جہاں پڑے ہیں یہاں گرے کیسے: محمد خان قلندر

0
  • 1
    Share

آج مملکت پاکستان میں حکومت، یہاں ہے، نہیں ہے، کی حالت میں ہے۔ وزیراعظم ابھی تک خود کو پراکسی سربراہ ظاہر کر رہے ہیں، وزیر خزانہ مفرور ہیں۔ داخلہ اور خارجہ امور کے وزیر جو بیان دے رہے ہیں، وہ ان جرائم کا اعتراف ہیں جو پاکستان اور ہماری افواج کی مخالف طاقتیں ہم پر لگاتی ہیں، اس سے بڑھ کر کسی ملک میں حکومتی بے بسی کیا ہو سکتی ہے!

ہم اس حال میں اچانک نہیں پہنچے، یہ تو بتدریج ہوا ہے۔ حکومتوں کے مفلوک الحال طرز حکمرانی کا یہ نتیجہ عشروں کی بد انتظامی کا مجموعی اثر ہے۔ ستر سال قوموں کی تاریخ میں کوئ بڑی مدت نہی ہوتی۔ یہ غلط العام قول شائد اقوام کی تاریخ عالم سے ماخوذ ہو، لیکن اس کا اطلاق برصغیر کی جغرافیائی تقسیم کے بعد بننے والے ممالک پہ نہیں ہوتا، یہاں تو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور صدیوں سے موجود قوم تھی۔

ہمارے ہاں فوجی اور سویلین آمریت باری باری آزمائی جاتی رہی لیکن حقیقت میں مارشل لاءکبھی مکمل فوجی حکومت تھی، نہ ہی کوئی سویلین حکومت مکمل جمہوری تھی، تو اس صورت حال کی ذمہ داری نہ کلی طور فوج پر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ ہی سارا الزام سویلین یا سیاست دانوں کو دیا جا سکتا ہے، بلکہ ان دونوں طبقات کے پاس ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی وجوہات موجود ہیں۔ یوں یہاں سب ملبہ دوسرے پے ڈال کے خود کو بری الذمہ کہتے ہیں۔ جیسے اب اپنی تیس سال کی بد ترین کارکردگی کے باوجود شریف خاندان خود کو مظلوم بنا کے پیش کر رہا ہے۔ جبکہ ان کی تو جبلت میں خود پرستی ہے،جس کا اظہار وہ ہر مرتبہ اقتدار سے محرومی کے وقت کھُل کے کرتے ہیں۔ جیسے
میں کسی کو، سُپر وزیراعظم ،، نہی مان سکتا۔
میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا ۔
میں استعفی کیوں دوں۔
میرا قصور کیا ہے ؟ مجھے کیوں نکالا !
عوامی عدالت !! سازش ـ نادیدہ ہاتھ۔

اس کیفیت کی وجہ اس خاندان کی بیک گراؤنڈ ہے۔ خاندان انسان کی پہچان اور پیشہ مہارت ہوتا ہے، لیکن برہمن سماج نے خاندان کو پیشے سے منسوب کر دیا۔ جو اب تک ہمارے ہاں بھی مروج ہے،ہر دستکار کا ہُنر اس کی ذات ہے، لوہار، کُمہار، نائی، موچی، دھوبی، جولاہا، ترکھان، وغیرہ ۔

خاندانی جنیات پر مہارت کا اثر غالب ہوتا گیا، تو پیشہ ورانہ خصائص کردار میں زیادہ مستحکم ہو گئے، اس تناظر میں جاتی اُمرا سے لہور منتقل ہونے والے ایک خاندان دستکار سے صنعتکار بننے کے بعد بھی اپنی خصوصی فطرت اور جبلی عادات سے نہیں نکل پایا جس میں ہر محکمہ ہر کاروبار اور ہر شئے پر قبضے کی لامحدود خواہشات شامل ہیں ۔

یہ خاندان تیس سال سے زائد عرصہ حکمران رہنے سے بھی ہر چیز پہ قابض ہونے کی خواہش سے چھٹکارا حاصل نہی کر سکا۔ اب اس کے ساتھ پاکستانی ریاست کی مقتدرہ ہیئت ترکیبی کو دیکھا جائے تو آئین میں اداروں کے اختیارات کی تقسیم کے مطابق، افواج اور عدلیہ کو انتظامیہ اور مقننہ کے دائرہ اثر سے باہر رکھا گیا ہے، ان کو اپنے اپنے دائرہ کار میں مکمل آزادی ہے۔
مقننہ اور انتظامیہ ایک طرف اپنی نااہلی کی وجہ سے اپنے فرائض کا ملبہ بھی ان ہر دو اداروں پے ڈالتے ہیں۔ جیسے امن و امان کے قائم رکھنے کی ذمہ داری میں فیل ہو کے سارا کام فوج کے حوالے کیا گیا ہے، اور سیاسی اختلاف کے مسائل بجائے اسمبلی کے اندر حل کرنے کے عدالت عالیہ پر ڈال دیئے گئے ہیں لیکن، ساتھ ان اداروں کی خود مختاری پر اعتراض بھی ہیں، ان کے اختیارات پر قدغن لگانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

نواز شریف ہو یا زرداری یا کوئی اور سیاستدان، ان کی سوچ جب تک یہ ہے کہ جھوٹ، بہتان تراشی، اور تضحیک کے زریعے عوام کو گمراہ کیا جا سکتا ہے اور اپنی حکومتوں کی نااہلی کو چھپانے کے لئے عدلیہ، افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی مبینہ مداخلت کا بہانہ چل سکتا ہے تو حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

شائد متعلقہ اداروں کے لئے بھی یہ گھڑی آ پہنچی ہے کہ وہ ریاست کی رٹ کو آئین کی روح کے مطابق خود پر مکمل نافذ کر کے، اس غیر فعال مقننہ اور انتظامیہ میں تطہیر کے لئے احتساب کے عمل کو مہمیز دیں، کہ اب مزید مصلحت کوشی، چشم پوشی، اور مصالحت کی گنجائش نہیں رہی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: