محرم اور شیعہ سنی اختلاف: خورشید ندیم

0
  • 2
    Shares

مسلم تہذیب کے خاتمے کے لیے،انگریز سامراج کی تمام تر کاوشوں ناکام ثابت ہوئیں۔ مسلم تہذیب نے قیامِ پاکستان کی صورت میں پورے آب و تاب کے ساتھ ایک بار ظہور کیا۔ سو سال کی ہمہ جہتی کوششیں بھی اگر اس کے وجود کو مٹا نہ سکیں تو اس کے کچھ اسباب تھے۔ سب سے بڑا سبب، چند عظیم الشان شخصیات کا ظہور تھا جنہوں نے زندگی کو ایک ارفع مقام سے دیکھا اوراجتماعی مقاصد کے لیے خود کو کم تر خواہشات اور تعصبات سے بلند کرلیا۔ سرسید سے قائد اعظم تک، کچھ نام ایسے ہیں جنہیں سب جانتے ہیں۔ کچھ نام اور بھی ہیں جو یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو یاد کیاجائے اورنئی نسلوں کو ان سے متعارف کرایا جائے۔ ان میں سے ایک نام سید امیر علی کا ہے۔

سید امیر علی کی علمی وجاہت اور ملی خدمات مسلمہ ہیں۔ان کی کتاب روح ِ اسلام (Spirit of Islam) کلاسکس میں شمارہوتی ہے۔ یہا ں ایک خاص پہلو سے ان کا ذکر مطلوب ہے۔ اُن کے ساتھ سر آغا خان کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جو واقعہ میں بیان کرنے چلا ہوں، دونوں اس کے اہم کردار ہیں۔ سید امیر علی مسلکاً شیعہ تھے۔ آغا خان بھی، معلوم ہے کہ شیعہ تھے۔ اس واقعہ کا تعلق تحریکِ خلافت کے دنوں سے ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کو خطرات لاحق ہوئے تو برصغیر کے مسلمان اس کے دفاع میں نکل پڑے۔ ترکوں کی جانی اورمالی قربانی کے لیے مسلمانوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ یہاں جنون عروج پر تھا اور وہاں خود ترکوں نے اقبال کے الفاظ میں خلافت کی قباچاک کردی۔

ہندوستان کے مسلمانوں کو بہت دکھ ہوا۔ ان کی طرف سے ایک بہت مدلل خط، انتہائی ادب کے ساتھ ترک راہنما عصمت پاشا کے نام لکھا گیا۔ اس خط میں پر زور استدلال پیش کیا گیا کہ خلافت کا وجود مسلمانوں کے لیے کیوں ضروری ہے؟ یہ خط لکھنے والے سید امیر علی اور سر آغا خان تھے۔ اس واقعے کی اہمیت سمجھنے کے لیے بطور پس منظر یہ جاننا ضروری ہے کہ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں اصلاً جس بات پر اختلاف ہے، وہ یہی خلافت کا مسئلہ ہے۔ اہل سنت نبوت کے بعد خلافت کے قائل ہیں جو ایک جمہوری ادارہ ہے اور اہلِ تشیع امامت کو مانتے ہیں جو مامور من اﷲ ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہاں دو شیعہ راہنما، سنی مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے خلافت کا مقدمہ پیش کررہے ہیں۔ سید امیر علی انجمن ہلالِ احمر میں بھی بہت سرگرم تھے اور ان کی وساطت سے ترکوں کو چندہ بھیجا جاتا تھا۔

جب یہ خط پہنچا تو ترک راہنما عصمت پاشا نے ان دونوں حضرات کو ڈانٹا اور کہا: تم تو شیعہ ہو؟ تم سنیوں کی ترجمانی کیسے کر سکتے ہو؟ سید صاحب کو اس کا بہت رنج ہوا۔ انہوں نے مدتوں لندن میں بیٹھ کر ترکوں کے خلاف جاری پروپیگنڈے کا جواب دیا تھا۔ جب انہیں اس توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا تو یہ فطری تھا کہ انہیں افسوس ہوتا۔ تاہم وہ اس پر خوشی کا اظہار کرتے تھے کہ مجھے سنی بھائیوں کا مقدمہ پیش کرنے پر یہ ڈانٹ سننا پڑی۔ یہی نہیں، یہ سید امیر علی جب ’’تاریخِ اسلام‘‘ لکھنے بیٹھے تو سیدنا عمر فاروقؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے کسی بخل سے کام نہیں لیا۔

واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اسی وجہ سے ممکن ہوسکا کہ مسلم شناخت کا علم ان لوگوں نے اُٹھایا جو بلند تر مقصد کے لیے اپنے تعصبات سے بلند ہو سکتے تھے۔

محرم کے دن پاکستان میں تشویشناک ہوتے ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور ہر لمحے کسی حادثے کا اندیشہ رہتا ہے۔ انتہا پسندی کا جائزہ بتاتا ہے کہ فرقہ واریت دہشت گردی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اپنی مسلکی اور فرقہ وارانہ شناخت پر اصرار اتنا بڑھ جاتا ہے کہ لوگ دوسروں کا خون مباح سمجھ لیتے ہیں۔ معاشرہ اس کی قیمت فساد اور خوف کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ صدیوں کے اختلافات جوں کے توں باقی رہتے ہیں۔ انہیں مجادلے یا مناظرے سے حل نہیں کیا جا سکا۔

برصغیر کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب مسلمان ان تعصبات سے بلند ہوئے تو انہوں بڑے مقاصد حاصل کیے۔ جیسے پاکستان۔ یہ واقعہ ہے کہ تقسیم کے مسئلے پر لوگ منقسم ہوئے تو ایک سے زیادہ سیاسی آرا سامنے آئیں، تاہم اس عمل میں کسی نے دوسرے پر فرقہ واریت کا الزام لگایا نہ اسے استعمال کیا۔

آج ضرورت ہے کہ اس جذبے کو زندہ کیا جائے۔ شیعہ سنی اختلاف تاریخ کے باب میں ہے۔ میرا تجزیہ یہی ہے کہ ابتداًیہ ایک سیاسی اختلاف تھا جس نے بعد کے ادوار میں مذہبی استدلال اختیار کیا اور شیعہ سنی دو مذہبی گروہ کے طور پر سامنے آئے۔ در اصل یہ دو سیاسی جماعتیں تھیں۔ مسلمانوں کے تمام ابتدائی اختلافات سیاسی تھے جنہیں بعد میں مذہبی رنگ دے دیا گیا۔سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کااستعمال ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم اگر کوئی چاہے تو اس تجزیے سے اختلاف کر سکتا ہے لیکن اس امرِ واقعہ سے اختلاف محال ہے کہ یہ اختلاف کسی ایسے نظام کے قیام میں مانع نہیں ہے جو آج کے دورمیں منفعتِ عامہ اور انصاف پر مبنی ہو۔ اہلِ تشیع کے ہاں تو عدل اصولِ دین میں شامل ہے۔ سنیوں کے ہاں بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج بھی بڑی سیاسی جماعتوں میں سنی شیعہ مل کر ایک سیاسی مؤقف پر متفق ہو جاتے ہیں۔

جو اسباب شیعہ سنی اختلاف کو فساد میں بدلتے ہیں، ان میں سے ایک بڑا سبب مذہبی اور مسلکی تشخص کے ساتھ سیاسی جماعتوں کا قیام ہے۔ جب دیوبندی، بریلوی یا شیعہ اپنے مذہبی تشخص کی بنیاد پر سیاسی تنظیم اختیار کرتے ہیں تو یہ اقدام قوم کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کردیتا ہے۔ اگر قوم اس پر اتفاق کرے تو مذہبی یا فرقہ وارانہ تشخص کی بنیاد پر سیاسی جماعت کے قیام پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اگر کوئی اپنے مسلکی گروہ کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے سماجی تنظیم بنائی جا سکتی ہے لیکن سیاسی جماعت ہمیشہ کسی سیاسی ایجنڈے ہی پر بننی چاہیے۔سیاسی ایجنڈے کا تعلق ہمیشہ منفعتِ عامہ سے ہوتا ہے۔ جو شیعہ یا سنی سیاسی امور میں دلچسپی رکھتا ہے اسے چاہیے کہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائے، جیسے تحریکِ پاکستان کے دنوں میں ہوا۔
پاکستان کے مذہبی راہنما ؤں کو اس محرم میں اس نکتے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ تاریخ کے باب میں پیدا ہونے والا ایک اختلاف اگر ہمارے آج کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے تو یہ قیادت کی بے بصیرتی کی دلیل ہوگی۔

پاکستان کو آج بھی سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قائداعظم، سید امیر علی اور مولانا شبیر احمد عثمانی جیسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ آج مذہب و سیاست کے میدانوں میں قائداعظم اور شبیر احمد عثمانی کی مسند خالی ہے۔ سیاست پھر بھی غنیمت ہے کہ ہمارے سیاسی راہنما فرقہ واریت سے بلند تر ہیں۔ کاش ہماری مذہبی قیادت بھی اس بار ے میں متنبہ ہو۔ان کو چاہیے کہ و ہ اپنے حلقے کے لوگوں کو قومی سیاسی جماعتوں میں شامل ہو نے کا مشورہ دیں۔ مسکی سیاسی جماعتیں سب کے لیے نقصان دہ ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: