عورت، مرد اور ذہنی ہم آہنگی​ ۔ محمودفیاض

2
  • 31
    Shares

سعودیہ میں میرے ایک انڈین دوست دلبرؔ بھائی، جن کو اردو نہیں آتی مگر وہ اپنی ہندی کو اردو سمجھنے اور سمجھانے پر اصرار کرتے ہیں. ایک دن مجھے ملنے آئے اور بولے تمہارا کیا خیال ہے میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو ان کا رشتہ ایک دن بھی نہیں چل سکتا؟ میں ان کے سوال کا سیاق و سباق سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر انہوں نے اصرار کیا کہ ایسے ہی  جواب دو۔ میں نے کہا میرے خیال میں تو کافی مشکل ہوگی۔ ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو واقعی جینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو کاہے کے میاں بیوی؟ سر جھکا کر بیٹھ گئے، کافی دیر غور کیا اور پھر بولے تمہاری ذہنی ہم آہنگی کیسی ہے اپنی بیوی کے ساتھ؟ میں نے شکر کے ساتھ بتایا کہ بہت اچھی ہے۔ ہفتے پندھرواڑے کوئی بات ایسی ہو جائے تو کہہ نہیں سکتا مگر باقی دنوں میں بہت اچھی ہم آہنگی سے گذرتی ہے۔

حیرت سے بولے ، کیا مطلب ہے تم لوگوں کے درمیان روزانہ ذہنی ہم آہنگی ہوتی ہے۔

میں اور زیادہ حیرت سے بولا، تو کیا مطلب ہے یہ کیا کہ ایک دن ذہنی ہم آہنگی ہو، اور اگلے دن نہ ہو۔ کوئی تماشا ہے کیا؟
تھوڑا پہلو بدل کر کسمسائے اور بولے، مگر پھر بھی، اتنی ذہنی ہم آہنگی کیسے ہو سکتی ہے؟ آخر انسان کی کوئی لمٹ ہے۔
میں نے کہا، لمٹ کیسی؟ ذہنی ہم آہنگی میں کوئی لمٹ نہیں ہوتی۔ جب یہ ہو جاتی ہے تو انسان کی زندگی میں سکون آ جاتا ہے اور اس کی شادی شدہ زندگی جنت بن جاتی ہے۔

میری بات سن کر کان کھجانے لگے، بولے بات یہ ہے نا کہ وہ کیا ہے نا، آپکی بھابی، میں جب بھی اسکو ذہنی ہم آہنگی کا بولتا ہوں وہ سر پر کپڑا باندھ کر لیٹ جاتی ہے۔ آپ ہر روز کا بولتے ہیں ادھر تو مہینے میں ایک بار ذہنی ہم آہنگی ہو جائے تو بڑی بات ہے۔

اب میرا ماتھا ٹھنکا، دوبارہ پوچھ لیا یہ ذہنیٰ ہم آہنگی کا لفظ تو ہماری اردو میں ہے نا؟ آپ نے اس کو کہا سن لیا؟ فوراً تنک کر بولے، یہ تم پاکستان کے مسلمان لوگ ہر چیز پر اپنا حق جما کر بیٹھ جاتے ہو، اردو ہماری لینگوئج ہے، تم اس پر اپنا حق مت جھاڑو۔ اور تمہارے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میرے گھر میں ٹی وی ہے اور اس پر اردو چینل آتے ہیں۔ میں خود بھی اردو جانتا ہوں۔ وہیں سنا میں نے یہ لفظ۔ میاں بیوی کے تعلقات پر پروگرام تھا۔

اچھا، میری دلچسپی بڑھی۔ ۔ ۔ ۔ پوچھا ۔ ۔ ۔ تو آپ اس لفظ سے کیا مطلب سمجھے؟

اب وہ سیخ پا ہونے کے قریب تھے، اسی ٹون میں بولے، سمجھنا کیا ہے بھیا؟ صاف صاف بات ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات پر بات ہو رہی تھی۔ پروگرام میں ایک عورت اور ایک مرد بتا رہے تھے کہ ذہنی ہم آہنگی بہت ہی ضروری ہے میاں بیوی میں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ جلدی سے جلدی ہو جانا چاہیے۔ بلکہ عورت نے تو یہاں تک کہا کہ پاسیبل ہووے تو منگنی کے بعد لڑکا لڑکی ملنا شروع کر دیویں، تاکہ انکو ذہنی ہم آہنگی کا موقع مل سکے۔ اور جب شادی ہو جائے تو یہ زہنی ہم آہنگی بہت ہی ضروری چیز ہو جاوے ہے۔ دونوں کو اس کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

تو میاں! اب ہم بچے تھوڑی نا ہیں کہ اتی سی بات بھی سمجھ نہ آئے ہے۔ ہم ترنت سمجھ گئے کہ ایک ہی بات ہے جو میاں بیوی کے رشتے میں ضروری ہوتی ہے، وہی ایچ ہے ذہنی ہم آہنگی۔ ادھر آ کے تم کو بتایا تو تم نے بھی تو یہی کہا نا کہ اسکے بغیر کاہے کے میاں بیوی، بولو کہا کے نہیں؟ بولو بولو؟

اب ماتھا پکڑنے کی میری باری تھی۔ خیر باقی شام انکو ذہنی ہم آہنگی اور میاں بیوی کے رشتے میں دیگر لوازمات کا فرق بتاتے گذری۔
بار بار پٹڑی سے اتر جاتے تھے۔
کبھی کہتے، پھر وہ پروگرام والی عورت یہ کیوں کہہ رہی تھی کہ میاں بیوی میں تب ہی ذہنی ہم آہنگی ہو سکتی ہے جب کوئی تیسرا درمیان میں نہ ہو؟ بولو اسکا کیا مطلب ہے؟
اس کٹھنائی کو پار کیا تو ذہنی اور جسمانی کے فرق پر اٹک گئے۔ کہنے لگے کہ اگر ذہنی ہم آہنگی ہوتی ہے تو جسمانی ہم آہنگی بھی ہوتی ہوگی، پروگرام میں تو ایسی کوئی بات نہیں کی انہوں نے۔
میں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ جسمانی ہم آہنگی سرکس کے کرتبوں میں تو استعمال کیا جاسکتا ہے مگر میاں بیوی کے تعلقات میں اس کا مطلب بگڑ سکتا ہے۔
پھر مصر ہوئے کہ مجھے جو میاں بیوی کا اصل رشتہ ہے اس کا اردو لفظ بتاؤ۔ میں نے حقوق زوجیت بتا کر بات ختم کرنے کی کوشش کی اور صلاح دی کہ باقی کی تفصیل بہشتی زیور میں بےتصویر مگر کمال کی لفظی مصوری کے ساتھ موجود ہے کوشش کر کے اسکو پڑھ لو۔

ان کے اگلے سوالوں کا ہدف بدستور یہی موضوع رہا۔ کہنے لگے حقوق تو حق کی جمع ہے۔ کام ایک ہے تو اس کے لیے جمع کیوں؟ اور اگر جمع ہے تو باقی کے حقوق کی تفصیل بتائیے۔ میں نے تھوڑی دیر غور کیا کہ کونسا جواب بات کو مختصر کر سکتا ہے اور کہا، بات آپ کی ٹھیک ہے، حق زوجیت سمجھ لیجیے۔
میرا خیال تھا یہ موضوع کا اختتام ہے جبکہ یہ ایک بہت بڑے باب کے کھلنے کا اشارہ تھا۔

اچھا، اب پھر میں سوال کو بدل کے پوچھتا ہوں، مگر جواب سیدھا سیدھا دینا، ہاں۔ انہوں نے ساتھ ہی مجھے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کر کے وارننگ دی۔

اب سوال یہ ہے کہ تمہارے خیال میں میاں بیوی کے تعلقات میں کونسی بات زیادہ ضروری ہے، حق زوجیت یا ذہنی ہم آہنگی؟
میں نے کہا، یہ دونوں چیزیں ہی ضروری ہیں یوں سمجھ لو ذہنی ہم آہنگی حق زوجیت کو جسمانی ہم آہنگی کی منزل پر پہنچا دیتی ہے۔
کنفیوزڈ نظر آنے لگے، وہ تو تم نے بولا تھا نے کہ سرکس کا شیر کرتا ہے جسمانی والا کرتب؟

مجھے لگا کہ بادہ و ساغر کہے بغیر بات انکی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ کیسے سرکس کے کرتب میں دو بازیگروں کو پتہ ہوتا ہے کہ کب کس نے کتنی اونچی جگہ سے ہاتھ پیر چھوڑ کر اپنے آپ کو ہوا کے زور پر دوسرے کی طرف پھینک دینا ہے اور کب دوسرے نے اپنے آپ کو بلندی پر توازن بگاڑے بغیر سنبھال رکھنا ہے اور ہوا میں اپنی جانب آتے وجود کو ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ تک ہلارے دیتے لے جانا ہے۔ بس یہ سمجھ ہی ذہنی ہم آہنگی ہے۔

میری طرف انتہائی تشویشناک نظروں سے دیکھنے لگے۔ بولے، میرا خیال ہے میں جو خود سمجھتا ہوں نا، وہی ٹھیک ہے۔ پہلے تم نے ذہنی ہم آہنگی کا مطلب کچھ کا کچھ بتایا۔ اب جب ذہنی ہم آہنگی کے لفظ سے میری ساری دلچسپی ختم ہو گئی اور میں نے اپنا چینل حق زوجیت پر فوکس کر لیا تو تم واپس اپنا اینٹینا ذہنی ہم آہنگی کی طرف لیے جاتے ہو۔ سچ سچ کیوں نہیں بتاتے وہ پروگرام والے عورت اور مرد اسی ذہنی ہم آہنگی کی بات کر رہے تھے نا، جو میں سمجھا تھا۔ جو میاں بیوی میں ہوتی ہے؟ ہے نا؟

میں نے ہتھیار ڈال دیے اور کہا، آپ ٹھیک سمجھے زہنی ہم آہنگی اس کمبخت کا نام ہے . اب تو خوش ہیں نا آپ؟
بولے، آپ بہت مذاق کرتے ہو، پہلے کیوں نہیں بول دیا سیدھا سیدھا۔ اب سچ سچ بتاؤ روزانہ ذہنی ہم آہنگی والا بھی جھوٹ تھا نا؟ سچ بولنا، کیوں مجھے کامپلیکس میں ڈال رہے ہو۔
میں نے کہا، آپ ٹھیک سمجھے میں مذاق کر رہا تھا، ہمارے درمیان بھی ذہنی ہم آہنگی کبھی کبھار ہوتی ہے، وہ بھی جب کرنے کو اور کچھ نہ ہو۔

اطمینان کا ایک لمبا سانس لے کر بولے، تم نے تو ڈرا ہی دیا تھا مجھے۔ اب یہ بتاؤ کہ انگریز جو ذہنی ہم آہنگی کرتے ہیں وہ ہم سے مختلف ہوتی ہے کیا؟
میں نے کہا، کیا مطلب؟
کہنے لگے، یہ چار کھیل کونسے ہوتے ہیں جو انگریز ذہنی ہم آہنگی سے پہلے کھیلتے ہیں؟
اب یہ کونسے چینل پر سنا آپ نے؟ میں نے روہانسا ہو کر پوچھا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
نہیں نہیں چینل نہیں، نیٹ پر دیکھا تھا۔ انگریز ذہنی ہم آہنگی کے لیے چار کھیل کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں سنی، میں بدستور کنفیوزڈ تھا۔
یار ایک تو تم پاکستانیوں کی انگریزی بھی بہت کمزور ہے، سادہ سی بات ہے۔ چار کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟
فور، میں نے فوراً کہا۔
اورکھیل کو؟
پلے ؟
تو چار کھیل ؟ وہ میری طرف سوالیہ دیکھ رہے تھے اور میں ان کے ترجمے سے زیادہ انکی استعمال کردہ اصطلاح پر ممکنہ سوالات کا سوچ رہا تھا۔
میں نے کہا، میں آپ کا مطلب سمجھ گیا، یہ وہ چار کھیل ہیں جو برصغیر میں نہیں کھیلے جاتے کہ اول تو حکومت سپورٹس کو زیادہ توجہ نہیں دیتی، دوسرا ہمارے قومی کھیل ہاکی ہیں جبکہ کھیل ہم کرکٹ جاتے ہیں اور تیسری اور آخری وجہ یہ کہ ہم کوئی انگریز تھوڑا ہیں، ہمارے ہاں تو بچے ہاتھ میں بال پکڑ لیں تو ہمیں شیشے ٹوٹنے کی فکر لگ جاتی ہے۔

میرا جواب نشانے پر لگا، اور وہ ہاں میں سر ہلانے لگے۔ ٹھیک کہتے ہو تم یہ کوئی انگریزی رسم ہے، یہ انگریز بھی عجیب لوگ ہیں بھلا تم ذہنی ہم آہنگی کے لیے آئے ہو، اس میں کھیل کا کیا کام؟ وہ انگریزوں کی کوتاہ نظری پر افسوس کرتے رہے۔

اب بات صرف اور صرف ذہنی ہم آہنگی پر ہو رہی تھی اور وہ والی ذہنی ہم آہنگی جو وہ سمجھ کر آئے تھے۔ مجھے کہنے لگے، میں بچپن سے سوچتا تھا کہ شادی کے بعد میری ذہنی ہم آہنگی کیسے ہو سکے گی؟ کیونکہ ایک تو بہت شرمیلا تھا اور دوسرا میرے بہت سے دوست ذہنی ہم آہنگی کےلیے اپنی گرل فرینڈز سے ملتے تھے مگر میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ میں جب بھی ذہنی ہم آہنگی کروں گا تو وہ میری بیوی ہوگی اور کوئی نہیں۔

میں نے اس کی کمٹمنٹ اور اونچے وچاروں کو سراہا اور کہا کہ بالاخر وہ ایک اچھی زندگی کو حاصل کر چکا ہے بس اس کو اب اس موضوع پر زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔
کہنے لگے، یار سوچ تو پھر آ ہی جاتی ہے۔ چلو آج بات ہو ہی رہی ہے تو تم سے پوچھ لوں۔ یہ بتاؤ کہ ذہنی ہم آہنگی صرف ہماری طرف سے ہوتی ہے کہ اس میں بیوی کا کوئی کردار بھی ہوتا ہے۔

میں نے حسرت سے سوچا کاش یہ سوال ذہنی ہم آہنگی کے اصلی معانی کے ساتھ ہوتا تو یہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ مگر میرے دوست جس ذہنی ہم آہنگی پر موجود تھے وہ اور ہی مقامات تھے۔

میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور کہا کہ بات یہ ہے کہ ذہنی ہم آہنگی ہمیشہ دو طرفہ ہی ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں چونکہ بیویوں کو زیادہ بات نہیں کرنے دی جاتی اس لیے وہ ذہنی ہم آہنگی کے مکالمے میں زیادہ حصہ نہیں لیتیں۔ ویسے بھی انکو ہر بات میں ہاں میں ہاں ملانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس معاملے میں بھی وہ میاں کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔

بولے، ایک تو تم بات گھما پھرا کر بہت کرتے ہو، اب اس میں ہاں میں ہاں ملانے والی کیا بات ہے۔ بار بار کنفیوز نہ کرو۔

یہ بتاؤ کہ ایک مرد یہ کیسے جان سکتا ہے ادھر بھی ذہنی ہم آہنگی مکمل ہو گئی ہے۔
میں نے کہا، یار یہ مشکل سوال ہے مگر اندازہ ہو جاتا ہے۔ جیسے ایک مکالمے میں آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ موضوع پر بات مکمل ہو گئی ہے یا نہیں۔

پھر سے بھنا گئے، ایک تو تمہاری مثالوں سے میں بہت تنگ آ گیا ہوں، سیدھا سیدھا ذہنی ہم آہنگی پر بات کیوں نہیں کرتے۔ اب میں تم کو مثال بتاتا ہوں۔ دیکھو میں کام پر جاتا ہوں، میری بیوی مجھے کال کرتی ہے اور پوچھتی ہے کہ کیا بناؤں؟ میں بولتا ہوں کہ آج بگھارے بینگن بنا لو۔ میں گھر آتا ہوں، میری بیوی نے بگھارے بینگن بنائے ہوتے ہیں۔ وہ کھانا ٹیبل پر رکھتی ہے اور ہم دونوں کھانا کھاتے ہیں۔ کھانے کے اینڈ پر وہ میری طرف منہ کر کے پوچھتی ہے کہ منے کے ابا! کھانا اچھا تھا، نمک مرچ ٹھیک تھی؟ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کھانے کی تعریف کروانا چاہ رہی ہے۔ میں ہاتھ اوپر کر کے انگلی اور انگوٹھے سے سب اوکے کا نشان بناتا ہوں اور کہتا ہوں سب جبرجست ہے۔ وہ خوش ہو جاتی ہے۔

میں نے انکی ہمت افزائی کی، واہ دلبر بھائی آپ تو بہت اچھا کرتے ہیں۔
بولے، چپ چاپ میری بات سنو، ابھی ختم نہیں ہوئی۔
میں دبکا ہو رہا۔

دیکھو اگر میں یہ سب کرتا ہوں تو دنیا کی تمام بیویوں سے میرا ایک سوال ہے۔ ہم مرد بھی ایک طرح کے باورچی ہوتے ہیں۔ ہم بھی انکو کال کر کے پوچھتے ہیں کہ آج کیا بنائیں؟ تو بتا دو کہ بھئی کیا دل کر رہا ہے۔ مگر یہ کبھی نہیں بتائیں گی۔ اب ظاہر ہے ہم کو تو بگھار لگانا ہے تو ہم کوئی سی بھی ڈش بنا لیتے ہیں تو پھر یہ نہیں کہ یہ ہماری طرح چپ چاپ سر جھکا کر کھا لیں، انکا منہ بن جاتا ہے۔ اچھا پھر کھانا وانا ہوگیا تو ہم جو پکاتی اور باورچی کے روپ میں اپنی بنائی ڈش کی تعریف چاہ رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی یہ کچھ نہیں بتاتیں۔ یہ کیسی ذہنی ہم آہنگی ہے بھیا؟

دلبر بھائی پورے دکھ میں تھے، میں نے انکو تسلی دینے کی کوشش کی کہ چلیں خیر ہے اتنی ہی ذہنی ہم آہنگی کافی ہے۔
نہیں یار! تم ہی بتاؤ اگر ہم کھانے کی میز پر سارا کھانا مزے سے کھا کر ڈکار مار کر جب ٹشو سے ہاتھ پونچھ رہے ہوں تو یہ جب ہم سے پوچھتی ہیں کہ کھانا کیسا تھا؟ تو اس کے جواب میں ہم اپنی نظریں ہوا میں رکھیں اور پورے کنفیوزڈ ہو کر آنکھیں گھما کر صرف اتنا کہیں کہ پتہ نہیں یہ سویٹ ڈش تھی کہ سالن تھا؟ پتہ نہیں میرا پیٹ بھرا یا نہیں۔ پتہ نہیں کھایا یا نہیں کھایا۔ تو آپ ہی بولو اپنی پوری ایمانداری سے کہ یہ انصاف ہوگا؟ بولو ؟

میں نے دلبر بھائی کے کاندھے پر شفقت سے ہاتھ تھپتھپایا اور کہا، دلبر بھائی، یہ آپ اکیلے کا دکھ نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ذہنی ہم آہنگی میں پرفارمینس کا جو پریشر ہم مردوں نے اٹھا رکھا ہے اسی کی وجہ سے ہماری جنت پکی ہے۔

دلبر بھائی کی آنکھوں حسرت اور نمایاں ہو چکی تھی۔ اس شام دو مرد ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پر متفق تھے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. یہ ضروری نہیں انگریزوں والی ذہنی آھنگی ھر کسی کی ضرورت ھو ،،، باورچی کچھ بھی بنائے ،، کھانا مزے کا ہونا چاھئیے ،، جب تک کھانے والا مزے سے کھائے جا رھا ھے ،، تب تک ڈِش پوچھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاھئیے ،،، جہاں تک میرا خیال ایسی ذہنی آھنگی کی ضرورت انگریز صفت لوگوں کو ھوتی ہے ،، کیونکہ انکو رنگ رنگ کی ڈِش وراثت میں اور فطرت میں ملی ہوتی ہے ،، تو انکو سادہ سادہ دال روٹی میں مزہ نہیں آتا ،، کیونکہ ایک تو وہ وقت سے پہلے ہے فاسٹ فوڈ پیزا برگر کھا چکے ہوتے ھیں ،، اب ان کے لیے دال روٹی دقیانوسی اور جاہل لوگوں کی ڈِش نظر آتی ،،،،اب جہاں تک میرا خیال ھے ،،
    اگر ھم نے ساری زندگی دال روٹی اور پر اکتفا کیا ہے ،،اور ہمیں وراثت میں بھی دال روٹی ملی ہے ،، تو ہمارا ٹیسٹ اسی میں ہی ڈویلپ ھو جاتا ہے ،،اور پھر ہمیں پیزا برگر کھاتے ہوئے ایک بار گھن ضرور آئے گی ،،، اس چیز میں فطرت کا بڑا عمل دخل سمجھتا ہوں ،،،
    باقی ھر کوئی اتنا تو سمجھتا ہے ،،کہ میں کیا پکا رھا ہو اور اگلے کو کھانے میں کتنا مزہ آ رھا ،،، ایسے لوگ کملیکس کا شکار ھوتے ھیں جو ھر کسی کو اپنے جیسا اور ھر معاملے میں اپنے آپ کو فٹ کرتے ھیں

    • بہت اچھا کیا آپ نے اپنے آپ کو اس معاملے میں فٹ نہیں سمجھا، آپ کمپلیکس کا شکار بھی نہیں ہیں۔ باقی تحریر کو آپ نے سمجھا اور تبصرہ کیا ، اس پر شکریہ بنتا ہے۔ اللہ تعالی ذہنی ہم آہنگی اور دال روٹی کی خیر رکھے۔ آمین۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: