نیند میں ڈوبے حکم راں : ثناء غوری

0
  • 27
    Shares

آہ…! کیا یہ واقعی سچ ہے کہ قبل مسیح کے یونانیوں اور خصوصاً فلسفیوں کے نزدیک کسی بھی معاملے کو سرسری نگاہ سے دیکھنا ایک جرم تھا۔ اگر آج کے دور میں ایسا ہوتا تو پاکستان کے تو سارے سیاست دانوں پر فردجرم عائد کردی جاتی۔ ارکانِ اسمبلی میں سے کسی کو کوڑوں کی سزا دی جاتی تو کوئی تختہ دار پر جھولتا نظر آتا۔ کیسی خوف ناک صورت حال ہے کہ سوچتے ہی دل بیٹھا جاتا ہے۔ اور اس سے زیادہ دل کی حالت اس وقت خراب ہوجاتی ہے جب ملیحہ لودھی کا خیال آتا ہے۔ ملیحہ لودھی اور ان کا سفارتی عملہ تو اسی وقت….. خیر بچ گئے۔

اب تک تو آپ جان ہی چکے ہوں گے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیرخارجہ کو بھرپور جواب دیتے ہوئے ملیحہ لودھی نے ایک تصویر فضاء میں لہراتے ہوئے بھارت کے کشمیر میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا تو انکشاف ہوا کہ وہ تصویر ایک فلسطینی لڑکی کی تھی۔ اب ملیحہ لودھی صاحبہ کی دھواں دار تقریر کا سارا دھواں بس ہوا ہی میں اُڑ گیا اور کسی کے دل میں چنگاری لگانے کا باعث نہ بن سکا۔

یہ تو فقط ایک قصہ ہے۔ عالمی سیاست جس ڈگر پر ہے اور جتنے خطرناک بادل دنیا میں امن و سلامتی کو ختم کرنے کے لیے چھائے ہوئے ہیں شاید پہلے نہ تھے۔ تیسری جنگِ عظیم کے امکانات کو درست ثابت کرنے کے لیے شمالی کوریا کے کم جونگ ہو ں یا امریکا کے ڈونلڈ ٹرمپ دنوں ہی اپنے بیانات کے ذریعے اس آگ پر تیل ڈالنے کا کام کررہے ہیں۔ وینزویلا، شام، فلسطین کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کا ذکر کیا جائے یا کشمیر میں مسلمانوں کی حالتِ زار کا، ایک خوف ناک منظر ہے۔ عالمی سطح پر امن کا پرچار کرنے والے امن کا دن بہت فخر سے بناتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس دنیا کو مہلک ہتھیار کا تحفہ بھی دیتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں اہم ترین ذکر ہمارے ازلی دشمن ملک بھارت کا ہے جس پر جنگی جنون ماضی کے مقابلے میں اپنے عروج پر ہے۔
بھارتی فوج جب پاکستان میں اپنی سرجیکل اسڑائیک کا خواب پورا نہ کر سکی تو میانمار پر سرجیکل اسٹرائیک کر کے اپنے جنگی جنون کو تقویت دینے لگی۔ میانمار میں بھارتی فوج کی یہ تیسری سرجیکل اسٹرائیک ہے، اس سے پہلے 1995 اور 2015 میں بھی بھارتی فوج کی جانب سے میانمار میں سرجیکل اسٹرائیک کی گئی تھی۔ میانمار میں سرجیکل اسٹرائیک ناگا باغیوں کے کیمپوں کو تباہ کرنے کی غرض سے کی گئی۔ بہرحال یہ تو بھارتی فوج کے دعوے ہیں۔

بھارتی فوج مزید دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے پاکستان میں بھی ایک بار پھر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے، جس کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے بھارت کے دعوؤں کو مسترد کرکے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ ضرور کی لیکن پاک فوج نے اس کا منہ توڑ جواب دیا۔ مودی سرکار اپنے ملک میں تو کچھ کر نہیں سکتی البتہ پاکستان دشمنی کا نعرہ لگا کر اپنے عوام سے جھوٹ بولنے اور عوام کو گمراہ کرنے کا کام بہت شوق سے انجام دیتی ہے۔ بھارت پاکستان کی سرحد پر اپنی پہلی سرجیکل اسڑائیک کو ثابت کرنے کے لیے ویڈیو جاری کرنے کا دعویٰ ایک سال ہونے کے باوجود ثابت نہیں کرسکا۔ اس ساری صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کہاں ہے یا یوں کہا جائے کہ پاکستان میں کوئی حکومت ہے بھی کہ نہیں۔ نریندر مودی کھلے لفظوں میں پاکستان کو دھمکی دیتے ہیں لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ انتہائی تشویش ناک صورت حال کے باوجود ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے بھارت نے بین الااقوامی سطح پر پاکستان خلاف پروپیگنڈے کے لیے سات ملین ڈالر خرچ کیے تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ بھارتی وزیرِخارجہ سشما سوراج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کو دہشت گردوں کی فیکٹری قرار دیتی ہیں۔ اس سب کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کی معیشت کو نقصان پہچانا مقصود ہے۔ بھارت پاکستان میں کس طرح سے دہشت گردی کر رہا ہے یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ کلبھوشن یادیو کا پاکستان میں جاسوسی کرنا اور اپنے مذموم مقاصد کا راز افشاء کرنا کوئی پرانی بات نہیں۔ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیز کا نیٹ ورک پورے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور مستقل دہشت گردوں کو معاونت فراہم کررہا ہے۔

افغانستان میں بھارت کی دل چسپی سب کے سامنے ہے۔ انڈیا نے افغانستان میں کئی تعمیراتی پروجیکٹ شروع کیے ہیں۔ ظاہر ہے مسلمانوں سے شدید نفرت کرنے والے نریندر مودی کا مقصد چالیس سال سے جنگی حالات کا سامنا کرنے والے افغانستان کی تعمیرِنو کا تو ہو نہیں ہوسکتا۔ یہ افغانستان میں اپنے قدم مستقل جمانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ دوسری طرف امریکا اور بھارت کی محبت اپنے عروج پر ہے امریکہ بھارت کی پیٹھ تھپتھپا رہا ہے، تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جاسکے اور علاقے کی صورت حال کو اس حد تک کشیدہ بنا دیا جائے کہ چین کے لیے اقتصادی راہداری کے دروازے بند کیے جاسکیں۔ بھارتی آرمی چیف جنرل پین راوت سی پیک کو بھارتی کی خود مختاری کے لیے ایک چیلنج کہتے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ امریکہ افغانستان سے کبھی نہیں جائے گا یہ واحد راستہ ہے کہ امریکہ کی خطے میں بالادستی قائم رکھ سکے۔ اور اس کے لئے بھارت کی مدد ناگزیزہے۔ امریکا، بھارت اور اسرائیل ہر صورت پاکستان میں اپنا گھیرا تنگ کرنے کے لیے سر جوڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو کم زور کرنے کے لیے بھارت جہاں اور جیسے کارروائی کر سکتا ہے کررہا ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک تصویر جاری ہوتی ہے جو انڈیا کے اخبارات کی زینت بھی بنی، جس میں نریندر مودی ایک برہنہ شخص کے پاؤں چھوتے نظر آئے۔ یہ برہنہ شخص کوئی عام آدمی نہ تھا یہ بھارت کے صوبے گجرات میں مسلم کش فسادات میں لاکھوں مسلمانوں کی جان لینے والی تنظیم کا سربراہ تھا۔ دنیا کی سب بڑی جمہوریت کے دعوے دار بھارت میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ ایک بار پھر ریاست اڑیسہ میں شروع ہوچکا ہے۔ ہندو بلوائیوں کے مسلمانوں پر تشدد بڑھتے جارہے ہیں۔

انتہا پسند بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے کارندوں کو مودی سرکار کی آشیرباد حاصل ہے۔ دوسری طرف بھارت،برما کی لیڈر آنگ سان سوچی سے یانگون جا کر اس وقت ہاتھ ملاتے ہیں جب برما میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے۔ وہ مسلمانوں پر ہونے والے خوف ناک مظالم کا تذکرہ بھلا کر یہ کہتے ہیں کہ بھارت برما کی حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی ترقیاتی منصوبوں میں برما کی مدد کرنے اور برمی باشندوں کو ویزے جاری کرنے کا بھی یقین دلاتے ہیں۔ یہ فقط اس لیے کہ آنگ سان سوچی اپنی پالیسیز جاری رکھ سکیں اور مسلمانوں کو اس زمین کے ٹکڑے سے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے اپنے مزموم مقاصد جاری رکھ سکیں۔ بھارت کا حال اس وقت نشے میں چور کسی بد مست ہاتھی جیسا ہے جو مسلمان اور پاکستان دشمنی میں سب کچھ کچلنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ لیکن اب بھی پاکستان کی حکومت، پاکستان کے راہ نما صورت حال کی سنگینی کو نہایت سرسری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم پاناماکھلتے رہے گے اہل اور نا اہل کا راگ الاپتے گے،دھرنوں کی سیاست بھی چلتی رہے گی۔اُن کے نزدیک اقتدار کی جنگ ملک کے دفاع اور سلامتی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ خطرہ ہمارے چاروں طرف منڈلا رہا ہے اور ہم ابھی ملی مسلم لیگ کے تجربے ہی کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے حکم راں اور اپوزیشن کی جماعتیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔ یہ خوابِ غفلت کاہی شاخسانہ تھا جس کا ثبوت ملیحہ لودھی اقوام متحدہ میں دے گئیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: