سیکولرزم کی مقدس و بے نیاز گائے: سلمان آصف

0
  • 120
    Shares

دانش بورڈ کے سینئر ممبر اور ممتاز دانشور سلمان آصف کا سیکولرزم پر ایک اختصاریہ، دانش کے قارئین کے لئے توشہ خاص۔


دور حاضر تک کی انسانی سماجی اور سیاسی تاریخ سیکولرزم کے اُمید افزا امکانات، انسان دوست بیانیے اور اُس کے یوٹوپیا کے کئی جنازوں کی شاہد ہے۔ مغربی اور مشرقی یورپ کا دم توڑتا ہوا سیکولرزم اعلی انسانی قدروں کی افزائش کے بجائے متشدد فسطائیت، نسلی برتری، دھارمک بھید بھاو کے رجحانات کا سبب بنا ہے۔

یورپی یونین کی شکست و ریخت، ہسپانیہ کے کتالان صوبے کی آزادی اور خود مختاری کی مانگ، جرمنی (معاشی اور سیاسی سطح پر یورپ کی سب سے مستحکم ریاست) کے حالیہ عام چناو اور ان میں نسل پرست فسطائی قوتوں کی جلوہ آرائی، سکینڈے نیویا کے امن پسند، جنگ مخالف (پیسفیسٹ) سیکولر ریاستوں میں تعصب اور نسل پرستی کا عفریت سیاسی، سماجی اور ابلاغ کے منبروں اور منچوں پر سے سیکولرزم کے قدری مباحث کی دھجیاں اُڑاتا سیکولر بزرجمہروں اور عمائدین کی سمجھ سے باہر ہے، اور یک دم یہ جنگ مخالف ریاستیں اپنی عسکری صلاحیتوں کو نکھارنے لگی ہیں (سویڈن کی حالیہ غیر متوقع فوجی مشقیں)؛ برطانیہ کے متعصبانہ شیڈول 7 قانون کا 85000 مسلمان برطانوی شہریوں پر غیر اخلاقی، انسانی حقوق کے منافی بے دریغ استعمال؛ یونان یعنی جدید ریاست کے تصور کے گہوارے کا اقتصادی دیوالیہ اور انتظامی انتشار؛ سیکولر بیانیے اور اُس کی عملی جولان گاہ پر کئی ایک سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

لیکن یہ سرمایہ دارانہ نظام کی بھی ارتھی ہے۔ پُونجی وادی سوچ کے انتِم سنسکار، جِس نے مغرب میں سیکولرزم سے باہمی مفادات کے تحت اپنا وقتی اور استحصالی گٹھ بندھن باندھا۔

سرعت سے بدلتی ہوئی بین الاقوامی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی صورتحال کے مقابل سیکولرزم کی مقدس و بے نیاز گائے لاپرواہی سے سڑک کے بیچوں بیچ آلتی پالتی مارے، آنکھیں مِیچے، یوگا آسن رمائے بیٹھی ہے۔ پُونجی واد کی لُٹیا بیچ چوراہے میں اِسی کے لونڈوں نے پھوڑی۔

اور اِشتراکی آدرش کے سہانے سپنے کو تو جانے ہی دیجیئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: