پویلئین اینڈ سے: ایک سفر اونچے نیچے راستوں کا ۔۔۔ 4

0
  • 153
    Shares

جو تیرے عارض وگیسو کے درمیان گذرے
کبھی کبھی وہی لمحے بلائے جاں گذرے

مجھے شعروشاعری کے سر پیر کا بھی نہیں پتہ۔ نہ کوئی شعر ڈھنگ سے یاد رہتا ہے نہ موقع محل کے مطابق سنانا آتا ہے۔
یہ شعر یوں یاد آیا کہ دوستوں کو شروع میں ہی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہونے دوں کہ میں پاکستان کرکٹ کی کوئی تاریخ لکھ رھا ہوں۔ آج کل تو اس قدر زرائع میسر ہیں کہ بیک جنبش انگشت کوئی سی بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ تو صرف ان سحر انگیز لمحوں کی یادیں ہیں جب جب کرکٹ کے کھیل کے حسن نے مجھے اپنی باہوں میں جکڑا۔ اس میں بہت سی باتیں اور ریکارڈ شاید اس طرح نہ ہوں جس طرح میں اپنی کہانی میں سنا رہا ہوں۔ میں چاہوں تو ریکارڈ بک سے مفصل معلومات بھی لے سکتا ہوں، لیکن پھر وہ میری یادیں نہیں ہونگی۔

اور یہ صرف وہی باتیں بتا رہا ہوں جو میں نے دیکھیں، سنیں اور پڑھیں۔ بہت سے واقعات ایسے بھی ہیں جو نہ تو مجھے یاد ہیں نہ ہمیں ان کی خبر ہوسکتی تھی کہ ان دنوں زرائع ابلاغ صرف اخبار اور ریڈیو کا نام تھا۔
ریڈیو بھی صرف مقامی میچز کا آنکھوں دیکھا حال سناتا تھا۔ دور دیس میں ہونے والے واقعات صرف خبروں میں ہی سننے میں ملتے تھے۔ یا پھر سنیما ہالوں میں پاکستان کا تصویری خبرنامہ میں کچھ جھلکیاں دیکھنے مل جاتیں۔ لیکن سن تریسٹھ چونسٹھ یا پینسٹھ تک میں نے بمشکل چار پانچ ہی فلمیں دیکھی تھیں۔
اور اسی سال یعنی چونسٹھ کے آخری مہینوں میں پاکستان نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دورہ کیا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ مجھے اس دورے کی کوئی بات یاد نہیں ہاں کسی میچ میں حنیف محمد کی سنچری اور شاید عارف بٹ کی میچ سیونگ اننگز کا تذکرہ اخباروں میں پڑھا۔

آسٹریلیا سے واحد میچ کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں کافی عرصہ خاموشی چھائی رہی۔ شاید دوسرے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں کچھ ہورہا ہو لیکن ہمیں اس میں ایسی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اخبار میں خبر پڑھ لیتے اور بس۔۔۔۔
اور اس سناٹے کی وجہ تھی ایوب خان والےصدارتی انتخابات۔

اس سال کے آخر میں الیکشن کا ڈول ڈالا گیا۔ یہ الیکشن بنیادی جمہوریت یعنی Basic Democracy کی بنیاد پر ہوئے۔ یہ بنیادی جمہوریت کیا تھی؟ اچھی تھی، بری تھی؟ یہاں میں اپنا اور آپ کا مغز اس پر کھپانا نہیں چاہتا، بس یوں جان لیں کہ یہ پورے ملک سے منتخب کردہ انتخابی نمائندے Electoral College تھے جو صدر کو منتخب کرتے تھے۔
اب گلی گلی بی ڈی ممبری کے الیکشن کا شور تھا۔ ہم بچے بھی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹ کر گلیوں میں “محمد بشیر کو ووٹ دو” “محمد بشیر آوے ای آوے’ کیا کرتے۔ یا مخالف کا نام لے کر کہتے کہ فلاں صاحب کو ووٹ دو، پھٹا پرانا کوٹ دو، زیادہ مانگے، ٹھونک دو!!!
بی ڈی ممبر کے انتخاب کے بعد جنوری سن پینسٹھ کے بالکل شروع میں صدارتی انتخاب ہوا۔ ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح تھیں جو متحدہ حزب اختلاف کی امیدوار تھیں۔ اور مجھے اب بھی حزب اختلاف کے چند رہنماؤں کے نام یاد ہیں۔ جن میں خواجہ ناظم الدین، مولانا مودودی، چودھری محمد علی، نوابزادہ نصراللہ خان اور خان عبدالولی خان جیسے دائیں اور بائیں بازو کے سیاستدان شامل تھے۔
ایوب خان کا انتخابی نشان گلاب کا پھول جبکہ مادر ملت کا نشان ‘ لالٹین تھا۔ پورے پاکستان کی تو خبر نہیں، لیکن کراچی کا حال یہ تھا کہ کوئی اپنے سینے پر گلاب کا پھول سجانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہر جانب لالٹین ہی لالٹینیں نظر آتیں۔ کراچی ہمیشہ حزب اختلاف کا شہر رہا، اور اس کا نتیجہ بھی بھگتا اور اب تک بھگت رہا ہے۔

مشرقی اور مغربی پاکستان میں جو مجموعی عوامی سوچ تھی اس کے مطابق تو محترمہ فاطمہ جناح ہی اکثریت کا انتخاب تھیں، لیکن جس دن نتیجہ آیا تو مغربی پاکستان میں کراچی چھوڑ کر ایوب خان کی جیت کی خبر سنائی گئی۔ اور شاید تب سے اب تک عوام نے ہمیشہ انتخابی نتائج کو شک کی نظر سے ہی دیکھا۔
بقیہ پاکستان نے تو شائد انتخابی نتائج کو تسلیم کرلیا۔ کراچی والے بھی شائد مان ہی لیتے لیکن پھر وہ کچھ ہوا جس کی کڑواہٹ آج بھی کراچی کے پرانے باشندے نہیں بھولے۔
میں ان دنوں پانچویں جماعت میں تھا۔ کورنگی ایک نمبر میں پہاڑیوں کے ساتھ کئی مسطح میدان تھے جہاں ہم ہاکی کھیلا کرتے تھے۔ یہ میں نے ہم یوں ہی کہا، دراصل سارے کھیلنے والے بڑی عمر کے نوجوان ، بلکہ کچھ شادی شدہ بھی تھے۔ مجھے کوئی ٹوٹی ہوئی ہاکی یا کرکٹ کا بلا دے کر گول پر کھڑا کردیا جاتا۔ میرے پاس نہ تو ہاکی اسٹک تھی نہ مجھے میدان کے بیچ کھیلنے کی اجازت تھی کہ چوٹ لگنے کا ڈر تھا۔ کبھی کبھار کوئی کھلاڑی مجھے اپنی ہاکی دے دیتا تو میں بھی درمیان میں بڑے کھلاڑیوں کے درمیان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا۔
اور یہی ہاکی کے کھلاڑی اتوار کے دن کرکٹ کھیلتے۔ کچھ جنہیں کرکٹ کا شوق نہیں تھا اس دن نہیں آتے تو کچھ اور دوسرے شامل ہوجاتے۔ میرا اولین عشق تو کرکٹ ہی تھا اور اتوار کا بے چینی سے انتظار کرتا۔
یہاں بھی میرے ساتھ یہی ہوتا کہ چھوٹا بچہ ہے، چوٹ نہ لگ جائے چنانچہ کہیں دور فیلڈنگ کے لئے کھڑا کردیتے، عموماً وکٹ کیپر کے پیچھےتاکہ اس کی نالائقی کی وجہ سے چھوٹی ہوئی گیندیں پکڑ کر واپس لوٹاؤں۔
کرکٹ کھلنے ہم کورنگی ‘ ڈھائی ‘ نمبر کے سامنے میدان میں آتے۔ آج کی نسل تو شاید تصور بھی نہ کرسکے کہ کورنگی ان دنوں کس قدر کھلا علاقہ تھا، صدر سے آنے والی سڑک کے دائیں جانب والے علاقے کے کورنگی دو نمبر سے چار نمبر تک چٹیل میدان تھا۔ یہ میدان اکثر بالکل مسطح اور ہموار تھے یعنی بنے بنائے کرکٹ گراؤنڈ تھے۔ ہم یہاں ” میٹنگ” بچھا۔ کر کرکٹ کھیلتے۔

ایوب کی جیت کے دوسرے یا تیسرے دن اتوار کی صبح ہم کرکٹ میں مصروف تھے کہ یکایک لانڈھی کی جانب سے ٹرکوں، بسوں اور جیپوں پر مشتمل پٹھان بھائیوں کے ٹرک ہمارے سامنے سے گذرنے لگے۔ وہ ایوب کی فتح کا جشن منا رہے تھے۔ ایوب کے صاحبزادے گوہر ایوب اس جلوس کی قیادت کررہے تھے۔
یاد رہے کہ کراچی والوں کو عظیم اکثریت فاطمہ جناح کے ساتھ تھی اور ایوب کی فتح کو بے ایمانی قرار دیتی تھی۔ اب ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے گوہر ایوب لانڈھی اور سائٹ ایریا کے مزدوروں کا لاؤ لشکر لئیے دندناتے پھر رہے تھے۔
ہم نے کھیل روک دیا اور جلوس کا نظارہ کرنے لگے کہ اچانک کچھ دھمادھم کی سی آوازیں آنے لگیں۔ یہ کورنگی کے عوام تھے جو بسوں پر پتھراؤ کررہے تھے۔ جوابی کاروائی کے طور پر ٹرکوں اور بسوں سے فائرنگ ہونے لگی اور ایک زبردست ہنگامہ شروع ہوگیا۔
ہم نے اپنا بوریا بستر یعنی کرکٹ کا سامان لپیٹا اور اپنے گھروں کی طرف دوڑ لگائی کہ ہم کھلے میدان میں اور بندوقوں کی براہ راست زد میں تھے۔
اور پھر یہ فساد سارے شہر خصوصا” مہاجر بستیوں یعنی لالوکھیت ، ناظم آباد اور برنس روڈ تک پھیل گئے۔ باہم عصبیت اور نفرت کا جو بیچ اس وقت بویا گیا اس پودے زہریلی شاخیں آج تک کراچی کی فضا میں اپنی کڑواہٹ بکھیرتی ہیں۔
اب ایسے میں کون سی کرکٹ اور کہاں کے کھیل کود۔۔۔ہمارے ساتھ کھیلنے والے کچھ پٹھان محلے دار بھی اب کچھ کھنچے سے رہنے لگے۔
کچھ دنوں بعد فسادات کی آگ سرد ہوئی اور زندگی آہستہ آہستہ اپنے پرانے ڈھب پر آتی گئی۔ یہ شاید مارچ کا مہینہ تھا اور بہار کے دن تھے جب نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان آئی۔ جان ریڈ اس ٹیم کے کپتان تھے۔
نیوزی لینڈ ان دنوں ایک بہت کمزور ٹیم تھی۔ سنکلئیر، کونگڈن اور جان ریڈ چند ایک کھلاڑیوں کے نام مجھے یاد ہیں جنہوں نے کچھ دم خم دکھایا لیکن بقیہ ٹیم میں ہمارے حنیف، سعید، برکی الیاس وغیرہ کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تھی۔ بالنگ میں تیز گیند بازی کی ذمہ داری آصف اقبال، ماجد خان اور محمد فاروق کو سونپی گئی لیکن یہ ہمارے اسپنرز تھے جنہوں نے نیوزی لینڈ کو ناکوں چنے چبوائے۔

اور ان اسپنرز میں نمایاں ترین تھے پرویز سجاد۔ جن کا ساتھ انتخاب عالم اور ایک نوخیز سا نوجوان، صلاح الدین دے رہے تھے۔ پرویز سجاد اپنے بھائی وقار حسن کی طرح خوبرو تھے۔ دراصل ان دنوں سارے کھلاڑی ہی خوبصورت اور وجیہ نظر آتے تھے۔ فضل محمود اور میری میکس مقصود کا میں پہلے ذکر کرچکا ہوں۔ وقار حسن اداکارہ جمیلہ رزاق کے شوہر تھے، ان کے ایک بھائی اقبال شہزاد بھی فلمیں بناتے تھے اور انہوں نے “بد نام” جیسی کامیاب فلم بنائی تھی۔
پنڈی کے پہلے میچ کی دوسری اننگز میں پرویز سجاد کی جادو ئی گیند بازی کی مدد سے پاکستان نے نیوزی لینڈ کو صرف ۷۹ رنز پر ڈھیر کرکے اننگز کی فتح حاصل کی۔
پرویز سجاد نے اس میچ میں مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔
لاہور کے میچ کا نتیجہ نہیں آیا اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے اس کی کوئی تفصیل یاد بھی نہیں۔
کراچی کے میچ میں البتہ سعید احمد کی ۱۷۲ کی اور جان ریڈ کی سنچریاں یاد ہیں۔ یہاں انتخاب عالم نے اپنی بالنگ کے جوہر دکھائے۔

ہم نے پہلے دن یہ میچ اسٹیڈیم میں دیکھا اس کے بعد جانے کی اجازت نہیں ملی۔ آخری دن میچ دلچسپ ہوگیا۔ پاکستان جیت کے قریب تھا، ساتھ ہی محمد الیاس کی سنچری بھی بننے والی تھی۔ ہم گھر میں ریڈیو والے کمرے میں جمع تھے اور میری کزنز الیاس کی سنچری کےلئے نفلیں پڑھنے کی منتیں مانگ رہی تھیں۔ اور یہ شاید ابتدا تھی کہ ہم کھیل کے ساتھ ساتھ آسمانی قوتوں پر بھی تکیہ کرنے لگے۔
نیوزی لینڈ کو گو کہ ہم نے دو صفر سے شکست دی لیکن سچ تو یہ ہے کہ سواد نہیں آیا۔ ان دنوں سال میں ایک آدھ ہی ٹسٹ سیریز ہوتی تھی۔
اب اور مزید کیا کرکٹ ہوتی، کہ ستمبر میں پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی۔ جنگ کا اثر یہ ہوا کہ سن چھیاسٹھ میں شاید کوئی سیریز نہیں ہوئی۔
لیکن اگلے سال پاکستان نے انگلستان جانے کی تیاریاں شروع کیں اور اب ہمارا کرکٹ سے تعارف ایک نئے انداز سے ہوا۔۔۔
اس کی کہانی انشاءاللہ اگلی بیٹھک میں۔ یار زندہ صحبت باقی۔

تیسری قسط اس لنک پر ملا حظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: