نعروں کے معنی کُھلتے ہیں: محمد عثمان جامعی

0
  • 34
    Shares

ہم نعروں کو شاعری کی اصناف میں شمار کرتے ہیں، اس کا سبب ان کا وزن ہی میں ہونا نہیں بل کہ دیگر اوصاف بھی انھیں شعر کے درجے پر فائز کرتے ہیں، کلاسیکی اردو شاعری کی طرح ان کی بھی خصوصیت ہے کہ یہ حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں، ہماری شعری روایت کی پیروی کرتے ہوئے ان میں بھی بلنگ بانگ اور بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، محبوب کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور معشوق پر جان وارنے کا قصد کیا جاتا ہے۔

نعرے یوں تو سو لفظوں کی کہانی کی طرح چند الفاظ پر مبنی قصیدہ ہیں، مگر ان میں غزل کا رنگ بھی پایا جاتا ہے، ہجو کے سَنگ بھی اور کبھی کبھی مرثیے کا آہنگ بھی۔ اب جس طرح اشعار تشریح طلب ہوتے ہیں اسی طرح نعرے بھی تفسیر کے محتاج ہیں، خاص طور پر ان نعروں کے معنی اور مطلب کے در وا کرنا بہت ضروری ہے جن کا نادان لوگ مذاق اُڑاتے اور انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، ہم نے سوچا کیوں نہ یہ فریضہ ہم ہی انجام دے ڈالیں، سو پیش ہے کچھ اہم نعروں کی تشریح و تفسیر:

٭  پاکستان کا مطلب کیالاالہ الا اللہ

اس نعرے کے ذریعے صاف صاف پیغام دیا جارہا ہے کہ بھیا! پاکستان کا اﷲ ہی وارث ہے، اسے اﷲ ہی چلائے گا اور وہی بچائے گا، یہ کسی غیراﷲ کے بس کی بات نہیں، چناں چہ اس ملک میں رہنے والے کسی اور کے آسرے میں نہ رہیں مکمل طور پر اﷲ پر انحصار کریں۔

٭  زندہ ہے بُھٹو زندہ ہے

اس نعرے پر بے جا تنقید کی جاتی ہے، بھئی بھٹو زندہ ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ عوام کے کسی کام کا بھی ہے۔ دراصل وہ زندہ تو ہے مگر بہت مجبور ہے، عوام کے لیے کچھ کر نہیں پاتا، اور تو اور وہ اپنی پارٹی کو بھی سُکڑنے سے نہیں بچاپایا، اب ایسے میں یہ کہنا تو بنتا ہے کہ یہ جینا بھی کوئی جینا ہوا بھٹو مگر اس نعرے کو خلافِ حقیقت قرار دینے کی کیا تُک ہے، ایوئیں۔ یوں بھی جب اک زرداری ہی سب پر بھاری ہے تو بھٹو کو کیا ضرورت ہے کہ پارٹی اور قوم کی ٹینشن لے۔ یہ بھی سُنتے ہیں کہ بھٹو نے آکر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کا سوچا تھا لیکن جب یہ سُنا کہ اگلی باری پھر زرداری تو یہ کہہ کر ارادہ بدل لیا،”مجھے ابھی اور زندہ رہنا ہے۔“

٭  دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا

اب ٹھیک ہے کہ شیر کی آمد پر دوڑیں لگتی ہیں نعرے نہیں، مگر وہ دوڑیں لگوانے والا جنگل کا شیر ہوتا ہے اور یہ صرف ”گَل“ کا شیر ہے، شریف ہے، اس کی ساری شیری گل بات تک محدود ہے، باہر ہو تو تھوڑا بہت دھاڑ بھی لیتا ہے، پنجرے میں تو میاوں بھی نہیں کرتا۔ اب ایسے شریف شیر کے دیکھ کر کون بھاگے گا، ہے ناں بھئی۔

٭  ہم نہیں ہمارے بعد الطاف الطاف

یہ نعرہ نہیں ان ساتھیوں کا ”بھائی“ سے سوال ہے جو اب ڈاکٹر فاروق ستار کی زیرقیادت ایم کیوایم پاکستان میں شامل ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ بھائی! کچھ دنوں بعد ہم آپ کے ساتھ نہیں ہوں گے، کالز اٹینڈ کریں گے نہ لمبی لمبی تقریریں سُن ہوکر سنتے رہیں گے، ہمارے بعد آپ کا کیا ہوگا؟ گویا، تو کہاں جائے ”گا“ کچھ اپنا ٹھکانا کرلے۔ اگر یہی بات صاف صاف کہہ دی جاتی تو کہنے والے ”ہم“ دنیا سے فوری کم کردیے جاتے، چناں چہ بھائی کو ”تم سلامت رہو ہزار برس“ کی دعا کی آڑ میں اپنے ارادے بتادیے گئے، بھائی سمجھ نہیں سکیں ہوں گے اور اس نعرے پر نعرہ لگانے والے کی ” ایک پپی ادھر، ایک پپی ادھر“ لے لی ہوگی۔

٭  مردمومن مرد حق ضیاء الحق ضیاء الحق

اس نعرے کے ذریعے جنرل ضیاءالحق کو بتایا گیا تھا کہ حضرت! آپ مردِ مومن اور مرد حق ہیں۔ جیسے لوگ جھانسے میں آتے ہیں ویسے ہی موصوف اس ”نعرے“ میں آگئے، اب ظاہر ہے، جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی اور مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہے آفاق، مزید یہ کہ نگاہ مردمومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں، سو جنرل صاحب علامہ اقبال کے بیان کردہ ساری مومنانہ خصوصیات اپنانے پر تُل گئے۔ انہوں نے دنیا کو اپنی میراث سمجھا اور اس ورثے کے حصول کے لیے مومنوں کے دستے تیار کرڈالے، آفاق کو خود میں گُم کرنا تو مشکل تھا لیکن آئین اور قوانین سموچے ہڑپ کرگئے، اپنی ظالم نظر اٹھا کر کم ازکم نوازشریف کی تقدیر بدل ڈالی۔ مسئلہ تب ہوا جب مرد مومن کی صفات اپناتے اپناتے انھوں نے علامہ اقبال کے اس پیغام کو بھی سنجیدگی سے لے لیا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکےاور آم لدے جہاز پر سوار ہوکر یوں بکھرے کہ ”قہاری وغفاری وقدوسی وجبروت“ سمیت ان کے تمام عناصر ہوا میں تحلیل ہوگئے۔

٭  جاگ پنجابی جاگتیری پگ نوں لگ گیا داغ

اس نعرے کو خواہ مخواہ متعصبانہ قرار دے کر نوازشریف پر نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے، حالاں کہ میاں صاحب صوبائی تعصب سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ وہ پنجاب کو صوبہ سمجھتے ہی نہیں کُل پاکستان سمجھتے ہیں۔ ارے یہ تو صفائی مہم کا نعرہ تھا، نوازشریف بس اتنا چاہتے تھے کہ پنجابی صفائی کا خیال رکھیں اور کم ازکم اپنی پگ دھولیا کریں۔

٭  ظالمو! قاضی آرہا ہے

اس نعرے کا یہ مطلب لیا گیا کہ ظالموں کو دھمکی دی جارہی ہے۔ کتنی بُری بات ہے، جماعت اسلامی والوں پر یہ الزام کے وہ کسی کو دھمکی دیں گے، توبہ توبہ، تجدیدِ نکاح کرو بھئی۔ جماعت اسلامی شرافت کی سیاست کرتی ہے، اگرچہ یہ نعرہ لگاتے ہوئے وہ ”پاکستان اسلامک فرنٹ“ کے پلیٹ فارم سے سیاست کر رہی تھی، لیکن یہ معاملہ اُن سردار جی کی طرح تھا جو کتنے ہی بھیس بدل کر دکان پر الماری خریدنے گئے مگر دکان دار نے ہر بار یہ کہہ کر مایوس لوٹا دیا کہ ہم سرداروں کو سامان نہیں بیچتے، آخرکار عقدہ کُھلا کہ سردار جی فریج کی دکان پر الماری طلب فرما رہے تھے۔ بہ ہر حال اس نعرے کے ذریعے ظالموں سے بڑی شرافت کے ساتھ پوچھا گیا تھا، ظالمو! قاضی صاحب آرہے ہیں، آپ کو ناگوارِ خاطر نہ ہو تو آجائیں۔ اتنی سی بات کا بتنگڑ بنادیا گیا۔

٭  تبدیلی کا نشان عمران خان

اس نعرے سے اکثر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں کہ عمران خان صرف نظام میں تبدیلی کا نشان ہےں، حالاں کہ وہ ایک سوالیہ نشان بھی ہیں کہ جانے اب کس معاملے پر دھرنا دیں گے؟ وہ یوٹرن کا نشان بھی ہیں، کچھ نظریں انھیں ڈھونڈ کر کہتی ہیں جانے والے ترے قدموں کے نشاں باقی ہیں، کیوں کہ وہ جہاں بھی گئے ”نشاں“ چھوڑ آئے، چناں چہ انھیں نشانیوں کا نشان بھی کہنا چاہیے۔ اس غلط فہمی کی بنیاد پر بھی طعنہ زنی نہیں کرنی چاہیے کہ اس نعرے میں نظام میں تبدیلی کی بات کی گئی ہے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوان تک، جمائما سے ریحام خان تک، پرویزمشرف کی حمایت سے مخالفت کے اعلان تک عمران خان کی تبدیلیوں نے انھیں تبدیلی کا نشان ہی تو بنادیا ہے۔

٭  جرات و بہادری طاہر القادری

نہیں نہیںیہاں پاکستان عوامی تحریک کے کارکن اپنے قائد کے جرات مند اور بہادر ہونے کا دعویٰ نہیں کر رہے۔ وہ تو اپنے قائد کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے گذارش کر رہے ہیں کہ حضرت شیخ الاسلام! جرات وبہادری کا مظاہرہ کیجیے، کینیڈا چھوڑ کر پاکستان آجائیے پھر اپنی سیاست کے رنگ جمائیے۔ حضور! آپ نہیں آرہے تو انقلاب کیسے آئے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: