اچھی تجویز کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے: مبارک انجم

0

خیبر پختونخواہ میں آئمہ مساجد کو سرکاری کرنے کا معاملہ، اس وقت ھاٹ ایشو کا روپ اختیار کر چکا ہے. صوبے میں ایک مقتدر جماعت، جمعیت علمائے اسلام اسکی شدید مخالفت پہ کمر کس چکی ہے. باقی بھی بہت سارے علماء کرام اس پہ شدید تحفظات کا شکار ہیں، اگر چہ کچھ مولوی حضرات کو اس پہ ذاتی قسم کے تحفظات بھی ھونگےم مگر علماء کی اکثریت، جن خدشات کا اظہار کر رھی ہے وہ بھی اپنی جگہ مسلمہ ہیں. جمعیت علمائے اسلام کے قائد اور زیرک سیاستدان مولانا فضل الرحمان صاحب فرما چکے ہیں کہ آئمہ مساجد کو دیا جانے والا پیسہ یہودی لابی یعنی بیرونی این جی اوز، فراھم کریں گی. یقینا انہوں نے یہ بات کسی وثوق ہی کی بنیاد پہ کہی ہوگی. یہ بھی ایک سوچنے کی بات ہے کہ مغربی طاقتوں کو آئمہ مساجد سے دلچسپی کب سے ہونے لگی ہے.

لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بیرونی این جی اوز یہ پیسہ محض علاقہ کی فلاح بہبود کے لئے دے رہی ہوں. صوبائی حکومت اس کو آئمہ کی فلاح کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہون چنانچہ ایسے میں، یہ سوچ کر کہ، یہود و نصاریٰ کا پیسہ سے خداوند تعالی مساجد کی خدمت لینا چاہتا ہے. تو یہ بھی اسانی سے قبول کیا جاسکتا ہے البتہ اصلی خدشات جو مذھبی جماعتوں اور آئمہ اکرام کو ہو سکتے ھیںن ان میں پہلا خدشہ بلکہ نقصان یہ ہوگا کہ ان جماعتوں کے بہت سارے اھم افراد، جو انکے سیاسی ورکر اور لیڈرز بھی ھیں، سرکار کے ملازم ھو جانے سے، نہ تو وہ الیکشن لڑنے کے اہل رہیں گے اور نہ ہی کسی دیگر سیاسی سرگرمی کے اہل رہ سکیں گے.

دوسرا بڑا خدشہ یہ ہو سکتا ہے، کہ حکومت انکی امامت کے علاوہ دیگر تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں پہ اثر انداز ھوگی. یہ خدشہ بھی بے بنیاد نہیں ہے کہ، عرب میں ایسا ہی ہو رہا ہے، تمام آئمہ اکرام گورنمنٹ کے پابند ہیں اور اپنی مرضی سے کسی بھی طرح کا خطبہ یا تعلیم نہیں دے سکتے.

تیسرا بڑا خدشہ یہ بھی ہوگا کہ، ایک امام مسجد، جو کہ علاقہ کی ایک معزز دینی شخصیت ہوتا ہے، اس پر دین سے انجان و بے نیاز اور اسی کرپٹ نظام کا حصہ لوگ افسر کے طور پہ مسلط کر دیئے جائیں گے. یہ خدشہ بھی اپنی جگہ بہت اھمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی طرح یہ مشکل بھی پیش آنے کو ہے کہ جس طرح اسکول اساتذہ، پٹواری اور کلرکوں وغیرہ کو مختلف سیاسی حکومتیں اپنے بہت سارے سیاسی استعمال کے لئے مجبور کرتی ہیں اسی طرح آئمہ اکرام کو بھی مجبور کیا جا سکتا ہے.

یہی وہ حقیقی بنیادی خدشات ہیں جو کسی بھی مذھبی سیاسی پارٹی کو حکومت سے لاحق ہونگے. اگر صوبائی حکومت، واقعتاً آئمہ کی فلاح میں مخلص ہے تو، اسے ان تمام امور پر علماء و جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، اور یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ،

الف__ تمام آئمہ اکرام کو کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی کی اجازت ہوگی.

ب__آ ئمہ اکرام، کسی بھی اوقاف کے عام آفیسر کے بجائے، ڈائریکٹ صوبائی سیکیرٹری اوقاف کو جواب دہ ہوں.

ج__ آئمہ مساجد، پہ حکومت وقت کی طرف سے کسی بھی قسم کی سیاسی، یا امامت کے علاوہ کوئی بھی ذمہ داری ہرگز نہیں ڈالی جانی چاہئے۔

باقی رہے مساجد میں تدریس، تعلیم و تربیت کے حوالہ خدشات ، تو اس میں حکومت اور علماء کے نمائندے باھم مل بیٹھ کر ایک مشترکہ لائحہء عمل طے کر سکتے ہیں. جس میں علما کی طرف سے کسی بھی طرح کی فرقہ واریت اور بد امنی پھلانے والے خطبات سے گریز کی یقین دھانی ہو. حکومت کی جانب سے علماء کے تدریسی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی یقین دہانی دی جائے۔

یہ نکات ایسے ہیں کہ اگر یہ صوبائی حکومت تسلیم کرتی ہے تو، پھر کوئی بھی وجہ رہ نہیں جاتی، کہ مذہبی جماعتیں یا علما اکرام آئمہ کی سرکاری ملازمت کی مخالفت کرسکیں. امید ہے کہ اس طرح ہر دو فریقین کی جانب سے اعتراض کی کچھ صورت نہیں رہے گی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: