زندگی خوبصورت ہے — یوں ملتی ہے اصلی خوشی : ثناء غوری

0
  • 88
    Shares

آج سے دانش کے قارئین سے مخاطب ہورہی ہوں، اس کا ایک خاص مقصد ہے… ارے ارے ڈریے نہیں میں یہ اعلان نہیں کرنے جا رہی کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔ کینسر ہوا ضرور ہے لیکن یہ کینسر معاشرے کے ناسوروں کو ختم کرنے کی خواہش لیے میرے قلم کے9 سال کے سفر نے گھاؤ لگا لگا کردیا ہے۔ اب یہ سوچتی ہوں نہ جانے میری کوششیں کامیاب ہوں گی بھی یا یوں ہی جہانِ فانی سے کوچ کیا جائے گا۔ بہرحال کہنا کچھ یوں تھا کہ 2009 سے 2017 تک میری بہت سی تحریریں آپ کی نظر سے گزریں، جن میں عالمی سیاست، ملکی سیاست، سوشل میڈیا، سوشل ایشوز، خواتین اور بچوں سے متعلق موضوعات شامل رہے۔ لیکن اب مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ ہمارا معاشرہ جس ڈگر پر چل رہا ہے وہاں ایک عام فرد کی تربیت ناگزیر ہوگئی ہے۔ فرد واحد راہنمائی چاہتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنا چاہتا ہے لیکن اکثر یہ کوششیں ناکام ہی رہتی ہیں۔ میں نے یہ عزم کیا ہے کہ میں اپنی تحریر کے ذریعے ایک عام فرد کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں ایک بہتر شہری کے طور پر سامنے لانے میں مدد کروں گی۔ اس سلسلے میں "زندگی خوبصورت ہے” ہے کہ عنوان سے دانش پہ ایک نیا سلسلہ شروع کررہی ہوں۔ آپ کی توجہ اور رائے میرے لیے اہم ہوگی۔  ثناء غوری


اس تیز رفتار دور میں مصروفیات اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی لگن نے ہر شخص کو اپنی ذات تک محدود کر کے تنہا کردیا ہے۔ جسے دیکھیے ایک اداس کہانی آنکھوں سے جھلکتی ہے، جسے حساس لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے کہ جادو کی چھڑی ہاتھ میں آجائے اور اس دنیا سے تمام غم چھومنتر کہتے ہی غائب ہو جائیں۔ میرا تعلق پاکستان کے ایک بڑے شہر سے ہے۔ اس شہر کی مصروف زندگی رات دن نہ جانے کتنے ہی کھیل تماشے لیے ہوتی ہے۔ انسانوں کے اس جنگل میں ہر شخص مصروف ہے، اپنے آپ میں مگن اور اپنے اندر کتنے ہی غموں کو چھپائے ہوئے، کیوںکہ اسے لگتا ہے کہ وہ تنہا ہے۔ وہ کسی سے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ لب کشائی کی بھی تب بھی شاید اسے رد کردیا جائے۔

سو خوش رہنے کے لیے اکثر چھوٹی چھوٹی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، جس سے نتائج تو برآمد ہوتے ہیں لیکن یہ نتائج بس وقتی نوعیت کی خوشی دے جاتے ہیں، جیسے ہی آنکھوں سے وہ منظر غائب ہوا، چند لمحے گزرے اور پھر اسی اداسی نے ڈیرا ڈال لیا۔ کوئی دوستوں کی محفل میں سکون حاصل کرتا ہے کوئی اپنے قریبی رشتے دار کے ساتھ وقت گزارتا ہے اور کبھی کبھی سیرو تفریح کا راستہ لیا جاتا ہے۔

دفتر کی تھکن، اچھے برے رویے، سماعتوں پر بہت سی آوازوں کا بوجھ اٹھانے کے بعد گھر کی طرف واپسی کا سفر کرتے ہوئے اکثر لوگ موسیقی سنتے ہیں۔ کوئی پبلک ٹرانسپورٹ میں تو کوئی اپنے سیل فون کے ذریعے اور کوئی اپنی گاڑی میں۔ موسیقی اکثر وقتی طور پر سب کچھ بھلا دیتی ہے اور انسان خود کو ہشاش بشاش اور اپنے من کا مالک سمجھتا ہے۔

وہ خواتین جو فکرِروزگار سے آزاد ہوتی ہیں، کچھ وقت ٹی وی اسکرین کے سامنے گزارکر دل کو سکون دیتی ہیں اور اس دنیا کے جھمیلوں سے کچھ وقت نکال کر مطمئن ہوجاتی ہیں۔ یہ تو بہت چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں۔ وقتی خوشی پانے کے لیے انسان کسی حد تک بھی چلا جاتا ہے وقتی لذت چند ساعتوں کا سکون، اور جیسے ہی منظر بدلا سب ختم۔۔۔!

اکثر تو گناہ اور ثواب کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے ذرا سا سکون حاصل کرنے کے لیے خودفریبی انسان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
اب سوال یہ کہ اگر یہ وقتی خوشی ہے تو اصل خوشی کیسے حاصل ہو، جو دیرپا ہو، جو سکون دے، جو شخصیت کی تعمیر کرے۔ ظاہر ہے انسان مطمئن ہوگا تبھی اس کی صلاحیتیں بڑھیں گی، تخلیق کے دروازے کھلیں گے۔

دورِحاضر کا تنہا انسان سب سے پہلے تو خود اپنے اوپر ایک خاص کیفیت طاری کرتا ہے اور خودرحمی کی دہلیز پر بیٹھ جاتا ہے۔ ہر ساعت بس سوچتا ہے کہ یہ فقط میرے ساتھ ہی کیوں ہوا اس طرح اُس کے باطن کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجاتی ہے۔ دکھ اور ملال دل میں ایک دفعہ بیٹھ جائیں تو ان کا نکلنا مشکل ہے۔ انسان پہروں اور بعض اوقات مہینوں سالوں اِسی کیفیت میں رہتا ہے اور بہت سے کیسسز میں تو عمر گزر جاتی ہے، لیکن ملال کی کیفیت ختم نہیں ہوتی۔ یوں ہوتا تو ایسا ہوجاتا،
وہ ہوجاتا تو یہ کیوں ہوتا،
کاش میں ایسا ہوتا،
اے کاش مجھ میں یہ صلاحیت ہوتی، وغیرہ وغیرہ

ہماری وقتی منصوبہ بندی اور وقتی آسودگی اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے اندر تلاش نہیں کرتے کہ آخر ہماری ذات کس چیز سے مطمئن ہوتی ہے۔
کسی چیز کا نہ ہونا، اور کسی انسان کا نہ ملنا، مال رتبہ اور مرتبہ کا نہ ہونا آپ کے لیے دُکھ کا باعث تو ہے، لیکن ساتھ ہی بھی تو سوچیے کہ آپ کے پاس ایسا کیا ہے جو دوسروں کے پاس نہیں۔

اپنا مستقل سکون اپنے اندر تلاش کیجیے۔ خیالات کی بُنت آپ کو ان مناظر کے دھندلے اسکیچ بناکر دکھاتی چلی جائے گی، ان چیزوں اور لوگوں کے اسکیچ جو آپ کی خوشی ہیں اور وہ کام جو آپ کے دُکھوں کو رفتہ رفتہ ختم کریں گے۔ فقط قوتِ ارادی کی ضرورت ہے۔ کسی کتاب میں لکھا تھا ’’بہادر وہ ہے جو پختہ عزم کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دیتا ہے اور اُن سے بھر پور فائدہ اٹھاتا ہے۔‘‘

اب جو گزر گیا سو گزر گیا۔ ساری عمر اس کیفیت میں رہنے سے کیا حاصل۔ اپنے غموں کو اپنی طاقت بنا لیجیے، جو نہیں ہے اُس پر ماتم کرنے کے بجائے جو ہے اُسے مزید بہتر بنائیے۔ پھر دیکھیے زندگی کیسے رنگ بدلتی ہے۔ مصائب میں خوشی تلاش کرنا آپ ہی پر منحصر ہے۔ جسے یقیناً آپ آج ہی سے کریں گے۔ ایسا کیوں ہے کہ دوستوں اور عزیزوں کی محفل میں آپ کی آواز وہ تاثر نہیں چھوڑتی جو کسی اور کی آواز دیتی ہے، ایسا کیوں کہ آپ کا قہقہہ کہیں کھو جاتا ہے۔۔۔۔! یہ اس لیے کہ آپ اپنے باطن سے مطمئن نہیں۔ آپ کے اندر کی دنیا قحط زدہ ہے۔ تو سن لیجیے یہ قحط زدہ دنیا آپ کی اپنی کوششوں سے ہی ہری بھری ہو سکتی ہے۔ اور یہ ہری بھری دنیا جو سکون کے پھل آپ کو دے گی اُس سے آپ کے ارد گرد کے لوگ بھی مطمئن ہوں گے۔ یقیناً آپ لوگوں کی توجہ کا محور بھی بنیں گے اور تاحیات خوشی بھی حاصل ہوگی۔ اللہ تعالی آپ کو سکون عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: