آر ایس ایس کا تعلیمی ایجنڈا

0
  • 15
    Shares

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو بھارت میں دائیں بازو کی انتہا پسند اور بنیاد پرست ہندو تنظیموں کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ اس تنظیم کی کوکھ سے شیو سینا، بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے جنم لیا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ہی سے آر ایس ایس نے بھارت کو ہندو ریاست کا درجہ دلانے سے متعلق اپنی کوششیں بھرپور انداز سے شروع کردی تھیں۔ اس تنظیم کے سرکردہ ذہن ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے ہیں کہ بھارت میں صرف اور صرف ہندو پسند ذہنیت پروان چڑھے اور اسلام پسند ذہنیت خاص طور پر ناکام ہو۔ دیگر اقلیتوں کے لیے بھی آر ایس ایس کا یہی ایجنڈا رہا ہے۔ ایک زمانے تک اِس نے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا مگر اب یہ عیسائیوں، بدھ ازم کے پیرو کاروں اور سِکھوں کو بھی نشانے پر لیے ہوئے ہے۔ بھارت میں تعلیم کے حوالے سے اپنی بات منوانے کے لیے آر ایس ایس خاص طور پر فعال رہی ہے۔ حکومت پر دباؤ ڈال کر وہ اپنا تعلیمی ایجنڈا پوری قوم پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔

……… ……

تعلیمی امور سے متعلق قائم کیے گئے ادارے NCERT کے نام اپنی حالیہ سفارشات میں آر ایس ایس نے (جو بھارت میں علمی اور عمومی سطح پر انگریزی، اردو، عربی اور فارسی کے الفاظ کو دیس نکالا دینے پر تُلی ہوئی ہے) نصاب سے ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور کے خیالات، ایف ایم حسین کی خود نوشت کے اقتباسات، مغل شہنشاہوں کی فیاضی، سخاوت اور انسان دوستی سے متعلق خیالات، بہبودِ عامہ سے متعلق اُن کے اقدامات کے تذکرے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو پارٹی کے طور پر ذکر، ۱۹۸۴ء کے سِکھ کُش فسادات سے متعلق بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کی طرف سے معذرت اور ۲۰۰۲ء میں گجرات کے مُسلم کش فسادات کے حوالے سے عدالتی سطح پر سُنائی جانے والی ایک سزا میں دو ہزار مسلمانوں کے قتل کا اعتراف خارج کرنے کو کہا ہے۔

NCERT کو دی جانے والی یہ سفارشات دراصل آر ایس ایس کی جانب سے بھارت کو ہندو ریاست کا درجہ دلانے سے متعلق جاری رکھی جانے والی بھرپور کوششوں ہی کا تسلسل ہے۔ بھارت میں ایک طرف سیکولر ازم کے علم بردار ہیں جو، کمزور عزم کے ساتھ ہی سہی، اس امر کے لیے کوشاں ہیں کہ مذہب سے قدرے بلند ہوکر قوم پرستی کو پروان چڑھایا جائے تاکہ وطن سے محبت کے نام پر قوم کو متحد اور ہم آہنگ رکھا جاسکے۔ دوسری طرف آر ایس ایس ہے، جو چاہتی ہے کہ سیکولر ازم پر مبنی قوم پرستی کو ترک کرتے ہوئے خالص ہندو ذہنیت کی عکاسی کرنے والی قوم پرستی اپنائی جائے۔ وہ چاہتی ہے کہ بھارت کو باضابطہ ہندو ریاست کا درجہ دیا جائے تاکہ یہاں کے ہندو کھل کر اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں کریں اور اقلیتوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کریں۔ آر ایس ایس نے بچوںمیں ہندو ازم کی طرف جھکاؤ رکھنے والی ذہنیت پیدا کرنے کے لیے شاخا، سرسوتی شِشو مندر اور ایکل اسکولز کے ذریعے اپنا ایجنڈا خوب پھیلایا ہے۔ ان اسکولوں میں بچوں کو بہت چھوٹی عمر سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ اول و آخر ہندو ہیں اور انہیں اس حوالے سے اپنی شناخت پر بہت زور دینا ہے، اِسے برقرار رکھنا ہے۔

تعلیم کے حوالے سے مرتب کی جانے والی ریاستی پالیسیوں پر موثر طریقے سے اثر انداز ہونے کے لیے آر ایس ایس نے ودیا بھارتی جیسی تنظیمیں قائم کی ہیں، جو ہندوتوا کی سوچ کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھانے کے لیے بے تاب رہتی ہیں۔ یہ تو ہوا تنظیمی سطح کا کام۔ آر ایس ایس نے جامعات اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بڑے عہدوں پر اپنی مرضی کے لوگوں کو بٹھانا بھی شروع کردیا ہے۔ اس عمل کا بنیادی مقصد پالیسی تیار کرنے کے عمل پر اثر انداز ہونا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ہندوتوا کے ایجنڈے کو زیادہ تیزی سے اور آسانی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں قائم ہونے والی سابق این ڈی اے حکومت نے اسکولوں کی سطح پر نصابی کتب کی تبدیلی کے ذریعے آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کی بھرپور کوششوں کا آغاز بھی کیا تھا۔ پنڈت تیار کرنے اور رسوم ادا کرنے سے متعلق کتب بھی نصاب کا حصہ بنائی گئی تھیں۔ آر ایس ایس کی خواہش رہی ہے کہ ہندوتوا سے متعلق ایجنڈے کو زیادہ سے زیادہ وسعت کے ساتھ اور نہایت تیزی سے نافذ یا مسلط کیا جائے۔ ۲۰۱۴ء سے ازمنۂ قدیم، ادوارِ وسطی اور جدید زمانے کی تاریخ کو تبدیل کرنے یعنی اُسے ہندو رنگ دینے کی کوششیں بھرپور انداز سے شروع کردی گئی ہیں۔ یہ عمل اس قدر تیز ہے کہ اب اقلیتیں بھارت میں اپنی بقاء کے حوالے سے شدید خطرات محسوس کر رہی ہیں۔ آر ایس ایس نے انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق وزارت کے ساتھ مل کر بھارت کا پورا تعلیمی نظام تبدیل کرنے کی بھرپور مہم شروع کردی ہے۔ اب یہ بات آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تعلیمی نظام میں جو تبدیلیاں آر ایس ایس کی ہدایات کے مطابق متعارف کرا رہی وہ دراصل عالمگیریت اور نجکاری کو ’’منو واد‘‘ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

آر ایس ایس بنیادی طور پر اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ آنے والی نسلوں کا سوچنے کا انداز بدل جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار، بلکہ بضد ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ قدیم بھارت میں پایا جانے والا جامد برہمنی ذہن بروئے کار لایا جائے، لوگوں کو سوچنے اور سمجھنے کے معاملے میں زیادہ کام کرنے کے قابل نہ چھوڑا جائے اور خالص علمی سطح پر سوچنے اور اس حوالے سے کام کرنے کی گنجائش زیادہ سے زیادہ ختم کردی جائے۔

آر ایس ایس کا دعویٰ ہے کہ سابق حکومتوں نے جو تاریخ لکھوائی وہ ان کی مرضی کے مطابق تھی۔ اور یہ کہ بھارت کو اس کے اصل اور حقیقی تناظر میں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ آر ایس ایس کے قائدین چاہتے ہیں کہ تاریخ از سر نو مرتب کی جائے یعنی سبھی کچھ نئے تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کی جائے۔ یعنی یہ کہ تاریخ اور دیگر علمی حوالوں کو بھی شُدّھی کے عمل سے گزارا جائے۔ تعلیمی عمل کو ’’غیر ہندو‘‘ عناصر سے ’’پاک‘‘ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بھارت بھر میں تعلیمی نظام کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کے لیے آر ایس ایس کے رضاکار نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے سے فعال ہوگئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ تاریخ، سماجی علوم اور دیگر شعبوں میں سبھی کچھ تبدیل کرکے اُسے ہندوتوا کا جامہ پہنا دیا جائے۔ خالص علمیت کو ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جارہا۔ شکشا بچاؤ ابھیان کے دینا ناتھ بترا اور آر ایس ایس سے وابستہ شکشا سنسکرتی اتھان نیاس نے عشروں کی کوششوں کے نتیجے میں اپنے ایجنڈے پر تسلی بخش حد تک عمل کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان سب سے نے مل کر دنیا کے سب سے بڑے ناشر پینگوئن کو وینڈی ڈونیگر کی خاصی وقیع علمی کاوش ’’دی ہندو : این آلٹرنیٹ ہسٹری‘‘ ترک کرنے پر مجبور کیا۔ اس کتاب کے ذریعے مصنف نے قدیم ہندوستانی معاشرے میں پائے جانے والے ذات پات کے نظام کو مذہبی کتب اور دیگر حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی تھی اور اس حوالے سے قارئین کی غیر معمولی رہنمائی کا اہتمام کیا تھا۔ وینڈی ڈونیگر نے جو کچھ لکھا تھا وہ آر ایس ایس مائنڈ سیٹ کو پسند نہ تھا، اس لیے وینڈی کی محنت پر پانی پھیرنے کی مہم شروع کی گئی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ معاملہ صرف یہاں تک نہیں رکا۔ دینا ناتھ بترا نے ہندوتوا کے فلسفے کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے ۹ کتابیں تحریر کی ہیں جنہیں گجراتی میں ترجمہ کراکے ۴۲ ہزار اسکولوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ موجودہ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے ۲۳ جون ۲۰۱۳ء کو دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی تو نصاب تبدیل کردے گی یعنی اسکولوں میں ہندوتوا کی تعلیم کھل کر دی جائے گی۔ دینا ناتھ بترا ایک ایسا تعلیمی نظام چاہتے ہیں، جس میں ہندوتوا کی تعلیم دینا کسی بھی اعتبار سے مشکل نہ ہو تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے صرف اور صرف ہندو ہوکر سوچنے کی گنجائش رہ جائے اور دیگر اقلیتوں کے تمام مثبت علمی و ثقافتی اثرات بالکل غیر متعلق ہوکر رہ جائیں۔

آر ایس ایس نے تعلیم کے حوالے سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہندو دیو مالائی داستانوں کو تاریخ کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کیا ہے۔ آریا نسل کے لوگ بھارت کی سرزمین سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ ایشیائے کوچک سے آئے تھے۔ آر ایس ایس کا ایجنڈا یہ ہے کہ آریا نسل کے لوگوں کو مقامی ثابت کیا جائے تاکہ اُن کے ڈھائے ہوئے مظالم کے حوالے سے پائی جانے والی نفرت میں کمی واقع ہو۔ جنوبی بھارت کے لوگ اس سرزمین کے اصل باشندے ہیں اور ان کا دعوٰی ہے کہ وسط ایشیا کے خطے سے آئے ہوئے گوری چمڑے والے آریا نسل کے لوگوں نے بھارتی سرزمین کو فتح کرنے کے بعد یہاں کے اصل باشندوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے اور پورا معاشرتی نظام ہی بدل کر رکھ دیا۔ موئن جو دڑو اور ہڑپّہ کی ثقافت مقامی تھی مگر آر ایس ایس یہ ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہے کہ ان مقامات کے لوگ دراصل آریہ تھے۔ اس حوالے سے غیر معمولی فنڈنگ کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ رامائن اور مہا بھارت جیسی کتب کو تاریخی اعتبار سے درست ثابت کرنے کے لیے دریائے سرسوتی کی تلاش بھی زور و شور سے جاری ہے۔ رامائن اور مہا بھارت کو باضابطہ تاریخ کا حصہ قرار دینے پر زور دیا جارہا ہے اور کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ان دونوں کتب کو تاریخ کی کتب کی حیثیت سے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھایا جائے۔ یہ ثابت کرنے پر بھی بہت زور دیا جارہا ہے اور غیر معمولی فنڈنگ کی جارہی ہے کہ قدیم بھارت میں وہ تمام چیزیں ایجاد کرلی گئی تھیں جو آج ہمیں اپنے اطراف دکھائی دیتی ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی کہ قدیم بھارت کے لوگ فضائی سفر کیا کرتے تھے! حد یہ ہے کہ آر ایس ایس کے ایجنڈے میں یہ ثابت کرنا بھی شامل ہے کہ قدیم بھارت میں طب کے ایسے ماہرین بھی تھے جو پلاسٹک سرجری کرلیا کرتے تھے۔ اب یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ قطب مینار دراصل شہنشاہ سمدر گپت نے بنوایا تھا اور اس کا اصل نام وشنو استمبھ تھا!

اقتدار کے لیے شیوا جی اور افضل خان، اکبر اور رانا پرتاپ سنگھ اور گرو گووند سنگھ اور اورنگ زیب کے درمیان لڑائی کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھارت ہر دور میں رواداری کی نمایاں مثال رہا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے آئے ہیں مگر اب تاریخ کا ایک نیا ورژن متعارف کرایا جارہا ہے، جس میں سب کچھ ہندوتوا کی عینک سے دیکھا جائے گا۔

بھارت کی تاریخ کو جس انداز سے مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہندوتوا کے نام پر جو کچھ اہلِ بھارت کے ذہنوں پر مسلط کیا جارہا ہے اُس پر اہلِ علم تنقید بھی کر رہے ہیں۔ کھلے ذہن کے ترقی پسند اور سیکولر افراد نے ہندوتوا کی فورسز کو لتاڑنے سے گریز نہیں کیا۔ اب سب کچھ الٹنے اور پلٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تاثر مضبوط بنایا جارہا ہے کہ مسلم حکمرانوں کے سامنے میدان میں آنے والے تمام ہندو راجا دراصل ہندو ازم کے لیے لڑ رہے تھے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو کچھ بھی مسلم حکمرانوں اور ہندو راجاؤں کے درمیان ہوا وہ محض اقتدار کی لڑائی تھی۔ اقتدار کی لڑائی کو مذہبی جنگ قرار دینا تاریخ کے معاملے میں بددیانتی ہے۔ اقتدار کی لڑائی محض ہندو اور مسلم حکمرانوں کے درمیان ہی نہیں ہوئی بلکہ بھارت میں تو مسلم اور ہندو حکمران باہم بھی لڑتے رہے ہیں۔

اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ آر ایس ایس محض تاریخ ہی کو پلٹنا نہیں چاہتی بلکہ پورے سیکولر ازم کے مقابل اپنی مرضی کا ایک ایسا علمی نظام لانا چاہتی ہے جس کے سامنے معقولیت کے لیے کوئی گنجائش ہی نہ رہے۔ بھارت میں اب تک سیکولر قوم پرستی کی بات ہوتی رہی ہے۔ بنیاد پرست اور انتہا پسند ہندو چاہتے ہیں کہ اب تمام معاملات اُن کی مرضی کی عینک سے دیکھے جائیں۔ اس مقصد کا حصول یقینی بنانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

[مصنف بایو میڈیکل انجینئرنگ کے سابق پروفیسر اور دی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ممبئی کے سابق سینئر میڈیکل آفیسر ہیں۔]

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“What is RSS agenda in education?” (“sacw.net”. August 16, 2017)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: