اقبال ایک جدت پسند مفکر : اعجازالحق اعجاز

1
  • 220
    Shares

ڈاکٹر مبارک علی نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو اقبال کو چھوڑ کر آگے بڑھنا ہو گا (انھوں نے اقبال کے علاوہ حالی کا نام بھی لیا تھا مگر ان کا یہ بیان حالی پر کس حد تک صادق آتا ہے اس کا جائزہ ایک الگ مضمون میں لیں گے۔) اس بیان کے پس پردہ ان کی یہ سوچ کار فرما ہے کہ اقبال ایک روایت پرست اور رجعت پسند مفکر ہیں اور قوم کو ماضی میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور مستقبل سے رو گردانی کرتے ہیں۔ آئیے دیکھیے کہ ان کی یہ رائے کس حد تک درست ہے۔ نہ جانے ہمارے اس محترم تاریخ دان کے ذہن میں تاریخ کا کیا تصور ہے؟ روایت اور جدت سے وہ کیا مراد لیتے ہیں؟ اوران کا تصور ِ زماں کیا ہے؟ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جدت کا مطلب روایت سے مکمل انحراف کا نام ہے؟ کیا روایت سے وابستگی جدت کے دروازے بند کردیتی ہے؟ کیا مستقبل کے نئے امکانات کے زاویے تراشنے کے لیے ماضی سے مکمل بغاوت ضروری ہے؟

روایت کسے کہتے ہیں اس سوال کا جواب ایک مغربی شاعر اور نقاد ٹی ایس ایلیٹ نے بھی اپنے مضمون    Tradition    and     Individual     Talent میں دینے کی کوشش کی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کا حوالہ میں اس لیے دے رہا ہوں کہ اقبال کا تصورِ روایت اس کے تصور سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایلیٹ اور اقبال کا تصور ِ زماں بھی سمجھنا ہو گا۔ اقبال اور ٹی ایس ایلیٹ دونوں وقت کو ایک نامیاتی کل قرار دیتے ہیں ۔ ایلیٹ اپنی نظم Four Quartets کے حصہ اول Burnt    Nortonکے آغاز ہی میں کہتاہے :

Time   present   and   time   past     Are   both    perhaps    present    in    time    future     And    time    future    is contained    in    time    past جب کہ اقبال کہتے ہیں :

زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیل کم نظری قصہ جدید و قدیم

اقبال اور ایلیٹ دونوں کے نزدیک جدت روایت سے مکمل انحراف کا نام نہیں بلکہ اس کے زیر ِ سایہ آگے بڑھتی ہے۔ ایلیٹ کے نزدیک ماضی حال اور مستقبل میں مد غم ہے۔ اقبال بھی زمانوں کو خانوں میں تقسیم کرنے اور اس کی compartmentalization کے خلاف اور بالائے ابدی آن (Super    Eternal    Now) کے حق میں ہیں۔ ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک کوئی جدت زندہ روایت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ کسی بھی خطے یا کی تہذیب اور اس کا کلچر روایت سے اپنی قوت حاصل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ روایت مردہ نہیں بلکہ اس کے ارفع اور آفاقی عناصر زندہ صورت میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اس کے نزدیک ماضی سے کٹ جانا ممکن ہی نہیں کیوں کہ ماضی حال اور مستقبل میں ہمیشہ موجود رہتا ہے اور یہ موجودگی حال اور مستقبل کے رستوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتی بلکہ ان کو سنوارتی ہے اور انھیں کشادگی عطا کرتی ہے۔

اقبال اور ٹی ایس ایلیٹ روایت سے مراد وہ زندہ و متحرک تاریخی شعور لیتے ہیں جو مستقبل کی نئی مشعلیں روشن کرتا ہے۔ یہ شعور ماضی کے چراغوں کو بجھنے نہیں دیتا بلکہ انھیں ایک قطار میں لا کر ان میں نئے چراغوں کا اضافہ کرتا ہے اور ان سب چراغوں کی روشنی آپس میں مدغم ہو کر ایک ہی تاثر کی افزائش کرتی ہے۔ یہاں ہمیں روایت پرستی اور روایت پسندی میں امتیاز کو مد ِ نظر رکھنا ہو گا۔ روایت پرستی یہ ہے کہ ماضی کی پرستش اور مستقبل سے رو گردانی کی جائے۔ یہ ناسٹیلجک سوچ ہے اور فراریت (Escapism)کا دوسرا نام ہے۔ جب کہ روایت پسندی یہ ہے کہ ماضی کو ذہن نشین رکھا جائے، اس کے قوت و حرکت بخش عناصر سے استفادہ کیا جائے اور ان کے بل بوتے پر مستقبل کی راہیں ہموار کی جائیں۔ اقبال روایت پرست نہیں بلکہ روایت پسند دانشور ہیں۔ وہ ماضی سے مثبت طریقے سے استفادہ کرتے ہیں مگر ان کی نگاہیں مستقبل ہی پر مرکوز رہتی ہیں۔ وہ تکرار محض کے ہرگز قائل نہیں بلکہ ٹی ایس ایلیٹ کی طرح جدت کو تکرار محض سے ہزار گنا بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کی جدت پسندی اور تازہ کاری کی آرزو اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ وہ کار ِ نادر کو ثواب خیال کرتے ہیں چاہے وہ گناہ ہی کیوں نہ ہو۔

گر از دست تو کا رِ نادر آید گناھی
اگر ھم باشد ثواب است

اقبال نے نطشے کے تکرار ابدی (Eternal     Recurrence) کے نظریے کو اسی لیے رد کر دیا کہ یہ جدت اور نو بنو تخلیق کی نفی کرتا ہے۔ اقبال اندھی تقلید اور سطحی نقالی کے حق میں نہیں۔ وہ حقیقت کو جامد نہیں بلکہ ہر لحظہ متحرک تصور کرتے ہیں اسی لیے تمام سکونی فلسفوں کی نفی کرتے ہیں۔ ان کا حرکت پر ایمان اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ وہ ہستی مطلق کو بھی تغیر پذیر سمجھتے ہیں۔ وہ ہر لحظہ ایک نئی تجلی اور ایک نئی برق طور کے امیدوار ہیں اور ان کا مرحلہ شوق کبھی طے نہیں ہوتا۔ جب وہ ایک منزل کو پا لیتے ہیں تو ایک نئی منزل کی تمنا کرنے لگتے ہیں۔ ان کے کانوں میں ہر لمحہ ایک نئی صدائے کن فیکوں گونجتی ہے۔ وہ ایک بند کائنات (Blocked    Universe) کے تصورکی نفی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر ذرئہ کائنات تڑپ رہا ہے اور سکون و ثبات محض ایک فریب نظر ہے۔ ایک ایسا شاعر اور مفکر جو ہر آن تخلیق پر ایمان رکھتا ہو روایت پرست کیسے ہو سکتا ہے؟۔ اقبال کی جدت پسندی کا ایک اہم زاویہ ان کی طرف سے میکانکی جبریت (Mechanistic    Determinism) کے استرداد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ وہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سائنسی تناظرات کی نفی کرتے ہیں کیوں کہ یہ علت و معلول کے میکانکی اور قابل پیش گوئی تصورات پر مبنی ہیں جن کے مطابق کائنات کی تقدیر اس کے ازلی و ابدی قوانین کی صورت میں لکھ دی گئی ہے جس سے یہ سر مو انحراف نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک ارتقا ایک میکانکی نہیں بلکہ تخلیقی عمل ہے۔ اقبال تخلیقیت اور فطری مظاہر میں وقوع پذیر ہونے والی جدت کے اس قدر قائل ہیں کہ وہ علت و معلول کے کڑے سلسلوں میں تعطل اور اچانک امڈ آنے والے تغیر کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ جدید طبیعیات کے ان نظریوں کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو روایتی تسلسل کے بجائے جست یا زقند پر اصرار کرتے ہیں جیسا کہ پلانک کا کوانٹم نظریہ۔ ان کے نزدیک قانون فطرت فقط قانون ِ تعلیل تک محدود نہیں بلکہ یہ نئی تخلیق اور جدت کے در ہمیشہ وا رکھتا ہے۔ اقبال ہائزن برگ کے نظریہ لاتعین کی صرف اس لیے تائید کرتے ہیں کیوں کہ اس نے میکانکی جبریت اور علت و معلول کے اٹل قوانین میں شگاف ڈالا ہے۔ جاوید نامہ میں حکیم مریخی کی زبانی جبریت اور آزاد ارادے کا فرق یوں واضح کیا گیا ہے:

گر ز یک تقدیر خون گردد جگر
خواہ از حق حکم تقدیر دگر
تو اگر تقدیر نو خواہی رواست
زانکہ تقدیرات حق لا انتہا ست

اقبال کا تصور ِ روایت کوئی میکانکی اور جامد مظہر ہرگز نہیں۔ یہ رکے ہوئے پانی کا تالاب نہیں بلکہ یہ ایک دریا کی طرح ہے جس میں مختلف ندیاں شامل ہوتی رہتی ہیں اور اس دریا کے پانیوں کو تازہ اور اس کے دھارے میں قوت و تحرک کا باعث بنتی رہتی ہیں۔ مگر اس دریا کا بہر حال کوئی منبع و مصدر ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ دریا آگے سے آگے بڑھتا رہے مگر اپنے منبع و مصدر کو فراموش نہ کرے کیوں کہ وہ اس سے کٹ جائے گا تو اپنی ہی ریت میں کہیں کھو کر خشک ہو کر رہ جائے گا۔ اقبال کا سارا فلسفہ جس مرکزی نقطے کے گرد گھومتا ہے وہ ہے تحرک و تجدد۔ بقول عزیز احمد ـ’’اقبال کے نزدیک تاریخ ترقی پذیر زندگی کے نمونے پر تیار ہوتی ہے اور زندگی میں تواتر کے عمل کے لیے نہ کوئی جگہ ہے اور نہ وہ کوئی معنی رکھتا ہے۔‘‘

ٹی ایس ایلیٹ

اقبال نے مسلمانوں کی سابقہ شان وشوکت کی مثالیں پیش کی ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ ان امثلہ سے تحریک حاصل کریں نہ کہ وہ ماضی کو ایک بت کی طرح پوجنے لگیں۔ اقبال کے نزدیک مسلم قوم کی نظریں بغداد کی شان و شوکت پر گڑی نہیں رہنی چاہییں بلکہ اس کی نظر غیر منکشف مستقبل کی جانب دور رس انداز میں لگی رہنی چاہیے۔ ان کے نزدیک تاریخ اپنے عمل حرکت میں زندگی کی طرح ایک ایسے مستقبل کی سمت بڑھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے جس کی تعمیر میں اسے سخت جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے اور اس عمل میں وہ ان اقدار کا تحفظ کرتی ہے جنھوں نے ثقافت کی بنیادی شکل متعین کی ہے۔   اقبال مذہب کا بھی جدید تصور رکھتے ہیں۔ انھوں نے مذہب کی تقلید پرستانہ روش سے انحراف کیا ہے۔ مذہب بھی ان کے نزدیک ایک نمو پذیر حقیقت ہے اسی لیے وہ اس میں اجتہاد کے قائل ہیں۔ ان کا مذہب کے حوالے سے تصور دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک زندہ روایت سے انسلاک کا حامل ہے اور دوسرا زمانے کی جدت آفرینیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھلتا ہے اور وقت کی رفتار کا ساتھ دیتا ہے۔ ان کے نزدیک اسلام کی روح ایک جدت پسند روح ہے۔ وہ ملائیت کی اسی لیے نفی کرتے ہیں کہ یہ کورانہ تقلید پر مبنی ہے۔

اقبال کی استقبال پرستی کا ایک اہم ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ آنے والے دور میں سائنس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھانپ گئے تھے۔ وہ خود بھی سائنس کے جدید نظریات کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اور مسلمان طلبہ سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ سائنسی میدان میں ترقی کریں تاکہ جدید چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ وہ چاہتے تھے کہ سائنسی کتب کے زیادہ سے زیادہ تراجم ہوں۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کا بیان ہے کہ 1932 ء میں اقبال نے ان سے کہا کہ اردو کے لیے آپ کی کوششیں بڑی مبارک ہیں لیکن آپ کی ساری توجہ ادب پر ہی ہے، ہونا یہ چاہیے کہ سائنس کی کتب اردو میں منتقل ہوں تاکہ مسلمان جدید علمی دنیا میں قدم رکھیں۔ بابائے اردو نے جب علامہ صاحب سے اس سلسلے میں کوئی کتاب تجویز کرنے کی فرمائش کی تو اقبال نے فوری طور پر جارج سارٹن کی Introduction     to     the    History     of      Science کا نام لیا کہ اس کا ترجمہ کیا جائے۔ راقم نے اپنی کتاب ’’اقبال اور سائنسی تصوارت ‘‘ میں ان متعدد جدید سائنسی کتب کا ذکر کیا ہے جو اقبال کے زیر مطالعہ رہیں۔ اقبال اردو کے نامور شعرا میں سے سب سے زیادہ سائنسی شعور رکھنے والے شاعر ہیں۔ انھوں نے سائنسی مشاہدے میں مستغرق سائنس دان کو ایک صوفی سے تشبیہ دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

“The    scientific     observer     of     Nature     is     a     kind     of    mystic    in     the     act     of     prayer.”

اقبال جہان تازہ کی افکارِ تازہ سے نمود  چاہتے ہیں۔

آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

وہ نئے جنوں کے لیے ویرانہ بھی نیا چاہتے ہیں:

کیفیت باقی پرانے کوہ وصحرا میں نہیں
ہے جنوں تیرا نیا، پیدا نیا ویرانہ کر

اقبال عظمت رفتہ ہی کے اسیر ہو کر نہیں رہ جاتے بلکہ وہ نئے خواب بھی دیکھتے ہیں:

آب روان کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

اقبال کے نزدیک چوں کہ حقیقت مطلقہ کی بھی ہر آن نئی جلوہ گری ہے اس لیے انسان کو بھی چاہیے کہ وہ نیا زمانہ اور نئے صبح و شام پیدا کرکے اپنی تخلیقیت کی شان میں اضافہ کرتا رہے۔ مگر اقبال اس اصول کو بھی مد نظر رکھتے ہیں کہ کوئی شے محض اس لیے بری نہیں کہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی وہ اس لیے اچھی ہے کہ وہ نئی ہے۔ وہ ہر اس شے کی صرف اس لیے تحسین کہ اس پر جدیدیت کا لیبل لگا ہوا ہے کو بھی ایک سطحی رویہ سمجھتے ہیں اور اس میں وہ حق بجانب بھی ہیں۔ جدت کی تلاش میں وہ مشرق و مغرب میں امتیاز نہیں کرتے۔ وہ نہ مشرق سے بیزار ہیں اور نہ ہی مغرب سے حذر کرتے ہیں بلکہ ان کا مطمح نظر تو ہر شب کو سحر کرنا ہے۔ ماضی پرست تو وہ ہوتا ہے جو زندگی سے گریزاں ہو اور اقبال تو زندگی سے گریزاں نہیں بلکہ ان کے لیے تو حیات جاوداں مسلسل ستیز کا نام ہے۔ وہ زندگی کی تمام تلخیوں کا سامنا کر کے رجائیت کے نئے چراغ روشن کرتے ہیں اور نئے حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے تو وہ بیسویں صدی میں اردو کے سب شعرا سے سر بر آوردہ کھڑے نظر آتے ہیں اور اکیسویں صدی میں پورے افتخار سے داخل ہوئے ہیں کہ ان کے کلام میں دور جدید کے ساتھ چلنے کے سبھی سامان موجود ہیں۔

نئے چمن کی تشکیل کے لیے پرانے سایہ دار اشجار کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری نہیں۔ نئے پھول تو بہت جلد اگ آتے ہیں اور جلد مرجھا جاتے ہیں مگر تناور درختوں کی جڑیں زمین میں دور تک پیوست ہوتی ہیں۔ یہ تناوراور سایہ دار درخت تحفظ کی علامت ہوتے ہیں۔ چمن کا نقشہ اس طرح مرتب کیجیے کہ اس میں نئے پھولوں کی جگہ بھی رہے اور کوئی پرانا درخت بھی گرانا نہ پڑے۔ اگر آپ اناڑی نقشہ نویس نہیں تو آپ ایسا ہی کریں گے کہ یہ آپ کی فہم و فراست کا امتحان ہے۔ اپنی کم ہنری اور کج فہمی کے کلہاڑے پرانے درختوں پہ مت چلایے کہ انھی سے زینت چمن ہے کہ انھیں صدیوں نے پالا ہے۔ پھر یہ بھی خیال رکھیے کہ یہ چمن اجنبی مٹی میں نہیں اگ سکتا۔ اس کی افزائش و پرداخت کے لیے اپنی ہی مٹی درکار ہے اور اپنی ہی آب و ہوا۔ اگر آپ مٹی بدلیں گے تو جسے آپ بادِ صبا سمجھ رہے ہیں، باد صرصر ثابت ہوگی جو اس چمن کے تمام پودوں کو جھلسا کر اس کی ہر روش کو ویران کر دے گی۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. آپ جیسے اہل علم احبا ب اگر یونہی اقبال کی تعلیمات
    کی فہم و تشریح کو عام کرتے رہیں گے تو بلا شبہ اقبال کی قد آور شخصیات پر
    انگلیاں اٹھانے والے خود بخود شرمسار ہوتے رہیں گے،
    بہت ہی خوبصورت ،لکھا سر
    سدا مسکرائیے

Leave A Reply

%d bloggers like this: