مرد کا المیہ: ایک عورت کی پوری گواہی : سحرش عثمان

1
  • 4
    Shares

اچھی لڑکی اور سکیچ بک والی شہرزاد کے تذکرے کے بعد یونہی بے سبب اداسی طاری تھی۔ یونہی بے وجہ بے سبب والی اداسی وہ جس میں بندا ۔۔بلاوجہ ہی چائے پی لیتا ہے سگریٹ سلگا لیتا ہے۔ مسکرا دیتا ہے۔ رو پڑتا ہے۔ خود کو خود ہی بتاتا رہتا ہے بندا کہ۔نہیں میں نے کسی سے کچھ کہنا تو نہیں تھا- کوئ ضروری بات بھی نہیں کرنی- کچھ پوچھنا بتانا بھی نہیں تھا- بس یونہی کیبورڈ کھول لیا- جیسے کوئی ضروری بات کہنی ہو- مگر کھول کہ پتا چلا کہ نہیں کچھ کہنا تو نہیں تھا- بس ایسے ہی بالکل ویسے جملے پھسل رہے ہیں- جیسے بلاوجہ اداسی ہوتی ہے- زندگی میں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوتا اور آپ دکھی آتما بنے گھوم رہے ہوتے ہیں- جیسے بلاوجہ ہی آپ کسی کو کال ملا بیٹھتے ہیں اور ہیلو کی آواز سنتے ہی سوچنے لگتے ہیں کیا کہا جائے-
ایسی ہی شام تھی۔

شام سے یاد آیا مغرب کے وقت کی خاموشی عجیب سے احساسات میں مبتلا کر دیتی ہے ہمیشہ۔ ڈوبتا سورج پھیلتا اندھیرا اور فضاء میں گونجتی اس کی کبریائی کا اعلان۔
جیسے اسوقت میں اپنے بندے کو اپنی طرف بلانا کسی خاص مقصد کے تحت ہو۔کسی بڑے پلین کا چھوٹا سا حصہ۔جیسے پزل گیم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں ان کو صحیح ترکیب میں جوڑتے جائیں تو پوری تصویر سامنے آجاتی ہے۔
بالکل ایسے ہی شام ڈوبتا سورج گہرا ہوتا آسمان گھروں کو لوٹتے پرندے اور فضاء میں اس کے نام کی گونج۔
یہ احساس اس دن گھر سے دور اس خالی ٹرمنل کے بینچ پہ بیٹھے کھوجا تھا- کہ اسوقت رب کا اپنی طرف بلانا دراصل بندے کو یہ بتانے سمجھانے کے لئے ضروری تھا کہ اس سے بڑی تو کوئی قوت نہیں۔اور یہ کہ اس کائنات میں بسنے والے ہر جاندار کو تو بہت بہر صورت شام ڈھلے اسی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔ چاہے دن بھر جاندار قہر ہی برساتا رہا ہو۔

لوٹ کر جانا تو اسی کے پاس ہے۔ اور جانا بھی کیسے؟
ذات کا ہر غرور پس پشت ڈال کر۔ ہر زمینی امتیاز زمین پر چھوڑ کر؟
اس احساس کے غلبے والی شام تھی وہ۔ جب اردگرد چلتی پھرتی انتظار کرتی “کہانیوں” پر نظر دوڑائی۔ چھوٹے بچوں کےسوالوں کے جواب دیتیں مائیں۔ ان کے لئے پروائیڈر مینجر کا رول ادا کرتے باپ۔
کہانیاں بھی کیسی عجیب ہوتی ہیں نا۔ خود اپنا آپ پڑھوا لیتی ہیں۔ کونے میں کھڑا وہ شخص جس نے روشنی کو روکا ہوا تھا۔ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی خاتون اور اس کی گود میں سوئی جاگی چھوٹی سی پری۔ مجھے بے ساختہ ایمل (بھتیجی) یاد آئی جو اس بات پہ آپ سے گھنٹوں لڑ سکتی ہے کہ آپ نے لائٹ آن کیوں کی ایمو شو لا تھا۔
شائد ایسی ہی ہوگی وہ۔ جس کی نیند کی خاطر باپ سایہ کئیے کھڑا تھا۔
قدرے کم رش والے ٹرمنل پر گہری ہوتی شام کی اداسی تحلیل ہونے لگی تھی۔جیسے روشنی کی ایک کرن تیرگی کے سمندروں میں دڑاڑ ڈالنے لگی ہو۔ جیسے اندھیرے کو ہرانے واسطے روشنی کی پہلی لکیر نے سفر شروع کر دیا ہو۔
روشنی کے امید کے محبت کے ذرے ٹرمنل کے لاؤنج میں پھیلنے لگے تو منظر کو آنکھ کے رستے دل میں محفوظ کرنے کے لئے آنکھ موند لی۔ بلکہ اس کہانی کو لکھنے کا منصوبہ بناتے ہوئے آنکھیں موندی تھیں۔
مصروفیت کے چرخے میں منٹ گھنٹے دن دھاگے سے سوت سوت سے کھیس کی صورت جب ہفتوں میں ڈھلنے لگے تو کہانی پس منظر میں چلی گئ۔

کل انٹرنیٹ چلایا تو دھڑا دھڑ فون بجنے لگا۔
میسنجر پر آتے میسجز چیک کئے تو کسی اجنبی کی طرف سے اپنی ہی تحریروں کے لنک ملنے پر اگلا جملہ’کیا لکھتی ہیں آپ مجھے ایڈ کر لیجئے’ ٹائپ کسی جملے کے انتظار میں میسج ریکوسٹ کینسل کرنے کے متعلق سوچ ہی رہی تھی کہ اگلے میسج نے رائزڈ آئی برو کے ساتھ جواب دینے پہ مجبور کیا۔
اگلا سوال تھا کیا عمر ہے آپ کی کتنے سال کی ہیں؟
ابھی “ایکسکیوزمی” پورا ٹائپ بھی نہ کیا تھا کہ جلدی جلدی کہہ دینے کے سے انداز میں گویا ہوئے۔
جتنی آپ کی عمر ہوگی اتنا تجربہ ہے میرا عملی زندگی کا۔
دس سالہ شادی کا تجربہ بھی ہے۔ میرے سارے دوست بھی میریڈ ہیں۔ اور سب کی زندگیاں کم و بیش ویسی ہی آزاد اور خوشحال ہیں جیسی آپکی اسکیچ بک والی دوست کی ہے۔
اچھے سامع کی طرح سننے لگی۔ اور جو کہانی تھی وہ یوں تھی۔

میں اپنی کلاس فیلو کو پسند کرتا تھا اور یہ پسندیدگی تھی یا محبت معلوم نہیں۔ گھر میں شادی کی بات شروع ہوئی تو نرم لہجے والی اس لڑکی کا بتایا گھر میں۔۔۔۔۔۔۔ اور گھر میں طوفان آگیا۔ بہن بھائی جو اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔سب کو اچانک میں نظر آنے لگا۔ پورے خاندان بلکہ سات نسلوں کی عزت کا بوجھ میرے کندھوں پڑگیا۔ میں ایک روائتی بزدل مرد تھا جو آشیانے سے بچھڑنے سے خوف زدہ رہتا ہے۔ سو “عزت وقار” بچا لیا میں نے مرضی کی قیمت پر۔
ماں کے آنسوؤں کے سامنے ہار گیا میں۔

یہ جان کر اندر خاموشیاں گہری ہوتی گئیں کہ جذباتی استحصال صرف میری جنس کا ہی نہیں ہوتا۔ ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو رشتوں کی قدر کرنا چاہے

سکرین سے پار میں کرب میں مبتلا تھی۔ اُس پار ناجانے کیا کیفیت ہوگی۔ جی چاہ رہا تھا سکرین گرا دوں فون کہیں رکھ کر بھول جاؤں۔ اپنے ہی جیسے انسانوں کا استحصال کوئی کب تک دیکھ سہہ سکتا ہے۔ لیکن فرار بھی تو کوئی حل نہیں ہوتا نا۔ میرے چلے جانے سے اگر دکھوں میں آدھا فیصد بھی کمی آجاتی درد کم ہوجاتے تو کب کی جا چکتی۔ مصیبت بھی شائد یہ ہی ہے ہمارے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔
خیر۔۔۔ پتا نہیں کیوں یہ جان کر اندر خاموشیاں گہری ہوتی گئیں کہ جذباتی استحصال صرف میری جنس کا ہی نہیں ہوتا۔ ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو رشتوں کی قدر کرنا چاہے تعلق جوڑ کے رکھنا چاہے۔
سکرین کے اس طرف کوئی آف لائن جا چکا تھا۔ گود میں پڑے لیپ ٹاپ کی روشن سکرین خاموش پڑی تھی۔ اداسی میز پڑے چائے کے کپ میں ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ آخری راتوں کا چاند اندھیروں سے لڑتے لڑتے روشنی کی کوشش میں نڈھال ہو رہا تھا۔ تارے بھی مکانوں کو لوٹنے والے تھے۔

سوالوں کے بھنور نیند کی کشتی کو خوابوں کے خوش رنگ بادبانوں سمیت گھیر چکے تھے۔ وہ خواب جس میں شعور کے ایک صفحے پر موجود دوسرے کو اپنے جیسا انسان سمجھتی ہوں۔۔۔ انسانوں کی برابری کے خواب وہ خواب جن میں کوئی شب شبِ غم نہیں ہوتی۔جانے کتنی دیر خوابوں سے یقین اٹھ جانے کا ملال دل کو گھیرے رکھ تاکہ لیپ ٹاپ کی سکرین کا ایک کو نہ بلیو ہوا۔

اگلا میسج اس سوکالڈ مشرقی روایات والے معاشرے کے منہ پر طمانچہ تھا۔
کہنے لگے سارے گھر کی مرضی منشاء پسند اور رضا مندی سے خالہ کےگھر شادی ہوگئی۔ شادی کے دسویں دن سے آج دسویں سال تک میں اپنی ماں اور بیوی میں مصالحت کراتے کراتے تھک چکا ہوں۔ماں کے پاس بیٹھ جاؤں تو بیوی سازشی تھیوریز کے تانے بانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ ماں بھی یہ ہی بتاتی رہتی ہیں کہ میری بیوی نے مجھے ان سے چھین لیا ہے۔ اور میں پچھلے دس سال سے اپنی دنیا اورآخرت کے درمیان فٹ بال کی طرح بھٹکتا رہتا ہوں۔
میرے بہن بھائی مجھ سے میل جول کم کر چکے ہیں۔ میرے بچے اجنبیت سے ملتے ہیں۔ سوشل آئسولیشن کا شکار ہو چکے ہیں۔
اور میں اپنی شادی کو ناکام شادی سمجھتا ہوں۔
اور المیہ یہ ہے کہ یہ سب میں کسی سے کہہ نہیں سکتا کیونکہ اس معاشرے میں مرد کو درد نہیں ہوتا۔۔
آج سوچتا ہوں پسند سے شادی کی ہوتی تو شائد بیوی کو سمجھانا آسان ہوتا۔ یا پھر ماں کے طعنے ہی اتنا دکھ نہ دیتے۔
ایسے تو نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔۔۔۔
آپ سب سوچ رہے ہوں گے اس سارے قصے میں نئی بات کیا ہے؟ یہ تو اس “اعلی مشرقی اقدار” والے معاشرے میں ہر تیسرے فرد کا قصہ ہے۔
تو یہ ہی تو بڑی بات ہے یہ قصہ ہر تیسرے شخص کا قصہ ہے اور ہمیں یہ المیہ نہیں لگتا۔

معاشرے کی ڈامینینٹ جینڈر کا المیہ ہے۔ کمزور اکائی کا نہیں۔ جسے ہم ڈیپینڈینسی کے خوبصورت سوشو اکنامک ریپر میں لپیٹ کر سوشل لائف کے میز پر سجا کر آتے جاتے ٹیبوز توڑنے جیسے رواجی جملے بول بول کے اپنے روشن خیال ہونے کے ثبوت دیتے پھریں۔
یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ ہر اس جگہ نظر آتا ہے جہاں بیٹوں کو جاگیرسمجھ کر ٹریٹ کیاجاتا ہے۔ جس کے چھن جانے کا خوف ہماری راتوں کی نیند اور دن کا چین چین اڑائے رکھتا ہے۔
اس سے پہلے کے یہ اداسی مایوسی میں بدلتی۔ رویوں کے نیزے میری خواب پرستی کو تار تار کرتے رات کے آخری پہر نے ہار مان لی۔ دور فضاء میں اسی نام کی اسی پکار کی گونج تھی جو ہر بار پیمانہ چھلکنے سے آسانی کردیتا ہے۔خوابوں پر میرے ایمان کو ریسٹور کردیتا ہے۔
اور خواب بھی کیا___ یہ نا کہ کوئی شب نہ ہو شبِ غم۔
کیا ہم سب اس خواب کی تعبیر کے لیے اپنے اپنے حصے کی شمع نہیں جلا سکتے؟

اس رات کی یہ آخری سوچ تھی۔ سکرین کے اس طرف والےاجنبی کو بی آ فائٹر، بی پازیٹیو، ہیو فیتھ کا میسج کرکے سکرین گرا دی۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یہ سچ ہے کہ مرد کو عورتوں نے ہی بعض معاملات میں پتہ نہیں کیا سے کیا بنادیا ہوا ہے عورت کو شکوہ ہے کہ مرد اسے انسان نہیں سمجھتا۔
    حقیقت یہ ہے کہ عورت نے مرد کو بھی انسان نہیں سمجھا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: