ویڈیو گیمز یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ فرحین شیخ

0
  • 39
    Shares

سائنسی ایجادات کی مہربانی سے انسان کی زندگی آسان ہوگئی ہے۔ سُکھ کی دنیا میں سانس لے کر انسان نے نہ صرف خوشیوں سے ناتا جوڑا بلکہ ترقی کی زینے پر قدم رکھتے ہوئے کائنات مسخر کرلی۔ چند دہائیوں قبل پیچیدہ سمجھا جانے والا ترقی کا سفر سائنس کی بدولت سہل ہو گیا۔ لیکن یہ سائنسی ایجادات ہی انسانیت کے کرب اور درد میں اضافے کا باعث بن گئیں، منزل سے بھٹکا کر دور لے گئیں۔ کبھی ایٹمی صلاحیت حاصل کر کے انسانیت کو رسوا کرنے کی شرم ناک کوشش کی گئی، تو کبھی اسلحے کے پھیلاﺅ سے معاشرے میں انتشار پھیلایا گیا، انٹرنیٹ کے ذریعے فحاشی اور عریانی کو منظم طریقے سے پھیلایا گیا تو کبھی مشینوں کے کثیر استعمال سے انسان نے اپنی صحت کو داﺅ پر لگایا۔

معاشرتی زوال پذیری کا باعث بعض چیزیں تو وہ ہیں جن کو ہم قابلِ توجہ گرداننے سے ہی منکر ہیں جیسا کہ ویڈیو گیمز! جن کی علت کا شکار نہ صرف بچے بلکہ نوجوان اور بوڑھے بھی ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک، شہر، قصبہ یا گاوں ایسا نہیں جہاں ویڈیو گیمز کے عادی افراد موجود نہ ہوں۔ تقریباً ہر خواندہ اور ناخواندہ فرد موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر ویڈیو گیمز کی ایپلیکیشنز کو ڈاﺅن لوڈ کرنے کے طریقوں سے واقف ہے. جدید دنیا میں ویڈیو گیمز کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر کے اس کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ کمپنیاں ویڈیو گیمز کی بڑے پیمانے پر فروخت کے لیے نہ صرف مارکیٹنگ اور تعلقاتِ عامہ کے شعبے قائم کرتی ہیں بلکہ ماہرینِ نفسیات کی خدمات بھی حاصل کرتی ہیں، تاکہ تمام انسانی نفسیاتی پہلوﺅں کو سمو کر یہ گیمز تیار کیے جائیں، اس طرح معاشرے میں ان کی قبولیت کے امکانات بڑھائے جاتے ہیں۔ یہ گیمز ملین ڈالرز کی لاگت سے تیار کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کا عادی بنانے کے لیے کمپنیاں کم و بیش وہی حربے استعمال کرتی ہیں جو جُواخانوں کا لازمی حصہ ہیں۔ اکثر گیمز میں ہارنے والے صارفین سے ایک سلاٹ مشین کے ذریعے پیسے بھی وصول کیے جاتے ہیں۔ ان تمام حربوں کو ”ترقی کے دروازے”کا نام دیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ ویڈیو گیمز میں منشیات کے استعمال، تشدد، گروہوں کے درمیان لڑائی، نا زیبا اور عامیانہ الفاظ کا استعمال عام بات ہے۔ یوں اب ہر گھر میں موجود موبائل اور کمپیوٹر بامقصد اہمیت کے حامل ہونے کے بجائے جوا خانوں، شراب خانوں اور ڈانس کلب میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ عام فرد کے لیے وہ تصورات اور الفاظ جن کو پہلے کبھی سوچنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا اب وہ ان گیمز کے ذریعے زندگی میں رچتے بستے جا رہے ہیں، اور معاشرہ ان کے کثیر استعمال کے باعث انہیں قبول کر کے اپنے اندر ضم بھی کر رہا ہے۔

شام میں جنگی تباہ کاریوں پر مبنی ویڈیو گیم ایک جرمن سوفٹ ویئر کمپنی میں تیاری کے مراحل میں ہے۔ اس کا خوف ناک ترین پہلو یہ ہے کہ اس کے زیادہ تر مناظر حقیقی تصاویر پر مبنی ہیں اور اس کے بارے میں کمپنی کا موقف یہ ہے کہ حقیقی تصاویر کی وجہ سے کھیلنے والا خود کو گیم کا حصہ ہی تصور کرے گا۔

اس کے مضر اثرات سے معاشرے کو بچانا ابھی اختیار میں ہے ورنہ ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کے لیے ادب، اخلاقیات، انکساری، تحمل، حیا اور دردمندی جیسے الفاظ عجوبہ بن جائیں گے۔

تشدد اور جنگ کے مناظر عام افراد خاص طور پر بچوں کی ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب کریں گے اس سے کمپنیوں کو کوئی سرو کار نہیں۔ لیکن یہ سوال معاشرے کے لیے بے حد اہم ہے کہ پُرتشدد اور اخلاق باختہ ویڈیو گیمز کے پھیلاﺅ کے بعد اقوام کا اخلاقی مستقبل کیا ہو گا۔ ویڈیو گیمز کے صارفین کی تعداد کا ڈیڑھ ارب اور ان کی سالانہ فروخت کا ایک کھرب ڈالر تک پہنچ جانا حیران کن ہے، کیوں کہ ان ویڈیو گیمز میں ستر فی صد پُرتشدد مواد کے حامل ہیں، لہٰذا اس کا دوسرا لازمی مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ایک کثیر تعداد کے تشدد کی طرف مائل ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ویڈیو گیمز کی لت کا شکار افراد میں غصہ کا عنصر چار فی صد تک بڑھ چکا ہے۔ ویڈیو گیمز جن کو پہلے ہی ذہنی نشوونما کے لیے صحت بخش نہیں سمجھا جارہا تھا اب ان کو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی بھی ایک بڑی وجہ سمجھا جانے لگا ہے۔ اور اس کی ذمہ دار صرف کمپنیاں نہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد ہے۔ موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ میں مواد کے انتخاب اور گزارے جانے والے وقت کا تعین ہر ذی شعور کے لیے اہمیت کا حامل ہونا چاہیے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی بُری چیز نہیں، لیکن دنیا نے اس کے مضر اثرات زیادہ سمیٹے ہیں۔ اس نے نوعِ انسانی کو جتنا نوازا اس سے کہیں زیادہ چھین بھی لیا۔ کچے آنگنوں میں پیوست بوڑھے درختوں کی چھاﺅں میں بیٹھ کر دکھ سکھ بانٹنے کی فرصت چھین لی، شام کے جھٹپٹے میں چائے کی پیالی پر گھر کے تمام افراد کا مجمع تو کب کا چھَٹ چکا، بزرگوں کے پاﺅں دبانے میں پہل پر بچوں کے درمیان ہونے والے معصومانہ جھگڑوں سے اب گھر نہیں چہکتے، ماﺅں کے پہلو سے چپکے ہوئے مطمئن بچے تو اب خواب و خیال کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، دادی ماں کی کہانیوں سے پریاں اور گھروں سے دادی ماں ہی نکل چکی ہیں، ہاتھوں میں لگے موبائل فون اور انٹرنیٹ کی دنیا میں مدہوش ہو کر اب فرصت کہاں کہ اپنوں کے سامنے کھل کر رو ہی لیا جائے، نفسانفسی اور مادیت پسندی تو اس ٹیکنالوجی کے خصوصی تحائف ہیں۔ لیکن اس کے مضر اثرات سے معاشرے کو بچانا ابھی اختیار میں ہے۔ ورنہ ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کے لیے ادب، اخلاقیات، انکساری، تحمل، حیا اور دردمندی جیسے الفاظ عجوبہ بن جائیں گے۔ اور آنے والی نسلیں ان الفاظ کے استعمال پر حیرت سے منہ تکیں گی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: