انٹری ٹیسٹ، بے ضابطگیوں کا سدباب ناگزیر : مظہر چوہدری

0

ویسے تو میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کیلئے منعقد ہونے والے انٹری ٹیسٹ پر وقتاً فوقتاً سوالیہ نشان اٹھتے رہے ہیں لیکن 20 اگست 2017ء کو پنجاب بھر کے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ میں پرچہ آؤٹ ہونے سمیت مختلف نوعیت کے تکنیکی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ انٹری ٹیسٹ کے پرچے کی مبینہ لیکج اور فزکس پورشن کے سوالات کے حل میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات کے خلاف نا صرف لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں طلبہ وطالبات سراپا احتجاج رہے بلکہ ایک درجن سے زائد درخواست گزاروں نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کالعدم قرار دینے اور ذمے داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کر رکھا ہے۔ عدالت نے 24اگست کو انٹری ٹیسٹ کے نتائج پر عمل درآمد روکتے ہوئے بعد ازاں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پنجاب حکومت سے جواب بھی طلب کئے۔ اب تک ہونے والی سماعتوں میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پنجاب حکومت عدالت کو تسلی بخش جوابات فراہم نہیں کر سکیں۔ 18ستمبر کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وکیل کے دلائل کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر کی لیکج کا معاملہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ فاضل جج نے یو ایچ ایس کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ پبلک نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو کیسے بے گناہ کہہ سکتے ہیں۔ عدالت نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج پر جاری کردہ اپنے حکم امتناعی میں 25ستمبر تک کی توسیع کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ایف آئی اے کی رپورٹ سمیت دیگر ضروری دستاویزات مہیا کرنے کے احکامات سنائے۔ واضح رہے کہ انٹری ٹیسٹ کے پرچے کی مبینہ لیکج کے بعد ایف آئی اے نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ناقص امتحانی نظام پر تحقیقات شروع کرتے ہوئے رپورٹ مرتب کی تھی جسے حکومت کی جانب سے پبلک نہیں کیا گیا۔

پنجاب میں میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد 1998ء سے کیا جا رہا ہے۔ پہلے تین سال انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی نے انٹری ٹیسٹوں کا اہتمام کیا جبکہ 2001 سے لیکر 2007 تک ہونے والے انٹری ٹیسٹ یو ای ٹی (یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی) کے زیر نگرانی منعقد ہوئے۔ 2008ء میں میاں شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ لینے کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو سونپ دی گئی۔ شروع کے کچھ سا ل میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ایف ایس سی کے 70فیصد اور انٹری ٹیسٹ کے 30 فیصد نمبروں سے ایگری گیٹ بنتا تھا لیکن چند سال قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے انٹری ٹیسٹ کے فیصدی نمبروں کو بڑھاتے ہوئے انٹرمیڈیٹ کے نمبروں کو کم کر دیا گیا۔ نئے فارمولے کیمطابق میٹرک کے 10فیصد، انٹرمیڈیٹ کے 40فیصد اور انٹری ٹیسٹ کے 50 فیصد نمبروں سے ایگری گیٹ بنتا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے فیصدی نمبر بڑھنے سے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ذہین بچوں کی حق تلفی ہوئی ہے۔ امیر گھرانوںکے بچے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرانے والی ایسی مشہور ومعروف اکیڈمیز کی بھاری بھرکم فیسیں ادا کر کے انٹری ٹیسٹ میں اچھے نمبرز حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جو انٹری ٹیسٹ میں آنے والے پرچے یا سوالوں کو وقت سے پہلے حاصل کرنے کا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہ لاہور سمیت بڑے شہروں میں واقع مشہور و معروف اکیڈمیز انٹری ٹیسٹ پیپر کے حصول کیلئے باقاعدہ بولیاں لگاتی ہیں۔

20اگست کو لیے جانے والے انٹری ٹیسٹ پر پرچے کی مبینہ لیکیج کے علاوہ فزکس سے متعلقہ پورشن میں پوچھے جانے والے مشکل ترین سوالات ہیں۔ ماہرین کے مطابق فزکس پورشن میں پوچھے جانے والے بیشتر کثیر الانتخابی سوالات کی نوعیت تھیورٹیکل کے بجائے نمیریکل تھی۔ اساتذہ کے مطابق ان مشکل سوالات کو حل کرنے کیلئے فی سوال کم از کم پانچ منٹ درکار تھے جبکہ انٹری ٹیسٹ میں ہر سوال کو حل کرنے کیلئے امیدوار کے پاس صرف 45 سیکنڈز ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے جانے والا انٹری ٹیسٹ کا پرچہ 220’’ایم سی کیوز‘‘ یا کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل ہوتا ہے جن کو حل کرنے کے لئے امیدوار کے پاس صرف اڑھائی گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ میڈیکل کالجز کے انٹری ٹیسٹ کے پرچے میں بیالوجی سے متعلقہ 88 ایم سی کیوز ہوتے ہیں جبکہ کیمسٹری اور فزکس سے متعلقہ ایم سی کیوز کی تعداد بالترتیب 58 اور 44 ہوتی ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے پرچے میں 30ایم سی کیوز انگلش سے متعلقہ بھی ہوتے ہیں۔ میڈیکل کالجز میں ہونے والے انٹری ٹیسٹوں کی ایک بڑی قباحت نیگیٹو مارکنگ بھی ہے۔ انٹری ٹیسٹ میں ہر درست جواب کے 5 نمبر ملتے ہیں لیکن جواب غلط ہونے کی صورت میں امیدوار کا ایک نمبر کاٹ لیا جاتا ہے۔ نیگیٹو مارکنگ کی وجہ سے امیدوار سوچ سمجھ کر سوالات حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی شش وپنج میں طلبہ و طالبات کی اکثریت بہت سے سوالات کے جوابات مارک کئے بغیر چھوڑ آتی ہے۔ انٹری ٹیسٹ میں ایک سوال کے جواب کیلئے 45سیکنڈ کا وقت بھی بہت کم ہے۔

انٹری ٹیسٹ کے مروجہ طریقہ کار میں خامیوں اور بے ضابطگیوں کو دور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ سنٹرل پیپرز مارکنگ سسٹم سے سکینڈری بورڈز کو غلطیوں سے پاک قرار دینے کے دعوے کرنے والی پنجاب حکومت کو انٹری ٹیسٹ ختم کر دینا چاہیے کہ انٹری ٹیسٹ پنجاب کے کچھ سیکنڈری بورڈز میں نقل کے رجحان اور مارکنگ سخت نہ ہونے کی وجہ سے شروع کئے گئے تھے۔ انٹری ٹیسٹ سیکنڈری بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ غریب والدین پر اضافی معاشی بوجھ ہے۔ حکومت کو انٹری ٹیسٹ جاری رکھنے پر اصرار کے بجائے تعلیمی معیار اور سیکنڈری بورڈز کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ فی الفور انٹری ٹیسٹ ختم کرنا قباحتوں کو جنم دینے کے مترادف ہے تو حکومت کو انٹری ٹیسٹ کے مروجہ طریقہ کار میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے تو حالیہ انٹری ٹیسٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور تکنیکی مسائل کے حل کے لئے انٹری ٹیسٹ کا مکمل پرچہ یا کم از کم فزکس پورشن کو دوبارہ لینے کے فوری اقدامات کئے جائیں۔ اس کے علاوہ حکومت اگلے سال سے انٹری ٹیسٹ کے نمبروں کی شرح 50فیصد سے کم کر کے 25فیصد کرنے کا اعلان کرے۔ انٹری ٹیسٹ کا انعقاد انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے اعلان کے ایک ماہ بعد کیا جائے تو اس سے نا صرف بچوں کے لئے حاصل کردہ نمبر دیکھ کر ٹیسٹ میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے بلکہ ٹیسٹ کی تیاری کرانے والی اکیڈمیزکا کاروبار محدود ہونے سے طلبہ و طالبات پر مالی بوجہ بھی قدرے کم ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: