جمہوری حکمرانی پر مبنی مباحث: سلمان عابد

1
  • 15
    Shares

پاکستان کو واقعی جمہوریت اور جمہوریت پر مبنی نظام کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ نظام حقیقی جمہوریت او راس پر مبنی حکمرانی کے نظام کو تقویت دیتا ہو۔ کیونکہ ایسے نظام جس میں جمہوریت کے نام کا لبادہ پہنا کر شخصی نظام، آمرانہ حکومتیں اور ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم کرنی ہو وہاں جمہوریت محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے معاشروں میں جس میں پاکستان بھی شامل ہے جمہوریت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج یا ریاست، حکومت ا ور عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ جمہوریت ایک نظام ہے او راس کی خوبی جمہوری طرز حکمرانی اور شفافیت پر مبنی نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے وہ جمہوریت کم او ربادشاہت پر مبنی نظام ہے۔

پاکستان میں اہل دانش کی سطح پر جمہوریت کے حق میں بہت سی دلیلیں دی جاتی ہیں اور خاص طور پر اسٹیبلیشمنٹ کو ہدف بنا کر ہم جمہوری نظام کے دفاع میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام کی کمزوری میں ہماری اسٹیبلیشمنٹ کا بھی عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ لیکن ہمارے یہ اہل دانش اپنے فکری مباحث میں جمہوریت کی ناکامی کے خارجی مسائل پر تو بہت زور دیتے ہیں، مگر جمہوری نظام یا سیاسی نظام سے جڑے ہوئے داخلی مسائل پر ان کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ جمہوریت بنیادی طور پر لوگوں کے مفادات کو طاقت فراہم کرنے کا نام ہے۔ ایسا نظام کو کمزور لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو اور جہاں شفافیت و جوابدہی کا نظام میں کوئی طبقاتی تقسیم نہ ہو۔ مگر ہم جس انداز سے جمہوری نظام چلارہے ہیں وہ توجہ طلب مسئلہ ہے۔

حالیہ لاہور کے این اے 120کے ضمنی انتخاب جس کی شہرت محض پاکستان تک محدود نہیں تھی، بلکہ عالمی توجہ کا بھی مرکز بنا۔لیکن اس انتخابی عمل میں 65فیصد لوگ انتخابی عمل سے لاتعلق رہے او رانہوں نے ووٹ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ جو تیزی سے بڑھتی ہوئی انتخابی نظام سے لاتعلقی کا عمل ہے وہ اس جمہوری نظام کی افادیت پر بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ ووڑ ڈالنے سے کیونکر گریز کرتے ہیں اور کیونکر ہمارا جمہوری نظام ان کو ووڑ ڈالنے کی طرف متحرک نہیں کرتا۔ اس کا جواب بڑا سادہ سا ہے کہ ہمارا یہ جمہوری نظام عام لوگوں سمیت خواص کے لیے بھی غیر اہم ہوگیا ہے۔ کیونکہ جب کوئی بھی نظام میرح ذات، میرے خاندان او رمعاشرے کے ساتھ نہیں جڑے گا، اس کی ساکھ کیسے بن سکے گی۔

جمہوریت کے نام پر ایک طبقاتی نظام کو طاقت فراہم کی جارہی ہے اوراس کا مقصد کمزور لوگوں کا استحصال کرکے طاقت ور طبقات یا حکمران طبقات کے مفادات کو تقویت دینا ہوتا ہے۔یہ جو کاروباری اور سرمایہ درانہ نظام پر مبنی جمہوری نظام ہے وہ صرف ایسے ہی لوگوں کو طاقت فراہم کرسکتا ہے جو پیسہ رکھتے ہوں یا طاقت و اختیار۔ کمزور لوگوں کے مفادات کو اس نام نہاد جمہوری نظام میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ دنیا میں جمہوری نظام کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے وہاں کے نظام س وابستہ افراد عام لوگوں کو زیادہ بااختیار کرتے ہیں۔جبکہ ہمارا یہ نظام مرکزیت کی بنیاد پر کھڑا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب بھی اس جمہوری نظام کے سامنے مشکلات آتی ہیں یا یہ خطرہ موجود ہوتا ہے کہ کہیں پس پردہ قوتیں جمہوری نظام کی بساط کو ہی نہ لپیٹ دیں تو عام لوگ اس سارے عمل سے لاتعلق ہوتے ہیں۔

اصل مسئلہ نظام یا حکمرانی کا ہوتا ہے۔ آپ جو بھی نظام لائیں اگر وہ عوامی مفادات اور مسائل کے حل سے نہیں جڑے گا تو وہ جمہوری بنیاد پر آنے والا نظام بھی اپنی افادیت نہیں منواسکے گا۔یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہاں پر لوگ جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے باہر نہیںنکلتے، سوال یہ ہے کہ کیونکر نکلیں۔ جب مجھے اس نظام کے ثمرات سے دور رکھا جائے گا تو میں بھی وہی کچھ کروں گا جو حکمران یا طاقت ور طبقہ اقتدار کی بنیاد پر مجھ سے کرتا ہے۔جب کہا جاتا ہے کہ آئین کے تحت یہ ریاست و حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی حقوق جن میں تعلیم، صحت، تحفظ، روزگارسمیت دیگر حقوق کی ضمانت دے گا، لیکن ایسا کیونکر نہیں ہورہا اس پر توجہ کرنی ہوگی۔ جب ریاست کا نظام ریاستی کنٹرول سے نکل کر نج کاری او رمافیا کے شکنجے میںآجائے تو وہ عام آدمی کیسے استحصال سے بچ سکے گا۔

ہمارے اہل دانش ضرور جمہوریت کی حمایت میں قصیدے پڑھیں، لیکن کچھ قصیدے وہ عام آدمی کی حالت پر بھی پڑھیں جو بدکردار اور بدعنوان حکمران طبقات کی حکمرانی کی وجہ سے قوم کو ایک بڑے عذاب کی صورت میں برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔جب تک جمہوریت کے نعرے عام آدمی کی حالی زار کو نہیں بدلیں گے، لوگ جمہوریت کے حق میں بھی نہیں کھڑیں ہونگے۔ یہ عجیب جمہوری نظام ہے جو انتخابی عمل میں دولت کی ریل پیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ اب جس طرح سے انتخابی نظام چلایا جارہا ہے وہ صرف مافیا پر مبنی طبقات کو ہی فائدہ دے سکتا ہے۔دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جمہوریت تسلسل او راصلاحات کا نام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اصلاحات کا مقصد جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہے یا حکمران طبقات کے مفادات کو۔

یہ جو جمہوریت میں جمہوری نظام یا حکمرانوں کی ناکامی ہے اس کی وجہ اہل دانش کا دوہرا معیار بھی ہے جو حکمران طبقات پر ایک بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرنے کی بجائے خود اپنے مفادات کے لیے حکمرانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرگیا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کے تحت عام لوگوں کو اپنی سوچ اور فکر کے ساتھ گمراہ کیا جاتا ہے۔لوگوں کو سچ دکھانے کی بجائے جھوٹ کی بنیاد پر جمہوریت کے ساتھ کھڑا کرنے کوشش کی جاتی ہے، تاکہ یہ لوٹ مار کا طبقہ اپنے مفادات کو فائدہ دے سکے۔ اس لیے نئی نسل کو اس نام نہاد جمہوری نظام کو چیلنج کرکے اس کے خلاف ایک بڑی مزاحمت کو بیدار کرنا ہوگا، یہ کام پرتشدد عمل سے نہیں بلکہ فکری بنیادوں پر کرنا ہوگا او ران تمام فریقین کو چیلنج کرنا ہوگا جو عوامی مفادات پر مبنی حکمرانی کے نظام میں اصل رکاوٹ ہیں او رجنہوں نے جمہوریت کا نام نہاد لبادہ اوڑھا ہوا ہے، اسے ہر صورت میں بے نقاب کرنا ہوگا۔جب تک جمہوریت عوامی مفادات، قانون کی حکمرانی اور جوابدہی یا شفافیت سمیت انصاف کے نظام کے ساتھ نہیںکھڑی ہوگی، ہم اپنے لیے ترقی اور خوشحالی کے مناظر نہیںپیدا کرسکیں گے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یعنی آپ یہ کہنا چاھ رہے ہیں کہ موجودہ نظام عوام کی فلاح و بہبود کا جو منشور رکھتا ہے وہ محض ڈھکوسلہ اور جھوٹ ہے؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: