محبت فاتح عالم: مبارک انجم

0
  • 26
    Shares

ایک دوست سے ملا،بہت افسردہ سا لگ رہا تھا، بال بکھرے ہوے، لباس سلوٹوِں بھرا، ٹھیلے پر کھڑا دال چاول کھا رہا تھاـ مجھے یہ سب دیکھ کہ کچھ حیرت ہوئی کہ وہ تو ٹھیک ٹھاک بندہ ہے، اچھا کماتا بھی ہے، خدا خیر کرے اس حالت میں کیوں ہے؟ دعا سلام ہوئی، احوال پوچھا تو بولا، رک بتاتا ہوں، ٹھیلے والے سے فارغ ہوا اور مجھے کہا کہ چل چائے پیتے ہین، ہم ہوٹل میں بیٹھے تو کہنے لگا “یار دعا کر میری بیگم مر جائے”، بہت عجیب لگا اسکا یہ انداز کہ یہ تو بڑا ہنس مکھ اور سب کے کام آنے والا بندہ ہے، جو غیروں کو بھی سلامتی اور زندگی کی دعا دیتا ہے اور اپنی فیملی پہ تو جان چھڑکتا ہے، اسے کیا ہو گیا جو یوں اول فول بکنے لگا ہے؟ سو میں نے اس سے پوچھا خیریت تو ہے کیا ہو گیا ہے؟ تو اپنے دھیمے مزاج کے برخلاف پھٹ ہی پڑا،، کہنے لگا یار دس سال ہوگئے ہیں اس عورت سے ایڈجیسٹ کرتے کرتے، اسکی ہر ضرورت اور ہر جائز خواہش بخوبی پوری کی ہے، پیار کی انتہا کردی ہے، برداشت کی انتہا کردی ہے، مگر یہ عورت سدھر نہیں سکی ـ پھر بولا، انجم کیا تم یقین کروگے کہ میں ایک ایسی عورت کے ساتھ دس سال سے رہ رہا ہوں جو فریج خود نہیں کھولتی بلکہ کسی دوسرے سے یا اب اپنی بیٹی سے کھلواتی ہے کہ کہیں مجھے کرنٹ نہ لگ جائے،، جو بیٹے کو اس لئے مارتی ہے کہ میری بوٹی کیوں کھائی، جو پرانی واشنگ مشین اسلئے یوز کرتی ہے کہ نئی۔میکے والوں نے دی ہوئی ہے وہ خراب نہ ہو، جو بعض اوقات بچے کے فیڈر سے دودھ نکال کر پی جاتی ہے اور بچے کو ڈرا کے سلا دیتی ہے، جو بچوں کو صرف اسلئے سارا دن بھوکا رکھ لیتی ہے کہ راشن سودے میں نمک نہیں آیا، جو بچوں کو ہفتہ بھر میں چار دن بھوکا سکول بہیجتی ہے۔

دنیا میں ایسا کوئی بھی اسکا رشتہ دار نہیں ہے جس سے اسکی لڑائی نہ ہوئی ہو، اور ایسی عورت جس نے کبھی بھی میرا کھانے پہ انتظار نہیں کیا، بچہ چیختا چلاتا رہ جائے اور اسکی چیز چھین کر کھا جائے، اور جس کو کبھی کسی دوسرے کا کوئی احساس نہ ہوتا ہو ـ پھر بولا یار میں اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا کہ اسکا باپ عالم دین تھا،اور سارے بھائی پہلے ہی ہاتھ جوڑ کر اسے اپنے گھر آنے سے منع کر چکے ہیں، اور اسکی ماں مجھے ہاتھ جوڑ کر یہ بول چکی ہیں کہ بس بیٹا کسی بھی طرح اسکے ساتھ گزارہ کر لے کہ یہ ادھر نہ ائے، بچے اس سے اس طرح سھمے رہتے ہیں جیسے وہ کوئی چڑیل ہو اور کھا نہ جائے، یار دل کرتا ہے اسے قتل کر کے بچوں کو اور خود کو بھی آزاد کروا لوں، میں سب سن کر سکتے میں تھا۔۔ـ اور سوچ رہا تھا کہ یہ ہمارا وہ دوست ہے جو شادی سے پہلے اکثر کہا کرتا تھا کہ “شادی ایسی لڑکی سے کرونگاجو معذور ہو، جس سے کوئی شادی نہ کرتاہو، اور وہ جیسی بھی ہوئی میں اسکے ساتھ ایڈجیسٹ کر لونگا” کیونکہ میں دنیا کی کسی بھی عورت سے شادی کر کے ایڈجیسٹ کر سکتا ہوں۔۔۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ تب سچ بول رہا تھا، اور وہ آج بھی سچ ہی بول رہا ہے، اسکی بیوی واقعی انتہائی عجیب ہے ـ پھر وہ کہنے لگا، یار یہ عالمہ بھی ہے اور بی اے بھی، بہت ناشکری، بدزبان، بد اخلاق اور خود پسند قسم کی، جسے صرف اپنی زات سے پیار ہے باقی کسی کا بھی زرا بھر احساس نہیں، دوسرے لفظوں میں۔نسوانیت کی شاندار خوبیوں سے بلکل عاری، اس سےزیادہ اور کیا ہوگا کہ دسمبر کی شدید سردی میں اپنی چار ماہ کی بچی کو ٹینکی کے ٹھنڈے پانی سے نہلا دیا، کیونکہ گیس کی لوڈشیڈنگ تھی، گیزر بند تھا،اور سلنڈر سے پانی گرم کرنا اسے پسند نہیں تھا۔

پھر بولا یار،کیاکیا بتاؤں، کیسے کیسے میری زندگی کو عذاب در عذاب بنا رہی ہے یہ عورت ۔۔۔میں خاموشی اور انہماک سے سنتا رہا اسکی ساری باتیں،، اسے اس کے دل کاسارا غبار نکالنے دیا، جب وہ اچھی طرح سے اپنا حال بیان کر چکا اور ہمدری طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگا تو میں اس سے مخاطب ہوا، سب سے پہلے تو اس کے ساتھ کچھ ہمدردی جتلائی، پھر اسکے حوصلہ اور اسکی سمجھداری کی تعریف کی،، پھر اسے ساتھ لے کر ریس کورس پھولوں کی نمائش دیکھنے کے بہانے لے گیا ـ وہاں کے فرحت بخش ماحول نے اسکی طبیعت کافی بحال کر دی اور ھلکا پھلکا مزاح کرنے لگا،تب میں نے اس سے اسکے کاروبار کے متعلق پوچھا کہ کیسا چل رہا ہے؟ اور دیگر اسکی سوشل ایکٹیوٹیز کیسی چل رہی ہیں ؟؟ اسکے جواب میں اس نے بڑے فخر سے بتایا کہ کاروبار بہت عمدہ چل رہا ہے، ایک اچھی گڈول بن چکی ہے کاروباری حلقہ میں، ہر کوئی اسکےاچھے اخلاق اور اسکی انسان دوستی کی قدر کرتا ہے، لوگ اس پہ اعتماد کرتے ہیں، اور اسی طرح سوشل ورک بھی بہت کامیاب ہے ـ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا، یار انجم جانتے ہو شادی سے پہلے میرا رویہ عام لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا نہیں ہوا کرتا تھا، نہ ہی میں کسی قسم کی سوشل ایکٹیوٹی کاحصہ تھا، لیکن شادی کے تھوڑے عرصہ بعد ہی میرا سب کچھ بدلتا چلا گیا ۔۔۔میری بیگم ہی ایک میری دوست نہ بن سکی جسکامداوا میں میں نے سیکڑوں لوگ دوست بنا لئے،وہ مجھے سپورٹ نہیں کرتی تھی تو باہر میں نے ہزاروں سپوٹڑ بنا لئے، وہ مجھے سکون نہیں دے پاتی تھی تو میں نے سورشل ورک میں سکون تلاش کر لیا اور سیکڑوں مجبور، بےبس اور دکھے ہوئے لوگوں کا مداوا بن کے سکون پانے لگا ـ میں اسکی باتیں بہت توجہ اور سکون ہی سے سن رہا تھا اور اب ساتھ مسکرا بھی رہا تھا، اب جب اس نے بات ختم کی تو میں کچھ مختلف انداز میں اس سے مخاطب ہوا، اور اس سے پوچھا کہ آجکل مطالعہ کتنا کر رہا ہے؟ اسنے جواب دیا کہ نہ ہونے کی حد تک، تو میں نے پھر سے سوال داغا۔۔کہ یہ بتاو سرورکونین حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم اور باقی انبیاء اکرام کے بچپن اور ابتدائی زندگی کے بارے مین کیا جانتے ؟اسنے فوراً ہی میری مرضی کا جواب دے ڈالا کہ” تقریباً تمام ہی انبیاء اکرام علیہ السلام کی ابتدائی زندگیاں بہت سخت اور مشکل حالات میں ہی گزری ہیں،” تب میں نے اس سے کہنا شروع کیا، بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو، الله جل شانہ بے انتہا رحیم و کریم ہونے ساتھ ساتھ انتہائی مدبر و حکیم بھی تو ہے نا۔۔۔اسلئے وہ جب کسی کو اہم بناتا ہے نا اور اس سے کوئی خاص کام لینا ہوتا ہے تو اس کام کی نوعیت کے اعتبار سے ایک خاص ترتیب سے اسکی تربیت بھی فرماتے ھین۔اس لئیے الله کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے، یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں نا کہ “الله زرابھر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا” تمہارے ساتھ بھی بلکل بھی ظلم نہیں کیا۔

تم زرا اپنے کالج دور والی باتوں کو تو سوچو، تم کہا کرتے تھےنا ” مجبور اور معذور لڑکی سے شادی کر کے اسکی خدمت کرونگا” تو زرا تصور کرواگر وہ معزور لڑکی بعین ہی تماری پسند کی ہوتی،اور چلنے پھرنے سے قاصر ہوتی، تو کیا اسی کاساتھ تمہارا سارا وقت نہ گزر جاتا؟ اور اگر سارا وقت اسکو دیتے تو آج تمہارا سارا کاروبار، تمہاری ساری گڈول، تمہارا یہ حلقہ احباب، تمہاری یہ ساری سوشل ایکٹیوٹیزکہاں ہوتیں؟؟ یاد رکھو، الله جل شانہ نیّتوں کا ثواب تو پہلے ہی دے دیتا ہے نا۔۔مگر عمل وہ وہی پسند کرتا ہے، جس میں انسانیت کی فلاح ہو، یہ تم خود بھی مانتے ہو کہ تمہاری زیادہ تر کامیابیو کا محرک تمہاری بیوی ہے، اس کے ان رویوں نے تم میں حوصلہ پیدا کیا، تم میں برداشت پیدا کی، تم میں کمپرومائز کی طاقت پیدا کی، تم کو زمہ دار بنایا،اور سب سے بڑھ کر تمہیں مشکل تریں حالات میں بھی جینے کا طریقہ سکھا دیاـ غور کرو، یہ نعمت خداوندی ہے، کوئی عذاب نہیں ھے، بس تمہا را سوچنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے، تم یوں مت سوچو نا کہ اس عورت کی وجہ سے تم کس کس چیز سے محروم ہوئے، بلکہ یو سوچوکہ اس عورت کی وجہ سے تم نے کیا کیا حاصل کیا، تم جیسے باہر کے معاملات میں ہمیشہ تم مثبت انداز فکر اپناتے ہو، بلکل ایسے ہی گھر میں مچبت انداز فکر اپناؤ، یاد رکھو! ہمیں اچھائی اس لئے نہیں کرنی ہوتی کہ کوئی اچھائی ڈیزرو کرتا ہے، بلکہ اسلئے کرنی ہوتی ہے کہ ہم خود اچھے ہوتے ہیں اور ہمارے اندر سے فقط اچھائی ہی نکلنی لازم ہے، تمہاری بیوی معذور ہے، اسکی بے ڈول شخصیت اور شکل و صورت کا اچھا نہ ہونا، اسکا قصور تو نہیں ہے نا۔۔یہ بھی قسمت کا دیا ہوا ہے، لیکن اسکے معاشرے نے جہاں سارے کشمیری گورے اور خوبصورت ترین لوگ تھے، اسکو شدید احساس کمتری میں مبتلا کر دیا، اوپر سے بچپن سے بدصورتی کے طعنے سن سن کر اسکا چڑچڑا ہو جانا لازم ھے، پھر تمہاری شخصیت،سمجھداری، زہانت اور علم اسے مزید ہی کچوکے لگائے رکھتے ہونگے اور اسکے اپنی کم مائیگی کے احساسات کو مزید بڑھا دیتے ہونگے، ایسے میں تمہارا فرض صرف یہی نہیں ہے کہ، اسے محبت دو یا اسکی ضروریات پوری کردو، بلکہ تمہاری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے، ان سب کے ساتھ ساتھ اس کو اس کے اہم ہونے اور اسکے تم سے بہتر اور تمہارے لئےفائدہ مند ترین ہونے کے احساس دلاو، یاد رکھو،عورت ہمیشہ ہی عظیم تر ہوتی ہے خوا بظاہر کتنے ہی حقیر روپ میں کیوں نہ ظاہر ہو رہی ہو اسکیے اندر کی عورت کو کریدو۔۔اسکی نسوانیت کو جگاو، اور پھرجو بھی نتیجہ نکلے مجھے ضرور بتانا۔۔۔۔

میر ی بات سن کر اسنے صرف اتنا کہا “تھینکس انجم” اور ہم واپس آ گئے، میں نے اسے گھر ڈراپ کر دیاـ آج اس واقعہ کو ایک سال ہو چکاہے آج وہ بہت مطمئن ہے اسکی بیگم خاندان بھر کی پسندیدہ ترین، اوربہت اچھی بیوی ثابت ہوچکی ہے،گھر داری کے ساتھ ساتھ یک چھوٹا سا سکول بھی چلا رہی ہے، جہاں بہت سارے بچے اپنی میڈم کے پرستار ہیں اور میڈم بھی محبتیں نچھاور کرتے نہیں تھکتیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: