ورانہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ وکیل دانستہ طور پر کوئی غیر قانونی شہادت یا جھوٹی دستاویز عدالت میں پیش نہ کرے اور کسی غیر اخلاقی طریقے سے عدالت کو گمراہ نہ کرے۔

پاکستان کے نامور وکلاء میں عبدالحفیظ پیرزادہ، ایس۔ایم ۔ظفر، اعتزاز احسن، علی احمد کرد، عاصمہ جہانگیر، خورشید محمود قصوری، حامد خاں ایسے درجنوں نام شامل ہیں جنھوں نے اس پیشے سے منسلک ہو کر نام کمایا اور عزت کے مستحق ٹھہرے۔ دیکھا جائے تو جس نے بھی ایمانداری کے ساتھ انصاف کی خاطر جدوجہد کی اس کا نام تاریخ میں امر ہوا۔ لیکن جیسا کہ ہر شعبہ میں کچھ مفاد پرست لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے پیشے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ایسے ہی چند لوگ وکلاء برادری میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کالے کوٹ میں ملبوس ان کالی بھیڑوں کی حرکات کے سبب وکالت کا پیشہ بہت بدنام ہو گیا ہے۔ اگر کوئی وکیل کرائے پر مکان لینے جائے اور آگے سے کہا جائے کہ ہم وکیل کو مکان کرائے پر نہیں دیتے تو یہ کیسی شرمناک صورتحال ہوگی۔ اب تو ججز کے بارے میں بھی ایسا ہی تاثر پایا جاتا ہے۔ بینک والے قرض دینے میں متامل رہتے ہیں، بازار سے ادھار یا قسطوں پر کوئی چیز لینی ہو تو وہاں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔ وکلاء کو بدمعاشوں کے ساتھ تشبیہہ دی جاتی ہے۔ بطورِ طنز کہا جاتا ہے کہ جو کام باقی سب کے لئے ناجائز ہے وہ وکلاء کیلئے جائز ہو جاتا ہے۔ وکیلوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس "حسنِ سلوک” کا باعث انہی کالی بھیڑوں کے سیاہ کارنامے ہیں۔

ججز کے ساتھی بدتمیزی کرنے، جھوٹے مقدمے دائر کر کے عدالت کا وقت ضائع کرنے، مخالف وکیل کے ساتھ ایکا کر کے طرفین کو بے وقوف بنانے، بلیک میلنگ کرنے، اپنے ہی سائل کے کیس کو الجھا اور لٹکا کر طویل عرصے تک پیسے بٹورنے میں یہ کالی بھیڑیں یدِ طولی ٰ رکھتی ہیں۔ حال ہی میں وکلا۶ کے دو تین ایسے معاملات میری نظر سے گزرے ہیں کہ جو نہایت شرمناک ہیں اور جن کے قصے ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ مثال کے طور پہ ایک وکیل کی ناجائز بلیک میلنگ سے تنگ آئے ہوئے ایک جذباتی نوجوان نے خودکشی کر کے اپنی جان ہار دی۔ کیا اس خود کشی کو قتل کہنا درست نہ ہو گا؟ پنجابی کا مقولہ ہے کہ "ات خدا دا ویر” (یعنی حد سے زیادہ اندھیر مچانا خدا کی دشمنی مول لینے کے مترادف ہے) ایسے ہی ایک وکیل سے تنگ آئے دیہاتی نے وکیل کو اس کے مطلوبہ رقم بھینسوں کی شکل میں ادا کرنے کے بہانے اپنے گاؤں بلایا اور پکڑ کر اجتماعی طور پہ خوب ٹھکائی کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔ وکیل موصوف کئی برسوں سے ایک گینگ کے سربراہ کے طور پر بلیک میلنگ کے دھندے میں مصروف تھے۔ کچھ دن پہلے ایک وکیل صاحب کے چیمبر سے خاتون کی گرفتاری عمل میں آئی جو کہ اسی طرح کے قبیح دھندہ سے منسلک تھی، مذکورہ وکیل ڈنکے کے چوٹ پہ اس خاتون کی پشت پناہی کرتا رہا تھا۔ اسی طرح قتل کے کیس میں صلح کے لیے مدعا علیہم کی طرف سے دیت کی مد میں دی جانے والی رقم کو ہڑپ کر جانا، گھر سے بھاگی ہوئی شادی شدہ لڑکی کا جانتے بوجھتے نکاح پر نکاح کروا دینا ان وکلاء کے لیے معمول کی بات ہے۔

دراصل یہ سارے ہتھکنڈے رقم بٹورنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اٹھارویں صدی کے برطانیہ میں وکلاء جو گاؤن پہنتے تھے، وہ ایک قسم کا لمبا چوغہ ہوتا تھا، جس کے کندھے کے پچھلی طرف ایک تھیلا نما جیب ہوتی تھی جس میں سائل اپنی حیثیت کے مطابق فیس ڈال دیتا تھا یعنی وکیل فیس طے نہیں کرتے تھے۔ فیس طے کر نا اور وصول کرنا ہرگز معیوب نہیں ہے مگر کیس کو جان بوجھ کر لٹکا نا اور طے شدہ فیس کو مختلف بہانوں سے بڑھانا انتہائی غیر پیشہ ورانہ عمل ہے مگر وکالت کی یہ کالی بھیڑیں اس معیوب فعل کو بہت مرغوب جانتی ہیں۔

وکالت کے پیشے کو قواعد و ضوابط کا پابند کرنے کے لیے وکلاء کی کونسل اور کالی بھیڑوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے لیے کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں۔ بار کونسل ایکٹ تو نافذ العمل بھی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ وکلاء صاحبان نے اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھایا اور بار کونسل ایکٹ میں دی ہوئی جمہوریت کو محض عہدوں کے انتخابات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ کالی بھیڑوں کو اس پیشہ سے نکالنے ہزار طریقہ ہائے موجود ہیں حال ہی میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ستائیس سو جعلی وکلاء کے لائسینس منسوخ کیے. یہ اچھا قدم تھا لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ بار کونسلز خود ان کا قلع قمع کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود وکلاء کے اندر سے ان کالی بھیڑوں کے خلاف آوازِ حق بلند ہو۔ یہ مضمون بھی اس مقصد کے لیے ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ اسے صفحہء قرطاس پہ اتارنے سے قبل سینئر وکلاء سے مشورہ کیا تو اکثر نے حوصلہ افزائی کی البتہ موضوع کی حساسیت کے پیشِ نظر محتاط طرزِ تحریر اختیار کرنے کی تلقین بھی کی۔

ان کالی بھیڑوں سے نبٹنے کے لیے بعض تجاویز بھی سامنے آئیں، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
1۔ سینئر وکلاء بالعموم اور نوجوان وکلاء بالخصوص ان کالی بھیڑوں کے ساتھ مزاحمتی رویہ رکھیں۔ نیز سول سوسائٹی، صحافی اور ادیب حضرات بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔
2۔بارکے الیکشن کی صورت میں یہ چاہے جتنا بھی پیسہ لگا لیں ان کو ووٹ نہ دیا جائے بلکہ اچھی ساکھ رکھنے والوں کو ہی ووٹ دیا جائے۔
3۔ ضلعی سطح پہ ایک آزاد بورڈ کی تشکیل کی تجویز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بورڈ سینئر وکلاء اور ریٹائرڈ ججز پر مشتمل ہو اور مکمل بااختیار ہو یعنی ان کالی بھیڑوں کے وکالتی لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہو۔
4۔قانون کی تعلیم کو میڈیکل اور انجئینرنگ کی طرز پہ تشکیل دیا جائے۔ ایچ ای سی یا بار کو نسل خود ایک ٹیسٹ رکھے اور میرٹ پر پورا اترنے والوں کو ہی لاء کالجز میں داخلہ دیا جائے۔
5۔ لاء کالجز کی سکروٹنی کی جائے ، کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے پرائیوٹ اداروں کو ختم کیا جائے جو دھڑا دھڑ ڈگریاں بانٹ رہے ہیں.
6۔ ایل۔ایل ۔بی میں داخلے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کا تعین کیا جائے۔
7۔تین سالہ پروگرام کو بند کر کے پانچ سالہ ایل ایل بی بی کروائی جائے تا کہ جو نئے وکلاء آئیں وہ بہترین تعلیم سے آراستہ ہوں۔
ایک نوجوان وکیل کے طور پہ میں نے اپنا فرض ادا کرنے کی ایک ادنی سی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اپنی بساط کے مطابق اس آواز کو بلند کرتا رہوں گا۔ مجھے امید ہے دیگر وکیل بھی اپنی اس ذمہ داری کا احساس ضرور کریں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: