اصلاح معاشرہ کی پہلی سیڑھی خود آپ: راحیلہ سلطان

0
  • 29
    Shares

معاشرے سے ہٹ کر چلنا بڑی بہادری کا کام ہے جیسے دریا کی مخالف سمت بہتی ہوئ لہروں سے مقابلہ کرنا۔ایسا جگرا ہر کسی کے پاس نہیں۔ ہم اک تنگ نظر روایتی معاشرے کے پروردہ لوگ ہیں اور شاید کم ہمت بھی۔ ہم غلط چیزوں یا عمل کی اصلاح کرنے کی جگہ جو ہے جیسا ہے چلنے دو کے اصول پر کاربند ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ تنقید کے کٹہرے میں کھڑا کرکے زبانی جمع خرچ کرلیتے ہیں۔

ہمارا اصلاح کا سبق ہمارے گھر سےشروع نہیں ہوتا بلکہ ہم ہمیشہ اس کے لیے دوسروں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ معاشرے کی حالت زار پر صرف کڑھتے ہیں اور عمل میں صفر بٹا صفر۔۔ دراصل ہم انفرادی اصلاح کی جگہ اجتماعی اصلاح پر زور دیتے ہیں جسکے نتیجے میں معاشرہ اپنے راستے پر گامزن رہتا ہے کیونکہ ہم خود کو بدلنا نہیں چاہتے بلکہ دنیا کے بدلنے کے خواہاں ہیں۔۔

بہت سارے لوگو ں کی سوچ اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہم یہ کیوں نہ کریں؟ باقی سب بھی تو یہ ہی کررہے ہیں۔ ایسی سوچ معاشرے میں کبھی مثبت تبدیلی نہیں لاسکتی۔۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ باقی لوگ بھی بول رہے ہیں۔۔ ہم بے ایمانی اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ایماندار کی اس معاشرے میں کوئ جگہ نہیں۔۔۔ ہم کرپشن اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہر اونچے منصب پر بیٹھا یہ ہی کر رہا ہے۔۔۔ ہم ناجائز طریقوں سے پیسہ اس لیے کماتے ہیں کیونکہ معاشرے میں صرف پیسے والے کی عزت ہے حق حلال سے کمانے والا ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں ناکام ہے یا پھر معاشرتی اسٹیٹس کو برقرار رکھنے میں نااہل۔۔۔ہم دکھاوا نمودونمائش اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے خاندان کی برادری میں عزت قائم رکھنی ہے۔۔۔۔ہم اپنے خاندان و برادری کی ہر روایت کے امین ہیں خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ہم رشوت اس لیے دیتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئ کام پورا ہونا ممکن نہیں یا اس لیے لیتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب کھا رہے ہیں تو ہم کیوں نہ کھائیں ہمارا نکتہ نظر یہ ہے کہ یہ سسٹم کا حصہ ہے۔ ہم برا سمجھتے ہوئے بھی آہستہ آہستہ خود اسی سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں۔۔ہمیں بس دوڑنا ہے یہ دیکھے بغیر کہ اس راستے کی منزل کیا ہے۔۔ ہمیں بھاگتی بس کے پائیدان پر چڑھنا ہے چاہے اس کے بریک لگنے پر ہم زمین پر منہ کے بل ہی کیوں نہ گرجا ئیں۔۔

ہر برائی کا جواز تلاش کرنا ہمارے ایمان کا سب سے مضبوط پہلو ہے۔۔ ہم برائی کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ غلط ہے یا گناہ ہے ہم اسے اس لیے اپناتے ہیں کیونکہ معاشرے کے بیشتر لوگ اسے اپنائے ہوئے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں منفی رجحانات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے خواہ اس کا میدان معاشی ہو یا معاشرتی سیاسی ہو یا اخلاقی و مذہبی۔۔ہماری تعلیم نے بھی ہماری آنکھیں نہیں کھولیں۔۔ کیونکہ ہم تعلیم علم حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ کمانے کے لیے حاصل کرتے ہیں ہمارا مقصد باعزت روزگار ہے۔۔معاشرے میں اعلیٰ مقام۔ اسٹیٹس۔ اپنا اور ماں باپ کا نام اونچا کرنا ہے ہم علم سیکھنے نہیں جاتے ہم پیسہ کمانے کا ہنر سیکھنے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں والدین کا بچوں کو اسکول بھیجنے کاپس پردہ مقصد علم کا حصول نہیں بلکہ یہ ان کی انویوسمنٹ ہے جو وہ بچے پر کر رہے ہیں تاکہ بچہ بڑا ہو کر اعلی عہدہ حاصل کرے اور خوب پیسہ کما سکے۔ جس معاشرے میں تعلیم محض کاروبار بن جائے وہاں علم کی کوئ جگہ نہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بیشترلوگ پڑھے لکھے جاہل کے زمرے میں آتے ہیں ڈگریاں محض کاغذ کے ٹکرے ہیں اگر ہماری یہ سوچ اور فکر و عمل سے خالی ہوں ۔۔

معاشرتی زندگی کے ہرمیدان میں موجود روایت و عمل کو ہم اپنے شعور و عقل پر پرکھنے کی جگہ لکیر کے فقیر بننے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے ہمارے ہاں بوسیدہ اور عقل سے ماورا روایات پوری آب وتاب سے قائم ہیں ہم انہیں دل سے برا سمجھتے ہیں مگر زبان سے برا نہیں کہتے اور خاندان یا برادری کے دباؤ کی بنا پر اس پر عمل پیرا بھی ہیں اور یوں ہم بہت ساری اجتماعی برائیوں کا بیک وقت شکار ہیں جن پر کبھی ہم شرمندہ ہیں اور کبھی ڈھیٹ بن کر اسکی ذمہ داری اپنے بڑوں پر ڈال کر مطمئن بھی۔۔

معاشرہ اکائی سے بنتا ہے ہر شخص معاشرے کا حصہ ہے ہم معاشرہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں مگر خود کو نہیں کیونکہ ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ہیں کبھی خاندان کی۔کبھی رسم و رواج کی۔ذات پات کی اور کبھی صرف اپنی ذات کی۔ ہم خوفزدہ ہیں کہ اگر سسٹم بدلا تو کیا ہم اس کو جھیل پائیں گے۔جب تک یہ ڈر ہمارے دل میں بکل مارے بیٹھا رہے گا ہم اس سے نجات حاصل نہیں کرسکیں گے۔۔ معاشرے کو منفی وبوسیدہ روایتی اقدار سے پاک کرنے کے لیے اس ڈر سے نجات ضروری ہے جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر ہر برائی قبول کرنے والوں کو اب جو غلط ہے وہ قبول نہیں کی سوچ کو اپنانا ہوگا۔۔ تبدیلی خود سے اور اپنے گھر سے شروع کرنی ہوگی۔۔تب ہی یہ اجتماعی تبدیلی کا روپ دھارے گی۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: