مرنا کہاں ہے آساں: عائشہ تنویر

0
  • 58
    Shares

انتقال یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، ویسے ہی بہت مشکل کام ہے لیکن اگر یہ منتقلی ایک دنیا سے دوسری دنیا یعنی عالم بالا کی طرف ہو تو یہ کام مشکل ترین بن جاتا ہے ۔ مرنے والا تو رخصت ہو کر فرشتوں کو حساب کتاب دینے لگ جاتا ہے لیکن اس کے رشتہ داروں میں ایک مقابلہ شروع ہوجاتا ہے کہ کون زیادہ غم “زدہ” ہے۔

پھر ہر طرف سے اس طرح کے جملے سنائی دیتے ہیں۔” مجھے تو چچا جان سگی بیٹیوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ انہوں نے تو وعدہ کیا تھا کہ اس بار میری شادی کی سالگرہ پر مجھے سونے کی انگوٹھی دیں گے ‫۔” کہنے کا مقصد یہ نکلا کہ جانے والا تو چلا گیا اب اس کے وارثان کا فرض ہے کہ یہ قرض اتاریں۔ بے چارے لواحقین بھی اس ہی دنیا کے باسی ہوتے سو اس حالت غم میں بھی یہ سوچنے سے باز نہ آتے کہ ابا جان کو ایسا وعدہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ایسی کون سی بڑی جائیداد چھوڑ دی ہے۔ اس میں سے تو ہم بہن بھائیوں کے حصے میں کچھ نہیں آنا۔ ساری زندگی ابا جی نے بس اپنے بہن بھائیوں کو ہی پوچھا ہمارا نہ سوچا‫۔ دینا تو خیر ہم نے بھی کسی کو نہیں لیکن خاندان والوں کو باتیں بنانے کا تو موقع مل گیا ناں۔

“ِخیر ہم نے اب کون سا ان سے ملنا ہے”
آخر اس سوچ پر سر جھٹکا جاتا۔ کون تعزیت کرنے آیا کون نہیں آیا، کس نے سپارہ پڑھا اور کون گٹھلیاں سامنے رکھ کر باتیں کرتا رہا، ہر ایک کی نظر اپنے علاوہ سب پر ہوتی۔ فرنیچر ہٹا کر چاندنیاں بچھاتے خاتون خانہ کے سلیقے پر بھی تبصرے چلتے رہتے۔

“افف بیڈ کے نیچے کتنی مٹی ہے، بس سامنے سامنے صفائی ہے بھابھی کی۔”
خاتون خانہ جنہوں نے کبھی سسرال کو منہ بھی نہ لگایا ہو، صدمے سے نڈھال نند کے بچوں کو پردوں سے ہاتھ صاف کرتے دیکھتیں تو دل منہ کو آ جاتا، یہ بات بہرحال راز ہی رہ جاتی کہ زیادہ صدمہ کس بات سے ہوا‫۔

یوں گھروں میں رسم کے تحت کھانے کے لئے چولہا تو نہ جلایا جاتا لیکن چائے بنانے اور پینے پلانے پر بھی مہا بھارت ہو جاتی۔ گھر والوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ محلے داروں کے لئے بھی یہ مل بیٹھنے کا بہت اچھا موقع ہوتا ہے۔ پڑوسی خواتین کچھ یوں تبصرے کر رہی ہوتی ہیں۔
“یہ جمیلہ کو تو دیکھو، مرگ والے گھر آتے ہوئے بھی تیاری میں کمی نہ کی۔”
“صفیہ کی بھابھی کے ڈرامے دیکھو، ساری زندگی نند کو منہ نہ لگایا اور اب کیسے ساتھ جڑی تسلیاں دے رہی ہے”۔
“ارے اس کی بڑی بہو کو تو آج بھی اپنے میکے والوں کی ناز برداری سے فرصت نہیں۔ انہی میں گھسی ہوئی ہے”
“سیمی کی ساس کے نخرے توبہ، یہ بھی لحاظ نہیں کہ بے چاری کا باپ مرا ہے۔”
سیمی بھی بخوبی جانتی کہ پورا خاندان موجود ہے، مظلوم بہو کا ٹائٹل حاصل کرنے کا اس سے نادر موقع کبھی نہیں ملنا سو جی، جی کرتے ساس کے آگے پیچھے پھرتی، حتیٰ کہ شادئ مرگ سے ساس مرنے والی ہو جاتیں‫، یعنی ایک تیر سے دو شکار۔

پچھلے دنوں ہمارا ایک مرگ میں جانا ہوا، قرآن خوانی ختم ہوئی تو زیر بحث موضوع تھا “کھانا”۔ آخر یہ موقع مفت کی دعوت کی طرح ہی تو ہوتا ہے۔ شادی بیاہ میں تو پھر کچھ دینا دلانا پڑتا ہے‫۔
ایک خاتون کہنے لگیں “چالیسویں کی بریانی سے زیادہ اچھی تو کسی ریسٹورنٹ کی بریانی بھی نہیں ہوتی”۔
“یہ تو ہے، چنے سوئم کے اور بریانی تو بس چالیسویں کی ہی چلتی ہے۔” کسی نے تائیدی بیان جاری کیا‫۔
“لیکن یہاں تو کھانے کے کوئی آثار ہی نظر نہیں آ رہے؟”
دھیرے سے استفسار کیا گیا۔
اتنے میں ایک لڑکا گزرتا دکھائی دیا تو کسی دلیر خاتون نے لپک کر اسے پکڑا
“میاں، تم فیضان ہو نا! صفیہ آپا کی بہو کے بھائی”
انداز میں سوال سے زیادہ یقین تھا کہ اپنی کھڑکی سے پورے محلے کی نگرانی ان کی ہی تو ذمہ داری تھی۔
” جی” اثبات میں جواب ملتے ہی وہ شروع ہو گئیں‫۔
“تو کچھ کھانے وانے کا بندوبست بھی کیا یا نہیں ؟ بھئی، ہمارے ہاں تو یہی ریت ہے کہ اگر بہن کی سسرال میں میت ہو جائے تو کھانا میکے والے دیتے ہیں۔تم بھی کھانے کا انتظام کر لو، ایسا نہ ہو کہ سسرال میں بہن کی ناک کٹ جائے ۔”
انہوں نے نصیحت کی
” اور میری مانو تو بریانی ہی کرنا سب شوق سے کھاتے ہیں ”
ایک اور خاتون نے ناک بچاؤ مہم میں حصہ ڈالا۔
“نہیں، قورمہ ٹھیک رہے گا، چاول کھانے سے میری داڑھ میں درد ہو جاتا ہے ‫”
پہلی والی نے فوراً منع کیا۔
“میں تو کہتی ہوں کہ بریانی ہو یا قورمہ ہونا مٹن کا چاہیے۔ برڈ فلو کا خطرہ ہے نا، تو کیا فائدہ ایسے کھانے کا جو کوئی خوشی سے کھا بھی نہ سکے ” ایک اور آنٹی نے لقمہ دیا۔ اس سے پہلے کہ آنٹیاں اسے سالن، چاول دونوں پیش کرنے پر راضی کرتیں وہ بے چارہ بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگا ‫۔

اب چونکہ کھانے کا انتظام کرنے کی طرف مناسب توجہ دلائی جا چکی تھی سو سب خواتین مل کر افسوس سے اس موضوع پر بات کرنے لگیں کہ کیسی نا مناسب روایات ہمارے ہاں رائج ہیں‫‫۔
کوئی کہے کہ یہ ہندوؤں سے آئی ہیں، تو کوئی شریعت کے حوالے دے دے کر انہیں بدعت ثابت کرے کچھ یہ منطق بھی بتا دیتے کہ یہ روایات اس سبب ہیں کہ فوتگی والے گھر پر معاشی بار نہ پڑے لیکن ایک بات پر سب متفق تھے کہ اچھی ہے یا بری، رسم پوری کرنا تو فرض عین ہے ‫‫۔
کھانا لگا تو کسی نے اٹھ کر آواز لگائی
” اے منی جاؤ، بھائیوں کو بلا کر لاؤ۔ میں نے سوچا باقی بچوں کو بھی بلوا لوں، کہاں گھر میں کھانے کا انتظام کرتے پھریں گے۔ ”
انہوں نے مڑ کر وضاحت کی۔ تھوڑی دیر میں ان کی بٹالین موجود تھی‫۔چن چن کر سب کی پلیٹ میں بوٹیاں ڈالیں اور پھر چمچ کم پا کر بولیں
“لو بھئی چمچ بھی پورے نہیں رکھے، انسان تعداد دیکھ کر برتنوں کا انتظام کرے تو یہ مسئلہ نہ ہو ‫۔”
سب لوگ چونکہ کھانے میں مصروف تھے سو کہیں سے جواب نہیں آیا اور کھانے کے بعد لوگ کچھ یوں تبصرے کرتے رخصت ہوئے۔
“ویسے تو بریانی اچھی تھی لیکن چاول کچھ نرم پڑ گئے تھے”
“مسالا بہت تھا، بچے کہاں اتنی مرچ کھا سکتے ہیں، میرے بچے تو بھوکے رہ گئے”
“ختم کے پھل بھی بہت کم تھے، ہمیں تو ملے ہی نہیں”
ہم حیرت سے منہ کھولے سب کو دیکھتے رہ گئے کہ کیا وقت آگیا ہے، مرنا بھی آسان نہیں ہے۔ انتقال بھی پرشکوہ، پر طعام و پر اہتمام ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: