پویلئین اینڈ سے: ایک سفر اونچے نیچے راستوں کا ۔۔۔ 3

0
  • 77
    Shares

کامن ویلتھ الیون کے میچ سے ہی کرکٹ کے ساتھ اس رومانس کا آغاز ہوا جو اب تک ویسا ہی پر شباب ہے۔ کھیل اور کھلاڑیوں کی ایک ایک حرکات اور جزئیات گویا دل ودماغ میں ایک نشہ سا طاری کر دیتیں۔ دونوں کپتانوں کا میدان میں آکر ٹاس کرنا، ٹاس جیتنے والے کا ہاتھ ہوا میں بلند کرنا، اس بات کا اعلان ہونا کہ ٹاس جیتنے والی ٹیم بیٹنگ کرے گی یا بالنگ، ایمپائرز کا میدان میں اترنا اور آکر وکٹوں کی سیدھ کا جائزہ لینا، فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کا میدان میں آنا اور تماشائیوں کی تالیاں، فیلڈز کا میدان میں مختلف پوزیشنز پر پھیل جانا۔ پھر تالیوں کی گونج میں افتتاحی بلے بازوں کا میدان میں اترنا، بالر کا سامنا کرنے والے کھلاڑی کا ایمپائر سے ‘گارڈ’ لینا۔ گیندباز کا اپنے بالنگ کے نشان تک جانا پھر پلٹ کر پہلی گیند کے لئے دوڑتے ہوئے آنا اور تماشائیوں کی تالیوں کی گونج۔ ہر شاٹ، چوکے چھکے، اچھی گیند، میڈن اوور، کسی کے آؤٹ ہونے پر تالیاں اور بالر کا نام لے کر ستائشی جملے، کسی کھلاڑی کا نصف سنچری یا سنچری بنانا اور بلا اٹھا کر اور سر سے ٹوپی اتار کر تماشائیوں کی داد کا شکریہ ادا کرنا۔
غرض کرکٹ اور کرکٹر کی ہر ایک ادا پر دل صدقے واری جاتا۔

میں نے دوسری جماعت سے ہی اخبار پڑھنا شروع کردیا تھا لیکن اب اخبار کا اصل لطف آتا، پہلے صفحے کی بجائے سب سے پہلے کھیلوں کا صفحہ کھولتا اور یہ عادت اب تک نہیں گئی۔ اس زمانے میں ٹیلیویژن تو تھا نہیں۔ ریڈیو پر بھی صرف ٹسٹ میچ کی کمینٹری ہوتی جو سال میں ایک آدھ بار ہی ہوتے۔ اخبارات سے البتہ دنیا بھر کے کھیلوں کی خبریں ملتی رہتیں۔
شاید ہی میرے کسی ہم عمر کو بروک بانڈ چائے کے ڈبوں سے نکلنے والی کھلاڑیوں کی تصویریں یاد ہوں۔ پاسپورٹ سائز سے کچھ بڑی ان تصویروں کے پیچھے کھلاڑیوں کا مختصر تعارف اور کارنامے درج ہوتے۔ یہ تمام تصویریں جمع کرنے والوں کو بروک بانڈ کی جانب سے ایک البم کا تحفہ دیا جاتا۔ مجھے وہ البم تو نہ ملی لیکن نہ جانے کہاں سے مجھے یہ تصویریں مل جاتی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ یہ تصویریں مجھے کون دیتا تھا لیکن میرے پاس بہت ساری تصویریں جمع تھیں، ان میں نہ صرف کرکٹ بلکہ ہاکی، فٹبال، پہلوانی، ٹینس، ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن اور ایتھلیٹکس کے کھلاڑیوں کی بھی تصویریں ہوتیں۔ میری دلچسپی زیادہ تر کرکٹرز کی تصویروں میں ہوتی۔

شاید ہی میرے کسی ہم عمر کو بروک بانڈ چائے کے ڈبوں سے نکلنے والی کھلاڑیوں کی تصویریں یاد ہوں۔ پاسپورٹ سائز سے کچھ بڑی ان تصویروں کے پیچھے کھلاڑیوں کا مختصر تعارف اور کارنامے درج ہوتے تھے۔

ان میں ایک ایسے کھلاڑی کی تصویر بھی تھی جو فلمی ستاروں سے بھی زیادہ خوبصورت اور وجیہ تھا۔ اس کی پیشانی پر آگے کی جانب گھنگریالے بال لہراتے اور تصویر کے پیچھے لکھا ہوتا تھا ’اوول کے ہیرو، فضل محمود‘۔ اور تب سے اب تک لفظ ہیرو کے ساتھ جو تصویر ذہن میں ابھرتی ہے وہ صرف فضل محمود کی ہی ہوتی ہے۔ لیکن میں نے فضل کو کبھی نہیں دیکھا، انہی دنوں ان کے ریٹائرمنٹ کی خبر پڑھی۔ انہی تصویروں میں، میری میکس یعنی مقصود احمد، علیم الدین، نذر محمد، وقار حسن، حسیب احسن، حفیظ کار دار، خان محمد، محمود حسین وغیرہ کی تصویریں بھی ہوتیں لیکن یہ سب کرکٹ کے افق سے غائب ہوچکے تھے۔ میں نے انہیں کھیلتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ امتیاز احمد بھی کام ویلتھ الیون کے میچوں کے بعد نظر نہیں آئے۔

فضل کے ساتھ ایک اور نام جس کے بغیر کرکٹ کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، حنیف محمد کا تھا۔ لیکن میں انہیں بھی اب تک نہیں دیکھ سکا تھا۔ اور میں نے انہیں جب بھی نہیں دیکھا جب 1964 کے اکتوبر میں آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم صرف ایک میچ کھیلنے پاکستان آئی۔
جو دوست فلموں کا شوق رکھتے ہیں انہیں یاد ہوگا کہ ساٹھ کے عشرے کی ابتداء میں ایک فلم آئی تھی جس میں شاید چار یا پانچ نئے اداکار تھے۔ شاعر، ادیب اور بیوروکریٹ فضل احمد کریم فضلی نے “چراغ جلتا رہا” میں محمد علی، زیبا، دیبا اور کمال ایرانی کو متعارف کرایا۔ فلم کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ملکوتی آواز کے مالک، شہنشاہ غزل، طلعت محمود نے بھی اس میں گیت گایا تھا جو ان دنوں ہندوستان سے آئے ہوئے تھے۔ فلم تو شاید زیادہ نہ چلی،لیکن آگے چل کر محمد علی، زیبا اور دیبا پاکستان کے فلمی افق پر ایک زمانے تک چھائے رہے۔

آسٹریلیا کے خلاف اس واحد میچ میں بھی ‘چراغ جلتا رہا ‘ کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یعنی چار نہیں بلکہ چھ نئے کھلاڑیوں کو متعارف کرایا گیا۔
حنیف محمد کی کپتانی میں سعید احمد، جاوید برکی نسیم الغنی اور انتخاب عالم جیسے پرانے کھلاڑیوں کے علاوہ چھ نئے چہرے بھی تھے۔ آصف اقبال، ماجد خان، خالد عباداللہ، عبدالقادر شفقت رانا اور پرویز سجاد کا یہ پہلا میچ تھا۔
ان میں سے چند ایک کو کامن ویلتھ الیون کے میچ میں دیکھا تھا لیکن وہ کسی ملک کے خلاف نہیں تھا، اور غیرسرکاری ٹسٹ میچ تھا۔ آسٹریلیا کے خلاف یہ میچ باقاعدہ سرکاری میچ تھا۔ آسٹریلیا کی بے احد مضبوط ٹیم کی کپتانی بابی سمہسن کررہے تھے، جن کے بارے میں یاد پڑتا ہے کہ شاید افتتاحی بلے باز اور بولر بھی تھے۔ ان کے علاوہ بل لاری، ایان ریڈ پاتھ، پیٹر برج جیسے بلے باز اور گراہم میکینزی اور نیل ہاک جیسے خطرناک تیز بولر بھی تھے۔ وکٹ کیپر گراوٹ بھی اپنے وقتوں کا مشہور نام تھا۔

میں اب کورنگی میں اپنے والدین کے پاس آگیا تھا اور یہاں سے اسٹیڈیم بہت دور تھا اور اس وقت میں پانچویں جماعت میں تھا اور میری ماں کسی حال میں اپنے لاڈلے کو اتنی دور نہیں بھیج سکتی تھی اور نہ ہمارے پاس دو روپے کا ٹکٹ خریدنے کی سکت تھی جو اسکول کے طلبہ کے لئے مخصوص تھا۔ اس زمانے میں ریڈیو بھی ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا تھا، محلے کے ایک آدھ گھر میں یہ عیاشی موجود تھی یا پھر کسی چائے خانے یا درزی کی دکان پر ریڈیو سن لیتے تھے۔
میں اردو میڈیم اسکول کا طالبعلم تھا اور اب تک انگریزی سے نابلد تھا لیکن عمر قریشی اور جمشید مارکر کی کمینٹری کی جزئیات چاہے سمجھ نہ آئیں لیکن کھیل کی تازہ ترین صورتحال یعنی ٹیموں اور کھلاڑیوں کا اسکور، چوکا چھکا (ویسے اس زمانے میں پانچ دن میں بمشکل ایک دو ہی چھکے لگتے تھے)، آؤٹ، سنچری، ڈیکلئیر وغیرہ بخوبی سمجھ آجاتے تھے۔

سن چونسٹھ میں ریڈیو پر سنا ہوا میچ مجھے اب تک یاد ہے۔ پاکستان کی جانب سے عباداللہ اور عبدالقادر نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔ خالد عباداللہ کو ہم کامن ویلتھ والے میچ میں دیکھ چکے تھے اور عبدالقادر کا نام بھی کم از کم میرے لئے نیا نہیں تھا کہ وہ ہمارے بہار کالونی میں رہتے تھے۔ وہ عبدالعزیز کے بھائی تھے جو نوجوانی کے عالم میں قائداعظم ٹرافی کے میچ میں سینے پر گیند لگنے سے جاں بحق ہوگئے تھے اور اس میچ کی اسکور بک میں عبدالعزیز کے نام کے آگے پہلی اننگز میں ” “Retired Hurt اور دوسری اننگز میں ” Absent Dead” لکھا ہوا ہے۔

خالد عباداللہ جنہیں بلی عباداللہ بھی کہا جاتا تھا، اور عبدالقادر نے آسٹریلیا کی تجربہ کار اور خطرناک بالنگ کے پرخچے اڑا دئے۔ عباداللہ پاکستان کی جانب سے اپنے پہلے ہی ٹسٹ میں سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے، انہوں نے ڈیڑھ سو کے قریب رنز بنائے۔ اور قریب تھا کہ عبدالقادر بھی سنچری بنا کر ٹسٹ کرکٹ میں پہلے ہی میچ میں سنچری بنانے والے دو کھلاڑیوں کے نام میں شامل ہوتے، کہ پچانوے کے اسکور پر رن آؤٹ ہوکر پویلئین کو سدھارے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی وکٹیں بھی پت جھڑ کی طرح گرنے لگیں۔ آخری وکٹوں میں انتخاب عالم نے نصف سنچری اور آصف اقبال نے 49 رنز بنا کر کچھ سہارا دیا اور پاکستان پہلی اننگز میں چارسو سے زیادہ رنز بنانے میں کامیاب ہوگیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے کپتان سمپسن اور بل لاری نے بیٹنگ کا آغاز کیا اور سمپسن نے بھی ڈیڑھ سو سے زیادہ رنز بنا ڈالے۔ ماجد خان جو اس وقت ماجد جہانگیر کے نام سے جانے جاتے تھے اور آصف اقبال نے پاکستان کی جانب سے بولنگ کا آغاز کیا تھا۔

آسٹریلیا کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو بہرحال پاکستان نے ساڑھے تین سو رنز پر ڈھیر کردیا۔ دوسری اننگز میں البتہ گراہم مکینزی نے تباہ کن بالنگ کی اور چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کردیا۔ جاوید برکی کے ساٹھ اور حنیف کے چالیس رنز کی بدولت 278 رنز پر آٹھ کھلاڑیوں کے نقصان پر پاکستان نے اننگز ڈیکلئیر کردی اور مقابل کو 342 کا ہدف دیا۔
بابی سمپسن اس بار بھی آڑے آیا اور سنچری بنا ڈالی اور پاکستان 227 پر صرف دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کرسکا اور میچ ہارجیت کے نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا جو کہ ان دنوں معمول کی بات تھی۔ میچوں کے نتیجے بہت کم آتے تھے لیکن شائقین کے ذوق وشوق میں کمی نہ آتی تھی کہ وہ ہارجیت سے زیادہ کرکٹ کی اعلی روایات کے اسیر تھے۔ کرکٹ کھیل نہیں ایک طرز زندگی تھا اور راست بازی کا دوسرا نام تھا۔ کسی نامناسب کام کے لئے انگریز ی محاورہ تھا کہ ”   This   is   not cricket”
ان دنوں کھیل میں اعلی اخلاقی قدریں روا رکھی جاتیں اور “اسپورٹسمین اسپرٹ” شرافت کا استعارہ تھی۔

وقت کے ساتھ ساتھ اقدار بھی بدلتی گئیں اور کرکٹ جو شرفاء کا کھیل کہلاتا تھا اب اس کے ساتھ ہی جوا اور بے ایمانی جیسی چیزوں کا تصور ابھرتا ہے۔
لیکن یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ اونچے نیچے راستوں کا یہ سفر جاری ہے۔۔ اگلے پڑاؤ تک کے لئے خدا حافظ۔


دوسری قسط اس لنک پر ملا حظہ کریں
چوتھی قسط اس لنک پر ملا حظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: