ایک ماں کا اپنے نہ ہونے والے بچے کو خط: فرحین شیخ

1
  • 168
    Shares

نکاح کو صرف ایک پاکیزہ بندھن قرار دے دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک یہ ایک غیر مشروط بندھن بھی ہے، جسے ہمارے معاشرے میں اولاد کی پیدائش سے مشروط کر کے اس کا سارا حسن اور خوب صورتی ختم کردی گئی ہے۔ بے تکے سوالات کے ذریعے بے اولاد جوڑے کی زندگی اجیرن کرنا اس سطحی معاشرے کا چلن بن چکا ہے۔ یہ سچ ہے کہ انسان کی ساری دوڑ دھوپ کا مرکز و محور اس کی اولاد ہوتی ہے جس کے لیے وہ زندگی کی ساری خوشیاں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جو اولاد کی نعمت سے محروم رکھے جاتے ہیں ان کا ساری خوشیوں سے حق معاف کروا کے احساسِ محرومی کی تپش میں جھلسنے کے لیے چھوڑ دینا کہاں کا انصاف ہے! یہ بھی کڑوی حقیقت ہے کہ بے اولادی کی ذمہ دار بغیر طبی تحقیق کے زیادہ تر عورت ہی قرار پاتی ہے۔ کبھی محفلوں میں ہونے والی دبی دبی سرگوشیاں اس کو کرب میں دھکیلتی ہیں تو کبھی سسرالیوں کے طعنے روح کو بنجر کرتے ہیں۔ کہیں کوکھ جلی اور بانجھ کے القاب سے پکار کے اس کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے تو کبھی شوہر کی طرف سے ہی ا س کو ناکارہ پرزے سے زیادہ اوقات نہیں ملتی۔

کیا کبھی کسی نے بے اولاد عورت کے دکھ پر کان لگا کر اس کو سننے کی کوشش بھی کی؟ کہ اس کے شب و روز کیسی تنہائی اور ویرانی میں کٹتے ہیں۔
وہ بھی ایک ایسی ہی عورت ہے، تنہائی میں جیتی اور سوالات سے دوچار، ایسے ہی کرب کے لمحات میں اس نے یہ خط لکھا:

جان سے زیادہ پیارے، اے میرے راج دلارے!

آنگن میں تمہارے آنے کی نوید سننے کے لیے سالوں سے بے قرار ہوں۔ تم کو اپنے خون سے سینچ کر خود گھلنے کا لطف جانے کب اٹھا پائوں گی!!!!! تمہاری تشکیل سے تکمیل تک کے سفر میں میرے جسم کا ہر زاویہ بگڑ جائے، چاہے رنگ جھلس کر ماند پڑ جائے مگر میرے ننھے، تم آجائو!!!!! تمہاری پیدائش کا کرب سہہ کر اپنی مامتا کو سیراب کر نے کی آرزو مند ہوں۔

میرے لعل! ان بانہوں میں خالی پن سنسناتا ہے! خواہشیں دل میں بین کرتی ہیں، مامتا اندر کہیں دھاڑیں مارتی ہے، امیدیں گھر کی چار دیواری پر سر مار کے روتی ہیں۔ ہر بچے کے چہرے میں تمہیں کھوج کر میں اپنے احساسِ تنہائی کو مدھم کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہوں۔ دیکھو! یہ الماری، جس میں ہر ڈیزائن کے کپڑے تمہارے لیے جمع کررکھے ہیں، جب یہ بھرجاتی ہے، تمہارے کپڑے ابل ابل کر گرنے لگتے ہیں تو ایک رات خاموشی سے چتا تیار کرتی ہوں، اس میں اپنے سارے ارمان، خواہشیں اور خواب ڈال کر آگ لگا دیتی ہوں اور اگلی صبح اس چتا کی راکھ، گھر کے دروازے پر بلند ہونے والی پہلی صدا کے حوالے کر دیتی ہوں۔ پھر خالی الماری کے سامنے پہروں خالی بیٹھی تمہیں پکارتی ہوں۔

وہ دیکھو میرے شہزادے! گھر کے اس کونے کو میں نے تمہارے کھیلنے کے واسطے رنگ برنگے کھلونوں سے سجا رکھا ہے۔ مگر روشنی سے جگمگاتا وہ کونا تمہارے بنا کتنا تاریک ہے!!! اس تاریکی نے میرے اندر کی ساری رونق چھین لی ہے۔ تم کو معلوم بھی ہے کہ جب مہمانوں کے روپ میں آنے والے بچے تمہارے کھلونوں سے چھیڑچھاڑ کرتے ہیں میری سانسیں اندر ہی اندر بے دم ہونے لگتیں ہیں۔ اور جب کوئی بچہ ان میں سے کوئی کھلونا ساتھ لے جانے کی ضد کرتا ہے تو گھر کی کسی دیوار کے پیچھے سے آتی آواز میرے کانوں کو پگھلا تی گزر جاتی ہے کہ لے جائو! یہاں کون ہے ان سے کھیلنے والا!!! میری روح میرے جسم کے فرش پر اسی وقت ڈھیر ہو جاتی ہے۔ کس کو بتائوں یہ محض کھلونے نہیں تمہارے آنے تک میرے جینے کا سامان بھی ہیں۔ میں آئے دن چھلنی ہوتی ہوں مگر ساری ہمتیں یکجا کر کے کھڑی ہوتی ہوں کہ ابھی تو تم کو پیدا کرنے اور پالنے کی منزلیں طے کرنا باقی ہیں۔
بس میری روح کے قرار، میرے بچے!! اب اور نہ ستائو، امیدوں کا دیپ بجھنے سے پہلے چلے آئو، تمہارے ہجر کے رت جگے مجھے اور منظور نہیں۔ گھر کا سناٹا اور چیزوں کی ترتیب اب ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ تم آئو!! رو رو کر آسمان سر پر اُٹھا لو، ضد کر کے مجھے عاجز کردو، میرے پیروں سے لپٹ کر راستہ روک لو، سارا سامان الٹ پلٹ کر دو کہ میں سمیٹ سمیٹ کر تھک جائوں۔ اور کبھی جو میں خفا ہو جائوں تو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں میرا چہرہ بھر کے مجھے پکارو! میں تُرش ہو جائوں تو تم خاطر میں نہ لائو، میں گھور کے دیکھوں تو تم ہنس دو، جو تھک کر لیٹوں تو مجھ پہ آن گرو! اپنی نرم ملائم انگلیوں سے زبردستی میری آنکھیں کھولو!

میں جو کھانے بیٹھوں تو تم منہ کھول دو، اور میں اپنی بھوک کے احساس سے غافل ہو جائوں۔
میرے بچے! اس خیال سے چلے آئو کہ میرے جنازے کو ایک کندھا تو اپنا دے دو، جن چہروں نے ساری عمر رلایا ان کا کندھا مجھے درکار نہیں، اذیت کے سوا اور کچھ نہیں۔ تم نہ آئے تو میری موت کا سوگ منانے والا کوئی نہ ہوگا، آنسو بہا کر چار دن بھی یاد کرنے کی کسی کو فرصت نہ ہوگی۔ میری موت بھی زندگی کی طرح بے رونق ٹھہرے گی۔ میری آنکھوں کے نور! میرے جنازے میں بے شک ہجوم نہ ہو، قبر پر کوئی نیم نہ ہو، کفن زم زم کا اور لحد قیمتی پتھر کی نہ ہو مگر ہر کام تمہارے ہاتھ سے ہو بس اور کیا چاہیے! ایک تم ہی تو ہو جو میری قبر کو ویران نہ ہونے دو گے۔
دیکھو! تمھارے بغیر جینا بھی کیا جینا ہوا، اور مرنا بھی کیا خاک مرنا ہوگا۔ اللہ میاں کو میرے لیے تم منظور کیوں نہیں! تم کہہ کر دیکھو! میری وہ نہیں سنتا۔ ایک اسی سے کیا شکوہ، میری تو کوئی بھی نہیں سنتا!
فقط
تمھاری منتظر ماں

کاش یہ خط سوالات اور طعنوں سے بے اولاد عورتوں کی روحیں چھننی کردینے والے لوگوں کی نظروں سے گزر کر انہیں اس سنگ باری سے روک دے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: