جان ہے تو جہان ہے: ڈاکٹر لال خان

0
  • 45
    Shares

ایک طبقاتی معاشرے میں جہاں محکوم طبقات کو اور بہت سی ذلتیں لاحق ہوتی ہیں وہاں ان کو حکمران طبقے کی ایک سفاک حقارت مسلسل کرب میں مبتلا رکھتی ہے۔ ان کی زندگیوں کی حیثیت حکمرانوں کے پالیسیوں میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ پاکستان کی 82 فیصد آبادی مناسب سائنسی علاج کی سہولت سے محروم ہے۔ یہاں کی سیاسی اشرافیہ صحت کے مسائل پر مگر مچھ کے آنسو تو بہت بہاتی ہے، ان سہولیات کی خستہ حالی کا چرچا میڈیا پر بھی وقتاً فوقتاً کیا جاتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں انسانی علاج کی فراہمی کی کوئی گنجائش اس نظام زر میں ہے نہ حکمرانوں کی ترجیحات میں۔

سرکاری ہسپتالوں میں ذلت بکھری پڑی ہے۔ پچھلے 70 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ بجٹ میں سب سے کم رقم (جی ڈی پی کے 0.5 فیصد سے بھی کم) عوام کی صحت کے لئے مختص کی جاتی ہے۔ بیماری کا درد جسم کو تڑپاتا ہے تو لاعلاجی کا احساس نفسیات کو چھلنی کر دیتا ہے۔ صحت کے شعبے کا جو حال کردیا گیا ہے اس کے پیش نظر غریب آدمی کے لیے بیمار ہونا ہی ایک جرم بن گیا ہے۔ اعدادوشمار تو بے پناہ ہیں، ان کو بار بار دہرانے کا کیا فائدہ ہے؟ ٹیلی ویژن پر انسانی بربادی کے یہ مناظر محنت کشوں میں فوری طور پر ایک بغاوت نہیں بلکہ یاس اور بد دلی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن بغاوت اگر پھوٹ نہیں رہی تو ذلت کا احساس بھی زائل نہیں ہوتا۔ یہ حقارت اور ذلت شعور میں نقش ہو کر حکمرانوں اور ان کے نظام کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافے کا باعث بنتی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ داری کی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی عروج کے دوران ترقی یافتہ ممالک میں سماجی اصلاحات کی گنجائش تھی۔ اس عہد میں مضبوط ٹریڈ یونینز میں منظم یورپ کے محنت کش طبقے نے کئی سہولیات اور مراعات حاصل کیں جن میں سستی یا مفت تعلیم کے ساتھ ’’یونیورسل ہیلتھ کیئر‘‘ ، یعنی ہر شہری کے لئے مفت علاج کی ضمانت، قابل ذکر ہے۔ سوویت یونین کی موجودگی اور وہاں علاج، تعلیم، رہائش کی مفت سہولیات اور روزگاری کی ریاستی ضمانت کے پیش نظر مغربی ممالک میں سر اٹھانے والی انقلابی تحریکوں کو اصلاحات کے ذریعے زائل کرنا سرمایہ داروں کی مجبوری تھی۔ یہ ’سوشل ڈیموکریسی‘ یا سرمایہ داری میں بائیں بازو کی اصلاح پسندی کا کلاسیکی دور تھا۔ آج بھی سرمایہ دارانہ ممالک میں بہترین نظام صحت سمجھی جانے والی برطانیہ کی ’نیشنل ہیلتھ سروس‘ (NHS) اسی وقت لیبر پارٹی کی حکومتوں میں قائم کی گئی تھی۔ امریکہ میں بھی ملازمین کو ہیلتھ انشورنس دینے پر مالکان مجبور تھے۔

اس عہد میں چاہے مسخ شدہ انقلابات کے ذریعے ہی سہی، لیکن بہت سے پسماندہ ممالک میں سرمایہ داری کا خاتمہ ہوا تھا۔ سوویت یونین کا ماڈل اپناتے ہوئے چین اور کیوبا میں منڈی کی معیشت کے خاتمے اور منصوبہ بند معیشت کی استواری (اگرچہ افسر شاہانہ کنٹرول میں) سے تعلیم اورصحت کے شعبہ جات میں اتنی تیز ترقی ہوئی کہ چند سالوں میں سماج کی کیفیت ہی بدل گئی، ناخواندگی کم و بیش نا پید ہو گئی، اوسط عمر میں تیز اضافہ ہوا، جسمانی طور پر صحت مند اور ثقافتی طور پر بلند معیار کا معاشرہ پروان چڑھا۔ چین میں اگرچہ 1978ء میں سرمایہ داری کی بحالی کا رجعتی عمل شروع ہو گیا جس کے بعد بیروزگاری، عصمت فروشی، لا علاجی جیسی سرمایہ دارانہ نظام کی تمام ذلتیں واپس لوٹ آئیں۔ لیکن کیوبا میں انتہائی دشواریوں، امریکی سامراج کی دھونس اور معاشی پابندیوں کے باوجود منصوبہ بند معیشت بڑی حد تک قائم ہے اس لیے آج بھی صحت کی اعلیٰ ترین سہولیات عوام کو تقریباً مفت میسر ہیں۔

کیوبا کے نظام صحت سے متعلق رپورٹیں اور تجزئیے دنیا کے بڑے جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دنیا کا سب سے کارگر (Efficient) نظام صحت کیوبا میں موجود ہے، یعنی کم ترین اخراجات سے بہترین نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ منافع کے عنصر کے عدم موجودگی ہے۔ یہ ’’احتیاطی ہیلتھ کیئر‘‘ کا ماڈل ہے۔ یعنی ریاست یقینی بناتی ہے کہ شہری بیمار ہی نہ ہوں یا پھر شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی بیماری کو قابو کر لیا جائے۔ اس مقصد کے لئے صحت بخش خوراک اور صاف پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن سب سے اہم بات ہے کہ ہر محلے میں ایک ڈاکٹر اور نرس موجود ہوتے ہیں اور ہر شہری کا سالانہ طبی معائنہ لازم ہے۔ کیوبا کے ڈاکٹر قابلیت کے حوالے سے بھی دنیا میں ممتاز ہیں۔

صحت کے شعبے میں کیوبا کم ترین اخراجات سے بہترین نتائج حاصل کرتا ہے
13 دسمبر کو بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’کیوبا میں ہیلتھ سروس بہترین ہے اور بعض معاملات میں تو وہ امیر ملکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ امریکہ میں علاج پر جتنا خرچ ہوتا ہے کیوبا اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کرتا تاہم کیوبا میں نوازئیدہ بچوں کی شرح اموات امریکہ کے مقابلے میں کم ہے۔ اوسط عمر امریکہ کے برابر ہے۔ کیوبا میں ہیلتھ کیئر مفت اور آفاقی ہے اور یہ کیوبا کے آئین کا حصہ ہے جس کی حکومت کی جانب سے گارنٹی ہے۔ ‘‘ رپورٹ میں ورلڈ بینک کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’امریکہ میں صحت کے شعبے میں ہر سال فی کس ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں جبکہ کیوبا میں ساڑھے چار سو ڈالر سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے۔ کیوبا کی ایک کروڑ دس لاکھ آبادی میں90ہزار ڈاکٹر ہیں یعنی ہر ایک ہزار افراد کے لیے آٹھ ڈاکٹر ہیں جبکہ امریکہ میں ہزار انسانوں کے لیے صرف ڈھائی ڈاکٹر ہیں…ڈبلیو ایچ او (اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ صحت) کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان نے دوسرے ممالک سے کیوبا کی راہ پر چلنے کی اپیل کی ہے۔‘‘

ورلڈ بینک جیسے سامراجی مالیاتی ادارے کا یہ اعتراف بہت کچھ واضح کرتا ہے۔ آج ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی علاج عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں دائیں بازو کی ٹوری حکومت NHS کو رفتہ رفتہ پرائیویٹائز کر رہی ہے۔ امریکہ میں چار کروڑ لوگوں کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے، یعنی بیمار ہونے کی صورت میں مناسب علاج تک ان کی رسائی تقریباً ناممکن ہے، اور جن کے پاس ہے انہیں بھی انشورنس کمپنیوں کی جعل سازیوں کا پتا بیمار ہونے کے بعد ہی چلتا ہے۔ صحت کا کاروبار کرنے والوں کے لئے مریض کی حیثیت گاہک سے زیادہ نہیں ہے جس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ہی منافع کمایا جا سکتا ہے۔

سرمایہ داری کی خود غرضی اور مقابلہ بازی کی نفسیات پر مبنی معاشرے میں جہاں ہر رشتے اور احساس کی قیمت منڈی میں لگتی ہے وہاں علاج اور تعلیم کا گھناؤنا کاروبار سب سے منافع بخش بھی ہے۔ صحت کی نجکاری کا مطلب انسان کے زخم، تکلیف اور درد کا بیوپار ہے۔ مفت تعلیم اور علاج کی شقیں تو پاکستان کے 1973ء کے آئین میں بھی موجود ہیں۔ آئین میں ضیاء الحق آمریت کی ٹھونسی ہوئی شقوں کو تو آج تک شہریوں کی نجی زندگیوں میں بے ہودہ مداخلت کا جواز بنایا جاتا ہے لیکن صحت اور تعلیم کی شقیں تو جیسے موجود ہی نہ ہوں۔

مزدور جمہوریت کی عدم موجودگی، تکنیکی پسماندگی اور ایک ملک میں مقید ہونے کے پیش نظر کیوبا کی ریاست اور معیشت میں کئی خامیاں موجود ہیں، جن کی وجہ سے سرمایہ داری کی بحالی کے خطرات بھی موجود ہیں، لیکن سرکاری طور پر یہ ایک سوشلسٹ ملک ہی ہے۔ سوشلزم کی بنیاد ہی صحت، تعلیم، روزگار جیسی بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی ہے۔ ریاست ان ضروریات کو پورا کرنے کی پابند ہوتی ہے اور ان کا کاروبار سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوائے کفر کے، یہاں سوشلزم اور مارکسزم کی ہر پہچان اور تعریف کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس سماج میں حالت یہ ہے کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ادوایات سے بھری دکانوں کے سامنے کتنے غریب دم توڑ دیتے ہیں۔ جوں جوں اس معیشت کا بحران گہرا ہو رہا ہے، درمیانے طبقے کے لیے بھی مناسب علاج کا حصول مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ لیکن محنت کش طبقے کی برداشت سے یہ اذیتیں اب باہر ہوتی جارہی ہیں۔ اب جینے کے لئے ان کو لڑنا بھی ہوگا، صحت چاہئے تو بھی سارا نظام ہی بدلنا ہوگا۔ کیونکہ جان ہے تو جہاں ہے!

منتخب کالم

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: