سراج منیر ایک یاد: زخمِ دل مبادا بِہ شود — عزیز ابن الحسن

0
  • 1
    Share

ستمبر ایک میر اور دو ’مِیریوں‘ کی برسی کا مہینہ ہے۔
میر ۲۱ ستمبر ۱۸۱۰ کو خلد آشیانی ہوئے جبکہ سلیم احمد یکم ستمبر ۱۹۸۳ اور سراج منیر ۲۵ ستمبر ۱۹۹۰ کو جنت مکانی ہوئے. ستمبر کا مہینہ ستمگری کا مہینہ ہے۔
سلیم احمد کاملاً  مِیری تھے، ساری زندگی میر میر کرتے رہے مگر کتاب لکھی غالب پر: “غالب کون؟”

سراج منیر غالب پسند ہونے کے باوجود میر مائل تھے. میر کی طرف انکا جھکاؤ بطیبِ خاطر تھا۔ جبکہ شمس الر حمان فاروقی جیسے غالب پرست نے بڑی تکلیف سے گزر کر میر کو غالب سے بڑا مانا ہے. اس لیے فاروقی کی قربانی میری نظر میں بڑی ہے کہ یہاں بارگاہِ میر میں غالب قربان ہوا ہے۔

آج سراج منیر کی ستائیسویں برسی ہے. افسانہ تنقید خطاطی مصوری فنون ثقافت مذہب تہذیب اور مابعد الطبیعیات کے اوگھٹ مسائل پر سیکڑوں صفحات لکھ کر اور ریڈیو ٹی وی اور مختلف ادبی و ثقافتی مجالس میں اس سے دس گنا زیادہ صفحات کا مسالہ فی البدیہہ گفتگوؤں کی صورت فضا میں بکھیر کر وہ صرف اڑتیس برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے، وہ عمر کہ جب بقول اعجاز حسین بٹالوی ابھی “ساری عمر سامنے نظر آرہی ہوتی ہے”. اس عمر میں انہوں نے ایسے ایسے موضوعات پر اس بلند سطح سے اتنا کچھ لکھ دیا کہ مجھ ایسے بے شمار لوگ آج نصف صدی جتنی عمر میں بھی اسے پوری طرح سمجھنے کے اہل نہیں۔

سراج بھائی مجلسی گفتگو کے ایسے دھنی تھے کہ میں نے ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ڈاکٹر اجمل (نفسیات والے) ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی اور مختار مسعود جیسے جنات کو بھی ان کے حسنِ تکلم پر فدا ہوتے دیکھا ہے۔

ایک دفعہ مجھے انکے ساتھ بانو قدسیہ کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا. باتوں باتوں میں وہاں کوئ مسئلہ چھڑ گیا جسپر سراج بھائی نے ایک لمبی تقریر کرڈالی بانو قدسیہ محویت سے انہیں دیکھتی رہیں مگر بُشرے سے ظاہر تھا کہ ان کی بات سے متفق نہیں ہو پارہیں۔ اسپر سراج بھائی نے “راجہ گدھ” کے پروفیسر سہیل کے بعض مؤقفات سے دلیل لا کر کہا “بانو آپا میں تو آپ ہی سے سیکھی ہوئ بات کو ذرا مختلف پیرائے میں بیان کر رہا ہوں” اسپر بانو آپا مسکرا کر رہ گئیں اور بولیں “سراج مجھے فخر ہے کہ میں نے آپ جیسے فطین اور عالم نوجوان کو دیکھا ہے اور اس سے باتیں کی ہیں”۔

سراج بھائی اردو اور انگریزی زبان کے بے پناہ مقرِر تھے. اردو تو انکے گھر کی زبان تھی مگر وہ انگریزی بھی اہلِ زبان کی طرح بولا کرتے تھے. اردو و انگریزی تحریر و تقریر پر انہیں گورنمنٹ کالج لاہور کے طالبعلمی کے زمانے ہی سے بڑی مشق تھی. مولانا جعفر قاسمی صاحب جنکی زندگی کا بڑا حصہ BBC کی ملازمت کے سلسلے میں انگلستان میں گزرا تھا انکے انگریزی لب و لہجے کے بڑے معترف رہتے تھے۔

کوئی نجی ادبی مجلس ہو یا سامعین سے بھرا پنڈال ہو، انکی گفتگو یا تقریر کے بعد کسی دوسرے مقرِر کا جم پانا مشکل ہوتا تھا. انکی فی البدیہہ گفتگو بھی اتنی مربوط مسلسل مدلل معنی آفریں کیف انگیز اور وجد آور ہوتی کہ اگر اسے تحریر کر دیا جائے تو (حسنِ ادا کی تاثیر کے سوا) وہ ہر اعتبار سے مکمل مقالہ نظر آتی۔

سراج بھائی کی شخصیت کا جوہر تین چیزوں میں تھا: نکتہ آفریں دماغ، شیریں مقال زبان اور دل آویز سراپا. لیکن اگر میں انکی شخصیت کو کسی ایک کلمے سے بیان کر سکوں تو اس کیلیے مناسب ترین لفظ ہے “شانِ محبوبی”. منجلہ دیگر اوصاف کے سراج بھائ کی سب سے بڑی خوبی انکی خجستہ طلسمی جاذبیت تھی. ہر کوئ انکی طرف کھنچتا محسوس ہوتا ان کے قریب ہونا چاہتا تھا اور دوستوں کے ساتھ انکا معاملہ بھی یہ ہوتا کہ ہر کسی کو گمان ہوتا کہ سراج بھائ کا اس سے خصوصی تعلق ہے. جب وہ کسی محفل میں ہوتے تو بس وہی مرکزِ دل و نگاہ ہوتے تھے مگر تنہائ میں بھی ایسے ہی دلآویز نظر آتے تھے۔ عام زندگی میں وہ بہت سادہ اور معصوم آدمی تھے. گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بچوں کے سے انداز میں جوتے اتار دیتے اور ننگے پاؤں گھومتے رہتے۔ صوفے پر بیٹھتے تو دونوں پاؤں اوپر چڑھا کر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے۔ ان کے قہقہوں میں بچوں کی سی جاذبیت ہوتی تھی۔ کھانے کے بعد ہمارے ساتھ کبھی چہل قدمی کیلیے باہر سڑک پر نکلتے تو اسی طرح ننگے پاؤں چل پڑتے. کبھی لہر میں ہوتے تو چہل قدمی کرتے ہوئے شعر ترنم کے ساتھ بھی پڑھا کرتے تھے. کسی ایسے ہی موقعے پر عرفی کا شعر
از باغ جہاں رخت ببستیم و گزشتیم
شاخے ز درختے نہ شکستیم و گزشیم
میں نے انہیں بڑی محویت و ترنم سے ترنم پڑھتے سنا تھا.  سچ پوچھیے تو ایک دن وہ اسی طرح دامن سمیٹے دنیا سے چلے گیے۔

عزیز ابن الحسن

ڈاکٹر برہان صاحب نے لاھور میں ایک طویل زندگی گزاری تھی مگر انکو جو قدردانی اور طمانیت سراج بھائی کے ہاں محسوس ہوئی تھی وہ انہوں نے کہیں اور نہ پائی تھی. مجھ ایسے نوآموز تو انکی محبوبانہ اداؤں کے قتیل تھے ہی ڈاکٹر برہان جیسا اسی سالی بوڑھا بھی انکی ادائے دلنوازی کا ہم سے بڑھ کر اسیر تھا۔ برھان صاحب انہیں مخاطب کرکے کثر کہا کرتے کہ اقبال کا دعائیہ مصرع
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
آپ کے حق میں قبول ہوگیا ہے۔

سراج بھائی کی برسی کے موقعے پر انکی یاد میں بے ساختہ ذہن میں آجانے والی ان باتوں کو میں مرزا جانِ جاناں مظہر کے ایک شعر پر ختم کرتا ہوں۔
سراج بھائی کے انتقال کے بعد ڈاکٹر برہان احمد بہت دکھی رہنے لگے تھے. ایک روز کہنے لگے “عزیز میاں، غم کی ایک مستقل کیفیت ہے جس سے میں نکلنا بھی نہیں چاہتا مگر یہ تکلیف دہ بہت ہے”. اور پھر انہوں نے سراج بھائ کا نام لیکر ایک شعر پڑھا. میرے ہاتھ میں اس وقت ان کی کتاب “ملتِ اسلامیہ: تہذیب و تقدیر” تھی. میں عرض پرداز ہوا کہ مجھے یہ انکی کتاب پر اپنے قلم سے یہ شعر لکھ دیں. تب انہوں نے اپنی شیروانی کی جیب سے قلم نکالا اور اپنی شکستہ تحریر میں لکھا:
زخمِ دل مظہر مبادا بِہ شود ہشیار باش
کیں جراحت یادگارِ ناوکِ مژگانِ اوست

سراج بھائی کے انتقال کو ستائس برس ہوگئے ہیں. ان تمام برسوں میں ایک خواب مسلسل میرا پیچھا کرتا ہے. وقت اور جگہ کا اکثر کوئ پتا نہیں چلتا. کہیں بھی کسی بھی جگہ پر گھومتے پھرتے یا دفتر میں بیٹھے اچانک کہیں سے سراج بھائی آجاتے ہیں اور یہ اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ “تم لوگوں نے مجھے خواہ مخواہ مرا ہوا سمجھ لیا ہے، دیکھو میں بلکل بھلا چنگا ہوں میں زندہ ہوں تم کیوں پریشان ہوتے ہو”۔
وہی جانِ جاناں والی تنبیہ
زخمِ دل مظہر مبادا بِہ شود ہشیار باش!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: