پاکستان کے مفاداتی دانش ور: کچھ مشہور اقسام ۔۔۔ اورنگ زیب نیازی

2

پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے اور اس کی عمر ابھی صرف ستّر برس ہے، اس لیے یہاں حقیقی دانش ور نام کی چیز نہیں پائی جاتی۔ البتہ کمرشل/ مفاداتی دانش ور کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جن کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ مشہور اقسام کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

اورنگ زیب نیازی

طبیعیاتی:
یہ مفاداتی دانش وروں کی سائنسی قسم ہے۔ یہ ڈالروں میں تنخواہ لیتے ہیں بہ وقتِ ضرورت ڈالروں کو ٹوائلٹ ٹشو کے طور بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کائنات کا پہلا، دوسرا، تیسرا، چوتھا۔۔۔۔ علیٰ ھذا القیاس۔۔۔ آخری حتمی علم فزکس کا وہ علم ہے جس کی تصدیق پینٹا گون کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سامنے آپ کسی دوسرے علم کا ذکر کریں گے تو آپ فوری طور پر جاہل، قدامت پسند قرار دے دیے جائیں گے۔ (لہٰذا خبردار رہیے)۔ ان کے دلائل کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:

٭    چوں کہ پانی سے گاڑی نہیں چل سکتی لہٰذا خدا موجود نہیں۔
٭    چوں کہ زمین گول ہے بلکہ بیضوی ہے لہٰذا مذہب ایک فضول سر گرمی ہے۔
٭    چوں کہ ذہن کا دایاں حصہ آپ زیادہ استعمال کرتے ہیں لہٰذا آپ مولوی اور طالبان ہیں۔
٭    چوں کہ آپ رد تاریخ اور ڈی کنسٹرکشن بکواسیات پہ یقین نہیں رکھتے لہٰذا آپ ایک جاہل قوم ہیں۔

ان کا سربراہ کوئی سائنس دان ہونے کا دعویٰ دار شخص ہوتا ہے۔ جس کے کریڈٹ پر کوئی اہم سائنسی ایجاد یا ریسرچ تو نہیں ہوتی البتہ وہ جعل سازی اور دھوکہ دہی کی انکوائریز ضرور بھگت چکا ہوتا ہے۔

حرکیاتی:
یہ مفاداتی دانش وروں کی صحافتی قسم ہے۔ صحافت کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں جتنا کوئی دولے شاہ کا چوہا بیدل کی شاعری کے بارے میں جانتا ہے۔ انھیں، ان کے گھر والے بھی سنجیدہ نہیں لیتے، اس لیے یہ ایک دوسرے کو ہی دانش ور، دانش ور کہہ کر شوق پورا کرتے ہیں۔ ان کی سر توڑ کوشش کے با وجود کوئی بڑا ٹی وی چینل یا اخبار ان کو نوکری نہیں دیتا، اس لیے یہ صرف سوشل میڈیا پر اپنی ویب گاہوں میں رہتے ہیں۔ ان کی تعداد دس، پندرہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ اپنے آپ کو سیکولر جمہوری سمجھتے ہیں اس لیے ان میں بھانت بھانت کے چہرے پائے جاتے ہیں۔ کچھ گنجے ہوتے ہیں، کچھ لمبے بالوں والے، کچھ ڈاڑھی والے، کچھ لمبی ڈاڑھی والے، کچھ چھوٹی ڈاڑھی والے اور کچھ میک اپ زدہ خواتین۔ یہ سیکس، حیض اور اس طرح کے دوسرے موضوعات پر مضامین شایع کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی ریڈر شپ بڑھانے کے لیے خواتین اداکارؤں کی نیم برہنہ تصاویر شائع کر کے ’’سماج کی خدمت کرتے ہیں اور معاشرے میں علمی و فکری مکالمے کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ دانشور اتاؤلا، چتاؤنی، حرکیات اور استخراجی منطق جیسے الفاظ تواتر سے استعمال کر کے سادہ لوح قارئین پر اپنی علمی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صرف خوب صورت خواتین کے مضامین شائع کرتے ہیں۔ مذہب اور ملک مخالف سرگر میوں میں ملوث افراد کو خوب بڑھاوا دیتے ہیں، معاشرے میں انتشار پھیلاتے ہیں، جب ’’ڈنڈا‘‘ حرکت میں آتا ہے تو تردیدیں اور وضاحتیں پیش کرتے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر بیٹھ کر جمہوریت اور آزادیء اظہار کا درس دیتے ہیں اور دلائل و براہین سے حکومتی کوے کو سفید ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح چھوٹے موٹے چیک لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کا لیڈر بالعموم کوئی صحافی نما شخص ہوتا ہے جو شاعروں میں صحافی اور صحافیوں میں شاعر سمجھا جاتا ہے۔ یہ شہرت اور دولت کے لالچ میں خوشامد کی ہر حد سے گزر جانے کو جائز سمجھتا ہے لیکن اپنے مقاصد میں مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے بوکھلا چکا ہوتا ہے اور اکثر مضحکہ خیز باتیں کرتا پایا جاتا ہے۔

ظلماتی:
مفاداتی دانش وروں کا یہ گروہ زیادہ تر کمسن گھریلو ملازمائوں پر تشدد کرنے والی آنٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چوں کہ ان کو ’’آکسیجن‘‘ باہر سے مل رہی ہوتی ہے، اس لیے یہ زیادہ عرصہ زیر زمین رہتی ہیں۔ یہ دو تین ماہ بعد باالعموم لاہور کے لبرٹی چوک پر شام کے وقت نمودار ہوتے ہیں۔ ان کا انتخابی نشان موم بتی ہے۔ یہ ٹی وی چینلز پر آکر کچھ دن انسانی حقوق کا واویلا کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں بشر طیکہ ظلم کرنے والا مسلمان اور ڈاڑھی والا ہو جب کہ مظلوم عورت کی حمایت کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھر سے بھاگی ہوئی ہو۔

ریاستی اداروں کے ہاتھوں ظلم کا شکار لوگ ان کے خیال میں جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں اس لیے ان کے حق میں آواز اٹھانا ضروری خیال نہیں کرتے۔ یہ بڑے عہدوں کے متمنی ہوتے ہیں، ناکامی کی صورت میں بنکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ یہ آزادیء اظہار ِرائے کے لیے شراب کی چسکی اور چرس کے سُوٹے کو بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان کی زمام کسی بے کردار مردانہ عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

مالیاتی:
یہ نوبل پرائز لے کر راتوں رات مالا مال ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ در اصل وہ ’’پیشہ ور‘‘ہیں جوعلم اور ذہانت کے گھنگرو پہن کر ناچتے ہیں اور صاحبان اقتدار کے دل رجھاتے ہیں۔ یہ، بہ ظاہر بہت پڑھے لکھے اور اور بے ضرر معلوم ہوتے ہیں لیکن در حقیقت مفاداتی دانش وروں کی سب سے خطر ناک قسم یہی ہیں۔ ان کا شجرہء نسب انگریز دور کے ابن الوقتون سے ملتا ہے۔ اس لیے یہ منہ ٹیڑھا کر کر کے انگریزی بولتے ہیں۔ یہ بڑی بڑی انگریزی کتابیں پڑھتے ہیں، انگریزی میں لکھتے بھی ہیں، گفتگو میں مغربی دانشوروں کے حوالے دیتے ہیں۔ ادب، ثقافت اور تعلیم پر بحثیں کرتے ہیں۔ جی حضوری ان کا مستقل پیشہ ہوتی ہے۔ ادبی اشرافیہ میں شامل ہونے کو بے تاب رہتے ہیں۔ ان کی دال جلدی گل جاتی ہے چناں چہ مراعات لینے میں بھی جلدی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کو کمال حاصل ہوتا ہے کہ ہر ریاستی پالیسی کو درست بھی ثابت کر سکتے ہیں اور حکومت کے بدل جانے پر اسی پالیسی کو غلط بھی ثابت کر سکتے ہیں۔ یہ اپنا اُلو خود سیدھا کرنا جانتے ہیں اس لیے کسی کی سربراہی کو قبول نہیں کرتے لیکن وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ تسلیم کرنا عار نہیں سمجھتے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: