عمرؓدی گریٹ : اعجازالحق اعجاز

0

نواح کا ظمہ جہاں ریت مثل پرنیاں نرم تھی اور سورج غروب ہونے ہی کو تھا۔صحرا میں ایک خیمہ ایستادہ تھا اور اس خیمے میں چند معزز عربی جمع تھے۔

ایک عربی :           میرے خیال میں سب لوگ آگئے ہیں۔

دوسرا عربی :        جی سبھی آچکے ہیں۔

تیسرا عربی :          آپ نے کس لیے ہم سب کو بلایا ہے ؟

پہلا عربی :            ایک اہم مسئلہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

چوتھا عربی :         وہ کیا ؟

پہلا عربی :            مسئلہ خلیفہ وقت عمرؓ سے متعلق ہے۔

دوسرا عربی :        جی بتا ئیے کیا انھوں نے کوئی نامناسب کام کیا ہے ؟

پہلا عربی :            نامناسب کام تو نہیں مگر ان کا طور طریقہ درست نہیں۔

تیسرا عربی :          آپ نے کیا بات ان کے حوالے سے محسوس کی ؟

پہلا عربی :            یہی ان کی حد سے گزری ہوئی خستہ حالی اور ضرورت سے زیادہ سادگی پر اصرار۔

دوسرا عربی :        اللہ آپ کا بھلا کرے میں نے بھی یہی بات محسوس کی ہے۔

پہلا عربی :            اب دیکھیے نہ کہ وہ خلیفہ وقت ہیں اور کسی چھوٹی ریاست کے خلیفہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑی سلطنت ان کے زیر ِ نگیں ہے مگر نہ ان کا کوئی محل ہے نہ کوئی تخت و تاج اور نہ ان کی پوشاک ہی ایسی ہے کہ جو ایک بادشاہ کے شایان شان ہو۔

تیسرا عربی :          ہاں آپ کی بات میں کافی وزن ہے۔ انھیں کچھ تو ممتاز ہونا چاہیے۔ اتنی سادگی بھی اچھی نہیں کہ ان میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہی محسوس نہ ہو سکے۔

چوتھا عربی :         ہاں یہ ٹھیک کہا آپ نے۔ بعض اوقات یہ مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے اور اچھی خاصی شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

دوسرا عربی :        اپنوں کے درمیان تو چلیں یہ کسی حد تک ٹھیک ہے، سادگی اچھی چیز ہے مگر اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی دوسری سلطنت کا کوئی        سفارتی وفد آتا ہے تو اس کے لیے خلیفہ کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب اتنی بھی کیا سادگی کہ وہ کسی درخت کے نیچے اینٹ کا تکیہ بنا کر لیٹے رہیں۔ وہ سفیر کیا سوچتے ہوں گے کہ ان کے پاس اتنی بھی مالی استطاعت نہیں کہ اپنا رہن سہن ہی ٹھیک کر لیں۔

پہلا عربی :            اس طرح مناسب نہیں ان کو کچھ نہ کچھ خود کو بدلنا ہوگا۔

دوسرا عربی :        لیکن ہم اس سلسلے میں کر ہی کیا سکتے ہیں۔

پہلا عربی :            لیکن ان سے بات تو کی ہی جاسکتی ہے۔

تیسرا عربی :          بات کون کرے گا۔کیا ہم میں سے کسی کی اتنی جرات ہے کہ ان سے بات کر سکے۔

چوتھا عربی :         بھئی میں تو ان سے یہ بات نہیں کر سکتا،آپ توجانتے ہی ہیں کہ ان کا مزاج کتنا سخت ہے۔

پہلا عربی :            لیکن ان تک یہ بات تو پہنچانی ہی ہے۔کل ایک ملک کا سفیر مجھ سے یہ کہ رہا تھا کہ آپ کا خلیفہ اتنا سادہ کیوں ہے؟ تو مجھے اس پر سخت غصہ آیا مگر میں نے بعد میں سوچا کہ بات تو وہ ٹھیک کر رہا ہے۔

دوسرا عربی :        میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے۔

سبھی عربی یک زباں ہو کر :               وہ کیا ؟

دوسرا عربی :        وہ یہ ہے کہ اگر ہم بات نہیں کر سکتے تو امہات المومنین حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ تو کر ہی سکتی ہیں۔

پہلا عربی :            بہت زبر دست حل نکالا ہے آپ نے۔وہ ان کی بات کبھی نہیں ٹالیں گے۔

(وہ عربی تھوڑی دیر بعد حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں)

پہلا عربی :            ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہی حضرت حفصہ ؓ کو ساتھ لے کر عمر ؓکو ذرا سمجھائیے کہ وہ اپنے رہن سہن کو کسی حد تک تو اپنے عہدے کے شایان شان بنائیں کہ غیر ملکی سفیروں کی باتیں ہمیں نہ سننی پڑیں۔

حضرت عائشہؓ :               دیکھیے وہ یہ بات نہیں مانیں گے۔ اس معاملے میں انھیں سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

دوسرا عربی :        ہمارے کہنے سے ایک مرتبہ تو انھیں کہیے،ہمیں امید ہے کہ وہ آپ دونوں کی بات کبھی نہ ٹالیں گے۔

حضرت عائشہ ؓ؛                               چلیں ٹھیک ہے ہم کوشش کر دیکھتی ہیں۔

(اگلے روز حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہؓ حضرت عمر ؓ کے پاس تشریف لاتی ہیں)

حضرت عمر ؓ :                                 مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ تشریف لائیں۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔

حضرت عائشہ ؓ:               ہم آپ سے یہ کہنے آئی ہیں کہ چند عربی ہمارے پاس آئے تھے اور ان کا آپ سے یہ مطالبہ ہے کہ آپ اپنے لباس اور رہن سہن پہ نظر ثانی کریں۔ ان کا مطالبہ یہ نہیں کہ آپ پر تعیش زندگی بسر کرنا شروع کر دیں جیسا کہ روم اور ایران کے بادشاہ کرتے آئے ہیں بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ سادگی اتنی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ عام لوگوں کے درمیان آپ اپنے حلیے سے پہچانے ہی نہ جائیں۔آپ میں اور عام لوگوں میں کچھ نہ کچھ تو امتیاز ہونا چاہیے۔

حضرت عمر ؓ :                                 بہت لا یعنی سا اعتراض ہے ان کا۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے اس بات کی خبر نہیں کہ ایک سر براہ مملکت کے شایان شان کیا ہے ؟میں دنیا کے  دوسرے حکمرانوں کے طرز زندگی، ان کے تاج و تخت اور ان کے لباس فاخرہ اور ان کے دستر خوانوں کے متعلق سب کچھ جانتا ہوں۔

حضرت عائشہ ؓ :              وہ لوگ دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کسی قدر تو دوسروں سے ممتاز ہوں۔

حضرت عمرؓ:   اے عائشہ ؓ آپ کو اللہ عز و جل کی قسم مجھے بتائیے کہ کیا کبھی دونوں جہانوں کے سردار ﷺ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا ؟ کیا اکثر وہ بھوکے نہ  سوتے تھے۔اور جب کبھی ان کو میسر بھی آتاتو کیا وہ جو کی روکھی سوکھی روٹی، کھجور یا بکری کے تھوڑے سے دودھ سے دودھ یا کبھی کبھار تھوڑے سے  گوشت کے علاوہ بھی کبھی کچھ تناول فرمایا؟ کیا انھوں نے کبھی نرم بستر پر استراحت فرمائی ؟

حضرت عائشہ ؓ :              آپ بالکل درست کہ رہے ہیں۔میں نے تو کبھی ان کو سیر ہو کر کھاتے نہیں دیکھا بلکہ انھیں کئی کئی دن فاقوں سے دیکھا ہے۔اگر کبھی انھیں  تھوڑا سا کھانا میسر آبھی جاتا تو باہر اگر کوئی سائل آواز لگاتا تو وہ اپنا کھانااسے دے دیتے اور خود فاقہ کر لیتے۔ بلکہ میں نے تو بعض اوقات ان کے پیٹ سے پتھر بھی بندھے دیکھے۔

حضرت عمر ؓ (حضرت حفصہ ؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے ):  بیٹی آپ ہی بتائیے کیا آپ نے مجھے خود نہیں بتایا تھا کہ ایک رات آپ نے آپ ﷺ کے لیے نرم ٹاٹ کا دھرا بچھونا بچھا دیا جس پر آپ ﷺکو پر سکون نیند آئی مگر آپ ﷺ نے صبح اٹھ کر سخت تاسف کا اظہار کیا۔

حضرت حفصہ ؓ :             جی اور انھوں نے فرمایا کہ آئندہ ان کے لیے نرم بچھونا نہ بچھایا جائے کہ اس سے ان کی عبادت میں خلل واقع ہوتا ہے۔

حضرت عمر ؓ :                                 میں ایک وسیع علاقے پہ مشتمل اسلامی مملکت کا حکمران ضرور ہوں مگر میں حضور ﷺ کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں۔مجھے علم ہے کہ ایک  حکمران کے شایان شان کیا ہے مگر میں حضور ﷺ کا ایک ادنی سا غلام ہوں۔ میں قیصر و کسری کے نہیں بلکہ اپنے آقا کے نقش قدم پہ چلوں گا۔ میرے لیے صرف اور صرف وہی قابل تقلید ہیں۔ مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ لوگ میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ میں وہی کروں گا جو  میرے آقا نے کیا اور اس سے سر مو انحراف نہ کروں گا چاہے پورا زمانہ میرے خلاف ہو جائے۔ حکمران کا کیا کام ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی مر گیا تو مجھ سے اس کا بھی حساب ہو گا۔ جائیے ان سے کَہ دیجیے کہ عمر اپنے طرز زندگی میں رتی بھر بھی  تبدیلی نہیں لائے گا۔

حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ باہر تشریف لاتی ہیں جہاں وہ عربی ان کے منتظر تھے۔

حضرت عائشہ ؓ:               انھوں نے آپ کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

پہلا عربی (اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر): بھائیو چلو۔ عمر ؓ سچا ہے،ہم ہی غلطی پہ تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: