جدید ریاست افلاطون کی ریپبلک سے بہت آگے جا چکی ہے: نعمان علی خان

0
  • 117
    Shares

یہ دنیا جس تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے اس کا ذمے دار کوئی ایک سیاسی یا مذہبی نظریہ نہیں ہوگا۔ اس بربادی کے ذمے دار وہ سب دانشور ہوں گے جنہوں نے پسماندہ قوموں کو آج کے جدید دور میں اس نان ایشو میں الجھایا ہوا ہے کہ ریاست کو کیسے چلایا جائے؟ کسی دانشور کا خیال ہے کہ انسانیت کے تمام دکھوں کا مداوا سیکولر ازم میں ہے۔ کوئی دوسرا کہتا ہے نہیں اس کا حل مذہبی جمہوریت میں اور کسی تیسرے کے مطابق، آمریت میں ہے۔ جن لوگوں اور دانشوروں کا خیال ہے اور جو اپنے اس خیال کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں، کہ ریاست کو چلانے کے فلاں فلاں مذہبی یا غیر مذہبی طریقوں پر عمل کیا جائے تو یہ دنیا سیاسی، معاشی اور امن و امان کے اعتبار سے بہتر ہوجائے گی، وہ سب دراصل اس تباہی کے ذمہ دار ہونگے جس جانب یہ پسماندہ قومیں بڑھ رہی ہیں۔

ان دانشوروں میں سے بیشتر اصل میں “مغرب” ہی سےمستعار لی ہوئی مختلف سیاسی آئیڈیالوجیز، کی جگالی کرکے اسے مغرب ہی کے منہ پر اگل دینے کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ اس فن میں تو مہارت رکھتے ہیں لیکن باقی انسانیت تو کجا، خود اپنے مسائل کا اوریجنل حل دینے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ آج کے دور میں پاکستان ایسے دانشوروں سے بھرا پڑا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ سیکولرازم، جمہوریت، بادشاہت یا ملائیت، ان سب کا ریاست کے پس منظر میں آخر کیا مقصد ہے؟ یہی نا کہ یہ سب ریاست کو چلانے کے مختلف بیانئیے یاطریقے ہیں؟ تو، میرا اپنے ان دانشوروں سے سوال ہے کہ کیا ساری دانشوری، ساری بحث صرف اسی نقطے پر مرکوز رہنا چاہئیے کہ ریاست کو کیسے چلایا جائے؟ کیا یہ ہے کل لب لباب ساری انسانی دانش اور فکر کا؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تو انسانیت آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں افلاطون کے ریپبلک لکھنے کے دور میں کھڑی تھی۔ ریپبلک میں بھی تو افلاطون نے یہی طے کیا تھا کہ ریاست کو کیسے چلایا جائے اور کون چلائے اور اس نے نتیجہ نکالا تھا کہ ریاست کو درست چلانے کے لئے فلسفیوں کے ہاتھ میں اقتدار ہونا چاہئیے۔ کیا ہمیں آج بھی بس یہی طے کرنے کے مرحلے میں رہنا چاہئیے کہ ریاست کو فلسفی چلائیں، لبرلز چلائیں، سیکولرز چلائیں یا ملا چلائیں؟

نہیں جناب! میں نہیں مانتا۔میرے خیال میں انسانیت آج افلاطونی ریاست سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ کیونکہ میں صاف طور پر دیکھ سکتا ہوں کہ بہت سی قوموں نے افلاطونی ریپبلک سے بہت آگے بڑھ کر ایک زیادہ عظیم تر اصول پر اپنی ریاست کی تشکیل کی ہے اور وہ ریاستیں تاریخ میں پہلی بار انتہائی اعلیٰ تر انسانی آدرشوں سے ہمکنار ہورہی ہیں۔ ہاں ان ریاستوں کے مقابلے میں، پاکستان سمیت، تیسری دنیا کی زیادہ ترقومیں آج بھی افلاطونی دور ہی سے گذر رہی ہیں اور اسی بات پر کنفیوذڈ ہیں کہ ہمیں ریاست چلانا کیسے ہے۔ ہمارے اس کنفیوژن کی غالب ترین وجہ یہی ہے کہ قومی سطح پر ہمیں ہمارے دانشوروں نے اپنے “فکری” نان ایشوز کے شوروغوغے کے ذریعے سے کنفیوذ کیا ہوا ہے۔ یہ دانشور اپنے نان ایشوز کے جال میں الجھا ئے رکھ کر ہمیں افلاطونی مقدمے سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیتے ہیں۔

ان دانشوروں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ہمارا آج کا مقدمہ یہ ہے ہی نہیں کہ ریاست کیسے چلائی جائے۔ بلکہ یہ ہے کہ جیسے بھی چلائی جائے اس طور سے چلانے کا عظیم ترین مقصد کیا ہونا چاہیئے؟ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت مغرب میں برطانیہ، جرمنی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور سکینڈے نیوین کنٹریز اور مشرق میں ملیشیا، سنگاپور اور خلیجی ممالک نے اس سوال کا نا صرف جواب تلاش کیا بلکہ ریاست کی عملی ترجیحات کا رخ اس مقصدکے حصول کی فیضیابی کی سمت میں رواں کردیا ہے۔ ریاست خواہ بادشاہت کے تحت چلائی جائے ( برطانیہ، نیدر لینڈز، وغیرہ اور خلیجی ممالک) یا سیکولر اور لبرل پالیسیز کے تحت چلائی جائے (تمام مذکورہ مغربی ممالک) یا مذہبی پالیسیز کے تحت (خلیجی ممالک)، اس کا آخری مقصد یہی ہونا چاہئیے کہ ریاست کے عام شہری کی بنیادی ضروریات کی ترسیل ریاست کی پہلی ذمے داری ہو گی۔

گویا جدید ریاست کے قیام کا بنیادی مقصد، جمہوریت، بادشاہت، سیکیولرزم یا ملائیت کا قیام نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی فلاحی حقوق کی فراہمی، یعنی ویلفئیر سٹیٹ کا قیام ہے۔اگر جمہوریت، بادشاہت، سیکیولرزم یا ملائیت میں سے کوئی بھی طرزِ حکمرانی تو رائج کردیا جائے لیکن لوگوں کے فلاحی حقوق معطل رکھے جائیں اور دانشور محض کون سا طرزِ حکمرانی ہونا چاہئیے کا راگ الاپتے رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم کے ساتھ انتہائی قبیح قسم کا دھوکا، سب مفاد پرست طبقے مل کر کررہے ہیں۔

پاکستانی قوم کے ساتھ یہ دھوکہ دہی کئی دھائیوں سے جاری ہے۔ پاکستان کے آئین کی ابتدائی چالیس شقوں میں سے بیشتر کی تشریح کے مطابق، یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست ہے لیکن اقتدار پرست طبقے اور مفاد پرست دانشوروں نے ایک خاموش باہمی اتفاق کے ساتھ ان فلاحی شقوں کو عملاً معطل کیا ہوا ہے۔ پارلیمنٹیرئینز ان شقوں پر عملدرآمد کیلئیے کبھی بحث نہیں کرتے۔ رہے دانشور تو وہ بھی ان شقوں کی یاددہانی کے لئے آواز نہیں اٹھاتے۔ ایسا لگتا ہے گویا آئین میں ایسی کوئی شقیں موجود ہی نہیں۔ آئین کی شق ۳۷ اور ۳۸ کے مطابق عوام کو بے روزگاری یا لاچاری کی صورت میں خوراک، لباس، گھر، ھیلتھ کئیر، بغیر کسی شرط اور بلا تعصب ملنا چاہئیے لیکن نہیں مل رہا۔ سوشل سیکورٹی کا انتظام حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کیلئیے ہونا چاہئیے لیکن نہیں کیا جارہا۔ لوگوں کو سستا انصاف اور مساوی مواقع اور روزگار کی سہولتیں ملنا چاہئیں لیکن نہیں دی جارہیں۔

آئین کی شق ۲۹ کے مطابق صدر مملکت ہر سال، پارلیمنٹ میں ان عوامی فلاحی شقوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں رپورٹ پیش کریں گے؛ عوام، میڈیا اور دانشوروں میں سے معلوم نہیں کِس کو خبر ہے کہ گذشتہ نو سال میں یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں کب پیش کی گئی؟ اس پر کیا بحث ہوئی اور اس بحث کے نتیجے میں عوام کے فلاحی حقوق کی اس بے شرمی سے جاری مسلسل معطلی کو ختم کرنے کیلئیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ جن ذمے داران نے ان آئینی حقوق کو معطل کیا ہے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا؟

ہمارے دانشوروں کی ساری دانشوری کا زور محض آئین کی ان دوسری شقوں پر ہنگامہ بپا کئیے رکھنے تک محدود ہے جو ختمِ نبوت ؐاور بلاسفیمی سے متعلق ہیں یا جن کا تعلق جمہوریت کے ڈرامے کے جاری رکھنے کیلئیے نان ایشوز کھڑے کرکے میڈیا پر مباحث سے ہو۔
جب تک پاکستان میں ہماری اجتماعی دانش کو ” اس ملک کو کیسے چلانا چاہئیے” جیسے افلاطونی نان-ایشو میں الجھائے رکھنے کی اجازت ہو گی، ہم اس ملک کے قیام کے اصل مقصد، یعنی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کو حاصل نہیں کرپائیں گے۔ یہاں کے عوام کے بنیادی فلاحی حقوق، دانشوروں اور استحصالیوں کے مفادات پر قربان ہوتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: