ا دب میں مرثیہ نگاری کا مقام: یگانہ نجمی

0
  • 33
    Shares

مرثیہ کے آغاز سے متعلق کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے مرثیہ آدم علیہ اسلام نے اپنے بیٹے ہابیل کے قابیل کے ہاتھوں قتل پر جو الفاظ کہے وہ دنیا کا سب سے پہلا مرثیہ تھا۔اس کے بعد عرب میں مرثیہ نگاری کا رواج ہوا اسلام سے قبل بھی عرب زبان میںمرثیے لکھے گئے۔لیکن ان میں سے بہت کم مراثی کا سراغ ملتا ہے تاہم اس زمانے میں عرب میں تکلف وبناوٹ نہ تھی۔لوگ سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور سادہ انداز سے گفتگو کرتے تھے اس لیے اس زمانے کے مرثیے میں سادگی کا عنصر نمایاں ہے قیس بن مساعدۃ الایادی کا وہ مرثیہ جواس نے اپنے دو بھائیوں کی قبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا۔

خلیلی ھبا طالماقدر تما اجد کمالا تفضیان ِ کراکما
ترجمہ ــ:(میرے دونوں دوستو اٹھو تم کافی دیرسے سو رہے ہو۔لیکن تمھیں اس حال میں پاتا ہوں کیا تمھاری نیند پوری نہیں ہوئی)

ظہور اسلام کے بعد جو مرثیے لکھے گئے ان میں فنی محاسن کا خاص طور پر خیال رکھا گیا۔ جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال پر کہے تھے۔ان میں خلوص،فن اور محبت کے عناصر نمایاں ہیں اور اس سے مرثیہ نگار کی محبت اور رشتے کا بھی پتا چلتا ہے۔

عربی ادب سے مرثیہ سفر کر کے ایران میں داخل ہوا تو فارسی شعرا ء نے اس صنف کو یوں اپنایا کہ اس میں گراں قدر اضافہ کئے اور مرثیہ نگاری کے اصول مرتب کئے اور اس طرح مرثیہ نگاری کے فن کو عروج بخشا۔انھوں نے رزمیہ واقعات کو بھی مرثیہ کا موضوع بنایااور مرثیہ نگاری میں خاصی وسعت پیدا کی۔اس کے بعد اردومرثیہ نگاروں نے عربی اور فارسی کی روائیت کو قائم رکھاجو ان سے قبل فارسی اور عربی میں مروج تھی۔ اگر چہ مرثیہ ہر مرنے والے کی یاد اور غم میںلکھا جاتا ہے جس میں اسکے محاسن اور اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔مگر اب اس صنف کا اطلاق صرف واقعات ِ کربلا،شہادت حضرت امام حسین اور اہل بیت کی قربانیوں پر ہوتا ہے۔چنانچہ مرثیہ کا لفظ سنتے ہی کربلا کے واقعات نگاہوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔اٹھارویں صدی کے نصف اول میں سکندر،گدا اور مسکین مرثیہ نگاری میں مشہور ہوئے۔ان کے بعد آبرو، میر ضاحک، حلام،ہمدانی مصحفی،نظیر اکبر آبادی،قائم چاند پوری، میر تقی میر،مرزارفیع سودا نے خوب صورت اور دلنشیں اور دلدوز مرثیہ لکھے۔انیسویں صدی کے آغاز میں میر مظفر حسین ضمیر،میر مستحسن خلیق نے مرثیہ نگاری کو بہت وسعت دی۔ضمیر نے دہلی کی زبان ٹکسالی اور مضامین کی جدت وندرت کی وجہ سے واقعات کربلا کو بڑی دلکش اندازمیں بیان کیا۔مثلاََاس کا مرثیہ ہے۔

سپیدہ صبح کا جب دن میں آشکارہ ہوا میاں لشکرکہیں شور کار زار ہوا
ہر ایک ادھر بھی مسلح رفیق یار ہوا سوار دوش رسول ﷺخدا سوار ہوا
علم عدو نے جو میدان میں آن کھول دیا
نشان مرتضوی نے نشان کھول دیا

چونکہ مرثیہ شروع میں ایک مخصوص دائرہ میں محدود تھا۔اوراس کی قدر روز بہ روز زیادہ ہوتی جاتی تھی۔لہذا بعد میں آنے والے کچھ شعراء کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہ تھا کہ مرثیہ میں کچھ جدت پیدا کریں رفتہ رفتہ مرثیہ کی لے میں تیزی آتی گئی۔ حقیقت یہ کہ اس نئی نظم سے اردو شاعری میںبہت وسعت پیدا ہوئی۔اس طرز میں سب سے پہلے میر ضمیر اور میر خلیق نے کئے اور مرثیے لکھے۔انھو ن نے مرثیہ کو مسدس کی شکل میں لکھا۔انھوں نے کمال فنکاری سے حضرت امام حسین کا حلیہ مبارک اشعار میںپیش کیا جذبات نگاری میں تو انھوں نے قلم توڑ کر رکھ دیا۔نہ کوئی قلم پکڑے اور نہ ہی ان جیسے مرثیے لکھ سکے۔

میر ضمیر اورمیر خلیق کے بعدان کے شاگردوں مرزا سلامت علی دبیر اور ببر علی انیس نے مرثیہ نگاری کو اوج کمال پر پہنچایا انھوں نے مرثیے میں ایسا کمال پیدا کیا کہ مرثیہ ان دونوں سے شروع ہوتا ہے اور ان پرہی ختم ہوجاتا ہے۔ان دونوں شاعروں کے بعد مرثیہ گوئی میں کسی شاعر کا نام لینا سورج کو چراغ دکھانے کے مصداق ہے۔مرزابیر کا کلام دقیق و نمکین ہے،

آمد ہے کربلا کے نیستاں میں شیر کی                   ڈیوڑھی سے چل چکی ہے سواری دلیر کی

جبکہ میر انیس کا کلام فصیح وشیریں ہے میر انیس جو خداداد قابلیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ چار پشتوں سے مرثیہ لکھتے آرہے تھے۔ زبان وبیان پر عبور رکھتے تھے۔مرثیہ کو بام عرو ج پر پہنچادیا۔ آج کل یورپ میں شاعر کے کمال کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس معیار کو اگرکمال فن قرار دیں تومیر انیس کو اور شعرا ء میں سب سے بہتر اور ماننا پڑیگا۔ اگر چہ نظیراکبر آبادی نے شاید میرانیس سے بھی زیادہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔مگر نظیر کی زبان کو اہل زبان کم مانتے ہیںشعرا ء میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ بگڑا شاعر مرثیہ نگار بن جاتا ہے۔مگر انیس نے اس قول کو باطل کر دیاہے۔

میر انیس کے مر ثیوں میں تسلسل بیان ایک حیرت انگیزچیزہے۔میر انیس ایک مشہور مورخ کی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ جن واقعات کو انھوں نظم میں باندھا ہے وہ من وعن ہر گز وقوع پذیر نہیں ہوئے ان کا وجود اگرہے تو شاعرکے تخیل میں ہے۔میر انیس کے کمالِ شاعری کابڑا جوہر یہ ہے کہ ان کے تمام کلام میں غیر فصیح الفاظ نہایت کم پائے جاتے ہیں وہ ہر موقعے پر فصیح سے فصیح الفاظ ڈھونڈکر لاتے ہیں۔

گلدستہ معنی کونئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں

انھوں نے اپنے مرثیے میں جو منظر کشی کی ہے اور جس طرح اس صبح کا بیان کیا ہے وہ پڑھنے والے کے دل میں اس واقعے کی یاد تازہ کردیتا ہے۔
پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی                   ساحل سے سر پٹختی تھیں موجیں فرات کی

ان کے بعد جن شعراء نے اس صنف میں نام پیدا کیا ان میں سے مرزا عشق، مرزا انس، میرنفیس کے نام نمایاں ہیں۔

دور حاضر میں بھی جن شعراء نے اس صنف میں اور فن میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان میں جوشح ملیح آبادی بادشاہ مرثیہ نے جو مرثیے کہے اور جس زبان کا استعمال کیا وہ انھیں کا خاصہ ہے۔

ذرات آبدیدہ تھے صحرا اداس تھا                       گرداب اشک بار تھے دریا اداس تھا
فرش زمین وعرش معلی اداس تھا                      روئے مبین فاطمہ زہرا اداس تھا
ہر ذرہ قتل گاہ کا مائل تھا بین پر
تاریخ کی نگاہ لگی تھی حسین پر

آل رضا، نسیم امروہی، نجم آفندی،جمیل مظہری، آغا سکندر، وحیدالحسن ہاشمی، اختر شیرانی، حفیظ جالندھری،حمایت علی شاعر یہ سب وہ لوگ ہیں جنھوں نے مرثیہ نگاری کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

اقبال نے کہا تھا۔

نہایت سادہ و رنگیں ہے داستان حرم                  نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسمعیل

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: