ہمارے معاشرے میں جنسی رجحانات: Lack of Libido OR Lack of Love — فارینہ الماس

3

مشرقی معاشرے میں جنس ایک حساس موضوع رہا ہے جس پر گفتگو، تحقیق اور تحریر تو ہر دور میں ہوتی رہی ہے لیکن اس پر حیا کا ایک غیر مرئی پردہ صدیوں سے موجود رہا ہے۔ خود مغربی معاشروں میں انیسویں صدی کے اختتام تک جنسی موضوعات بالکل مشرق کی ہی طرح شجر ممنوعی تھے لیکن بیسویں صدی کے اواییل میں ایک عظیم مکالمہ کے باعث جنس کو پر اسراریت سے باہر لانے کیلیے تعلیم عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا جسکے نتیجے میں مغربی فضا میں موجود آزادی میسر آی ہے لیکن اس آزادی کا مطلب ایک بے ڈھنگ معاشرہ نہیں ہے۔ یہ آزادی جنس کے موضوع کو سمجھنے، اپنے لیے جیون ساتھی کو تلاش کرنے اور ایک صحت مندانہ زندگی گزارنے کے لیے ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تک اکیڈیمیا میں یہ مکالمہ شروع ہی نہیں ہوا کہ آیا جنس پہ گفتگو کلاس روم میں یا اخبارات مین ہونی چاہیے یا کس قدر ہونی چاہیے پھر بھی سلیم اختر جیسے دانشوروں نے اس حساس موضوع پر قلم آرائی کی ہے لیکن اسے ادب کے دائرے سے باہر نہیں آنے دیا۔ دانش پر یہ تحریر بھی اس لیے شایع کی جا رہی ہے کہ اس موضوع کو صحت مندانہ طور پر سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔ ادارہ کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا لازم نہیں ہے۔ (ایڈیٹر)


جنس کے موضوع پر کچھ رپورٹیں، بے باکی اور شتر بے مہاری میں اپنا ملکہ رکھتی ہیں۔ کبھی تو یہ بے باکی طبیعت پر گراں گزرتی ہے لیکن کبھی کبھی اس کے باطن میں موجود تلخی آنے والے وقتوں میں انسانی معاشرے کے مزید کھل کر سامنے آنے والے سنگین اورگھمبیر نفسیاتی و جذباتی مسائل کا عندیہ دیتی محسوس ہوتی ہے۔ ان مسائل کی دستک خواہ ابھی ہمارے در پر سنائی نہ بھی دی گئی ہو تو بھی دنیا کے گلوبل ویلج بن جانے سے پرائے مسئلے کس وقت سانجھے ہوجائیں پتہ ہی نہیں چلتا۔ پچھلے دنوں بی بی سی پر ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ جاپان میں نوجوان جنسی تعلقات میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ پھر ایک نئی رپورٹ کی اشاعت ہوئی کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں سیکس میں عدم دلچسپی کا خطرہ دوگنا ہو گیا۔یہ رپورٹ بی ایم جی اوپن نامی جریدے میں پانچ ہزار مردوں اور ساڑھے چھ ہزار خواتین کے تجربات سے اخذ کی گئی۔ گویا اس رپورٹ کا تعلق ہمارے معاشرے سے نہیں تھا۔

جاپان یا برطانیہ میں ایسی تحقیق، جنسی امور سے متعلق مختص تحقیقاتی ادارے کرواتے ہیں۔جاپان میں تو ایسے سروے وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں جو شادی شدہ نہیں بلکہ کنوارے نوجوانوں سے انٹرویوز کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔2010 میں کروائے جانے والے ایک سروے کے مطابق جاپان میں تیس سال سے زیادہ عمر کے تقریباً ایک تہائی سے زیادہ مردوں کا ابھی تک کسی لڑکی سے کوئی جنسی ربط قائم نہیں ہو سکا۔ ایسے مردوں کو جاپان میں ’’یارا میسو‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں چالیس فیصد نوجوان مرد و خواتین بنا ان تعلقات کے ہیں۔ اور وہ ان تعلقات میں دلچسپی رکھتے بھی نہیں۔ 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان میں نوجوانوں کی سیکس سے عدم دلچسپی کے علاوہ وہاں شادی شدہ خواتین اور مرد بھی اس تعلق میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اصل تشویش کا باعث یہی حقیقت ہے جس کے نتیجے میں آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ 2015 میں 1,008,000 بچے پیدا ہوئے تو مرنے والوں کی تعداد 1,302,000 رہی۔ کہا جاتا ہے کہ 2040 تک 896 گاوں اور قصبے ایسے ہیں جو صفحہء ہستی سے مٹ جائیں گے۔ کیونکہ ان میں رہنے والے لوگ ہی نہیں رہیں گے۔ جاپان میں ایسی عدم دلچسپی کی بڑی وجہ وہ مادیت پرستی ہے جس نے انسان کے روحانی اور جذباتی رویوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ وہاں کم آمدنی والے افراد معاشرے میں مس فٹ سمجھے جاتے ہیں۔ معاشی طور پر کمزور مرد خود کو ایسے تعلق کے قابل نہیں سمجھتے۔ ان کا ماننا ہے کہ لڑکیاں انہیں کم تر سمجھ کر ان سے دوستی سے ہچکچاتی ہیں۔اور یہی احساس کمتری انہیں ایک زبردست ذہنی تناو کا شکار بنا دیتا ہے۔ دوسری طرف خود خواتین بھی معاشی تگ و دو میں اس قدر مصروف رہتی ہیں کہ اس جذبے یا تعلق کی اپنی زندگی میں ضرورت محسوس ہی نہیں کرتیں۔ کچھ اچھی کمپنیاں بھی شادی شدہ خواتین کو ملازمت دینے سے ہچکچاتی ہیں اور جو شادی شدہ خواتین کمپنی کی ملازمت پر فائز ہوتی ہیں ان پر بچے نہ پیدا کرنے کی پابندی بھی لگائی جاتی ہے۔

جب عورت محض ایک جسم بن کر رہ جائے تو اس کے کل وجود کی کشش معدوم پڑجاتی ہے۔اس کی ذات کا ہنر اور اس کے انداز و کردار کا سبھاو، اس کی طلسماتی چاہت، اور اس کی پرکشش گفتگو کا سحر سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔

اب یورپ کی مثال لیں جہاں سیکس ایک عام شے سمجھی جاتی ہے۔ یہاں معاملہ جاپان سے قدرے مختلف ہے کیونکہ اکثر نوجوان ابتدائی عمر میں ہی سیکس کے تجربات سے گزر جاتے ہیں۔ جرمنی میں ایک ریسرچ کے دوران اڑھائی ہزار لوگوں نے بتایا کہ اپنی جنسی زندگی کا آغاز وہ دس برس کی عمر میں ہی کر چکے تھے۔ مغرب میں کم عمر اور بن بیاہے والدین کی تعداد بڑھنے کی وجہ ایسے ہی تجربات ہیں۔ وقت سے بہت پہلے ہونے والے تجربات ہی کی وجہ سے ایک خاص عمر تک پہنچنے سے بھی بہت پہلے وہ اس بے اختیاری نظام سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ منظر کتنا ہی دلکش اور دل آویز کیوں نہ ہو، اگر تسلسل سے نگاہوں میں رہے تو کبھی نہ کبھی تو اپنی دلکشی اور دل آویزی کھو ہی بیٹھتا ہے۔ صرف مغرب میں ہی نہیں بلکہ ان تمام خطوں میں بھی جہاں عورت کو ضرورت سے زیادہ عیاں اور عریاں کیا گیا ہے وہاں اس کی کشش کے ماند پڑ نے کے امکانات بھی بڑھنے لگے۔ اس کا حسن بے مثال ہو کر بھی دلربا معلوم نہیں رہا۔ جاپان میں عورت کو ایک انسان کی بجائے ایک جنسی شے بنائے جانے سے بھی وہ اپنی کشش کھونے لگی یہی وجہ ہے کہ اسکی کشش بحال کرنے کے مصنوعی اور دلفریب طریقے اپنائے جانے لگے۔ سیکس بارز اور پورن انڈسٹری کا سہارا لیا گیا۔ انٹرنیٹ کے ذریعے اس کو عام کیا گیا۔ لیکن یہ حربے اسے محض دل لبھانے یا ہوس کا سامان کرنے کی حد تک کام آسکے۔اس کا دل اور جذبات، احساس محبت کی تاثیر سے خالی ہوتے رہے۔ جب عورت محض ایک جسم بن کر رہ جائے تو اس کے کل وجود کی کشش معدوم پڑجاتی ہے۔ اس کی ذات کا ہنر اور اس کے انداز و کردار کا سبھاو، اس کی طلسماتی چاہت، اور اس کی پرکشش گفتگو کا سحر سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ وہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتی سوائے اک جسم کے۔ ایسا جسم جس کی جگہ کوئی بھی دوسرا جسم لے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں عورت نے اپنے وجود کی کشش کھو دی وہاں اس کا متبادل سیکس ڈولز اورصنف نازک کے جسمانی خدوخال کے حامل پر کشش، دلفریب، مصنوعی حسن و زیبائش سے مالامال سیکس روبوٹس لینے لگے۔ کیونکہ وہاں مردوں کو صرف جسم ہی تو چاہئے،جذبات اور احساس محبت سے خالی جسم۔ یہاں تک کہ جاپان میں شادی شدہ مرد بھی بیویوں کے ہوتے ہوئے، ان ڈولز اور روبوٹس کو اپنی زندگی میں ذیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ اس کشش میں عورت کا اپنا حسن گنوانا کچھ اس طور بھی دنیا کے سامنے آیا ہے کہ اکثر افراد میں ہم جنس پرستی کے نئے رحجان کو بڑھاوا ملنے لگا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹوں سے اثر پزیری لیتے ہوئے کچھ مقامی لکھاریوں نے بھی پاکستان کی صورتحال کو بنا کسی ادارے کے اعداد و شمار کے اپنی ریسرچ بیان کر دی۔جس کے مطابق ’’پاکستانی خواتین بھی جنسی تعلقات میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگی ہیں‘‘۔ اس موضوع پر لکھتے ہوئے جہاں اسباب بیان کئے گئے وہیں اسے ایک بیماری قرار دیتے ہوئے اس کی ادویات بھی تجویز کر دی گئیں۔ گویا 13 کروڑ کے اعدادوشمار سے 21 کروڑ کی آبادی پر آجانے والے ملک میں ایسا گمان کیا جا رہا ہے کہ خواتین اپنے شوہروں میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگی ہیں۔ اور اسی عمل کے ردعمل کے طور پر مرد ایسی قانون سازی میں دلچسپی لینے لگے ہیں جن کے تحت قابو میں نہ آنے والی بیویوں کو جسمانی سزا دی جا سکے۔ مردوں کے ایک مخصوص طبقے کے ذہنی مسائل کو تمام معاشرے کی مجموعی سوچ کی مثال بنا دینا کسی طور درست نہیں۔ یہاں بات جاپان اور مغرب میں عورت کی بدلتی حیثیت و اہمیت پر ہو رہی تھی لیکن ان تجزیوں اور تجربات کو بنیاد بنا کر پاکستانی جنسی تعلقات تک اسے کھینچ لایا گیا۔ اس بحث کے علاوہ تو اس سلسلے میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ضرورت ان عقائد اور اقداری قدروں کی وضاحت کی ہے جو مغرب میں اور مشرق میں متفرق ہیں۔ وہاں نوجوان لڑکے، لڑکیوں کا جنسی دلچسپی سے الگ ہونا باعث تشویش ہے تو یہاں شادی سے پہلے نوجوانوں کے جنسی تعلقات نہ صرف باعث خفت و خجالت بلکہ ایک بڑا گناہ سمجھے جاتے ہیں۔

جنسی تعلق گو کہ اس کائنات کے قائم دائم رہنے کا باعث ہے لیکن یہ تعلق کبھی بھی اس قلبی و روحانی تعلق کا نعم البدل نہیں ہو سکتا جو انسان سے انسان کو اور اک روح کو دوسری روح سے جوڑتا ہے۔جسم بر انگیختہ جذ بات و حرکات کا سامان کر سکتا ہے۔انسان کی مادی و نفسانی ضروریات کو بہم پہنچاسکتا ہے لیکن روح انسان کو اک دوسرے انسان کے دکھ،درد،جذبات و خیالات کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ ایسے انمٹ اور بے قرار جذبے دیتی ہے جو انسان کوتخلیق، تسخیر اور تعمیر کی طرف مائل کرتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جنس محض ایک حیوانی جذبہ بن کر رہ جاتی ہے جو ضرورت سے ذیادہ ہو تو جذبوں کو ہی بے ذائقہ کر دیتی ہے۔ مشرق کی عورت کو جن مسائل اور گھمبیر گھریلو الجھنوں نے گھیر رکھا ہے کچھ ایسے ہی مسائل ماضی میں بھی عورت کے ساتھ رہے۔ ماضی میں عورت دو یا تین کی بجائے آٹھ یا دس بچے پیدا کیا کرتی تھی لیکن کسی ’’لیک آف لبیڈومیں زیادتی‘‘ نامی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتی تھی کہ اسے جنسی ادویات کی ضرورت پڑے۔ لیبیڈو نفسیات کی ایک اصطلاح ہے جسے جنسی خواہش کی توانای کے طور پر فراییڈ نے متعارف کرایا تھا۔ اسکی کمی یا زیادتی انسان کی شخصیت اور رویے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لبیڈو کی کمی ہوتی ہے یا زیادتی۔۔۔۔ لبیڈو کی کمی میں زیادتی کوی چیز نہیں ہوتی۔ ہمارے یہاں نا تو جنس عام ہے نا جنسی رویے اتنے ماند پڑے ہیں کہ آبادی کو ہی نقصان ہونے لگے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ مرد کے جنسی رویے پہلے سے زیادہ جارحانہ اور سنگدلانہ ہو چکے ہیں جس کی بڑی وجہ یہاں پورنو گرافی اور پورن فلموں کی انڈسڑی کا متعارف ہونا ہے۔ روایتی معاشرہ ہونے کی وجہ سے جب مرد کی بھڑاس نکالنے کو گھر بیوی موجود نہ ہو تو وہ اسے غیر انسانی اور غیر مذہبی و اقداری طور پر باہر کی عورت پر اس کی خواہش کے مطابق یا اس کی خواہش کے بغیر نکالنے لگتا ہے۔ اور ایسے جنسی حملوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے جو معاشرے کو، بے قصور اور کمزور لڑکیوں کے لئے ایک جہنم بنا دیتا ہے۔

انٹرنیٹ کی کچھ خباثتیں مرد وں کو ایسے ہی متشدد جنسی رویوں میں مبتلا کر رہی ہیں۔ وہ عورت کو محبت کا اسیر کرنے کی بجائے طاقت سے تسخیر کرنے کے فارمولے پر عمل پیرا ہونے لگا ہے۔ بہت ذیادہ تعداد تو ان شوہروں کی ہے جو گھر میں بیوی کے وجود سے ہی بے خبر ہو کر کمپیوٹر یا موبائل پر غیر خواتین کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنی طرف مائل کرنے کی کاوشوں میں ہی تمام دن جتے رہتے ہیں۔ پورنو انڈسٹری کے زہر سے پاکستان کے نوجوان تو کیا بچے بھی متاثر ہورہے ہیں اور سیکس کی قبل ازوقت خواہش ان میں باغیانہ اور مجرمانہ ذہنیت پیدا کر رہی ہے۔ یہاں سیکس کو عام کرنا ممکن نہیں۔ لیکن مرد کی اس گھٹن کا شکار گھر کی عورت ہو رہی ہے۔ وہ عورت جو قدرتی طور پر ان تعلقات کو بھی معیار اور اخلاق سے گرتے دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ کیونکہ وہ وقتی اور محض جنسی تعلق پر یقین نہیں رکھتی۔ وہ اپنے ساتھی کو اپنی تمام زندگی کا ہمراز اور ہمدم مانتی ہے اس لئے اس کی طلب محض جسم کی قربت تک محدود نہیں، بلکہ وہ خیالاتی و ذہنی، قربت کی بھی متقاضی ہوتی ہے۔ وہ جزو وقتی نہیں بلکہ کل وقتی ساتھ کی طلبگار ہوتی ہے محض جنس کا تعلق جزو وقتی ہوتا ہے اور محبت کا تعلق کل وقتی۔ جزو وقتی تعلق مطلب نکل جانے پر تنہا کر دیتا ہے۔ جب کہ کل وقتی تعلق کبھی تنہا نہیں کرتا۔اس لئے یہاں عورت انس اور محبت کی متقاضی رہتی ہے۔وہ محبت جو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔وہ محبت جس کی کمی بیشی کے جب چاہے گلے، شکوے، شکایتیں کی جا سکیں۔لیکن جسے بے اعتنائیوں یا زوال کا کبھی کوئی اندیشہ نہ ہو۔ وہ محبت جو اپنے سرور، غرور، تمنا،خواہش، بے قراری، خوشی، غمی سبھی موسموں میں یکتا اور یکساں رہتی ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کو ایک جنسی معاشرہ ہونے سے بچانا ہو گا۔ وہ جنسی معاشرہ جس کی طلب محض بھوک ہے۔ مادیت کی طرف دوڑتے یا پھر مناسب معاش کے میسر نہ ہونے والے معاشرے عموماً ایسے جنسی اور بھوکے معاشرے ہی پیدا کرتے ہیں۔ ایک متوازن معاشرہ ہی ایک متمدن معاشرہ کہلاتا ہے۔ جہاں طلب اور رسد میں توازن ہو۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. معاملات بہت پیچیدہ ہیں۔ انسان نے روائتی طور پر عورت کی حفاظت کی خاطر بھی، یعنی اپنی نسل کو خالص رکھنے کے لیے، اور عورت کو ایک کارکن کے طور پر اپنے پاس رہنے پر مجبور کرنے کے لیے بھی اس کو عملاً قید میں رکھا۔ مردوں سے ملنا جلنا تو بالکل منع ہی ہوا، گھر سے باہر نکلنا بھی کم سے کم۔ اتنا ہی جتنا گھر چلانے کے لیے ضروری ہو۔ یعنی پانی بھرنا، جانوروں کی دیکھ بھال، کھیتوں میں محنت وغیرہ۔مگر اس میں بھی خطرہ تھا کہ کہیں عورت کسی اور مرد سے جنسی تعلق نہ قایم کرلے اس لیے عورت کو یہ سکھایا گیا کہ جنسی عمل ایک انتہائی بری چیز ہے۔ اچھی عورتیں اس عمل سے ہر ممکن حد تک دور رہتی ہیں۔ اس عمل کو اس حد تک نفرت انگیز بتا یا گیا کہ شوہر اور بیوی کے رشتے میں بھی عورت کو یہ سکھایا گیا کہ اگر تم سے اس عمل سے فطری لطف لیا تو تمہاری پاکیزگی مشکوک ہو جائے گی۔ اسلام کو چھوڑ کرتقریباً تمام مذاہب نے عورت کو ناپاک ٹھہرایا۔ جنسی عمل سے اجتناب دیوتاؤں، آسمانی طاقت یا طاقتوں یا معبودوں کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ٹھہرا۔ عیسائی راہب/پادری ہو، ہندو سادھو/پجاری ہو یا بدھ، سب نے دھرم سے قربت کے لیے عورت اور نتیجے میں گھربار کو چھوڑنا لازم جانا۔ عیسائیت نے تو شوہر اور بیوی کے لیے بھی جنسی عمل سے لطف اندوز ہونے کو گناہ ٹھہرایا۔ بائبل نے عورت کو جنت سے نکلوانے کا سبب بتایا اور اسے پیدائشی گناہگار کہا۔
    عورت جسمانی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سےبیل اور گھوڑےکی طرح ایک جنس ٹھہری۔ فرق اتنا کہ وہ گھر سے باہرمحنت بھی کرتی تھی، گھر کا کام بھی کرتی تھی، بچوں کو بھی پالتی تھی اور مرد کی جنسی خواہش کی بھی تکمیل کرتی تھی۔ اس لیے اس کی قدر و قیمت بھی زیادہ۔ کسی دوسرے کی عورت کو پکڑ کر لے آنا ، کسی دوسرے کی گائے پکڑ کر لے آنے جیسا ہی فائدہ مند کام ٹھہرا۔ اگر پکڑ کر لانا آسان نہ ہو تو بھی اس سے اپنی خواہش پوری کر لینا بھی روا ٹھہرا۔
    نتیجہ یہ کہ اس مال کو بچانے کے لیے گھر کی دیواریں اونچی، ہر وقت کڑی نگرانی، شک، سزا، تشدد، ہر ممکن حربہ استعمال کیا گیا۔ گو ہر دور میں عورت کی حرمت کسی حد تک پامال ہوتی رہی، وحشی حملہ آوروں کے ہاتھوں، چودھریوں، راجوں مہاراجوں، بدمعاشوں کے ہاتھوں یا پھر عاشقوں کے ہاتھوں مگر پھر بھی اس کی نگرانی زیادہ مشکل نہیں تھی۔صرف اتنا کرنا تھا کہ عورت اکیلی کہیں نہ جا سکے اور کسی ایسے مرد سے مل نہ سکے جو اسے اکسا سکے۔
    لیکن گزشتہ بیس پچیس سال میں یہ دفاعی نظام بری طرح ناکام ہو گیا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سے گریز تقریبا ناممکن ہو گیا۔ اور ان دو چیزوں نے عورت اور مرد کا رابطہ بہت آسان کر دیا۔ گویا ٹیکنالوجی نے حویلی میں نقب لگا لی۔ اب ہمیں یہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ ” ہمیں اپنے معاشرے کو ایک جنسی معاشرہ ہونے سے بچانا ہو گا۔ ” یہ سیدھے سادے الفاظ میں ناممکن ہے۔
    صاف ظاہر ہے کہ جنس کی یلغار ٹی وی، ریڈیو، شاعری ، کتابوں رسالوں، پارٹیوں، محفلوں، دفتروں، بازاروں، انٹرنیٹ ہر طرف سے ہے۔ مرد ہو یا عورت، اسے انسانی جبلت کے مطابق طلب تو ہوتی ہے۔ معاشرہ اگر غیر فطری طور پر روکے گا تو لوگ چوری چھپے مصروف کار ہوجائیں گے۔ معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے لیے جنس مخالف سے ربط مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے لڑکے کی شادی 14 سال سے 18 سال کے درمیان ہو جاتی تھی، اب یہ عمر 25 سے 35 پہنچ گئی ہے۔ یہی حال لڑکیوں کا ہے۔ پھر مردوں کی ایک بڑی تعداد ملازمت یا کاروبار کی وجہ سے اپنے گھروں سے دور رہتی ہے۔ بیوہ، طلاق یافتہ اور غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ گویا جنس کی پکار ہر وقت ہر طرف سے اور معاشرے کے رواج کے مطابق اس کی تکمیل مشکل تر۔
    ہونا تو یہ چاہیے کہ نکاح آسان ہو۔ لڑکا اور لڑکی بالغ ہوتے ہی نکاح کریں دونوں کمائیں اور مل کر رہیں۔ اگر تعلیم مکمل کرنا ہو تو کریں۔ اولاد کی پیدائش کو ملتوی کرنا چاہیں تو ملتوی کریں۔ اس وقت تک جب تک مالی حالات مناسب نہ ہو جائیں۔ بیوہ اور مطلقہ کی دوسری شادی آسان بنائی جائے۔ عورت کو غلام بنانے کے بجائے گھر کی ذمہ دار رکن بنایا جائے۔ تشدد کی بیخ کنی کی جائے۔ ضرورت اور سہولت ہو تو مرد کی ایک سے زیادہ شادی کو رواج دیا جائے۔ عورت کو عزّت نفس دی جائے۔ طلاق اور خلع کو آسان بنایا جائے۔
    طلوع اسلام کے دور کا عرب معاشرہ بڑی حد تک ایسا ہی تھا۔ 50 سال کا مرد بھی 15 سال کی لڑکی سے شادی کرتا تھا۔ طلاق کسی عورت کے لیے ناگوار تو ہوتی تھی مگر ایسی بری بات نہیں ہوتی تھی کہ اس کی زندگی کو عذاب بنا دے۔ عورت بیوہ ہوجائے یا اسے طلاق ہوجائے تو دوسری تیسری شادی کرنا آسان تھا۔نتیجہ یہ کہ اس دور جاہلیت میں بھی عرب میں بدکاری بہت کم ہوتی تھی۔
    اگر 1500 سو سال پہلے یہ عُمرانی ماڈل کام کر سکتا تھا تو آج کیوں نہیں۔

  2. بہت اہم مسئلے کی جانب اشارہ فرمایاگیا ہے۔ مگر اختتام پر آکر ایک طرف جھکاو غیر مناسب محسوس ہوا ہے۔

  3. مرد کے اندر جنسی خیالات کے پیدا ہونے کی وجوہات بھی عورت ہوسکتی ہے۔ بات چل نکلی ہے تو عرض ہے کہ بےشک مرد حضرات پورن سائٹس سے اپنے اندر پیداہونےوالے رجحان کی وجہ سے جو ایک جارحانہ اور متشدد سوچ کی طرف جاتےہیں تو اس کے عملی اظہار میں اپنے ساتھی سے وہ مطلوبہ سطح حاصل نہیں کرپاتے کیوں کہ پاکستانی خواتین اس معاملے میں رواجی اور روائتی طرز کی وجہ سے قربت کے معاملات کو مکمل نہیں جان پاتیں۔ اور مردے کی طرح بغیر کسی رسپانس کے وقت گزارتی ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: