قوموں کا عروج و زوال : جیرڈ ڈائمنڈ کی کتاب Collapse پر تبصرہ

1
  • 1
    Share

قوموں کا عروج و زوال علم کا طلب کرنا اسلام میں ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا گیاہے۔ لیکن یہ بھی ایک عجیب و غریب بات ہے کہ مسلمانوں میں اگر علم کے تعلق سے بات بھی کی جاتی ہے تو اُس کا حیطہ عمل اِتنا محدود ہوتا ہے جسے علم کہنا بھی علم کی توہین معلوم دیتی ہے۔ مدارس کے نصاب میں آج تک درسِ نظامیہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اُس وقت سے آج تک دجلہ ہی میں نہیں گنگا میں بھی بے حساب پانی بہہ چکا ہے لیکن ہماری گاڑی آج تک درسِ نظامیہ پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔ جس قوم کو علم حاصل کرنے کے لیے چین تک جانے کا حکم دیا گیا ہے آج افسوسناک صورتِ حال یہ ہے کہ علم اگر خود اُن کے دروازے تک چل کر آجائے تو مسلمان اُسے صرف اِس لیے قبول نہیں کر سکتے کیونکہ وہ نیوٹن یا آئن سٹائن کے نام سے منسوب ہے۔

مغرب سے ایک کتاب سج کر آئی جس کا نام ہے ’کولیپس Collapse‘ اور جس کے مصنف ہیں جیرڈ ڈائمنڈ۔ اِس کتاب کا موضوع ہے انسانی تہذیبیں کس طرح اپنے عروج پر پہنچتی ہیں اور کس طرح زوال پذیر ہوکر نیست و نابود ہوجاتی ہیں۔ وہ کون سے خواص ہیں جو کسی سوسائٹی کو بامِ عروج پر پہنچا دیتے ہیں اور کیا وجوہات ہیں جس سے وہ سوسائٹی اپنے بامِ عروج سے زوال و نیستی کے اتھاہ سمندر میں معدوم ہوجاتی ہیں۔ یہ موضوع کوئی نیا موضوع نہیں ہے بلکہ قرآنِ کریم کے موضوعات میں سے ایک خاص موضوع یہی ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ موضوع اگر تحقیق کی دقت نظریوں سے اگر کوئی کرتا ہے تو مغرب کا ایک کرسچین شخص۔

جیرڈ ڈائمنڈ کی یہ کتاب تحقیق و جستجو کا ایک شاہکار ہے۔ جس میں اُنھوں نے پیسیفک اوشن کے انتہائی دور افتادہ جزیرے ایسٹر آئی لینڈ سے لے کر اسرار میں لپٹی ہوئی گم گمشتہ ’مایا‘ تہذیب کے عظیم الشان کھنڈرات اور اُس کے عروج و زوال کے تحقیقی ثبوت پیش کیے ہیں۔ پیسیفک اوشن کے اُس دور اُفتادہ جزیرے میں جہاں پتھر کے سیکڑوں ٹن وزنی مجسمے سر اُٹھائے کھڑے ہیں۔ جہاں کے رہنے والوں کو زندگی جینے کی ضروری اشیا فراہم کرنے میں کتنی ہی دقتیں پیش آتی تھیں۔ لیکن اُس کے باوجود اُنھوں نے بغیر کسی ٹیکنالوجی کے، بغیر کسی کرین کے، صرف اور صرف انسانی دست و بازو کے کمال سے وہ سر بفلک مجسمے بناڈالے۔ اُن کی سوسائٹی انتہائی نامساعد حالات میں پنپی بڑھی اور نیست و نابود ہوگئی۔ کیوں اور کیسے؟ ’وہ کیا اسباب تھے جو ’مایا‘ جیسی شاندار تہذیب کے صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کا باعث بن گئے؟کیا ہمارا بھی تو یہی انجام نہیں ہونے کو ہے؟ کیا یہ سوالات، کیا یہ حقائق ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ جیرڈ ڈائمنڈ کے اندازے کے مطابق امریکہ جیسے عظیم الشان ملک کا بھی ایسا ہی انجام جلد ہی ہوسکتا ہے۔

قرآن بھی ہمیں عاد و ثمود کے اوردیگر ایسی ہی عظیم الشان تہذیبوں کے واقعے سناتا ہے۔ وہ اُن کی شوکت و عظمت کے اسباب بیان کرتا ہے اور اُن کے خوفناک انجام کی خبر دیتا ہے۔ ماضی کی اِن تہذیبوں کے تاریخی عروج و زوال سے وہ حال میںموجود اقوام کو اُن کے مستقبل پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ کون سے قوانین ہیں جن کے ماتحت کوئی بھی قوم اپنے عروج تک پہنچتی ہے اور کن اُصولوں کے ماتحت وہ زوال پذیر ہوتی ہے۔

جیرڈ ڈائمنڈ کی بے مثل تحقیق و تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں توجہ سے اُن اقوام کے حالات پر غور کرنا چاہیے جو عروج پر پہنچ کر زوال پذیر ہوگئیں۔ وہ ہمیں اُن وجوہات اور اسباب کی خبر دیتا ہے جو اُن کے عروج کی ضمانت بن گئیں۔ وہ ہمیں اسباب و علت کے اُن خوفناک پہلوئوں سے بھی آگاہ کرتا ہے جو اُن کے بدترین زوال کا سبب بن گئے۔ جیرڈ ڈائمنڈ کی یہ تحقیق ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم قرآنِ کریم کے بیان کردہ اُصول و ضوابط کو ازسرِ نو سمجھنے اور خود اپنے آپ پر اور اقوامِ عالم کو اُن اُصولوں کے ماتحت پرکھیں۔ ہمیں اُس رحجان کو چھوڑنا ہوگا جس کے مطابق جب کبھی کوئی سائنسی تحقیق ہمارے سامنے آتی ہے ہم اُسے چودو سو سال پہلے قرآن نے یہ بات کہہ دی ہے کہہ کر اپنی بے علمی اور بے عملی پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ جیرڈ ڈائمنڈ کی تحقیق کچھ بنیادی اُصولوں پر مشتمل ہے۔ جو ہمیں اقوام کے عروج و زوال کے بہترین تجزیے تک تو پہنچا دیتی ہے لیکن اُس کا کوئی حتمی تدارک اور حل نہیں بتاتی ۔وہ حل وہ تدارک کہاں سے مل سکتا ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں قرآنِ کریم سے۔ لیکن اُس کے لیے قرآنِ کریم کو غلافوں کی تہوں سے کھول کر اپنے دل و دماغ میں بسانا ہوگا۔ اُس کے اُصولوں کی تفہیم عالمی منظر نامے کو نظر میں رکھ کر کرنی ہوگی اور اُس کے لیے قرآنِ کریم اور عالمی منظرنامے دونوںسے مکمل واقفیت ضروری ہے۔

جس قوم کو چودہ سو سالوں میں اپنے مسلکی اختلافات سے فرصت نہ مل سکی ہو۔ جس کے نزدیک اُس کے علاوہ ہر دوسرا شخص کافر ہو۔ اُس کا قرآنِ کریم کی روح تک پہنچنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟جو قوم اپنے عقائد کو ثابت کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی چیدہ چیدہ آیتوں کے حوالے دینے میں لگی ہو وہ قوم کس طرح قرآن کو اُس کے مکمل اُسلوب و بیان میں سمجھنے کی اہل ہوسکتی ہے؟شاید یہی وجہ ہے کہ ہم میں آج تک کوئی جیرڈ ڈائمنڈ جیسا محقق پیدا نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہوتا تو شاید بات صرف احوال و ظروف کی تحقیق و تجزیے تک نہ رہ جاتی بلکہ اُس کے تدارک و حل تک دنیا کے سامنے پیش کردیے جاتے۔

گزشتہ اقوام کے عروج و زوال پر اپنی تحقیق کے تناظر میں جیرڈ ڈائمنڈ موجودہ اقوامِ عالم کے عروج و زوال پر بڑے ہی کاٹ دار انداز میں پیش گوئی کرتے ہیں۔ گزشتہ اقوام کو اُن کے مخصوص اعمال و افعال کے جو نتائج پیش آئے ضروری ہے کہ ویسے ہی اعمال و افعال کے وہی نتائج ہمیں بھی پیش آئیں۔ڈائمنڈ کی تحقیق میں ایک خاص اُصول یہ بھی ہے کہ جب کبھی کسی قوم کی معیشت کسی دوسری قوم پر منحصر ہوجاتی ہے ۔ جب کبھی قومیںاپنی ضروریات کے لیے ایک دوسرے کی محتاج ہوجاتی ہیں تب اُن کا زوال بہت ہی تیزی سے رونما ہوتا ہے۔ جب کبھی جنگلات کی صفائی ، ماحولیات کو نقصان پہنچانے کا عمل ہوا ہے تب تب قوموں کا وجود مٹ گیا ہے۔ جب کبھی کاشتکاری سے منہ موڑا گیا ہے اور پیسے سے پیسہ پیدا کرنا کا نظام قائم ہوا ہے تب تب قومیں برباد ہوگئی ہیں۔ آج ہم ہندوستان میں اور تمام عالم میں اِس interdependence کے جال کو دیکھ سکتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کا نظرتو یہ ہے کہ جب جب خدا کی نافرمانی کی گئی ہے تب تب قومیں برباد ہوگئی ہیں۔ تو کیا اب وہ وقت نہیں آگیا ہے کہ اِس نافرمانی کی تفہیم کرلی جائے؟فرمانبرداری کے معیار کو سمجھ لیا جائے؟ اور جیرڈ ڈائمنڈ سے ایک قدم آگے بڑھ کر اِس نافرمانی کے مفہوم کو واضح کردیا جائے؟ لیکن اُس کے لیے پہلے ہمیں فرمانبرداری کو سمجھنے اور فرمانبرداربن جانے کی ضرورت ہے۔

دین کے اُصول و ضوابط سے بڑھ کر ہمارے لیے بزنس میں ڈیل کارنیگی اور گجراتی سندھی بزنس ذہنیت اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عام مقولہ سا بن گیا ہے کہ ایمانداری سے کوئی بزنس پنپ نہیں سکتا۔

آج تقریباََ ساری ہی قومیں سود کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ سود جو کسی بھی معیشت کے لیے سمِ قاتل ہوتا ہے۔ جو استحصال کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اِسے ختم کرنے کے لیے ہماری معیشت میں کیا صورت ہوسکتی ہے؟ جہاں کریڈٹ کارڈز، لونز، ڈبہ بند غذائوں کا اِتنا رواج ہوچکا ہو کہ وہ ہماری خون تک میں شامل ہوچکا ہے اِسے کیسے ختم کریں گے؟ قرآن تو جتنی چادر اُتنا ہی پیر پھیلانے کا رحجان دیتا ہے تو ضرورتوں اور خواہشات کے اِس جال سے ہم خود کو کیسے آزاد کر سکتے ہیں؟ آج اقوام کا زوال اور نیستی اِسی interdependence کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ اِس interdependence کو ختم کرنے کے لیے ہمیں ہر لیول پر خود کفیل ہونا ہوگا اور قرآن کے ہر اُصول پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ بس یہی ایک طریقہ ہے جو خاص طور پر مسلمانوں کو اور  عام طور پر اقوامِ عالم کو نیست و نابود ہونے سے محفوظ رکھنے کی ضمانت ہے۔

ایک عجیب و غریب رحجان ہے جس نے ہمیں اِس ذہنی آوارگی میں مبتلا کر رکھا ہے کہ دنیا کی کامیابی دین کے اُصولوں کے ماتحت نہیں ہوسکتی۔ آئیڈلوجیکلی ہم کتنا ہی کہیں کہ مذہب دنیا اور آخرت دونوں ہی کی فلاح کا راستہ ہے لیکن جب ہم اپنی ذاتی زندگی میں بزنس کی بات کرتے ہیں، معیشت کی بات کرتے ہیں تو عملی طور پر دین کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے۔ ہمارا عملی رحجان یہ بن چکا ہے کہ دین کچھ رسومات اور عبادات کی کچھ مخصوص شکلوں ہی کا نام ہے۔ یورپ اور امریکہ نے تو با ضابطہ چرچ کو حکومت و سیاست سے بے دخل کر رکھا ہے۔ اُن کے نزدیک حکومت و سیاست اور چرچ کی رسومات دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اُن کی خود ساختہ عملی زندگی میں دین کا کوئی رول نہیں رہ گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ چرچ نہیں جاتے۔ عبادت نہیں کرتے ۔ ویسے ہی مسلمان بھی مسجد ضرور جاتے ہیں ۔ حج اور زکواۃ بھی ادا کردیتے ہیں لیکن اُن کی عملی زندگی سے دین اور اُس کے اُصول اُتنے ہی دور ہیں جتنا کہ ایک غیر مسلم سے۔ دین کے اُصول و ضوابط سے بڑھ کر ہمارے لیے بزنس میں ڈیل کارنیگی اور گجراتی سندھی بزنس ذہنیت اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عام مقولہ سا بن گیا ہے کہ ایمانداری سے کوئی بزنس پنپ نہیں سکتا۔ یہی وہ عوامل ہیں۔ یہی وہ رحجانات ہیں جو عملی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ قرآن اور اُس کے اُصول ہماری عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔
آخرت کے فائدے تو بـڑے فائدے ہیں لیکن ہمیں دنیا کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا جب تک ہم قرآنِ کریم کے اُصولوں پر مکمل طور پر عمل نہ کریں ۔ اُنھیںاپنی عملی زندگی کا اٹوٹ حصہ نہ بنالیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عمرفرید ٹوانہ on

    سلام ورحمتہ اللہ ۔۔۔گو جس نیت سے صفحہ کھولا تھا وہ پوری نہیں ہوئی۔مگر خود میں شاندار تبصرہ ہے۔ترغیب ہے۔تفہیم ہے۔
    اور بہترین بات جو مجھے لگی کتابی پوائنٹ کی بجائے کتاب کو اٹھایا گیا ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: