وعدہ معاف گواہوں کا موسمِ بہار: نعمان علی خان

1
  • 29
    Shares

پاکستان کے سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ حالات کا رخ دو امکانات میں سے کسی ایک جانب ہے۔ وہ دو ممکنہ صورتیں یہ ہیں:

1: مبصرین میں سے ایک حلقے کا خیال ہے کہ میاں صاحب کے عقیدتمندوں میں سے بیشتر یہی چاہیں گے کہ ملک کے اندر مجھے کیوں نکالا ٹائپ کا ہنگامہ وقفے وقفے سے جاری رکھا جائے، نیب میں کیسز کو لٹکائے رکھا جائے۔ اور اگر کوئی بڑا اقدام ان کی حکومت کے خلاف ہوا تو اسے اپنی سیاسی شہادت میں استعمال کیا جائے۔

2: کچھ دوسرے مبصرین کا خیال ہے کہ تمام ملزمان جو ملک سے باہر چلے گئے ہیں، وہ دراصل آئندہ انتخابات جو 2018 میں متوقع ہیں، تب تک وقت کھینچنا چاہتے ہیں۔ نون لیگ کی یہ کوشش لگتی ہے کہ چونکہ حکومت انہی کی ہے، اس لئِے ملزمان کے باہر رہنے میں یہ فائدہ ہے کہ یہ عرصہ باہر بیٹھ کر سکون سے گذار لیا جائے گا اور اندرون ملک ہمارے لوگ تاریخیں بڑھواتے رہیں گے۔ اس دوران اگر احتساب کرنے والوں نے اندرونِ ملک لیگی حکومت کے خلاف کوئی سیریس ایکشن لے لیا تو بیرونِ ملک قیادت فوری طور پر عالمی رائے عامہ کی نظروں میں مظلوم بن جائے گی اور سٹیبلشمنٹ اور ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے عالمی دباوٰ کے ذریعئیے پاکستان واپس آکر خود کو اور جمہوریت کو بحال کروالے گی۔ اگر ملک کے اندر موجود قوتوں نے ایسا نہ ہونے دیا تو ملک کے اقتدارِ اعلیٰ کیلئیے کچھ انتہائی سنجیدہ چیلینجیز پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اس سلسلے ہی میں ایم کیو ایم لندن اور دوسرے کھلے ملک دشمن عناصر سے رابطے کیے گئے ہیں۔

مندرجہ بالا دونوں امکانات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ لیکن ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ یعنی احتساب اور مندرجہ بالا دو سیناریوز کا پروپیگنڈہ محض اسی نورا کشتی کا حصہ ہو جو پچھلے دس سال سے جاری ہے اور اس کا مقصد فقط یہی ہو کہ 2018 کے الیکشن تک یہ نورا کشتی جاری رکھی جائے اور پھر اگلے پانچ سال کیلئیے یہ عوام دشمن جمہوریت تازہ دم ہوکر گلشن کا کاروبار جاری رکھے۔

ان تینوں سیناریوز کے علاوہ بھی ایک سیناریو ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ ان تینوں سے زیادہ امکان میں ہے بشرطیکہ محبِ وطن ریاستی ادارے واقعی اس بار پاکستان کو اس کے غلیظ سماجی نظام کی قباحتوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ ملزمان کو ملک سے جانے اس لئِے دیا گیا تاکہ وہ سیاسی شہادت کے خناس سے نکل آئیں۔ اندازہ یہ ہورہا ہے کہ اندر ہی اندر نون لیگ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز گروہوں میں عدالتی احتساب کی سنگینی کا شعور بیدار ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک خاموش مگر پھوٹ پڑنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس پھوٹ کی بنیاد اس امر میں مضمر ہے کہ پہلے تو صرف ڈار صاحب کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ “وعدہ معاف گواہ” بن سکتے ہیں لیکن اب ایک ٹڈی دل ہے جو اس رتبے کو ہتھیانے کی کوشش میں مصروف لگتا ہے۔ معاملہ یوں نظر آتا ہے کہ میاں صاحبان اور ذرداریوں کو بیرون ملک بٹھائے رکھا جائے، کیونکہ ان کا بیرون ملک رہنا آئندہ کی آوٰٹ کم کیلئیے بہتر ہےاور اسی اثنا میں ملک کے اندر لیگی حکومت نیب کو آذادانہ کام کرنے کی سہولت دیدے اس کے بدلے میں بہت سے لیگی اور دوسرے گروہوں کے خاص لوگ مختلف عدالتی معاملات میں وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہوجائیں۔ یعنی جمہوریت بھی چلتی رہے مگر میاں حضرات کے زیرِ نگرانی نہیں بلکہ وعدہ معاف گواہوں کے زیر نگرانی۔ اور یوں بیرونِ ملک بیٹھی ہوئی قیادت کو سیاسی شہادت کا رتبہ بھی نہ ملے۔ پھر جب عدالتیں حق و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مجرموں کو نامزد کریں تو انہیں عوامی جلوس میں ہیرو کی طرح نہیں بلکہ انٹرپول کے ذریعئیے واپس لایا جائے بمع اس تمام رقم کے کہ جومبینہ غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک منتقل ہوئی۔

اس امکان کو ذہن میں رکھیں اور غور کریں تویوں محسوس ہوتا ہے کہ عباسی صاحب اپنے ساتھ ڈار صاحب کوشاید وعدہ معاف کے طور پر ہی لارہے تھے۔ میاں صاحب نے شاید اپنی چھٹی حس کی بنا پراسی وقت پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا باوجود اس کے کہ ٹی۔وی مبصرین انہیں واپس نہ آنے کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔ لیکن میاں صاحب نے تمام خطروں کی پرواہ اس لئیے نہیں کی کیونکہ شاید ان کے خیال میں ملک کے اندر رہ کر عدالتوں کا سامنا کرنے میں شاید ممکنہ وعدہ معافیوں کا رجحان کمزور پڑنے کا امکان ہے۔

اگراحتساب واقعی ہوا چاہتا ہے توہماری سیاست آئندہ چند ہفتوں میں “وعدہ خلاف” اور “وعدہ معاف گواہ” گروہوں میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستیں، “وعدہ خلاف” اور “وعدہ معاف” فارورڈ بلاکس کی صورت اختیار کرسکتی ہیں۔ لگتا ہے ذرداری صاحب پی پی پی میں کسی ممکنہ وعدہ معاف گروہ کے جال سے بچنے کیلئیے باہر بھاگے ہیں اور شاید میاں صاحب ہنگامی طور پر واپس اس لئیے آئے ہیں کہ پی ایم ایل سے ممکنہ وعدہ معاف گواہوں کی علیٰحیدگی کو روک سکیں۔
ایک مسعود محمود کی وعدہ معاف گواہی نے بھٹو صاحب کو شہادت کے درجے پر فائض کردیا تھا۔ یہاں تو لگتا ہے ہمارے سفاک سماجی نظام نے ممکنہ وعدہ معاف گواہوں کی ایک پوری منڈی لا کھڑی کی ہے۔

اب میاں صاحب کو سمجھنا چاہئیے کہ اس سسٹم نے ان کو اور ان کے کنبے کو کس جال میں لاپھنسایا ہے۔ بجائے یہ کہ عوام کے حقوق، اپنی ضد، انا اور اپنے مشیروں کے کھڑے کئے ہوئے نان ایشوز کے نیچے مزید دبائے رکھ کر اللہ کے غیض و غیضب کو بھڑکاتے رہیں، انہیں چاہئِے کہ عوام کے حق میں، اس غاصبانہ اور عوام دشمن نظام ہی کے خلاف خود ہی “وعدہ معاف گواہ” بن جائیں۔ ملک کی عدالتوں یا عوام کی عدالت میں بتائیں کہ وہ کیوں عوام کو آئین کے آرٹیکلز 37/ 38 سی ڈی کے تحت روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، سوشل سیکیورٹی، تحفظ، سستا انصاف، انسانی شرف کے مطابق عزت اور امن نہیں دے سکے؟ عدالتوں کو بتائیں کہ ماڈل ٹاوٰن کے مقتولین و مجروحین کا خون کیوں اتنا سستا تھا کہ اسے شاید یہ سوچ کر بہادیا گیا کہ بعد میں دیت دے کر ان کا منہ بند کردیا جائے گا؟ عدالتوں میں اس کی وجہ بتائیں کہ اس ملک میں ہر سال لاکھوں بچے پانچ سال کی عمر تک پہچنے سے پہلے ہی محض اسہال سے، اور ہزاروں خواتین دوران زچگی معمولی علاج نہ ملنے کے سبب کیوں مر جاتے ہیں؟ کیا یہ انتظامیہ کے ہاتھوں آئین کی متعلقہ شقوں پر عملدرآمد نہ کرکے، ہر سال کیا جانے والا قتلِ عام نہیں؟ آپ نے اس ملک پر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ حکومت کی ہے۔ ان لاچار مقتولین کی تعداد کو اپنے حکمرانی کے سالوں سے ضرب دیجئیے اور بتائیے کہ کیا ان میں سے کسی ایک موت کے بھی آپ ذمے دار نہیں؟ اگر آپ نہیں تو اس سسٹم میں اس قتلِ عام کا کون ذمے دار ہے؟ “مجھے کیوں نکالا؟” جیسے بے بصیرت اور خود غرضانہ سوال کی تکرار کرنے کی بجائے، اپنی وعدہ معاف گواہی میں عوام کی عدالت کو بتائیے کہ عوام کے آئینی حقوق کی بازیابی کیلئیے اپنے دورِ حکمرانی میں آپ ایسا کیا کام کرنا چاہتے تھے جو اِس بد بخت نظام کو پسند نہیں تھا اور جس سے روکنے کیلئیے اس نظام نے آپ کو نکال باہر کیا؟

اس بات پر آپ کو یقین ہونا چاہئیے کہ یہ قوم، اس سسٹم کے خلاف آپ کی وعدہ معاف گواہی پر بصد ہمدردی غور کرنے کو تیار ہے لیکن آپ کی مجروح حاکمانہ انا کے تحت آپ کی چلائی ہوئی کسی ایسی مہم جوئی میں ساتھ دینے کو تیار نہیں جس کی پشت پر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوئی سازش کارفرما ہو۔ تاریخ بہت جلد پاکستان کے گھناوٰنے سماجی نظام اور اس کے ظالم طبقات کے خلاف اپنا فیصلہ سنانے جارہی ہے۔ اب بھی وقت ہے، اپنی آواز کو عوام کے معطل آئینی حقوق کی بازیابی کیلئیے اٹھنے والی آواز کا حصہ بنا لیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. قوم وعدہ معاف گواھ ہو یا وعدہ معاف خلاف، معاف تو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہونی چاہیے مگر افسوس کہ ہمارا مجموعئی شعور اس قدر تنزل درجے پر ہے جہاں فی الحال یہی ممکن ہے کہ ان کو محفوظ راستہ مل جائیگا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: