برانڈز کا مقابلہ کیسے کریں؟ فواد رضا

1
  • 86
    Shares

آج کی کاروباری دنیا بہت آگے جارہی ہے۔ یورپ امریکہ‘ آسٹریلیا اور مڈل ایسٹ کی منڈیوں پرقبضہ جمانے کے بعد بہت سے بڑے برانڈ اب پاکستان میں اپنے پنجے گاڑھ رہے ہیں‘ آج سے دس سال پہلے’لیوائس‘ میں عید کے دنوں میں بھی عوام نہیں ہوتے تھے‘ لیکن آج عام دنوں میں رش ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مارکیٹ سے دوگنا قیمت وصول کرنے کے باوجود یہ برانڈ عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ انتہائی کم آمدنی والے لوگ بھی اپنی دیگر ضروریات پر سمجھوتا کرکے برانڈز خریدنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

ایک دوست کے توجہ دلانے پر جب میں نے اس نظام کا مشاہدہ شروع کیا تو تو سب سے پہلے تین چیزیں سامنے آئیں‘ ایک یہ کہ ان کی اشیاء اگر مہنگی ہیں تو پھر معیار پر سمجھوتا نہیں کیا جاتا۔۔ ان کی مصنوعات مارکیٹ میں موجود مصنوعات سے بہتر ہیں‘ عام بازار میں بیٹھے دوکاندار اگر کسی شے کی نقل تیار کرکے بیچ رہے ہیں تو مٹیریل پر بھرپور سمجھوتے کرکے اپنا کسٹمر برانڈز کی آغو ش میں پھینک رہے ہیں‘ جو آج نقل پہن رہا ہے کل اس کی خواہش ہوگی کہ اصل پہنے‘ اگر یہی وقت اور سرمایہ وہ اپنا برانڈ بنانے میں لگاتے تو زیادہ فائدے میں رہتے۔

دوسری بات انہوں نے اپنے کسٹمر کو اہمیت دی۔ آپ عام بازار میں کوئی چیز بدلوانے چلے جائیں‘ وہ ایڑی چوٹی کا زور لگالے گا کہ اسے بدلنی یا واپس نہ لینی پڑے لیکن برانڈز کے ہاں ایسا نہیں ہے‘ جائیے ‘ بدلوائیے ! ان کے ماتھے پر بل نہیں آتا۔ آج ہی اپنی بیٹی کے شوز باٹا سے سائز کے سبب تبدیل کرائے تو انہوں نے بل تک مانگنے کی زحمت نہیں کی‘ اور وہ ڈبہ جومیں ہاتھ میں لے کرگیا تھا اسے بھی عزت کے ساتھ شاپر میں ڈال کر دیا اور ساتھ میں اس بات کا شکریہ بھی ادا کیا کہ میں نے ان کی پراڈکٹ تبدیل کروالی۔۔ خریدتے وقت بھی مجھے ذہنی سکون تھا کہ اگر سائز کا مسئلہ ہوگا تو جھک جھک نہیں کرنی پڑے گی بلکہ آرام سے تبدیلی کا مرحلہ طے ہوجائے گا یعنی میری خرچ کردہ رقم پر مجھے نقصان نہیں ہوگا‘ ہم ‘ آپ اورشاید مارکیٹ کا عام دوکاندار ابھی تک اس بات کا ادراک ہی نہیں کرپایا کہ یہ ذہنی سکون گاہک کو بار بار آپ کے دروازے پر لائے گا۔

تیسری اور اہم بات جسے لوکل مارکیٹ کے دوکاندار نے نظر انداز کررکھا ہے‘ وہ ہے مارکیٹنگ جس کی مدد سے یہ بڑے برانڈ گاہک کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی شے آپ کے لیے ضروری ہے۔ یقیناً چھوٹا دوکاندار بڑے برانڈز کا یہاں کسی صورت مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن آج کی جدید دنیا میں سوشل میڈیا اور سیل دو ایسی مارکیٹنگ کی تکنیک ہیں جو کہ گاہک کو آپ تک بآسانی لے آتی ہیں‘ اگر آپ کسی کاروبار کے مالک ہیں اور آپ نے ابھی تک ان سب باتوں کا ادراک نہیں کیا تو آپ پہلے ہی دیر کرچکے ہیں۔۔ جاگئے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کیجئے بصورت دیگر بڑا برانڈ آپ کو ایسے ہی کھا جائے گا جیسا کہ امتیاز سپر مارٹ ناظم آباد کی مشہورزمانہ ہول سیل مارکیٹ (گول مارکیٹ) کو کھا گیا۔ یاد رہے کہ آج سے پانچ سال قبل دس کلومیٹر کے ریڈیس سے لوگ اس مارکیٹ آیا کرتے تھے اور پارکنگ کی جگہ ملنا دشوار تھا، اب حال یہ ہے کہ آپ اس بازار کی گلیوں میں موٹر سائیکل لے کر چلے جائیں ‘ کوئی دقت نہیں ہوگی۔

سو آپ بھی ابھی سے ان باتوں کا ادراک کرکے اپنے کاروبار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیجئے۔۔ کسی مارکیٹنگ جاننے والے سے اس موضوع پر بات کیجئے اور اس سے سمجھیے کہ برانڈنگ کیسے کی جاتی ہے اور گاہک کو کس طرح کھینچ کر اپنے تھڑے پر لایا جاتا ہے‘ سوشل میڈیا کو وقت کا ضیاع سمجھ کر اپنے بچوں کو ڈانٹیں مت‘ بلکہ ان سے کہیں کہ اس نئی دنیا میں کاروبار کو پھیلانے میں وہ آپ کی مدد کریں۔۔ یقین کیجئے کہ ٹین ایجر بچے آپ کو ایسے گر بتائیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے‘ یاد رکھیں یہ آخری موقع ہے خود کو بچانے کا ورنہ سرمایہ دارانہ نظام آپ کے کاروبار کو ہضم کرکے آپ کو مجبور کردے گا کہ آپ اس کی ملازمت کریں۔۔ فیصلہ آپ کا اپنا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. آپ کی بات درست ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ برانڈز نے اپنی مصنوعات کا مقصد دیرپا ہونا یا مظبوطی نہیں رکھا، سٹیٹس رکھا ہے۔ ان کا مقصد لوگوں تک انکی مصنوعات پہنچنا نہیں بلکہ محض پیسہ کمانا ہے۔ مادی دنیا کی یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے انکار آسان نہیں۔ ان کی قیمتوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ جب چاہیں جتنی مرضی قیمت وصول کرلیں۔ یہ ایک بنیادی فیکٹر ہے جو برانڈز کو اپرکلاس تک محدود کرتاہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: