ڈاکٹر اقبالؒ اور کشمیر: رمیض بٹ

1
  • 112
    Shares

  ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کے کلام میں کہیں کہیں لگتا ہے کہ اقبالؒ کشمیر سے روحانی تعلق محسوس کرتے تھے۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اقبال کے آباءو اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔ اقبال کے فکر و نظریہ نے کشمیر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دئے۔ اہل کشمیر کے دلوں میں اقبال کے لئے جو عقیدت اور محبت کا جذبہ موجود ہے اسکا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔کشمیر کے نوجوانوں، بزرگوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پروفیسروں، گویا ہر ایک طبقہ سے وابستہ انسان نے اقبال کے بارے میں کچھ ناکچھ پڑھا ہوگا۔ ذکر اقبال اہل کشمیر کے لئے ایک موضوع نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے۔ تعلیمی اداروں کی بات کرلیں توہمیں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اقبال کے نام پر درجنوں تعلیمی ادارے اور لائبریاں ہیں۔اہل کشمیر کے لئے ذکر اقبال ذکر محبوب کی حیثیت رکھتا ہے۔اقبال نے نظم “گل رحیابان جنت کشمیر” لکھ کر اپنے کشمیری نثراد ہونے پر فخر کیا ہے۔فقیر وحیدالدین اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر اقبال ؒ کے حوالے سے کچھ اس طرح سے رقم طراز ہیں کہ ”جناب ممتاز حسن فرماتے ہیں کہ ایک روز علامہ اقبال کی صحبت میں کشمیر کی سیاسی تحریک پر گفتگو ہو رہی تھی تو علامہ اقبال فرمانے لگے کہ میں نے جو کشمیر کے متعلق نظم نشاط باغ میں بیٹھ کر لکھی تھی اس میں ریشم ساز کارخانوں اور کاریگروں کا ذکر شامل تھا. عجیب بات یہ ہے کہ بعد میں جب کشمیر کی سیاسی تحریک وجود میں آئی تو اسکی ابتدءبھی ایک ریشم کارخانے میں کاریگروں کی بغاوت سے ہوی۔علامہ اقبال کی شہرہ آفاق تصنیف “پیام مشرق” میں کشمیر کے بارے میں چند اشعارلکھے گئے ہیں۔اقبال کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلسفی شعرا میں ہوتا ہے۔ یوں تو ان پر دنیا کے متعدد مصنفین نے اپنی اپنی زبانوں میں مقالے بھی لکھے ہیں اور کتابیں بھی اور ان پر دنیا کے کئی طالب علم ریسرچ بھی کر رہیں ہیں۔ انکے کلام کا ترجمہ بھی کیا ہے اور انکی تفسیریں بھی لکھی ہیں انکی شخصیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور سوانح حیات پر بھی. لیکن سب سے پہلے اقبال پر جو ٹھوس اور جامع نوعیت کا کام گیا تھا وہ اقبال کی سب سے پہلی سوانح حیات جو منشی محمود الدین فوق نے لکھی. بیسویں صدی کی پہلی دہائی کی بات ہے کہ منشی محمود الدین فوق لاہور سے ایک ماہانہ میگزین شائع کیا کرتے تھے انہوں نے اس کے اپریل کے پہلے شمارے میں اقبال کی حالات زندگی لکھنے اور اس ضمن میں اولیت کا شرف حاصل کیا.۔ اقبال کے بارے میں سب سے پہلی کتاب جو اردو میں لکھی گئی تھی وہ شرف بھی ایک مصنف مولوی احمد دین ایڈووکیٹ کو حاصل ہوا۔منشی فوق اور مولوی احمد دین کا تعلق بھی حسن اتفاق سے کشمیر سے تھا۔

اقبال اگر چہ سارے جہاں کو اپنا وطن سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ سارے جہاں میں کشمیر کا ایک چھوٹا سا ملک جو 222284 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کی کل آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ ہے تاہم آپ نے اپنے آبائی وطن کشمیر کے مظلوم و محکوم عوام کے درد و کرب کو اپنے دل میں جگہ دیکر اپنی شاعری کے ذریعے سے اس کا اظہار کیا ہے وہ ارض کشمیر کی عوام کے لئے سرما یہ افتخار ہے۔ جو نظمیں آپکی سب سے پہلے کسی اخبار یا رسالے کی زینت بنی وہ بھی کشمیر اور کشمیریوں کے متعلق ہیں۔ اقبال اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ کشمیر آنے کی خواہش ایک مدت سے تھی انکی یہ خواہش جون۱۲۹۱ء میں پوری ہوئی وجہ سفر یہ تھا کہ منشی سراج الدین نے انہیں ایک معاملے میں قانونی مشاورت کے لئے بلایا تھا.اگست ۱۲۹۱ء وہ تاریخی مہینہ ہے جب اقبال آخری بار کشمیر تشریف لائے اور اس سر زمین کا درد بھرے دل سے مطالعہ کیا جسکے تاثرات انکے کلام میں موجود ہیں اس سفر کے متعلق خاص بات یہ ہے کہ جب مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو معلوم ہوا کہ اقبال کشمیر تشریف لائے ہیں تو انہوں نے فوری طور پر اقبال کو دعوت نامہ پیش کیا جو اقبال نے بخوشی قبول کیا اور وہ ایک دو روز مہاراجہ کے مہمان بنے۔ اقبال کے اس سفر کا حاصل انکی نظم “ساقی نامہ” میں بالخصوص کشمیر کے بارے میں جو انہوں نے نشاط باغ میں لکھا ہے۔

ازاں مے فشاں قطرہ بر کشمیری
کہ خاکسترش آفریند سرارے

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ایسا کشمیری کالم کسی بٹ کی طرف سےہی آنا بنتا تھا۔ مختصر مگر اچھا مضمون پڑھنے کو ملا۔ صاحبِ تحریر کے لیے بہت سی داد۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: