مرزا صاحباں : محمد خان قلندر

0
  • 52
    Shares

روایت یہ کہی جاتی ہے کہ صاحباں مرزا جٹ کی ماموں زاد تھی. کھیوا گاؤں کے چوہدری کی بیٹی، پنجاب میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب سے آبیار ہونے والے علاقے کی ہر جٹی لازمی مٹیار ہوتی تھی. صاحباں تو تھی ہی بے مثال، سُتواں ناک ، ہلکا سا مخروطی چہرہ. طولانی قامت، کھلتے گلاب کی رنگت، غزالی آنکھیں، بدن کے نشیب و فراز متناسب، ہر گولائی اور مخروطی اتنی مناسب کہ کہیں نگاہ ٹک نہ سکے۔

قدرت نے حسن سے مالا مال کیا ساتھ بہت نفیس اور محبت کرنے والی شخصیت بھی عطا کی تھی. گاؤں کے نامور موچی خاندان کی عورتیں، سُنہری تلہ کاری سے مزین جوتی، اس کے لئے بنانا اعزاز سمجھتی تھیں۔

اس زمانے میں کپڑے کی بنائی گھریلو کھڈیوں پر ہوا کرتی تھیجسے پارچہ بافی کہتے ہیں. دیگر علاقوں میں یہ کام کرنے والوں کو جولاہا یا پاؤلی کہا جاتا تھا۔

کھیوا کے مشہور پارچہ باف، یا پاؤلی اللہ دین کا پوتا کرم دین عرف کرمو باہمن صاحباں کا محلہ دار اور ہم عمر تھا. اس کے ہاتھ میں قدرتی ہُنر تھا۔

کرمو اور صاحباں اکٹھے کھیلتے کودتے جوان ہو نے کو آئے تو رامو نے جب اپنی پہلی شاہکار پھلکاری ریشم اور کاٹن کے دھاگے ملا کر بنی . ساتھ ہی وہ صاحباں کو بطور تحفہ پیش کی، تو وہ اس پھلکاری کے رنگوں کے امتزاج کو دیکھ کے دنگ رہ گئی. رامو نے پھلکاری صاحباں کو اوڑھا دی تو جوانی کے تار بج اُٹھےـ اچانک پیار کے اظہار کے جلوے بوس کنار تک چھلک گئے۔

اگلے روز میرزا کی کھیوا آمد ہوئی، میرزا تو تھا ہی مردانہ وجاہت کا نمونہ، جب وہ اپنے ماموں کی حویلی میں اپنی مشہور گھوڑی، بکی کی پیٹھ سے اُترا تو صاحباں نے اس کی راس پکڑ کے اسے اتارا، بچپن سے میرزا کا آنا جانا تو تھا، بے تکلفی بھی تھی، لیکن آج جب میرزا نے بکی سے اترتے ہوئے، اپنا ترکش اور کمان صاحباں کو تھمائی تو وہ کپکپاگئی۔

صاحباں کی مرحومہ ماں، اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، اس کا ملکیتی رقبہ بھی صاحباں کے نام وراثت میں منتقل ہوا تھا. صاحباں یوں کھیوا گاؤں کی مالداد حسینہ تھی ہی لیکن میرزا خود صاحب جائیداد تھا اور کرموں باہمن کی اوقات ہی نہیں تھی کہ وہ یہ رقبہ سنبھال سکتا.

میرزا اور کرموں کے عشق تو ساتھ ساتھ چلتے رہے ، لیکن صاحباں کے بے محابا حسن اور دولت کے لئے صاحبہ کی سوتیلی ماں کا دور پار کا رشتہ داد ظاہر خان، اچانک منظر عام پر نمودار ہو گیا.
اچانک ہی صاحباں کا رشتہ اس کے والد نے اس کی سوتیلی ماں کے اصرار پر جاہ و حشمت کے مظہر، ظاہر خان سے طے کر دیا.

صاحباں کے میرزا کے ساتھ حویلی سے باہر جانے، پر پابندی لگ گئی، گاؤں کا ماحول کشیدہ ہو گیا، صاحباں کے چار سوتیلے اور دو دُودھ شریک بھائی ڈنڈا کھونڈے سے مسلح گشت کرنے لگے،. میرزا نے خطرہ بھانپ لیا ، اور اس نے بھی ترکش اور کمان اس نے بھی ساتھ رکھ لئے تھے.

اتنے خطرات کے باوجود رات کو کسی طرح صاحباں میرزا سے ملنے راموں باہمن کے ڈیرے پر آگئی. پہلے تو اس نے علیحدگی میں راموں سے راز و نیاز کئے، پھر اسے پیشکش کی کہ پہلا عاشق ہونے کے ناطے اس کا حق فائق ہے اگر وہ سنبھال سکے تو وہ اس سے شادی پر راضی ہے.

لیکن راموں نے ہاتھ جوڑ کر معذرت کر ہی لی تب اچانک اس نے میرزا سے گھوڑی حویلی سے باہر نکالنے کو کہا، خود وہ حویلی سے کچھ سامان اٹھانے گئی. اس آمد و رفت میں صبح کاذب کے وقت دونوں گھوڑی پے سوار ہو کے کھیوا سے نکلے، میرزا کو اندازہ تھا کِہ پوری دفتار سے بکی دوپہر تک اس کے گاؤں پہنچا دے گی. صاحباں تو دو عملی سوچ کا شکار تھی. بار بار مُڑ کے پیچھے دیکھتی کبھی رونے لگتی، کبھی گھوڑی آہستہ چلانے کو کہتی رہی.

دوپہر تک وہ کھیوے کی حد سے نکل آئے، تو صاحبہ نے ایک جھنڈ کے پاس میرزا کو رکنے کا کہا، میرزا بھی رات بھر جاگنے ، سواری کی تھکن اور ذہنی دباؤ سے نڈھال تھا. اس نے گھوڑی روکی، زین اور لگام اتار کے بکی کو ایک جھنڈی کے نیچے باندھا اور لیٹا تو اس کی آنکھ لگ گئی. صاحباں کو خوف اور احساس جُرم نے جگائے رکھا. یہ خیال کہ بھائی تو اس کے پیچھے آئیں گے. لیکن لڑائی ہوئی تب تو میرزا ماہر تیر انداز انکو مار ڈالے گا.

اس اُلجھن میں اس نے تیر سارے توڑ پھینکے، کمان اچھال کے جھنڈی پر ٹانگ دی۔ پھر وہی ہوا جو انجام آپ پڑھتے آئے ہیں.صاحباں کے بھائی پہنچ گئے اور میرزا نہتا اور اکیلا، صاحباں کی کوتاہ بینی،.جذباتیت اور روایتی کم عقلی کی بھینٹ چڑھ گیا.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: