تشکیلِ جدید ازدواجیات – عصری مسائل و مباحث — عثمان سہیل

0
  • 68
    Shares

“دانش” سے تعلق جڑنے کے سبب بندہ فقیر بھی دانشوری کی اُس علت میں مبتلا ہوا ہے کہ جس کا معلول شب و روز فکر ہائے گوناگوں ہے۔ گذشتہ شب اسی مشغلہ میں محو تھا کہ معاً خیال آیا مرد و زن کا باہمی رشتہ ہمیشہ سے اہل دانش و ادب کی توجہ نیز خامہ فرسائیوں و لب کشائیوں کا موضوع رہا ہے۔ اردو ادب ایسے میں کیونکر پیچھے رہتا۔ سنجیدہ ادب میں عورت کی مظلومیت اور مزاحیہ ادب میں مرد کی مظلومیت سے بالترتیب روتے اور ہنستے ہوئے آنسو نکل آتے ہیں۔ یہ بات آج تک میری سمجھ میں آئی نہی اور کسی نے سمجھائی بھی نہی کہ میاں بیوی کو ایک ہی گاڑی کے دو پہیے آخر کیوں قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ امتداد زمانہ کے باعث دو پہیوں والی بیل گاڑی و گدھا گاڑی کی جگہ علی الترتیب ٹریکٹر ٹرالی اور پک اپ ٹرک لے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں مؤخر الذکر مکینیکل ٹرانسپورٹ میں دو نہی بلکہ چار پہیے ہوتے ہیں۔ ازبسکہ یہ مثال دور (مابعد) جدید کی پیچیدہ صورتحال میں غیر منطقی اور غیر سائنسی ہے۔ سو یہ غیر معمولی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس معاملہ کا عصر حاضر کے پیچیدہ تہذیبی، سماجی و معاشرتی تعاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ٹھوس علمی بنیاد پر از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اس کج مج بیاں کے لیے یہ امر بھی باعث استعجاب ہوا کہ پریس و بعید نما (ٹیلے ویژن) اور انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا اور آن لائن ویب سائٹس پردانشوران عصر کا گروہ جو کہ گونا گوں مسائل ہائے گفتنی و ناگفتنی پر دن رات ایک کیے ہوئے، ہمہ دم جتے رہتے ہیں کی خورد بینی نظریں اس اہم معاملہ پر کیوں نہ پڑیں۔ انہوں نے پبلک کو اندیشہ ہائے دور دراز سے دوچار کیوں نہ کیا۔ چار و ناچار اس فقیر کو ازخود نوٹس لیکر یہ معاملہ سپرد کلیدی تختہ (کی بورڈ) کرنا پڑا۔

معزز خواتین و مسکین حضرات اگر مثال دینا ہی ٹھہر گیا تو کیوں نہ البیلی، مستانی اور رومان پرور سواری موٹر سائکل کی مثال دی جائے جس میں شادی شدہ جوڑے کی طرح دو پہیے ہوتے ہیں۔ اس کی رفتار اگرچہ پچھلے پہیہ کی مرہون منت ہوتی ہے پر سمت کا تعین اگلا پہیہ کرتا ہے۔ تاہم اس نو تشکیل شدہ مثال میں ایک پیچیدگی ہے۔ مرد و زن میں سے علی الترتیب اگلا پہیہ کون ہے اور پچھلا کسے قرار دیا جائے؟ سماج میں پائے جانے والے انتہا پسندانہ رویوں کے باعث خدشہ ہے مردانہ غلبہ اور حقوق نسواں، ہر دو کے علمبرداروں میں اگلے اور پچھلے پہیے کا تعین ایک نئے تنازعہ کو جنم دے سکتا ہے۔ متعلقہ پہیوں کے تعین کے اس سنجیدہ و پیچیدہ مسئلہ پر گفتگو کرتے وقت وطن عزیز میں ایسے سنجیدہ فورمز کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جہاں مختلف فریقین اپنے دعاوی پیش کرکے آزادی کیساتھ استدلال کرسکیں۔

اس فقیر کی رائے، جو وہ نہ پوچھے جانے پر بھی پیش کرنے پر اصرار کرتا ہے، یہ ہے کہ اس ٹنٹے پر کوئی بھئی رائے قائم کرنے سے پہلے چند امور طے کر لینا ضروری ہے۔ اول یہ طے کیا جائے کہ اس مسئلہ کا جائزہ کس نوعیت کے علمیاتی تناظر میں لیا جائے۔ یعنی کیا مذہبی تناظر میں جائزہ لیا جائے گا یا فلسفیانہ تناظر میں۔ دوم ہماری تہذیب میں اس کی سماجی و نفسیاتی جہتیں کیا ہیں۔ فقیرانہ رائے میں اس مسئلہ کا جائزہ کسی بھی تناظر میں ہو ہمیں اس پر استدلال کرتے وقت فرسودہ روایات کو ترک کرتے ہوئے عصر کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اسی طرح سے اس کے کسی ممکنہ تعین کا عملی اطلاق ممکن ہو سکے گے۔

About Author

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: