ہمارے سلطان —– چوہدری بابر عباس

0
  • 31
    Shares

جو بھی حد احتساب سے گزرا اور خود کو مواخذے سے استثنی جانا۔ اسکے لئے قدرت کا اپنا قانون ہے “بے لاگ، کڑا، شفاف، قطعی اور حتمی۔

میکاولی اپنی کتاب (The prince شہزادہ /الامیر) میں لکھتا ھے کہ شہزادے کی طبیعت میں شیر اور لومڑی دونوں کی خصوصیات ہونی چاہیں۔شیر کی طرح حملہ آور ہو اور لومڑی کی طرح مکروفریب بھی جانتا ہو۔
اس کے الفاظ یہ ہیں۔

شہزادےکو چاہیے کہ وہ لومڑی ہو تاکہ مکار اور فتنہ جٌو اس سے مرعوب ہوں اسی طرح وہ شیر کی طرح بھی رہے کہ بھیڑیے اس سے خوفزدہ رہیں۔

جو حکمران صرف شیر کی طرح رہنا چاہتا ہے اس کی نجات کی کوئی توقع نہیں۔ اسلیے حکمران کو چاہئے کہ اگر معاملہ اپنی مصلحت کے منافی ہو تو تنقیص عہد سے نہ ڈرے لیکن جب ایفائے عہد کے اسباب موجود ہوں تو پھر جس قاعدے کا میں نے ذکر کیا ہے بلاشبہ وہ مزموم ہے۔
مزید کہنا ہے کہ حاکم کو چاہیئے کہ جب وعدے کا ایفاء نہ ہو سکے تو اس کے جواز تلاش کرنے میں قانونی حیلے اختیار کرے۔ اس بارے میں بہت سی ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے حکام کے ہاں جو بےوفا ہوں صلح و آشتی اکثر متزلزل ہو جاتی ہے اور وعدے فراموش کر دیئے جاتے ہیں۔ اور جو حکام روباہ صفت ہوتے ہیں وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن جو امر نہایت ضروری ہے وہ یہ کہ اس صفت کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا جائے۔ اور بناوٹ میں حاکم کو خاص مہارت حاصل ہو۔عوام سادہ مزاج واقع ہوتے ہیں۔ وہ اہل غرض احمق اور فرمانبردار ہوتے ہیں۔ اور اس حالت میں خونخوار شیر اور اس کی کھال میں بیک وقت موجود لومڑی کی عیارانہ خصلت رکھنے والا قہار اور مہیب اپنے شکار سے محروم نہیں رہ سکتا۔

اس مثال میں میکاٶلی نے اسکندر ساٶس کو پیش کیا ہے کیونکہ اس نے اپنے زمانہ حیات میں مکروفریب کو اپنا نصب العین بنایا تھا۔
میکاٶلی کہتا ہے کہ بظاہر اپنی بات کا پاس رکھنے اور ایفائے عہد میں اسکندر ساٶس سے زیادہ کوئی شخص قادر نہ تھا۔مگر درحقیقت بد عہدی میں کوئی شخص اس کے برابر نہ تھا۔اس کے باوجود وہ اپنے مکروفریب میں کامیاب رہا۔ کیونکہ وہ فطرت انسانی سے پوری طرح واقف تھا۔پس حاکم کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقی طور پر تمام نیک خصائل سے متصف ہو۔البتہ اسکے لیے لازم ہےکہ وہ شہرت دے رکھے کہ وہ ان تمام خصوصیات سے ”اللہ کے فضل و کرم“ سے مزین ہے۔کہتا ہے __کہ میں جرات سے کہہ سکتا ہوں کہ ان تمام فضائل سے موصوف ہونا خطرے سے خالی نہیں الا انکا بجز اظہار۔ تاہم تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم اوصاف حمیدہ اور تقویٰ کا اظہار کرو اور فی الواقع بھی ان سے مزین رہو۔لیکن تمہیں ضرورت کے تحت اس کو پس پشت ڈالنا پڑے تو تمہیں کوئی دقت واقع نہ ہو۔

اس مملکت خداداد کی اساس تو کلمہ تھی اوراسکے حصول کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا جسکا نظریہ ایک آفاقی نظرے سے ماخوذ تھا، کے بجائے اس شومئ قسمت دھرتی کو عادل حکمرانوں کے بجائے میکاولی کے شہزادے ہی میسر آئے۔
جسکی اس قدر عملی مثال شائد آج تک مملکت نے نہیں دیکھی۔جس میں ایک نام نہاد انتخابی غلاف میں ملفوف سکندر ملک کے سپریم ادارے قومی اسمبلی میں اپنی مصلحت کے پیش نظر جھوٹ بول سکتا ہے۔ اور سادہ مزاج اور غرض مند عوام کے ساتھ کسی بھی عہد شکنی میں اسے دقت نہیں ہوتی۔ نتیجے میں اول تو لایمکن اور پھر اگر ہارے لیکھے میکاولی کا یہ شہزادہ بازپرس میں آ بھی گیا ہے تو پھر قانونی حیلوں کا ایک غیر معینہ مدتی سلسلہ چل نکلنے کی قبیح روایت بہر صورت موجود رہی ہے۔ اور شہزادے کی سہولت کے لئے یہ ہی ملک کا مقدس ادارہ پارلیمان اس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حثیت سے دستیاب ہوتا ہے۔جس میں بقول اس کے عوامی مگر درحقیقت مشکوک اور جعلی مینڈیٹ کے بل پر اپنی بد مگر عصبی طاقت کو دوام بخشنے کی غرض سے ماضی میں تیرہویں اور چودہویں ترمیم (چودہویں ترمیم، کسی بھی ممبر پر اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر پابندی) جیسے قوانین بہت آسانی سے پاس کروا لئے جاتے ہیں۔

دفاعی اور مزاحمتی سیاست کے اس سلطان کے ساتھ واقعات مکرر اور ان سے ہر بار بچ نکلنے کا ایک پر استعجاب سلسلہ ہے۔ آج پھر ایک پیشی کا سامنا__ پھر اس ایوان کی ضرورت__ پھر ایک ترمیم __!
دونوں ایوانوں سے سپریم کورٹ سے ناہل قرار دئیے جانے والے شخص کوحکومت میں شامل قومی اور صوبائ اسمبلیوں کے نمائندوں کی پارٹی صدارت کا چشم زدن میں قانونی اختیار دلوانے میں قطعا کوئی دقت نہیں ہوتی، اس پر مستزاد، کیا بعید کہ جسکا تذکرہ معزول سلطان کے جانشین نے اول یوم ہی کیا تھا کہ قانون کی شق 62 ،63 میں ابہام پایا جاتا ہے جسکو دور کرنا ضروری ہے، کے ابہام یا اختتام سے پہلے یہ کہیں وقوف کریں گے؟
بجنسہ اصول “the    prince”مجھے کیوں نکالا کی دہائی کے ساتھ پارسائ، صداقت اور امانتداری کی صدا بھی ہمراہ ہے۔

ایک دوسرے اصول میں، بقول میکاولی حاکم کے لیے کونسا اصول زیادہ مناسب ہے۔آیا اس سے خوف سے زیادہ محبت کی جائے یا محبت سے زیادہ اسکا خوف ہو اسکا جواب وہ یہ دیتا ہے کہ وہ محبوب بھی ہو اور مہیب بھی، چونکہ ان دونوں طاقتوں کا اجتماع دشوار ہے۔ لہذا ناگزیر حالت میں اسے مہیب ہی ہونا چاہیئے۔ جس کو پرنس نے ماڈل ٹاون کی غارت گری سے سچ ثابت کر دکھایا۔

“مہیب شہزادے کو شیر سے لومڑی بننے میں زرا دقت نہیں ہونی چاہیے ” کی مثال یوں ہے کہ،
شیر دل شہزادہ 1997 میں جب مزکورہ بالا چودھویں آئینی ترمیم کے ضمن میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت سے برسرپیکار تھا تو خوف کا یہ عالم تھا کہ 17 نومبر کو عالی جاہ کی پیشی کے دن ہی عدالت اسکے خلاف فیصلہ نہ سنا دے،شہزادے نے اپنی پناہ گاہ مقدس ایون سے توہین عدالت ایکٹ میں ترمیمی بل پاس کروا لیاکہ سپریم کورٹ کے متشکل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے فل بینچ کے سامنے نہ صرف پیش ہو سکتی ہے بلکہ اس کے داخل ہوتے ہی دیا گیا اول فیصلہ بھی معطل ہو جائے گا۔جس میں مزید آسانی چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی متنازعہ تقرری کے سبب عدالت کے تقسیم ہو جانے سے پیدا ہو گئ اور جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کیس خارج کر دیا اور شہزادہ فاتح کہلایا۔

میکاولی نے”the   prince” میں اپنے شہزادے کو استبداد کا ایک مکمل استعارہ پیش کیا ہے۔ یہ بھی کہتا ہے کہ شہزادے کو اپنی فوج کو متحد اور اطاعت گزار رکھنے کے لیے اس پر گرفت مضبوط رکھنی چاہیے اور وہ اس معاملہ میں سختی میں مشہور ہو۔
شیر کی گردن پر سواری کرنے کی خواہش والے سے بھی زیادہ آسان کوئ شکار ہو گا__! اس قضیہ میں بھی متمرد شہزادے نے شیر کی گردن پر سواری کا شاہی شوق پالنے کی کوشش کی اور خود ایک یقینی شکار بنا۔اور نتیجتاً علی حسب “الامیر” اپنی مصلحت سے پوری وفا کی اور بے وقوف اور غرض مند عوام سے پوری جفا___!۔ اور جس عوام کے مینڈیٹ نے سلطان کو خلعت عطا کی تھی کو ایک نئے غاصب سکندر کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کل حجاز کا شاہی مہمان __ اور آج جب احتساب عدالت کو مطلوب ہے تو لندن کی تا حال ون وے پرواز__!
شنید ہے کہ اب چھین کے لی گئ صدارت کی کرسی لندن میں ہی سجے گی تو یقینا خطاب بھی ٹیلی فونک ہی ہو نگے ___ وہی خطاب جن پر کل تک پابندی کا مطالبہ تھا۔ “مطلوب ہیں” کی قدر مشترک بہر حال ہے۔

باوجود اس انگشت نمائی اور نا مساعد حالات کے شہزادہ تاحال نہ ہار مانے ہوئے ہے اور نہ ہمت ہارے ہوئے ہے۔کیونکہ “امیر” نے جس ماحول میں پرورش پائی ہےاس کے باوصف اسکا یہ عقیدہ ہے کہ ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے کہیں نہ کہیں جا کے خریدا جا سکتا ہے۔ ارکان اسمبلی کے بعد بیوروکریسی اور عدلیہ سمیت کوئی بھی سرکاری ادارہ جناب کی دراندازی سے پاک نہیں رہا۔ پلاٹوں کی تقسیم۔ بنکوں کی ارزاں نرخ پر فروخت اور قرضوں کی معافی،احتساب الرحمن کی بی ایم ڈبلیو کاروں کی درآمد، جس میں لگزری گاڑیوں پر ٹیکس میں چھوٹ سے قومی خزانے کو اربوں روپےکا نقصان پہنچایا گیا۔ عدم اعتماد اور آئینی ترامیم جیسے مشکل حالات میں کام آنے والے زر خرید نمائندوں کے لئے پہلے قرضوں کا اجراء اور پھر معافی اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء، یوتھ انوسٹمنٹ پروموشن سوسائٹی YIPS پر بے دریغ عنایات حالیہ یوتھ لون پروگرام جو سرے سے لاپتہ ہے،قرض اتارو ملک سنوارو سکیم،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے جھوٹے وعدے اور غیر فعال بجلی کے منصوبوں پر سرچارج،میٹرو اور سی پیک کے ریکارڈ جلے منصوبے اور کوئی آئے تو کشکول توڑ دو کا مطالبہ خود آو تو جوڑ لو اول ترجیح، وغیرھم۔ ایک لمبی سیاہ فہرست ہے جس کا یہاں احاطہ ممکن نہیں۔

قطع نظر کہ آپ کیسے مسند اقتدار تک پہنچتے ہیں۔جب آ جاتے ہیں تو کیا اس قوم کی یہ ہی سزا ہے کہ انکے سروں پر انکے حکمران انکی خدمت تو خلاف قیاس ٹہری، جان بخشی ہی سہی، کے بجائے میکاولی کے اریشتی اعظم ہی بن کر بیٹھیں ؟جس کے لکھے گئے سیاسی نظریات کو اہل علم الا محدودے نے ریاست اور حکومت کے لیے مضر کہا ہے۔ جو کہ استبداد،غدر و خیانت اور دیگر ادنی وسائل پر مبنی ہے مگر کماحقہ ہو اس دیس میں رائج ہے۔

گو کہ طاقت،قوت خرید اور دولت کے انبار نے سلطان کے سارے جھاکے کھول رکھے ہیں۔ مگر قدرت کے بھی کچھ قانون ہیں اور قربانیوں کے لہو سے تر اس مٹی کی بھی اپنی ایک نفسیات ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس زمین کے شرف کو جس نے بھی بیچا،حرمت کو پامال کیا اس ملک کے غریب اور نادار لوگوں کے اعتماد کو توڑا اسے اسکی قیمت دینی پڑی ہے۔
ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء اور تازہ گزری کل کے بہادر جنرل مشرف کی غریب الوطنی کیا سبق کے لئے کم ہے ؟
بے موت مارے گئے حکمرانوں کی کوتاہیوں کو اپنی کامیابی کا زینہ بنانے اور اس ملک کے ورغلائے ہوئے لوگوں کی سادہ لوحی پر بھنگڑے ڈالنے کے بجائے اس سے عبرت لینا کہیں مستحسن ہو گا۔
اپنے آپ کو قابل مواخذہ رکھنا اور احتساب کی حد میں سمیٹے رکھنے تک ہی یہاں جان کو امان ہے۔ جو بھی حد احتساب سے گزرا اور خود کو مواخذے سے استثنی جانا۔ اسکے لئے قدرت کا اپنا قانون ہے ” بے لاگ، کڑا، شفاف،قطعی اور حتمی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: