کیا وقت حساب آگیا ہے؟ راحیلہ سلطان

0
  • 56
    Shares

حیران ہوں کہ پیسہ اور اقتدار کیا شہ ہے کہ جس کے لیے انسان عزت, ایمان, ضمیر کو سرعام پھانسی لگا دیتا ہے۔

آج جب ایوانوں میں تکبر سے گرجتے اور اکڑتے اسحاق ڈار کو بدحواس چہرے کے ساتھ لوگوں کے ہجوم میں احتساب عدالت میں پچھلے دروازے سے داخل ہوتے دیکھا تو یقین آگیا کہ اس دنیا میں بھی حساب ہر ایک کے ذمہ ہے جلد یا دیر اور وہ جو خود کو ہر حساب کتاب سے برطرف سمجھتے ہیں وہ کسی خام خیالی میں ہیں۔

زمین پر اکڑ کر چلنے والے جب کمرہ احتساب میں کٹہرے میں کھڑے تھے تو کیا ایک لمحے کو ان کے دل میں خوف خدا آیا ؟ کیا لمحے بھر کو اس سوچ نے ذہن کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ میں نے کس طرح اس پاک وطن کو لوٹ کر کھایا ہے کس طرح بےایمانی , ہٹ دھرمی اور مکاری سے اپنی تجوریاں بھریں۔۔مگر نہیں۔۔۔ شاید وہاں بھی انہوں نے اپنا پسینہ بڑے اطمینان سے پونچھ لیا کہ پیسے اور اقتدار میں بڑی طاقت ہے اور کہیں نہ کہیں مک مکا ہو ہی جائے گا۔۔ مگر وہ بھول گئے جب اللہ اپنی رسی کھینچتا ہے تو فرعون سمندر برد ہوجاتا ہے, ہٹلر خود کشی کرلیتا ہے, صدام کو پھانسی لگ جاتی ہےاور شاہ ایران دربدر ہو جاتا ہے۔

کس قدر افسوسناک پہلو ہے کہ ملک کا وزیر خزانہ ہی بے ایمان ہو گویا چور کو پہرہ داری دے دی گئ اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ ڈھیٹ و بے شرم بھی ہو کہ اتنے الزامات کے باوجود وزیر خزانہ کے منصب سے چپکا ہو۔۔ اخلاقی تقاضا تو یہ تھا کہ ان پر لگنے والے الزامات کے بعد وہ خود اپنا استعفی ٰ دے دیتے مگر اس اشرافیہ نے ثابت کردیا کہ بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہیے عزت تو آنے جانے والی شہ ہے کرسی اور اقتدار کی جنگ میں عزت کی کوئ اوقات نہیں پیسے کو دیوتا ماننے والے عزت کی بلی چڑھانے کے عادی ہیں۔۔ دوسری طرف کیا فرد جرم عائد ہونے سے پہلےان کا استعفیٰ نہیں لے لینا چاہیے تھا کس قدر شرمندگی کا مقام ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ کی کرپشن کے کیس کے بارے میں خبر چلے۔ مگر ہم شاید اس شرمندگی کے عادی ہیں۔

یہ کیس اور اس کا فیصلہ ملکی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کرےگا۔۔ اگر موصوف کو اس کیس سے بری کیا گیا تو ان کا اور ان جیسوں کا سینہ اور چوڑا ہوجائے گا کہ دیکھو ہمارا کوئ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔۔ کرلو جو کرنا ہے۔۔ اور یہ فیصلہ ان جیسے ڈاکوؤں کو ملکی خزانہ لوٹنے کی کھلی عام پیشکش ہوگی۔۔اور اگر جو فیصلہ اس کے برعکس آیا تو یہ لمحہ فکر ہوگا ہر بےایمان اہل اقتدار کے لیے کہ اب اپنی گردن کا ناپ دینے کے لیے تیار رہو۔

آنے والا کرپشن کرتے ہوئے سو بار سوچے گا ضرور۔ لہذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ ملک کے مستقبل کے لیے نئ راہ متیعن کرے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ وقت کسی کا نہیں۔پھر اتنی دولت کی حوس کس کام کی جب جانا خالی ہاتھ ہی ہے۔۔ لیکن اگر یہ بات ہمیں سمجھ آجائے تو دنیا کے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں یہ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: