اقبال کی شاعری کے فکری مباحث: معراج رعنا

2
  • 71
    Shares

اقبال کی شاعری کو اُن کے زمانے سے لے کر تاحال ایک خاص نقطۂ فکر کے حوالے سے پڑھنے اور سمجھنے کی روایت عام رہی ہے۔ جو اس اعتبار سے غلط نہیں کہ اُس میں یقیناً ایک مربوط نظامِ فکر کو سر چشمۂ تخلیق کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اقبال کی شاعری کی بڑائی اس بات میں مضمر ہے کہ اُس میں ایک خاص نظامِ فکر کی توسیع نمایاں ہے تو یہاں بعض سولات نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مثلا یہ کہ کیا شاعری میں نظامِ فکر کا ہونا ضروری ہے؟ یا پھر یہ سوال کہ وہ نظامِ فکر حیات و کائنات کے کس شعبے سے متعلق ہو جس کی بنیاد پر کوئی شاعری اپنے علویت تک پہنچ سکتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ شاعری کا فکر سے رشتہ ہے لیکن یہ رشتہ اُس وقت تک گہرا نہیں ہو سکتا جب تک کہ فکر اشیا سے مربوط ہو کر تخئیل کی سطح پر انکشاف کرنے کی حامل نہ بن جائے۔ شاعری میں انکشاف کی یہ سطح اتنی واضح ہوتی کہ اُس پر انسانی تجربے، مشاہدے یا جذبے کا گمان یقین کی حد تک ممکن ہوتا نظر آتا ہے۔ غالب کے بعد اقبال اردو کے واحد بڑے شاعر ہیں جن کی شاعری انکشاف سے عبارت ہے۔ اُن کے یہاں انکشاف کا دائرہ اس لیے اتنا وسیع ہے کہ اُس میں فلسفہ اپنی تمام تر تقلیبی منزلوں کو طے کر کے جذبے سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے:

معراج رعنا، ہندوستان

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں

تیرے بھی صنم خانے میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی دونوں کے صنم فانی

حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

اقبال کے یہ تمام اشعار اپنی فلسفیانہ بنیادوں پر قائم ہیں۔ وہ فلسفے جن سے اقبال کو فطری نسبت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں فلسفہ جذبے سے ہم آہنگ ہو کر انکشاف کی وہ سطح دریافت کر لیتا ہے، جہاں نوائے فکر نوائے فقر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پہلا شعر عقل و دل کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجے میں بر آمد ہونے والی حقیقت کا تحیر انگیز عرفان ہے۔ انسانی صفات میں ایک اہم صفت عقل ہے لیکن اُس کی قوت اپنی حدوں سے اُس وقت تک متجاوز نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں دل یعنی عشق کی حدت شامل نہ ہو جائے۔ عقل جب عشق سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے تو پھر حقیقت بھی وہ حقیقت نہیں رہتی جو بظاہر زمین و آسمان کی بیکرانی سے مخصوص معلوم ہوتی ہے۔ عقل پر عشق کی مغلوبیت انسان کے اندر جہانِ مخفی کی دیدنی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس منزل پر پہنچ کر انسان اُن حقائق کا معارف بن جاتا ہے جو زمین و آسمان کی بیکرانی سے ماورا ہوتی ہے۔ دوسرے شعر میں صنم خانے کی عارضیت کا نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں صنم خانہ دنیا کا استعارہ ہے۔ چونکہ صنم خانے کا تعلق پرستش سے ہے۔ اس لیے یہاں اُن لوگوں پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے جو دنیا اور دنیاوی تعیش کی پرستش کرتے ہیں۔ جس کی اصل حقیقت حباب سے زیادہ نہیں۔ مطلب یہ کہ دنیا جو اپنی نوعیت و ماہیت میں خالصتا مادی واقع ہوئی ہے، ایک نہ ایک دن فنا ہو جائے گی۔ لہٰذا ایسے صنم خانوں کی عبادت سے کیا فائدہ جن کو بقائے دوام حاصل نہیں۔ بقائے دوام تو اُن چیزوں کو حاصل ہے جن کی تعمیر میں جذبۂ عشق کارفرما ہو۔ مادی یا خاکی چیزیں جسمانی سکون کا ذریعہ تو بن سکتی ہیں لیکن روحانی فرحت کا سامان بہم پہنچانا اُن کے بس میں نہیں۔ تیسرے شعر میں حیات اور خودی کے متعلق استفہام قائم کر کے اُن کی بقا اور جلا بخشی کی سبیل کو جواب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خیال و نظر کا کسی شے میں جذب ہو جانا شاعر کے نزدیک زندگی سے عبارت ہے۔ خیال کا تعلق ذہن و دل سے ہے اور نظر کا رشتہ مظاہرِ فطرت سے ہے۔ مظاہرِ فطرت میں حُسنِ کائنات سے لے کر حُسنِ زن تک حسین چیزوں کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہے جو نگاہوں کے لیے سامانِ دید ہوتا ہے۔ لیکن یہ سامانِ دیداُس وقت تک زندگی کے ظہور کا وسیلہ نہیں بنتا جب تک کہ اُن میں نظر جذب نہ ہو جائے۔ کسی شے میں نظر کی انجذابی، خیال کی انجذابی ہے جو خودی کی شکل میں عرفانِ حیات ثابت ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ شے میں نظر کی انجذابی زندگی کا ظہور ہے اور اُس کا انتشار خودی کی موت۔ لہٰذا انسان یا عاشق کو چاہیے کہ وہ کسی ایک شے یا خیال میں خود کو اس وارفتگی کے ساتھ مستغرق کر دے کہ اُس کا اصل مقصود و مطلوب مل جائے۔ چوتھا شعر مغرب و مشرق کے اُس تقابل پر استوار ہے جو مغربی علوم پر مشرقی علوم کی بر تری کو ثابت کرتا ہے۔ یہاں دانشِ فرنگ مغربی فلسفے کا استعارہ ہے جس کی بنیاد عقل و منطق پر قائم ہے۔ جب کہ مدینہ و نجف نہ صرف یہ کہ مشرق کے مقدس مقامات ہیں بلکہ عشق اور علم کی علامات بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر مغرب و مشرق کی تمام علمی اور عقلی جلوہ سامانیوں سے ہم آہنگ ہونے کے باوجود اُس مقام تک نہیں پہنچتا جہاں اُس کی آنکھیں چکا چوند ہو جائیں۔ یعنی یہ کہ مغربی علوم اپنی تمام تر کشش کے باوجود چشمِ شاعر کو خیرہ کرنے سے قاصر ہے تو اس لیے کہ اُس میں مدینہ و نجف کا علمی نور و سرور موجود ہے۔ شعر میں یہ جذبہ بھی موجود ہے کہ وہ قوم مغربی یا نو آبادیاتی فکر و فلسفے کی ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر اُس میں خود کو کبھی غرق نہیں کر سکتی جس کی جڑیں اپنے مذہبی، علمی اور تہذیبی اقدار میں نہایت مضبوطی سے پیوست ہوں اور جس کے روحانی خطے میں مدینتہ العلم آباد ہو۔ مذکورہ اشعار اس لحاظ سے اہمیت کے حامل نہیں ٹھہرتے کہ ان کی بنیادیں فلسفے پر قائم ہیں بلکہ ان کی بڑائی فکر کے اُس تجسیمی رویے میں پوشیدہ ہے جو زمین و آسمان، مدینہ و نجف اور صنم خانہ وغیرہ کے تلازمات سے ہم آہنگ ہو کر ایک ایسے استعاراتی نظام کے ظہور کا وسیلہ بن گئے ہیں جہاں فلسفہ، فلسفہ نہ رہ کر احساس کا متبادل بن گیا ہے۔ اس لیے یہاں اُن اقدارکی نشاندہی مشکل نہیں جو فلسفے کو شاعری بناتے ہیں۔ یہاں یہ بات نہیں بھولنی نہیں چاہیے کہ اقبال پہلے شاعر ہیں پھر فلسفی۔ اس لیے اُن کی شاعری پہلے فنی قدروں کے حوالے سے پڑھے جانے کی مستحق ہے پھر کسی دوسرے حوالے سے۔ تخلیقی سطح پر کوئی فلسفہ یا نظریہ اُس وقت تک قابلِ قدر نہیں سمجھا جاتا جب تک کہ وہ وجدان کا حصہ نہ بن جائے۔ فلسفے کی کوری تقلید الگ چیز ہے اور اُس کا تخلیقی استعمال الگ چیز۔ اقبال کے یہاں فلسفے کا تخلیقی استعمال موجود ہے۔ اس لیے اُن کی شاعری فن کے اعلیٰ منصب پر فائز ہے۔ اگر اقبال کی شاعری کے فلسفیانہ نظام پر ایک غائر نظر ڈالی جائے تو اس حقیقت تک پہنچنا دشوار نہیں کہ اُن کے یہاں وہی فلسفے کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوئے ہیں جن میں تحرک یا Movement کی قوت موجود ہے۔

مولانا روم کی مثنوی ہو یا مجدد الف ثانی کا شہودی فلسفہ، نطشے کا فوق البشرہو یا برگساں کا تصورِ وقت، ان سب کی مشترک صفت تحرک ہے۔ اگر صرف فلسفے سے شغف ہی اقبال کی بنیادی جبلت ٹھہرتا تو اُن کے یہاں اُن فلسفیوں کی نشاندہی بھی ضرور ہوتی جن کا فلسفہ یاس و قنوطیت سے عبارت ہے۔

فلسفے کے متعلق Thales کے زمانے سے لے کر آج تک یہ بات قولِ فیصل کا درجہ رکھتی ہے کہ یہ استدلالی طور پر عالمِ موجودات کا مطالعہ ہے جس کی سطح معروضی بھی ہو سکتی ہے اور موضوعی بھی۔ چونکہ فلسفے کی ابتدا استفسار اور تفتیش سے ہوتی ہے، اور اختتام حقیقت کی دریافت پر۔ اس لیے جرمن فلسفی Stumpft اُسے استفہامی علم یعنی Question Science کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری میں یہی استفہامی علم خصوصیت کاحامل ٹھہرتا ہے، جو مغرب و مشرق کی فلسفیانہ روایت سے قطع نظر خود ایک روایت کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اور جس کی بنیاد عقل ومنطق پر قائم نہیں بلکہ وجدان و انکشاف پر استوار ہے۔ مثلا:

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِتماشائے لبِ بام ابھی

شعر کا کلیدی موضوع عشق کی بر تری اور عقل کی نارسائی ہے لیکن یہ شعر محض اپنے موضوع کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ اُس کی عظمت حقیقت کے عرفانی طریقے میں پوشیدہ ہے۔ شعر کے مطالعے کی دو سطحیں ہو سکتی ہیں۔ پہلی سطح عشق کے اُس تصور سے تعلق رکھتی ہے جو اقبال کے یہاں روحانی طاقت یعنی Divine Force کے طور پر ماورائے مظاہر کی حقیقتوں کا انکشاف کرتی ہے۔ عقل چونکہ پابندِ منطق ہے اس لیے اُس کا دائرۂ ادراک محدود ہے، اور جو چیز محدود ہوگی اُس میں یہ صفت ناپید ہوگی کہ وہ ماورائے موجودات کی حقیقتوں کو سمجھ سکے۔ آگ میں کودنا عقلی منطق کے سرا سر خلاف ہے۔ لیکن جب کوئی شخص آگ میں کودنے کا فعل انجام دیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سراپا عشق ہے۔ وہ عشق جو جذبۂ صادق اور محویت کے نقطۂ اتصال سے پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اُس وجود کو آگ میں کودنے کا کوئی خطرہ در پیش نہیں ہوتا۔ خطرہ تو اُس وجود کو ہوتا ہے جو خام حالت میں ہوتا ہے۔ یہاں عشق چونکہ اپنے کمال کو پہنچ چکا ہے اس لیے اُسے ہا بہ زنجیر کرنے سے قاصر ہے۔ مطالعے کی دوسری سطح اُس قصے کے حوالے کی ہوگی جو مذہبی نوعیت کی حامل ہے۔ مذہبی قصے کا حوالہ شعر میں یہ حُسن پیدا کرتا ہے کہ آگ، عشق اور عقل کی جداگانہ حیثیت متعین ہو جاتی ہے۔ اور پھر یہ بھی طے ہو جاتا ہے کہ آگ اپنی خاکستری اور عقل اپنی تسخیری قوتوں کے باوجود عشق سے نشو و نما پانے والی ذاتِ پاک کو آگ میں کودنے سے روک سکتی ہے اور نہ ہی آگ اُس ذات کو جلا سکتی ہے۔ انکشاف کا یہی رویہ آتش، نمرود، عشق، عقل، تماشا، لبِ بام، وغیرہ کی مناسبتوں سے منسلک ہو کر ایک مکمل پیکر ی نظامِ فن کا وسیلہ بن گیا ہے۔

اقبال کی زندگی میں فلسفے کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں لیکن اس بات پر اتفاق آسان نہیں کہ وہ شاعری میں بھی فلسفے کے اتباع میں بھی پابندِ اصول رہے ہیں۔ یوں تو اُن کے نثری بیان میں عرب و عجم اور مغرب و مشرق کے فلسفیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اُس شخص سے یہ توقع کی بھی نہیں جا سکتی جس نے اپنی عمر کا شاندار حصہ دنیا کے عظیم فلسفیوں کے مطالعے میں صرف کیا ہو، اور پھر بھی اُس کے یہاں اُن کے اثرات مرتب نہ ہوئے ہوں۔ یہاں یہ تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ اقبال کی شاعری میں فلسفے کی اثر انگیزی موجود ہے لیکن اس بات کو شاید قبول نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں فلسفہ اپنی اصل حالت میں نمایاں ہے۔ اس ضمن میں ایک چھوٹی سی مثال نطشے سے دی جاسکتی ہے۔ نطشے کے نزدیک فوق البشر کی پیدائش اقداری نظام کی شرط سے مشروط ٹھہرتی ہے۔ یعنی نطشے کا فوق البشر اُس وقت تک نہیں پیدا ہوسکتا جب تک کہ تمام بنی نوع انسان اپنی متعینہ قدروں سے انحراف نہ کر لے۔ اس لیے وہ ہر نوع کی انسانی کمزوریوں کا منافر ہے۔ قوت، اعلیٰ ظرفی، اور بلند حوصلگی اُس کی بنیادی صفات ہیں۔ لیکن اقبال کا مردکا مردِ کامل کارجی صورتِ حال کا نتیجہ نہیں بلکہ خود آگہی کا ثمرہ ہے۔ وہ انسانی وجود کی دو رخی قوت یعنی نارِ خودی اور نورِ خودی کا حسین تناسب ہے:

دلبری بے قاہری جادو گری
دلبری با قاہری پیغمبری

دلبری اور قاہری کا یہی حسین امتزاج اقبال کے مردِ کامل کو مادی کائنات کی تسخیر کا اہل بنا دیتا ہے۔ لیکن وہ اس نوع کی تسخیری قوت کو اپنا مقصودِ حیات نہیں سمجھتا۔ اُس کا نصب العین روح کی شفافیت اور خدا کی خوشنودی ہے۔ اس لیے اقبال کا مردِ کامل اپنی تمام تر حریاتی خوبیوں کے باوجود ایک درویش کی طرح بارگاہِ ربانی میں سر بسجود نظر آتا ہے۔ حرکت و عمل اقبال کے مردِ کامل کی نمایاں خوبی ہے۔ یہ حرکت اُس کے اندر شعورِ خودی سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اسی سے موت پر فتح پائی جاتی ہے۔

اے کہ از ترکِ جہاں گوئی، مگو
ترکِ ایں دیر و کہن تسخیر او

اقبال کی شاعری کا عمدہ ترین حصہ خواہ وہ نظمیہ ہو یا غزلیہ، فنی اقدار کی انفرادیت کے انعکاس سے معمور ہے جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ یہ شاعری صرف فلسفے کی موشگافی نہیں کرتی بلکہ جذب و اخذ کا ذریعہ بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری میں باطنی سچائی خارجی حوالوں سے متشکل ہوتی نظر آتی ہے۔ یہاں اقبال کی نظم مسجدِ قرطبہ کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ یہ نظم صرف داخلی احساس کا خارجی حوالہ نہیں بلکہ اقبال کے بنیادی تصورِ حرکت کی اعلیٰ ترین صناعی ہے۔ وقت، عشق اور تاریخ اس کی تین شکلیں ہیں کہ تینوں میں جو چیز مشترک ہے، وہ قوت و حرکت کی غیر منقسم صفت ہے۔ یہ نظم تاریخ کے ایک شاندار عہد کی یاد گار ہے۔ اس لیے اسے وقت کے لا متناہی سلسلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ میشل فوکو نے لکھا ہے:

“History in its traditional form, undertook to memorize the monument of the past, transform them into document”

(Psychoanalysis, History, and Subjectivity, p.102, Roger Kennedy,Routledge,USA 2002)

فوکو سے بہت پہلے اقبال نے مسجدِ قرطبہ یا اس نوع کی دوسری نظموں میں یہ کام کر دکھایا ہے کہ تاریخ کس طرح عہدِ رفتہ کی یادگار کو حافظے کا حصہ بناتی ہے۔ اور پھر وہی یادگار یں دستاویز میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
منتقلی کا یہ عمل وقت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے مسجدِ قرطبہ میں وقت کا تسلسل کہیں منقطع نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں وقت کا تسلسل کسی قسم کا جبری تسلط قائم نہیں کرتاکہ یہاں وقت کے پیشِ نظر وہ مسجد ہے جس کی بنیاد جذبۂ عشق پر قائم ہے جو اقبال کے یہاں ایک زبردست روحانی طاقت سے عبارت ہے۔ اس لیے اس پر وقت اثر انداز تو ہوتا ہے لیکن اپنی تخریبی قوت کا اُس طرح مظاہرہ نہیں کرتا جس طرح اختر الایمان کی نظموں اور قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مسجدِ قرطبہ کا یہی اختصاص ماضی کے احساس کو مستقبل کی بشارت سے وابستہ کردیتا ہے۔ جس سے وقت کی لامتناہیت بھی ثابت ہوتی ہے اور اُس کی جبریت کی نفی بھی۔
ایلیٹ نے اپنے ایک مضمون شاعری اور فلسفہ میں لکھا ہے:

“Poetry is not substitute for philosophy or theology or religion.It has its own function. But as this function is not intellectual but emotional, it cannot be defined adequately in intellectual terms”

(The Contemporary Reviews,T.S. Eliot, p.263, Cambridge University Press 2004)

ایلیٹ صاف صاف کہتا ہے کہ شاعری فلسفے یا دینیات یا مذہب کی متبادل نہیں۔ اس کا اپنا وظیفہ ہے جو تعقلی نہیں جذباتی ہے۔ اس لیے اُسے دانشورانہ اصطلاحات میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کی شاعری کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ وہ فلسفے کا متبادل نہیں بلکہ فلسفے کا وہ تخئیلی وظیفہ ہے جو انسانی جذبات کے تابع بھی ہے اور اُس سے ماورا بھی۔ اس لیے اُن کی شاعری پر فلسفیانہ مہر ثبت کر کے اُس کی معنوی عظمت اور فنی قدرو قیمت کو محدود کرنا مناسب نہیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ۔ عقل پر عشق کی مغلوبیت انسان کے اندر جہانِ مخفی کی دیدنی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس منزل پر پہنچ کر انسان اُن حقائق کا معارف بن جاتا ہے جو زمین و آسمان کی بیکرانی سے ماورا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    البتہ عقل پرعشق کو فوقیت حاصل نہیں اقبال بھی بہت سے مقامات پر عقل پر عشق کو فوقیت دیتے دکھائی دیتےہیں۔ مگر میری ناقص رائے میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مذہب کے نزدیک کیا مطلوب ہے؟ عقل یہ عشق؟
    قرآن میں ہم ہر مقام پر انسان کو عقل کے حوالے سے ہی خدا کی طرف سے مخاطب دیکھتےہیں۔ کسی ایک جگہ بھی عشق زیرِ بحث نہیں ہے۔

  2. عقل چونکہ پابندِ منطق ہے اس لیے اُس کا دائرۂ ادراک محدود ہے، اور جو چیز محدود ہوگی اُس میں یہ صفت ناپید ہوگی کہ وہ ماورائے موجودات کی حقیقتوں کو سمجھ سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عقل پابندِ منطق ہے جی درست ہے مگرسوال ہے کہ اس پابندیِ حدود سے وہ کون سی فلسفیانہ موشگافی ہے جو حل نہیں ہوپاتی؟ آگ میں کودنا خلافِ عقل ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ آگ میں کودنا اگر خلافِ عقل ہو تو پھر ابراہیم علیہ السلام کا کودنا بھی خلافِ عقل ہے۔ درحقیقت ابراہیم علیہ السلام کو عقل نے ہی یہ باورکرایا تھا کہ بےشک آگ کا کام جلانا ہے مگر اس آگ سے بھی برترایک طاقت ہے جو اس پر اختیار رکھتی ہے یہ عقل کی وہ معراج ہے جہاں انسان یہ دیکھ لیتا ہے کہ وہ کس ہستی کے زیرِاثر ہے۔ مگر ہم نے اس عقل کو مطیع کر کے عشق کو غالب کردیا جس کا تذکرہ قرآن میں کسی جگہ مذکور نہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: