عورت کا مسئلہ: نئی معاشرتی ڈیفنس لائن — آصف اکبر

5
  • 2
    Shares

انسانی معاشرہ روائتی طور پر دفاعی معاشرہ رہا ہے۔ خطرناک اور نقصان دہ درندوں اور جانوروں سے بچنے کے لیے غاروں میں رہائش اختیار کی گئی، اور پھر مکان بنائے گئے۔ جب انسان گروہوں کی شکل میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے لگے تو دفاعی ضروریات بدل گئیں۔ حملہ آور بنیادی طور پر تو اشیائے ضرورت مفت حاصل کرنے کے لیے آتے تھے، اور اشیائے ضرورت میں بنیادی طور پر اناج، مویشی، کھالیں وغیرہ شامل تھیں مگر جن پر حملہ ہوتا تھا وہ مزاحمت بھی کرتے تھے اور جوابی حملے بھی۔ اس لیے اشیائے ضرورت میں ہتھیاروں کا بھی اضافہ ہو گیا۔

آصف اکبر

دوسری طرف جوابی حملوں کا امکان کم کرنے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی گئی کہ ہارنے والوں کو قتل کر دیا جائے، اور اگر وہ فرار ہو گئے ہوں تو ان کی آبادی کو جلا دیا جائے، ان کی کھیتیوں کو اجاڑ دیا جائے اور ان کے پانی کی فراہمی روکی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حملہ آوروں نے یہ محسوس کیا کہ قتل کرنا وسائل کا زیاں ہے۔ مفتوحہ گروہ کے لوگوں کو غلام بنا کر اپنے کام آسان کیے جا سکتے ہیں، اس لیے جن لوگوں سے بغاوت کا اندیشہ کم ہوتا تھا اور ان سے مشّقت لی جا سکتی تھی، ان کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ناکارہ لوگوں کو جن میں ضعیف، معذور، بیمار اور عمر رسیدہ شامل ہوتے تھے، یا تو مار دیا جاتا تھا، یا اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

اس صورتحال میں دفاعی ضروریات بدل گئیں۔ آبادیوں کو اس انداز سے بنایا گیا کہ حملہ کرنا آسان نہ رہے۔ مضبوط دیواریں، قلعہ بندیاں، نگرانی کا نظام، اجنبیوں سے گریز، فاصلےسے دفاع میں کام آنے والے ہتھیار تیر، نیزے، منجنیق اور پھر بارودی ہتھیار۔

یہی دفاعی سوچ معاشرے کے ہر پہلو میں سرایت کر گئی۔ نئی چیزوں سے اجتناب، ہر نئی بات کو شک کی نظر سے دیکھنا، رسوم و روایات کا اور تہذیب کا دفاع، بولی کا دفاع، دھرم کا دفاع۔ کوئی نئی چیز نہ دیکھو، نہ سنو نہ پڑھو نہ کرو۔ اسی دفاعی سوچ کا اطلاق انسانوں پر بھی کیا گیا۔ جس فرد سے یہ اندیشہ ہو کہ وہ گروہ کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچا سکتا ہے اس کو کسی بھی طرح سے روکنا۔ اظہار خیال پر پابندی، جسمانی سزائیں، قید و بند، معذور کر دینا، قتل کر دینا یا جلا وطن کر دینا؛ اس کے مال و متاع کو ضائع کر دینا یا ضبط کر لینا، جبری مشقت لینا، یہ وہ مختلف طریقے تھے جن سے عملی اور فکری اختلافات کو دبایا جاتا تھا۔

اس دفاعی سوچ سے بُنے ہوئے معاشرے میں عورت ہمیشہ ایک مسئلہ رہی۔ نوعِ انسانی دوسرے تمام جانداروں کی طرح، مگر ان سے کہیں بڑھ کر جنسی طور پر فعّال ہے اور جنسی عمل اس کی جبلّت میں نمایاں ہے۔ ہر بالغ اور صحتمند مرد کی خواہش اور بڑی حد تک کوشش ہوتی ہے کہ اس کو قربت کے لیے صحتمند، خوبصورت اور جوان عورت ملے۔ یہی خواہش جبلّی طور پر عورت کی بھی ہوتی ہے، اسے بھی صحتمند، خوبصورت جوان مرد کی خواہش ہوتی ہے، اور ساتھ ہی بہادری جیسی کچھ اضافی خوبیاں بھی۔ مگر انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک پہلو اور بھی ہے جو دوسرے جانداروں کے ساتھ یا تو نہیں ہے یا کم ہے۔ یہ پہلو ہے نسب کے خالص ہونے کا۔ مرد فطری طور پر یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ اس کی عورت کوئی ایسا بچہ پیدا کرے اور پالے جو اس کی اولاد نہ ہو کسی اور کی ہو۔ انسانوں میں عورت کو تو یہ شک نہیں ہوتا کہ جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ اس کا نہیں، کیونکہ وہ تو اسی کے پیٹ سے آتا ہے مگر مرد کو ہمیشہ اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کی عورت کسی اور کے بچّے کی ماں نہ بن جائے۔

اس فطرت اور دفاعی سوچ پر مبنی معاشرتی ڈھانچے نے اس معاملے کو بھی ایک دفاعی مسئلہ بنا دیا، جس کا حل یہی تھا کہ جیسے بستیوں کی حفاظت کی جاتی ہے ویسے ہی عورتوں کی حفاظت کی جائے۔ چونکہ انسان مال مویشی ہمیشہ سے پالتا آیا ہے اس لیے مردکے لیے آسان تھا کہ عورت کو بھی ایک مویشی کی حیثیت دے دی جائے۔ اس کے نتیجے میں جو طریقہء کار اپنایا گیا وہ کچھ یوں تھا۔

  1. قید میں رکھنا۔ ایسے مکانات میں رکھنا جہاں باہر سے کوئی نہ آ سکے۔
  2. ہر وقت نگرانی کرنا۔
  3. مردوں سے میل جول محدودتر کرنا
  4. عورت کو مشقت کے کاموں کے لیے، جیسے پانی لانا، چارہ لانا، کھیتوں میں کام کرنا، وغیرہ گھر سے باہر بھیجنا چونکہ مجبوری تھی اس لیے ان کو گروہ کی شکل میں باہر بھیجنا۔
  5. ہر عورت پر شک کرنا
  6. جس عورت کے بارے میں کوئی بات سننے میں آئے خواہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو، بلا تحقیق اس پر یقین کر لینا اور نتیجے کے طور پر عورت پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کرنا۔
  7. شاہی محلوں/حرم وغیرہ میں عورتوں سے متعلق کام کرنے کے لیے خواجہ سراؤں کو متعین کرنا۔

عورت کو ناقص العقل گردانا گیا، اور اس سوچ کو مذہبی تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔ اس بات کو نظر انداز کیا گیا کہ مردوں کو بھی اگر دنیاوی معاملات میں ملوّث نہ کیا جائے تو وہ بھی ناقص العقل ہی نکلتے ہیں۔

ان سب باتوں کے علاوہ، اس کےباوجود کہ ہر انسان کی ماں ایک عورت ہی ہوتی ہے، عورت کی حیثیت کے بارے میں بالعموم معاشرے کے لیے ایک ایسا فکری نظام ترتیب دیا گیا جس میں اسے انسانی مرتبے سے گرا کرمحض ایک آلہ کار سمجھا گیا۔ اس مقصد کے لیے:

  1. عورت کو ناقص العقل گردانا گیا، اور اس سوچ کو مذہبی تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔ حالانکہ نہ صرف جدید دور میں، بلکہ دور قدیم میں بھی بہت سی عورتوں نے خود کو صاحبہ عقل منوایا۔ اس بات کو نظر انداز کیا گیا کہ مردوں کو بھی اگر دنیاوی معاملات میں ملوّث نہ کیا جائے تو وہ بھی ناقص العقل ہی نکلتے ہیں۔
  2. عورت کو کمزور کہا گیا۔ حالانکہ اس کی کمزوری کی وجہ بھی یہی ہے کہ اسے کمزور بنا دیا گیا ہے۔
  3. عورت کو جذباتی کہا گیا۔
  4. عورت کو ناپاک کہا گیا۔
  5. عورت کو بنیادی طور پر گناہ گار سمجھا گیا۔
  6. 6عورت کو گناہ کا سبب بتایا گیا۔
  7. عورت پر مرد کو جنت سے نکلوانے کی ذمہ داری ڈالی گئی۔
  8. عورت کو تعلیم سے محروم رکھا گیا۔
  9. عورت کو تفریح سے محروم رکھا گیا۔
  10. اکثر معاشروں میں عورت کو جائیداد سے محروم رکھا گیا۔
  11. عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کا حق نہیں دیا گیا۔
  12. طلاق/خلع کا حق عورت کے لیے ممنوع رکھا گیا۔
  13. جس عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کی جائے اسے یا تو مار دیا گیا یا بے عزت سمجھا گیا۔
  14. کھانے پینے، کپڑے وغیرہ جیسے معاملات میں عورت کو ثانوی حیثیت دی گئی۔
  15. علاج معالجے میں عورت کو نظر انداز کیا گیا۔
  16. جسمانی قربت کو صرف مرد کی خواہش پر مشروط کیا گیا۔ یہ بتایا گیا کہ نیک اور شریف عورتوں کے لیے مرد کی قربت کی خواہش کرنا بہت بری بات ہے۔ لیکن جب مرد ان کو طکب کرے تو وہ خود کو بلا چون و چرا پیش کر دیں۔
  17. کسی عورت کو پکڑ کر لے آنا، کسی کی گائے پکڑ کر لے آنے جیسا فعل ٹھہرا۔
  18. جنسی عمل سے اجتناب دیوتاؤں، آسمانی طاقت یا طاقتوں یا معبودوں کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ٹھہرا۔ عیسائی راہب/پادری ہو، ہندو سادھو/پجاری ہو یا بدھ، سب نے دھرم سے قربت کے لیے عورت اور نتیجے میں گھربار کو چھوڑنا لازم جانا۔ عیسائیت نے تو شوہر اور بیوی کے لیے بھی جنسی عمل سے لطف اندوز ہونے کو گناہ ٹھہرایا۔

یہ سب اس لیے تاکہ مرد عورت کو غلام کی حیثیت سے اپنے قبضے میں رکھ سکے اور معاشرہ اس کے کسی بھی اقدام پر روک ٹوک نہ کرے۔ اس کے مقابلے میں مرد نے اپنے لیے اپنی خواہشات پوری کرنے کے سارے راستے کھلے رکھے۔ متعدد عورتوں سے نکاح کے علاوہ بھی دولت اور طاقت کے بل بوتے پرداشتاؤں، کنیزوں، گھریلو ملازماؤں، پیشہ ور عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہر دور میں روا رہا ہے۔ پھر کسی بستی پر حملہ آور ہونے کی صورت میں فاتح مفتوح قوم کی عورتوں کے ساتھ اپنی جسمانی خواہشات بے دریغ پوری کرتے تھے۔ زمینداروں اور راجاؤں کے لیے ان کی رعایا کی ہر عورت ان کی جاگیر ہوتی تھی۔ جہاں موقع ملتا ہے وہاں طاقت کے زور پر عورت کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ آج بھی امریکہ جیسی جدید ریاست میں ہر چھ میں سے ایک عورت کے ساتھ جبری تعلق قائم کیا جاتا ہے، جس میں سزا ہزار میں سے ایک آدھ کو ہی ملتی ہے۔ ایک عام مرد کے لیے جو بھی عورت مل جائے اس سے لطف اندوز ہونا معاشرے کی ریت ٹھہرا۔

اس پر طرّہ یہ کہ بالعموم مردوں کے بارے میں یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ وہ بدکار ہیں، سماجی طور پر ان کو عزت ملتی رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت اپنی ضرورت کے تحت بھی گھر سے نکلے تو یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ آسانی سے پھسل جائے گی، اس لیے گھر سے باہر نکلنے والی عورتوں کو کم حیثیت دی گئی۔

گزشتہ دس ہزار سال سے یہ دفاعی نظام کسی حد تک کام دیتا رہا ہے۔ مگر گزشتہ صدی کے آخر میں ٹیکنالوجی نے اس دفاعی قلعے کو یکسر مسمار کر دیا۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے۔

  1. عورتیں بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی جانا ہوتا ہے۔
  2. عورتوں کی ایک بڑی تعداد ملازمت کر رہی ہے۔
  3. کتابوں، رسالوں، گانوں/شاعری، فلموں اور ڈراموں کے ذریعے عورتوں کے جذبات کو انگیخت ہونے کے مواقع میسر ہیں۔
  4. انٹرنیٹ کے ذریعے گھریلو عورتوں کو بھی عریاں چیزیں مہیا ہو گئی ہیں۔
  5. موبایل فون اور چیٹنگ کی سہولت کی وجہ سے عورتیں/لڑکیاں کسی کی نظر میں آئے بغیر کسی بھی مرد سے رابطہ کر سکتی ہیں۔
  6.  منع حمل طریقوں کو استعمال کر نے سے عورت کی روائتی پریشانی بھی دور ہو گئی ہے۔
  7. پہلے شادیاں جوان ہوتے ہی کر دی جاتی تھیں۔ اب مردوں کی شادیاں 25 سے 30 سال کی عمر میں اور لڑکیوں کی شادیاں 20 سے 25 سال کی عمر میں ہو رہی ہیں۔ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غیر شادی شادہ بھی بیٹھی رہ جاتی ہے۔ پھر کچھ عورتیں بیوہ بھی ہو جاتی ہیں۔
  8. طلاق کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔
  9. مردوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے باہر کام کرتی ہے، اور سال میں ایک ماہ کے لیے ہی گھر آتی ہے، جبکہ ان کی بیویاں پاکستان میں ہی رہتی ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے شہروں سے دور ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں اور اکثر گھر سے دور رہتے ہیں۔

بد قسمتی سے گناہ کاخوف اور اس سے اجتناب کی روایت کسی بھی دور میں زیادہ موثر نہیں رہی۔ اس لیے یہ سوچنا محض خوش فہمی ہو گی کہ خدا کا خوف دلا کر لوگوں کو اپنی خواہشات پوری کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس نئی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمتِ عملی وضع کرنی ہو گی۔

  1. عورت کو مضبوط بنانا ہو گا۔ اس کو اتنا مضبوط بنانا ہوگا کہ وہ اپنا دفاع خود کر سکے۔ جسمانی طور پر بھی اور فکری طور پر بھی۔
  2. عورت کو مرد کے برابر کا انسان سمجھنا ہوگا۔ تمام ایسی روایتیں اور قوانین بدلنے ہوں گے جو عورت کو مرد سے کمتر سمجھتے ہیں۔ واضح رہے کہ وراثت میں آدھا حصّہ یا آدھی گواہی کوئی کمتری کی بات نہیں۔ یہ ایسے ہی جیسے پنشن کسی کو کم کسی کو زیادہ ملتی ہے۔ یا سیکیورٹی کونسل میں کسی ممبر کو ویٹو کا حق ہے اور کسی کو نہیں۔
  3. عورت کے حقوق یا آزادی کے نام پر دنگا کرنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا۔ اور اس نامناسب طرزِ عمل کو مذہبی لبادہ پہنانے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ عورت کو وہ سارے حقوق دینے ہوں گے جو مرد کو حاصل ہیں۔
  4. عورت کو معاشی طور پر مضبوط بنا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں عورت معاشی کمزووری کی وجہ سے معاشرتی طور پر کمزور پڑ جاتی ہے۔ اکثر ایک بہتر مستقبل کی امید میں وہ دھکا کھا جاتی ہے۔
  5. شادی اور طلاق/خلع کے معاملات میں ہمیں عورت کو آزادی دینی ہو گی۔
  6. عورت کی عزّت نفس کو بے انتہا مضبوط بنا کر ہی ہم اسے بے راہ ہونے سے روک سکتے ہیں۔ اس کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ کھلونا نہیں۔
  7. شادی کو آسان بنانا ہو گا۔ اگر ایک نوجوان 16 سال کی عمر میں شادی کرنا چاہے تو اسے یہ اجازت ہونی چاہیے۔ ضروری نہیں کہ وہ شادی کے بعد بیوی کو رخصت کر کے اپنے گھر لے آئے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہ کر تعلیم حاصل کرتا رہے اور اس کی بیوی اپنے ماں باپ کے ساتھ رہے۔ دونوں میں سے کسی پر بھی ایک دوسرے کی مالی ذمہ داری نہ ہو۔ ہاں اس دوران وہ ایک دوسرے سے جب چاہیں آزادانہ ملتے رہیں۔ بہتر ہے کہ اس مرحلے پر اولاد پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔
  8. طلاق بری چیز ہے مگر ہم کو طلاق یافتہ مردوں اور عورتوں کو قبول کرنا ہوگا، اور ان کے لیے دوبارہ گھر بسانا آسان بنانا ہوگا۔ یہی چیز بیواؤں کے لیے بھی کرنی ہو گی۔ اسی طرح طلاق کو آسان بنانا ہوگا۔ بجائے اس کے کہ کسی عورت کو ایک ناپسندیدہ مرد کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جائے، اسے الگ ہونے کی اجازت دینی ہو گی۔
  9. جن مردوں کے پاس گنجائش ہو ان کے لیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو رواج دینا ہوگا۔

اس ضمن میں ہم دور جاہلیت اور ابتدائی اسلامی دور کے عرب معاشرے کو دیکھیں تو ہم کو اندازہ ہوگا کہ ان کا معاشرتی ڈھانچا بہت لوچدار تھا۔

  1. اس معاشرے میں عورت کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتی تھی-
  2. جہیز جیسی لعنت کی جگہ مہر جیسی خوبصورت چیز تھی۔ مہر ایک بڑی رقم ہوتی تھی، جس کی ادائیگی مرد پر بوجھ ہوتی تھی، اس وجہ سے جو شخص ایک بڑی رقم ادا کر کے کسی عورت کو بیوی بناتا تھا وہ طلاق دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، تاقتیکہ وہ بہت دولت مند نہ ہو۔
  3. کسی عورت کو طلاق ہو جاتی تھی یا وہ بیوہ ہو جاتی تھی تو عدت پوری کرتے ہی عام طور پر اس کے لیے پیغام آجاتا تھا۔
  4. عورت کی حیثیت مرد کے برابر ہی ہوتی تھی۔

اگر آج سے 1500 سال پہلے کے جاہلی معاشرے میں یہ سماجی نظام بڑی کامیابی سے چل سکتا تھا، جسے اسلام نے بھی برقرار رکھا، تو اس کو ہم آج اپنی ضروریات کے مطابق کیوں اختیا ر نہیں کر سکتے۔

یاد رکھیے کہ’’ ہمیں اپنے معاشرے کو ایک جنسی معاشرہ ہونے سے بچانا ہو گا‘‘ جیسی نعرے بازی نہ ماضی میں کبھی کام آئی ہے نہ اب آ سکتی ہے۔ تبدیلی کو کبھی بھی کوئی نہیں روک سکا۔ ہمارے بزرگوں نے انگریزی تعلیم و تہذیب کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر کچھ نہ کر سکے۔ عورت کی تعلیم کو روکنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا مگر تبدیلی کی لہر روکنا دیوانے کا خواب ہی ہوتا ہے۔ مناسب یہی ہے کہ خود کو بدلتے ہوئے حالات کے لیے تیّار کیا جائے۔

Leave a Reply

5 تبصرے

  1. …..لفظ لفظ حقیقت۔ ہمیں عورت کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔ خاص کر شادی جیسے معاملات میں ہمیں ازسرِ نو بہت سی چیزوں کو دوبارہ دیکھنا ہوگا۔ اسے آسان کرنا اور دونوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

    • فظ لفظ حقیقت۔ محترم آصف صاحب نے بالکل درست فرمایا۔ ہمیں عورت کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔ خاص کر شادی جیسے معاملات میں ہمیں ازسرِ نو بہت سی چیزوں کو دوبارہ دیکھنا ہوگا۔ اسے آسان کرنا اور دونوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔جو معاشرہ کسی جانور کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا اسے بھی ہم کامیاب معاشرہ نہیں کہہ سکتے یہاں تو پھر عورت کی بات ہے ایک جیتے جاگتے انسان کا زکر ہے۔

  2. دنیا بنی تو یہ ہی چل رہا ۔۔۔ اور چلتا رہے گا ۔۔۔ہر مکتب فکر اپنی سوچ کو لاگو کرنا چاہتا ہے ۔۔۔دین کی تشریح اپنی تشریح سے مکس کر دی جاتی ۔۔۔۔
    پردہ بنا تھا کہ ایسا لباس و اوڑھنی جس سے جنسی کشش کم س کم محسوس ہو ملا نے سانس بھی لینا بند کردیا ۔۔۔۔اسی طرح پنڈت ۔۔پادری ۔۔۔ربی ہر کسی نے عورت کو شیطان کااسسٹنٹ ہی قرار دیا
    قریش و ابتد اء اسلام میں خواتین رشتہ بھیج سکتیں تھیں اب ہمارے یاں بھجیں نا😢
    اس لیئے دین ۔۔۔مذہب پے کوئ نہیں چلتا بلکہ اکثر مذہبی پیشوا بھی ثقافت ۔رواج کو ہی عورت کے بارے دینی احکام بنا دیتے

Leave A Reply

%d bloggers like this: